مواد پر جائیں

اہل بیت کرام کی تعظیم وتوقیر حضرت عباس بن عبد المطلب (8) (7)

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَدْ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ: وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ! وَاللّٰهِ لَإِنْ بَغَتَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فِي بِلَادِهَا فَدَخَلَ عَنْوَةً مَكَّةَ إِنَّهُ لَهَلَاكُ قُرَيْشٍ آخِرَ الدهر … حَتَّى مَرَرْتُ بِنَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَنَظَرَ فَرَآهُ خَلْفِي، فَقَالَ عُمَرُ: أَبُو سُفْيَانَ! الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَمْكَنَ مِنْكَ بِغَيْرِ عَهْدٍ وَلَا عَقْدٍ، ثُمَّ اشْتَدَّ نَحْوَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ وَرَكَضَتِ الْبَغْلَةُ حَتَّى اقْتَحَمْتُ عَلَى بَابِ الْقُبَّةِ وَسَبَقْتُ عُمَرَ بِمَا تَسْبِقُ بِهِ الدَّابَّةُ الْبَطِيئَةُ الرَّجُلَ الْبَطِيءَ، وَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، هَذَا أَبُو سُفْيَانَ عَدُوُّ اللّٰهِ قَدْ أَمْكَنَ اللّٰهُ مِنْهُ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلَا عَهْدٍ، فَدَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، إِنِّي قَدْ أَمَّنْتُهُ، ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ وَقُلْتُ: وَاللّٰهِ لَا ينَاجِيهِ اللَّيْلَةَ أَحَدٌ دُونِي، فَلَمَّا أَكْثَرَ فِيهِ عُمَرُ، قُلْتُ: مَهْلًا يَا عُمَرُ، فو اللّٰه لَا تَصْنَعُ هَذَا إِلَّا لِأَنَّهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَلَوْ كَانَ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ مَا قُلْتَ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: مَهْلًا يَا عَبَّاسُ، فو اللّٰه لَإِسْلَامُكَ يَوْمَ أَسْلَمْتَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا أَنِّي قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَكَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ.

(دلائل النبوۃ البیہقی 5/34)

’’عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ (فتح مکہ کے سفر میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مر الظہران کے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو عباس رضی اللہ عنہ نے، جو مدینہ سے آپ کے ساتھ ہی آئے تھے، کہا: ہائے قریش کی برباد ی! خدا کی قسم، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی بے خبری میں مکہ میں داخل ہوئے اور لڑائی کر کے مکہ کو فتح کیا تو قریش ہمیشہ کے لیے تباہ ہوجائیں گے۔…پھر میں (ابو سفیان کو اپنے ساتھ خچر پر بٹھا کر رات کے وقت) عمر بن الخطاب کی آگ کے پاس سے گزرا تو عمر نے ابو سفیان کو میرے پیچھے دیکھ لیا۔ وہ پکارنے لگے: اچھا، ابو سفیان! اللہ کا شکر ہے جس نے کسی معاہدے اور کسی امان کے بغیر تمھیں ہمارے ہاتھ میں دے دیا۔ پھر وہ تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی طرف دوڑنے لگے اور میرا خچر بھی تیز بھاگا، یہاں تک کہ میں خیمے کے دروازے کے اندر گھس گیا۔ میں عمر سے بس اتنا ہی پہلے پہنچا جتنا ایک سست جانور ایک سست آدمی سے پہلے پہنچ سکتا ہے۔ (میرے پیچھے) عمر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیمے میں داخل ہو گئے اور کہا کہ یا رسول اللہ، یہ اللہ کا دشمن ابو سفیان ہے، جسے اللہ نے بغیر کسی معاہدے اور عہد کے ہمارے قابو میں کر دیا ہے۔ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ (عباس کہتے ہیں): میں نے کہا: یا رسول اللہ، میں نے ابو سفیان کو امان دی ہے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور آپ کے سر کو تھام لیا اور کہا کہ خدا کی قسم، آج رات کوئی شخص میری غیر موجودگی میں آپ کے ساتھ علیحدگی میں بات نہیں کرے گا۔ جب عمر نے ابو سفیان کے معاملے میں زیادہ گفتگو کی تو میں نے کہا: عمر، باز آ جاؤ، خدا کی قسم، تم یہ اس لیے کر رہے ہو کہ یہ آدمی بنی عبد مناف سے ہے۔ اگر یہ شخص بنی عدی بن کعب میں سے ہوتا تو تم ایسا نہ کہتے ۔ عمر نے کہا: عباس، ایسا نہ کہیں۔ خدا کی قسم، جب آپ مسلمان ہوئے تو آپ کا اسلام لانا میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کا باعث تھا جو مجھے (میرے والد) خطاب کے اسلام قبول کرنے پر ہوتی۔ اور ایسا صرف اس لیے تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ آپ کا اسلام قبول کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔“

لغوی تشریح

وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ:لفظی ترجمہ ’’ہائے قریش کی صبح‘‘ہے۔ یہ تباہی اور بربادی سے کنایہ ہے۔ عرب یہ پکار اس موقع پر لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے لگاتے تھے جب حملہ آور لشکر نے صبح کی روشنی پھوٹتے ہی حملہ کر دیا ہو۔

بَغَتَهَا: ’بغتةً‘‌ سے ہے، یعنی کسی کی بے خبری میں اچانک اس پر جا پڑنا۔

عَنْوَةً: ’عنا يعنو‘ کا مطلب ہوتا ہے: کسی کے سامنے سر جھکا دینا اور سرنڈر کر دینا۔ فوج نے کسی علاقے کو بہ زور شمشیر فتح کیا ہو تو اس کو ’عَنْوَةً‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ’دَخَلَ مكّةَ عَنْوَةً أَيْ قَهْرًا وغَلَبة. . . وَهُوَ مِنْ عَنَا يَعْنُو إِذَا ذَلَّ وخَضَع. والعَنْوَة: المرَّة الواحِدة مِنه، كَأَنَّ الْمَأْخُوذَ بِهَا يَخْضَع ويَذِلّ.‘ (النہایۃ، ابن الاثیر3/315)

شرح ووضاحت

1۔ یہ فتح مکہ کے سفر سے متعلق ایک طویل روایت کا حصہ ہے، جس میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش کی بے خبری میں مسلمانوں کے لشکر کے مکہ میں داخل ہونے کے جنگی مضمرات کو دیکھتے ہوئے کیسے سیدنا عباس نے اہل مکہ کو امان دلوانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ابوسفیان سے رابطہ کر کے انھیں آمادہ کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیں اور اہل مکہ کے لیے امان طلب کریں۔ سیدنا عمر اس کے حق میں نہیں تھے اور چاہتے تھے کہ سرداران قریش کے کفر وعناد کی وجہ سے اس موقع پر ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ کی جائے۔ اسی سیاق میں دونوں بزرگوں کے مابین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مذکورہ مکالمہ ہوا۔

2۔ سیدنا عمر، سیدنا عباس کے الزام کے جواب میں واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ ابو سفیان کے متعلق ان کے سخت رویے کی وجہ کوئی قبائلی تعصب نہیں، بلکہ اسلام دشمنی میں ابو سفیان کا سابقہ کردار ہے۔ اگر قبائلی تعصب محرک ہوتا تو انھیں اپنے والد، خطاب کا قبول اسلام، سیدنا عباس کے قبول اسلام کے مقابلے میں زیادہ پسند ہوتا، حالاں کہ عباس رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے پر انھیں اس سے زیادہ خوشی ہوئی، جتنی اپنے والد خطاب کے اسلام قبول کرنے پر ہوتی، اور اس کا واحد سبب یہ تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے چچا کا اسلام قبول کرنا ، خطاب کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ محبوب تھا۔

3۔ ابو سفیان سے متعلق سیدنا عمر کا یہ انداز فکر ان کے قبول اسلام سے پہلے تک تھا۔ قبول اسلام کے بعد وہ قریش کے ایک بزرگ سردار کے طور پر ان کا اکرام اور تعظیم کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ابو العباس المبرد نے نقل کیا ہے:

وكان عمر بن الخطاب يفرش فراشًا في بيته في وقت خلافته فلا يجلس عليه إلا العباس بن عبد المطلب وأبو سفيان بن حرب، ويقول: هذا عم رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، وهذا شيخ قريش.

(الکامل فی اللغۃ والادب 1/252)

’’سیدنا عمر اپنے عہد خلافت میں اپنے گھر میں ایک خاص نشست لگاتے تھے، جس پر صرف حضرت عباس بن عبد المطلب اور حضرت ابوسفیان بن حرب بیٹھ سکتے تھے۔ حضرت عمر کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور یہ قریش کے سردار ہیں۔“

تخریج اور اختلاف طرق

ابن عباس کی یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی نقل کی گئی ہے:

السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام 2/403۔ شرح معانی الآثار، طحاوی، رقم 3542۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم 7098۔ تاریخ الطبری3/53۔

فتح مکہ کے واقعات بہت سی روایات میں بیان ہوئے ہیں، تاہم سیدنا عباس اور سیدنا عمر کے درمیان یہ مکالمہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مذکورہ اثر میں نقل ہوا ہے۔ طبرانی کی روایت میں مکالمے کے جملوں میں کچھ خلل واقع ہو گیا ہے اور سیدنا عمر کا جملہ یوں نقل ہوا ہے:

فَوَاللّٰهِ لَإِسِلَامُكَ يَوْمَ أَسْلَمْتَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ، وَمَا بِي إِلَّا أَنِّي قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَكَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ. (المعجم الکبیر، رقم 7098)

یہ بدیہی طور پر راوی کا سوء فہم ہے اور درست جملے وہی ہیں جو دیگر مصادر میں نقل کیے گئے ہیں۔

(8)

عن صالح بن كيسان … قال: وقال ابن شهاب: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رضي اللّٰه عنهما فِي وِلايَتِهِمَا لا يَلْقَى الْعَبَّاسَ مِنْهُمَا وَاحِدٌ وَهُوَ رَاكِبٌ إِلا نَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَقَادَهَا وَمَشَى مَعَ الْعَبَّاسِ حَتَّى يُبَلِّغَهُ مَنْزِلَهُ أَوْ مَجْلِسَهُ فَيُفَارِقَهُ.

(تاریخ دمشق، ابن عساکر 26/‏374)

’’صالح بن کیسان نقل کرتے ہیں کہ ابن شہاب نے کہا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد حکومت میں جب ان میں سے کوئی سواری پر سوار ہوتا اور ان کا سامنا حضرت عباس سے ہو جاتا تو وہ سواری سے اتر کر جانور کی لگام تھام لیتے اور عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ چلنے لگتے تھے، یہاں تک کہ انھیں ان کے ٹھکانے پر پہنچا کر ان سے جدا ہو جائیں۔“

تخریج اور اختلاف طرق

ابن شہاب کا یہ اثر ابن عساکر اور زبیر بن بکار کے حوالے سے مختلف ثانوی مصادر میں بھی نقل کیا گیا ہے۔ دیکھیے:

المنتظم، ابن الجوزی 5/38۔ جامع الاحادیث، سیوطی، رقم 30679۔ فیض القدیر، مناوی 4/373۔ کنز العمال، ہندی 13/517۔

ابن ابی الزناد نے یہ بات سیدنا عثمان کے خاندان کے کچھ لوگوں کے واسطے سے نقل کی ہے اور اس میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بجاے عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا ہے:

أَنَّ الْعَبَّاسَ لَمْ يَمُرَّ بِعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَهُمَا راكبان وهو راجل إلا نزلا حتى يجوزهما إِجْلالاً لَهُ أَوْ يَمْشِيَانِ مَعَهُ حَتَّى يَبْلُغَ مَنْزِلَهُ أَوْ مَجْلِسَهُ .

(انساب الاشراف، بلاذری 4/‏11)

’’عباس رضی اللہ عنہ جب پیدل ہوتے اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزر ہوتا اور وہ سواری پر ہوتے تو وہ دونوں ان کی تعظیم کے لیے نیچے اتر آتے تھے جب تک کہ عباس گزر نہ جائیں یا پھر ان کے ساتھ چلنے لگتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائیں۔“

ابن عبد البر نے اس طریق میں ’إِجْلالاً لَهُ‘ کے بعد اس جملے کا اضافہ نقل کیا ہے:

وَيَقُولانِ: عَمُّ النَّبِيِّ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ. (الاستیعاب 2/‏814)

’’عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں۔“

(9)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا، قَالَ : فَيُسْقَوْنَ. (بخاری، رقم 978)

’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب قحط سالی کی کیفیت ہوتی تو عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا) عباس بن عبد المطلب کو بارگاہ الہٰی میں پیش کر کے بارش کی دعا کیا کرتے تھے اور یوں کہتے تھے: اے اللہ، ہم تیرے سامنے اپنے نبی کے وسیلے سے حاجت پیش کرتے تھے اور تو بارش برسا دیا کرا تھا، اور اب ہم اللہ کے نبی کے چچا کو تیری بارگاہ میں لے کر آئے ہیں تو تو ہم پر بارش نازل فرما۔ انس کہتے ہیں کہ اس طرح دعا کرنے سے لوگوں کو بارش مل جاتی تھی۔“

شرح ووضاحت

1۔ 18؍ ہجری کا سال مدینہ منورہ میں قحط کا سال تھا اور اس کو ’عام الرمادہ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سیدنا عمر نے اس موقع پر مسلمانوں کو بارش کی اجتماعی دعا کے لیے جمع کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس کو ساتھ لے کر بارگاہ الہٰی میں حاضر ہوئے ۔ زیربحث اثر میں اسی واقعے کا ذکر ہے۔

سائب بن یزید نے اپنی روایت میں اس دعا کا منظر یوں بیان کیا ہے:

نَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ يَوْمَ غَدَا لِيَسْتَسْقِيَ عَامَ الرَّمَادَةِ مُتَوَاضِعًا خَاشِعًا عَلَيْهِ بُرْدٌ لا يَبْلُغُ رُكْبَتَيْهِ، فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالاسْتِسْقَاءِ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ وَالدُّمُوعُ تَجْرِي عَلَى خَدِّهِ وَلِحْيَتِهِ، وَإِنَّ الْعَبَّاسَ لَعَنْ يَمِينِهِ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ يَعِجُّ إِلَى رَبِّهِ وَأَخَذَ بِيَدِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَشْفِعُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ، وَالْعَبَّاسُ قَائِمٌ إِلَى جَنْبِهِ مُلِحٌّ فِي الدُّعَاءِ وَعَيْنَاهُ تهْمِلانِ.

(انساب الاشراف، بلاذری 4/ 7-8)

’’میں نے سیدنا عمر کو دیکھا جب وہ قحط کے موقع پر بارش کی دعا کے لیے صبح کے وقت نکلے۔ ان پر انتہائی تواضع اور خشوع کی کیفیت طاری تھی اور جسم پر ایک چادر تھی، جو ان کے گھٹنوں تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ انھوں نے بلند آواز سے اس کیفیت میں بارش کی دعا کی کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور ان کے رخساروں اور ڈاڑھی پر بہ رہے تھے۔ سیدنا عباس ان کی دائیں جانب کھڑے تھے۔ سیدنا عمر نے قبلہ رخ ہو کر گڑگڑاتے ہوئے اللہ سے دعا کی اور عباس رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ اے اللہ، ہم تیرے سامنے تیرے نبی کے چچا کی سفارش پیش کرتے ہیں۔ عباس رضی اللہ عنہ ان کے پہلو میں کھڑے تھے اور وہ بھی بہتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ نہایت تضرع کے ساتھ دعا کر رہے تھے۔“

ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر میں دعا کے کلمات یوں روایت کیے گئے ہیں:

اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلاءِ عِبَادُكَ وَبَنُو إِمَائِكَ، أَتَوْكَ رَاغِبِينَ مُتَوَسِّلِينَ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ، فَاسْقِنَا سُقْيَا نَافِعَةً تَعُمُّ الْبِلادَ وَتُحْيِي الْعِبَادَ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَسْقِيكَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ وَنَسْتَشْفِعُ إِلَيْكَ بِشَيْبَتِهِ.

(انساب الاشراف، بلاذری 4/ 7- 8)

’’اے اللہ، یہ تیرے بندے اور تیری بندیاں ہیں۔ تیرے سامنے اپنی حاجت لے کر آئے اور تیرے نبی کے چچا کو وسیلہ بنا کر لائے ہیں۔ ہم پر ایسی بارش نازل فرما جس کا فیض پورے علاقے کو عام ہو اور وہ بندوں کے لیے حیات بخش ہو۔ اے اللہ، ہم تیرے نبی کے چچا کو ساتھ لا کر تجھ سے بارش طلب کرتے ہیں اور تیرے حضور میں ان کے سفید بالوں کی سفارش پیش کرتے ہیں۔ “

2۔ قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر تلقین کی گئی ہے کہ آپ اہل ایمان کے لیے دعاے رحمت اور استغفار کیا کیجیے، کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے رحمت وسکون کا باعث ہوگی اور آپ کا استغفار اللہ کی رحمت اور عنایت کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بنے گا (النساء 4 : 64۔ التوبہ 9: 103)۔ اس کی وجہ وہ مقام اور تقرب بھی ہوتا ہے جو اللہ کے نبی کو اللہ کے ہاں حاصل ہوتا ہے، اور نبی کے دل میں اپنی امت کی خیر خواہی اور شفقت کا جو جذبہ موجزن ہوتا ہے، اسے بھی رحمت الہٰی خاص قدر ومنزلت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی پہلو سے صحابہ کو تاکید فرماتے تھے کہ مدینے میں جو بھی مسلمان وفات پائے، اس کی اطلاع آپ کو دی جائے تاکہ آپ خود اس کی نماز جنازہ پڑھائیں (ابن ماجہ، رقم 1522)۔ اسی کی روشنی میں عہد نبوی میں صحابہ اپنی عام ضروریات اور حاجات کے لیے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کروانے کا اہتمام کرتے تھے۔

3۔ شفقت ورحمت کا یہی تعلق درجے کے فرق کے ساتھ باپ اور اولاد کے رشتے میں بھی پایا جاتا ہے اور باپ کے دل میں اولاد کے لیے شفقت ومحبت اور خیر خواہی کا جو جذبہ ہوتا ہے، وہ اللہ کے ہاں دعا کی قبولیت کا سبب بن جاتا ہے۔چنانچہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کی دعا بارگاہ الہٰی میں خاص قبولیت کی حق دار ہوتی ہے، ان میں سے ایک دعا والد کی اپنی اولاد کے حق میں کی گئی دعا ہے (ابوداؤد، رقم1348)۔ سیدنا عمر نے اسی پہلو سے دعاے استسقا میں سیدنا عباس کی موجودگی کا اہتمام کیا اور دعا میں ان کی شرکت کا حوالہ دے کر دعا کی۔ مراد یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کے لحاظ سے بھی اور اپنی پیری اور بزرگی کے لحاظ سے بھی امت کی بڑی اور بزرگ شخصیت حضرت عباس ہی ہیں، چنانچہ جیسے نبی کی دعا امت کے حق میں اور باپ کی دعا اولاد کے حق میں قبولیت کا خاص استحقاق رکھتی ہے، اسی طرح اللہ کے نبی کے چچا کی سفارش کو بھی امت کے حق میں شرف باریابی ملنا چاہیے۔

تخریج اور اختلاف طرق

سیدنا انس کی روایت سے یہ واقعہ درج ذیل مآخذ میں نقل ہوا ہے:

صحیح ابن حبان، رقم 2923۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 2482۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم 82۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 6050۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 4423۔ الآحاد والمثانی، ابن ابی عاصم، رقم 328۔

بلاذری نے اس کے متعلق نافع، سائب بن یزید، اسلم مولیٰ عمر، ابو صالح ا ور سیدنا ابن عباس کے آثار بھی جمع کیے ہیں(انساب الاشراف، بلاذری 4 / 7-8)۔ ان میں سے ابو صالح کی روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے کسی کے ساتھ توسل کرنے کا مشورہ سیدنا عمر کو اہل کتاب کے معروف عالم کعب الاحبار نے دیا اور کہا کہ بنی اسرائیل کو جب بارش کی دعا کرنا ہوتی تو و ہ انبیا کے کنبے کے کسی فرد کے ساتھ توسل کیا کرتے تھے۔

(10)

عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: كَانَ مِمَّا أَحْدَثَ عثمانُ فرُضِيَ بِهِ مِنْهُ أنه ضرب رجلاً فِي منازعة استخف فِيهَا بالعباس بن عبد المطلب، فقيل لَهُ، فقال: نعم، أَيُفَخِّمُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ وَأُرَخِّصُ فِي الِاسْتِخْفَافِ بِهِ! لَقَدْ خَالَفَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلی اللّٰہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ وَرَضِيَ بِهِ مِنْهُ. (تاریخ الطبری 4/400)

’’قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان نے جو نئے اقدامات کیے اور ان کو پسند کیا گیا، ان میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے ایک شخص کی جسمانی تادیب کی جس نے کسی جھگڑے میں حضرت عباس بن عبد المطلب کی بے توقیری کی تھی۔ سیدنا عثمان سے اس کے متعلق کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہاں، (میں نے یہ کیا ہے)۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا کی تعظیم و توقیر کریں اور میں ان کی بے توقیری کی اجازت دے دوں؟ جو شخص ایسا کرتا ہے یا ایسا کرنے پر رضامندی ظاہر کرتا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے۔“

شرح ووضاحت

اکابر صحابہ میں سے کسی کی بے توقیری کرنے پر تعزیراً‌ سزا دینے کے مختلف واقعات سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کے دور خلافت میں بھی منقول ہیں۔ سیدنا عباس بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی نسبت کے لحاظ سے یہی مقام رکھتے تھے کہ ان کی بے توقیری یا استخفاف کو مستوجب تعزیر قرار دیا جائے، تاہم ان کے ساتھ ایسا رویہ غالباً‌ اس سے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا، جس پر تعزیر کی ضرورت پیش آتی۔ اسی پہلو سے قاسم بن محمد نے اس اثر میں اس کو حضرت عثمان کے نئے اقدام سے تعبیر کیا ہے، ورنہ اصولاً‌ یہ کوئی نیا یا انوکھا فیصلہ نہیں تھا۔

تخریج اور اختلاف طرق

قاسم بن محمد کا یہ اثر ابن عساکر کی ’’تاریخ دمشق‘‘ (26/‏372) میں بھی منقول ہے۔

(11)

عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا يُقَبِّلُ يَدَ الْعَبَّاسِ وَرِجْلَهُ وَيَقُولُ: يَا عَمِّ، ارْضَ عَنِّي. (انساب الاشراف، بلاذری 4/6)

’’صہیب مولیٰ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ عباس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ چچا جان، مجھ سے راضی ہو جائیے۔“

شرح ووضاحت

روایت میں وہ پس منظر بیان نہیں ہوا جس میں سیدنا علی نے سیدنا عباس کی ناراضی دور کرنے کے لیے تعظیم وتکریم کا یہ طریقہ اختیار کیا۔ ممکن ہے، اس کا تعلق اس اختلاف سے ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقربا کے لیے مخصوص زمینوں کے انتظام وانصرام کے حوالے سے سیدنا عباس اور سیدنا علی کے مابین پیدا ہوا تھا۔ سیدنا عمر نے ان کے مطالبے پر ان زمینوں کا انتظام مشترکہ طور پر ان دونوں حضرات کے سپرد کر دیا تھا، لیکن ان کے مابین اختلاف پیدا ہو گیا، جس کے تصفیے کے لیے وہ معاملہ سیدنا عمر کے پاس لے کر آئے ۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ سیدنا عباس نے اپنی بزرگی کے ناتے سے سیدنا علی پر کافی غصے کا اظہار کیا اور انھیں سخت سست کہا: ’فَقَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الْآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ.‘ (رقم 3389)۔ غالباً‌ اسی تناظر میں یا اس نوعیت کے کسی دوسرے معاملے میں سیدنا علی نے ان کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تعظیم وتکریم کا وہ انداز اختیار کیا جو مذکورہ اثر میں بیان ہوا ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

یہ اثر صہیب مولیٰ عباس کے طریق سے درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

الادب المفرد، بخاری، رقم 1013۔ الرخصۃ فی تقبیل الید، ابن المقری، رقم 13۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 26/372۔ المعرفۃ والتاریخ، فسوی 1/514۔

’’الادب المفرد‘‘ کی روایت میں آخری جملہ’ وَيَقُولُ: يَا عَمِّ، ارْضَ عَنِّي‘ منقول نہیں، جب کہ ابن عساکر کے ایک طریق میں یہ اضافہ ہے کہ سیدنا عباس کی ناراضی برقرار رہی اور انھوں نے کہا:

قال: كلا، واللّٰه، ليلقين اللّٰه عز وجل بها. (تاریخ دمشق 26/373)

’’ہرگز نہیں۔ بخدا، علی کو اس پر اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا پڑے گا۔“

اثر کے راوی صہیب کے متعلق روایت میں بس یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ عباس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے۔ اس کے علاوہ، ان کے متعلق کوئی معلومات دستیاب نہیں ، اس لیے محدثین ان کو مجہول قرار دیتے ہیں۔ تاہم علامہ ذہبی نے اس کو کوئی بڑا قادح شمار نہ کرتے ہوئے اس اثر کی سند کو حسن قرار دیا ہے(سیر اعلام النبلاء 2/94)۔

(12)

عَنْ صُهَيْبٍ  مَوْلَى الْعَبَّاسِ قَالَ : أَرْسَلَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ أَدْعُوهُ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ يُغَدِّي النَّاسَ، فَدَعَوْتُهُ فَأَتَاهُ فَقَالَ: أَفْلَحَ الْوَجْهُ أَبَا الْفَضْلِ، قَالَ : وَوَجْهُكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ : مَا زِدْتُ أَنْ أَتَانِي رَسُولُكَ وَأَنَا أُغَدِّي النَّاسَ فَغَدَّيْتُهُمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أُذَكِّرُكَ اللّٰهَ فِي عَلِيٍّ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكَ وَأَخُوكَ فِي دِينِكَ وَصَاحِبُكَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ وَصِهْرُكَ، وَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُومَ بِعَلِيٍّ وَأَصْحَابِهِ ] فَتَشْكُوَهُمْ إِلَى النَّاسِ [، فَاعْفِنِي مِنْ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَنَا أَوْلَى مِنْ أَخِيكَ أَنْ قَدْ شَفَّعْتُكَ، أَنَّ عَلِيًّا لَوْ شَاءَ مَا كَانَ أَحَدٌ دُونَهُ، وَلَكِنَّهُ أَبَى إِلَّا رَأْيَهُ، وَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ : أُذَكِّرُكَ اللّٰهَ فِي ابْنِ عَمِّكَ وَابْنِ عَمَّتِكَ وَأَخِيكَ فِي دِينِكَ وَصَاحِبِكَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ وَوَلِيِّ بَيْعَتِكَ، فَقَالَ : وَاللّٰهِ لَوْ أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ مِنْ دَارِي لَخَرَجْتُ، فَأَمَّا أَنْ أُدَاهِنَ أَنْ لَا يُقَامَ كِتَابُ اللّٰهِ فَلَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ .(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 37006)

’’صہیب مولیٰ العباس کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے مجھے حضرت عثمان کے پاس بھیجا تاکہ میں انھیں بلا کر لاؤں۔ میں ان کے پاس پہنچا تو وہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے۔ میں نے انھیں عباس کا پیغام دیا تو وہ آئے اور کہنے لگے: اے ابو الفضل، تمھارا چہرہ خوش نصیب ہے۔ عباس نے جواب دیا: اور آپ کا چہرہ بھی، اے امیرالمومنین۔ عثمان نے کہا: جب آپ کا قاصد آیا تو میں لوگوں کو کھانا کھلا رہا تھا۔ میں نے ان کو کھانا کھلانے کے بعد اور کوئی کام نہیں کیا اور حاضر ہو گیا ہوں۔ عباس نے کہا: میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ علی کے معاملے میں غور کرو۔ وہ تمھارا چچا زاد ہے، تمھارا دینی بھائی ہے، تمھاری طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہے اور تمھارا ہم زلف بھی ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم علی اور ان کے ساتھیوں کو (شکوہ شکایت کے لیے لوگوں کے سامنے) کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔ اے امیرالمومنین، مجھے اس سے معاف رکھیے۔ عثمان نے جواب دیا: میں آپ کے بھائی سے زیادہ اس کا حق رکھتا ہوں کہ آپ کی سفارش قبول کروں۔ اگر علی چاہتے تو ان سے بڑھ کر کوئی میرے قریب نہ ہوتا، لیکن وہ اپنی ہی من مانی کرتے ہیں۔ پھر عباس نے علی کے پاس قاصد بھیجا اور ان سے بھی یہی کہا کہ میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم اپنے چچا زاد، اپنے پھوپھی زاد، اپنے دینی بھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی، اور جس کی تم نے بیعت کر رکھی ہے ۔ علی نے جواب دیا: اللہ کی قسم، اگر امیر المومنین مجھے اپنے گھر سے نکلنے کا حکم دیں گے تو میں نکل جاؤں گا، لیکن میں اس بات پر سمجھوتا نہیں کروں گا کہ کتاب اللہ پر عمل نہ کیا جائے۔ “

شرح ووضاحت

اثر میں سیدنا علی اور سیدنا عثمان کے مابین جس اختلاف کا ذکر ہے، وہ سیدنا عثمان کی خلافت کے آخری چھ سالوں میں ان کی بعض انتظامی پالیسیوں کے حوالے سے پیدا ہوا، جن کا تعلق عمال کے تقرر اور امور مملکت کی انجام دہی میں خاندان امیہ کے افراد کو ترجیح دینے سے تھا۔ اکابر صحابہ نے، جن میں سیدنا علی بھی نمایاں تھے، سیدنا عثمان کے اقدامات پر تنقید کی، جس کے جواب میں سیدنا عثمان نے بھی مختلف مواقع پر اپنے اوپر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا اور اپنی پوزیشن واضح کی۔ اسی تناظر میں کسی موقع پر انھوں نے سیدنا علی اور دیگر ناقدین کو عوامی مجلس میں طلب کر کے ان کے خلاف اپنے شکوہ وشکایت کو لوگوں کے سامنے بیان کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عباس نے ان کا ارادہ معلوم ہونے پر ایک بزرگ کی حیثیت سے دونوں کو اپنے پاس بلایا اور دونوں کے مابین اصلاح اور افہام وتفہیم کی کوشش کی ۔ زیربحث اثر میں اسی واقعے کا ذکر ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

صہیب مولیٰ عباس کا یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

مکارم الاخلاق، خرائطی، رقم 364۔ الفوائد المعللۃ، ابو زرعۃ الدمشقی، رقم 184۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 39/‏264۔ التاریخ الکبیر، بخاری 4/ 316۔ المعجم الکبیر، طبرانی بحوالہ مجمع الزوائد 7/ 208۔

الخرائطی کے طریق میں ’تُرِيدُ أَنْ تَقُومَ بِعَلِيٍّ وَأَصْحَابِهِ‘ کے بعد ’فَتَشْكُوَهُمْ إِلَى النَّاسِ‘ کے جملے کا اضافہ ہے، جس سے جملے کا مفہوم زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔

اثر کا پہلا ٹکڑا، جس میں سیدنا عباس کی طرف سے سیدنا عثمان کو بلائے جانے اور ان کے حاضر ہونے کا ذکر ہے، درج ذیل مصادر میں بھی موجود ہے:

المستدرک علی الصحیحین، رقم 5444۔ انساب الاشراف، بلاذری 4/‏14۔

بعض طرق میں اختصار کی بنا پر اثر کی نسبت صہیب کے بجاے ان سے نقل کرنے والے راوی ابو صالح کی طرف کر دی گئی ہے۔

[باقی]