نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتہ وقرابت کے تعلق سے، اہل ایمان سے آپ کے اہل بیت اور خصوصاً ازواج مطہرات کی تعظیم وتکریم کا رویہ مطلوب ہے، جس کا ذکر قرآن مجید اور احادیث میں مختلف پہلوؤں سے کیا گیا ہے۔ سورۂ احزاب میں فرمایا ہےکہ :
النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ.
(الاحزاب 33:6)
’’پیغمبر کا حق اہل ایمان پر ان کی اپنی جانوں سے بھی بڑھ کر ہے اور پیغمبر کی ازواج ان کی ماؤں کا درجہ رکھتی ہیں۔ “
سورہ کی آیت 53 میں اسی نسبت سے مسلمانوں پر لازم ٹھہرایا گیا ہے کہ ان کے مرد، آپ کی ازواج سے روبرو ہو کر بات نہ کیا کریں، بلکہ جو بھی گفتگو مقصود ہو، پردے کے پیچھے سے کیا کریں۔ مزید یہ کہ آپ کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کرنا بھی کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ اسی سورہ کی آیت 33 میں آپ کے اہل بیت کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ تعلق اور نسبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہےکہ پیغمبر کے اہل بیت کے دامن کو کسی بھی اخلاقی الزام سے آلودہ نہ ہونے دے اور ان کی شخصیت اور کردار کو پاکیزہ رکھے:
إنَّما يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أهْلَ البَيْتِ ويُطَهِّرَكُمْ تطهيرًا.
’’نبی کے گھر والو، اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم سے اس گندگی کو دور کرے (جو منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاکیز ہ بنا دے۔“
آیت کے سیاق وسباق کے لحاظ سے یہاں ’اہل البیت‘ کہہ کر آپ کی ازواج کو خطاب کیا گیا ہے، جب کہ اس کے وسیع تر مفہوم میں آپ کے دیگر اہل قرابت بھی شامل ہیں، جیسا کہ روایات میں اس تعبیر کے استعمالات سے واضح ہوتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متعدد ارشادات میں اپنے اہل بیت کی تعظیم وتوقیر سے متعلق مطلوب رویے کی تعلیم وتلقین فرمائی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق پیغمبر پر درود بھیجنے کے لیے صحابہ کو کلمات سکھائے تو اس میں اپنی آل کو بھی شامل فرمایا۔ درود ابراہیمی میں اس کے الفاظ یہ ہیں:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
(نسائی، رقم 1279)
’’اے اللہ، محمد پر اور محمد کی آل پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی۔ بے شک، تو حمد کا سزاوار، بزرگ ہے۔“
دیگر روایات میں ’ آل‘ کی جگہ ’ ازواج‘ اور ’ذریت‘ کا ذکر ہے، جس سے ’آل‘ کا مفہوم بھی واضح ہوتا ہے:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.
(نسائی، رقم 1285)
’’اے اللہ، محمد پر اور محمد کی بیویوں اور اولاد پر رحمت فرما، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی۔“
اسی طرح بنو ہاشم کے مخصوص خاندانوں کے لیے لوگوں سے زکوٰۃ اور صدقہ لینے کو ممنوع ٹھہرایا اور فرمایا :
إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ. (مسلم، رقم 1849)
’’یہ صدقات تو لوگوں (کے مال) کا میل کچیل ہوتے ہیں، یہ نہ محمد کے لیے حلال ہیں اور نہ محمد کی آل کے لیے۔“
کئی مواقع پر لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ وہ آپ کے اہل بیت کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور ان کی نسبت اور تعلق کے احترام کو ملحوظ رکھیں۔ مثلاً اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے متعلق بعض لوگوں کے رویے میں بے رخی دیکھی تو انھیں متنبہ فرمایا :
مَا بَالُ رِجَالٍ يُؤْذُونَنِي فِي الْعَبَّاسِ؟ فَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ.
(المعجم الکبیر، رقم17463)
’’کچھ لوگ مجھے عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں اذیت کیوں دیتے ہیں؟ آدمی کا چچا تو اس کے باپ ہی کا درجہ رکھتا ہے۔“
ایک موقع پر بریدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی کوئی شکایت آپ کے سامنے پیش کی تو فرمایا:
يَا بُرَيْدَةُ، أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ قُلْتُ:بَلَى يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قَالَ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ. (مسند احمد، رقم 22367)
’’اے بریدہ، کیا میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ، بالکل رکھتے ہیں۔ فرمایا کہ جس کا میں آقا ہوں، اس کا علی بھی آقا ہے۔“
سیدہ فاطمہ نے کسی موقع پر سیدہ عائشہ کے ساتھ کچھ سخت کلامی کی تو آپ نے انھیں نصیحت فرمائی:
يَا فَاطِمَةُ، أَلَيْسَ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ؟ قَالَتْ: نَعَمْ .وَتُبْغِضِينَ مَنْ أُبْغِضُ؟ قَالَتْ : بَلَى . قَالَ : فَإِنِّي أُحِبُّ عَائِشَةَ فَأَحِبِّيهَا .
(مسند ابی یعلیٰ، رقم 4827)
’’اے فاطمہ، کیا جس سے مجھے محبت ہے، اس سے تمھیں محبت نہیں؟ فاطمہ نے کہا: بالکل ہے۔ فرمایا کہ جس سے مجھے نفرت ہے، اس سے تمھیں نفرت نہیں؟ فاطمہ نے کہا: بالکل ہے۔ فرمایا کہ مجھے عائشہ سے محبت ہے، اس لیے تم بھی اس سے محبت رکھو۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا تو سیدہ فاطمہ کی شکایت پر آپ نے اس پر سخت رنج کا اظہار کیا اور فرمایا:
إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا. (مسلم، رقم 4588)
’’فاطمہ میرا ہی ایک ٹکڑا ہے، جس بات سے اس کو اذیت ہوتی ہے، اس سے مجھے بھی اذیت پہنچتی ہے۔“
خصوصاً حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر اپنے خطبے میں اپنے اہل بیت کے متعلق تلقین کرتے ہوئے صحابہ سے فرمایا :
أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي. (مسلم، رقم 4530)
’’میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمھیں اللہ کے حکم کی پاس داری کی تلقین کرتا ہوں،میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمھیں اللہ کے حکم کی پاس داری کی تلقین کرتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمھیں اللہ کے حکم کی پاس داری کی تلقین کرتا ہوں (آپ نے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا)۔“
زیر نظر فصل میں اسی موضوع سے متعلق صحابہ وتابعین کے آثار کا مطالعہ کیا جائے گا۔
ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم
(1)
عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ، وَفِي الْمُهَاجِرِينَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا؟ فَقُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَقُولُ: ’’لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ‘‘، سَقَى اللّٰهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ. (مسند احمد، رقم 24205)
’’مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام بکر بیان کرتی ہیں کہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ رقم بنو زہرہ کے محتاجوں، مہاجرین اور امہات المومنین میں تقسیم کر دی۔ مسور کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ کے پاس ان کے حصے کی رقم لے کر گیا تو انھوں نے پوچھا کہ یہ کس نے بھیجی ہے؟ میں نے بتایا کہ عبد الرحمٰن بن عوف نے۔ ام المومنین نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اپنی ازواج سے) یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تمھارے ساتھ مہربانی کا برتاؤ کرنے والے یقیناً صبر واستقامت کی صفت سے متصف ہوں گے۔ (پھر سیدہ عائشہ نے کہا کہ) اللہ تعالیٰ عبد الرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سے سیراب کرے۔ “
لغوی تشریح
يَحْنُو عَلَيْكُنَّ: ’حنا عليه‘ کا مطلب ہے: کسی کے ساتھ ہم دردی اور مہربانی سے پیش آنا۔
شرح ووضاحت
قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو امت کی ماؤں کا درجہ دیتے ہوئے آپ کی وفات کے بعد کسی کے لیے ازواج سے نکاح کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ازواج پر حجاب کی خصوصی پابندی بھی عائد کی گئی تھی، جس کی رو سے ان کے لیے اپنے گھروں تک محدود رہنا لازم تھا اور کسی ناگزیر ضرورت کے بغیر انھیں گھروں سے باہر نکلنے اور لوگوں کے ساتھ اختلاط کرنے کی آزادی حاصل نہیں تھی۔ اس تناظر میں ان کی ضروریات کی کفالت اور دیکھ بھال مجموعی طور پر مسلمانوں ہی کے ذمے تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی پہلو سے ازواج کے متعلق فکرمندی رہتی تھی کہ آپ کے بعد کہیں لوگ ان سے متعلق اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں تنگی محسوس نہ کریں اور کوتاہی سے کام نہ لیں۔ اسی حوالے سے آپ نے مذکورہ ارشاد میں ان لوگوں کے لیے تحسین کے کلمات ارشاد فرمائے ہیں جو آپ کے بعد آپ کی ازواج کے حقوق اور مقام کی پاس داری میں ثابت قدم رہیں اور ذمہ داری کے ساتھ ان کی ضروریات کی دیکھ بھال کرتے رہیں۔
تخریج اور اختلاف طرق
یہ اثر ام بکر بنت مسور کی سند سے سیدہ عائشہ سے درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:
المستدرک علی الصحیحین، رقم 5361۔ الزہد لاحمد بن حنبل، رقم 1106۔ الطبقات الکبیر لابن سعد، رقم 2933۔ الشریعۃ للآجری، رقم 1740۔ مشکل الآثار للطحاوی، رقم 3045۔
مسور بن مخرمہ کے علاوہ سیدہ عائشہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد، عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے فرزند ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے بھی روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ یوں ہیں:
قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ أَحْنَى عَلَيَّ، فَقَالَ: ’’إِنَّكُنَّ لَأَهَمُّ مَا أَتْرُكُ إِلَى وَرَاءِ ظَهْرِي، وَاللّٰهِ لَا يَعْطِفُ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ أَوْ الصَّادِقُونَ‘‘.
(مسند احمد، رقم 24371)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر میرے متعلق ہم دردی اور شفقت کی کیفیت میں فرمایا کہ میں اپنے پیچھے جو معاملات چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے مجھے سب سے زیادہ فکرمندی تمھارے، (یعنی اپنی ازواج کے) متعلق لاحق ہے۔ بخدا، تمھارے ساتھ مہربانی کا برتاؤ کرنے والے صابر یا (یوں فرمایا کہ) صادق ہی ہوں گے۔“
ترمذی کے طریق میں وضاحت ہے کہ روایت کے آخر میں عبد الرحمٰن بن عوف کے لیے دعائیہ جملہ سیدہ عائشہ کا ہے:
قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ عَائِشَةُ: فَسَقَى اللّٰهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الجَنَّةِ، تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ.
(ترمذی، رقم 3749)
’’پھر سیدہ عائشہ نے (ابو سلمہ سے) کہا کہ اللہ تمھارے والد، یعنی عبد الرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سے سیراب کرے۔“
امہات المومنین کے ساتھ صلۂ رحمی کرنے والوں کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے بھی درج ذیل مآخذ میں نقل ہوا ہے:
مسند احمد، رقم 26013۔ المعجم الکبیر للطبرانی، رقم 19507۔ المستدرک علی الصحیحین، رقم 5362۔ الطبقات الکبیر لابن سعد، رقم 2932۔ معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، رقم 475۔
(2)
عَنْ كَرِيمَةَ وَهِيَ ابْنَةُ مقداد … أَن الْمِقْدَاد أوصى لِلْحسنِ وَالْحُسَيْن ابنى على بن أبي طَالب لكل وَاحِد منهما بِثمَانِيَة عشر ألف دِرْهَم وَأوصى لِنسَاء النَّبِي صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ سَبْعَة آلَاف دِرْهَم لكل امْرَأَة مِنْهُنَّ فقبلوا وَصيته .
(التاریخ الاوسط للبخاری، رقم 328)
’’کریمہ بنت مقداد کی روایت ہے کہ مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ نے علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فرزندوں حسن اور حسین میں سے ہر ایک کے لیے اٹھارہ ہزار درہم کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ہر زوجہ کے لیے سات ہزار درہم کی وصیت کی اور انھوں نے ان کی وصیت قبول کر لی۔“
شرح ووضاحت
1۔ مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ بدری صحابی تھے۔ روایات میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان لوگوں کے متعلق اچھی توقع کا اظہار سنا تھا جو آپ کے بعد آپ کی ازواج کی خبر گیری کریں گے۔ چنانچہ ان کی اہلیہ ضباعہ بنت زبیر روایت کرتی ہیں:
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ: شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْكَ شَكَكْتُ فِيهِ، قَالَ: ’’فَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْأَمْرِ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ‘‘، قَالَ: قَوْلُكَ فِي أَزْوَاجِكَ: ’’إِنِّي لَأَرْجُو لَهُنَّ مِنْ بَعْدِي الصِّدِّيقِينَ‘‘، قَالَ: ’’وَمَنْ تَعُدُّونَ الصِّدِّيقِينَ‘‘؟ قَالَ: فَقُلْنَا: أَوْلَادَنَا الَّذِينَ يَهْلِكُونَ صِغَارًا، فَقَالَ: ’’لَا، وَلَكِنَّ الصِّدِّيقِينَ هُمُ الْمُتَصَدِّقُونَ‘‘.
(مسند ابن ابی شیبہ، رقم 489)
’’ مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے آپ سے ایک بات سنی ہے، لیکن اس کے مفہوم کے متعلق مجھے کچھ تردد ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو کسی بات میں تردد ہو تو وہ مجھ سے پوچھ لیا کرے۔ میں نے کہا کہ آپ نے اپنی ازواج کے متعلق فرمایا کہ مجھے اپنے بعد ان کے لیے ایسے افراد کی توقع ہے جو صدیقین ہوں گے۔ آپ نے پوچھا کہ تم لوگ صدیق کسے شمار کرتے ہو؟ ہم نے کہا کہ ہم تو اس کا مصداق اپنے ان بچوں کو سمجھتے ہیں جو نابالغی کی حالت میں وفات پا گئے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ صدیقین سے مراد صدقہ کرنے والے ہیں۔ “
مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ نے اسی جذبے سے اپنے مال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اور آپ کے نواسوں کے لیے وصیت کی تھی، جس کا زیر بحث اثر میں ذکر کیا گیا ہے۔
2۔ ’ صِدِّيق‘، ’صدق‘ سے مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا مفہوم سچائی اور راستی میں درجۂ کمال پر فائز ہونا ہے۔ اسی مفہوم میں اس صفت کا ذکر قرآن مجید میں انبیا کے لیے بھی ہوا ہے1 اور انبیا کی تصدیق اور نصرت میں پیش پیش رہنے والوں کے لیے بھی۔2 طبری رحمہ اللہ نے اس کے جامع مفہوم کو یوں واضح کیا ہے:
الصِّدِّيقُونَ: تُبَّاعُ الْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ صَدَقُوهُمْ وَاتَّبَعُوا مِنْهَاجَهُمْ بَعْدَهُمْ حَتَّى لَحِقُوا بِهِمْ.
(تفسیر طبری 7/211)
’’ صدیقین، انبیا کے وہ پیروکار ہیں جنھوں نے ان کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کیا اور ان کے بعد بھی ان کے طریقے پر قائم رہے، یہاں تک کہ انھی سے جا ملے۔ “
زیرنظر روایت میں مقداد بن اسود نے اس کی تفسیر نابالغی میں وفات پا جانے والے بچوں سے غالباً اس پہلو سے کی ہے کہ جو بچے فطرت پر پیدا ہوئے اور بلوغت سے پہلے ہی کفر وایمان کی آزمایش سے دوچار ہوئے بغیر دنیا سے چلے گئے، ان کے متعلق ظاہراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایمان و تصدیق کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ ’صدیقین‘ سے یہاں آپ کی مراد صدقہ وانفاق کرنے والے ہیں۔ یہ لفظ کی تشریح اس کے لازم کے لحاظ سے کرنے کی مثال ہے۔ مراد یہ کہ میرے بعد جو لوگ اپنے ایمان اور عہد پر قائم اور اپنی ایمانی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ثابت قدم رہیں گے، وہ میری ازواج کی ضروریات کی کفالت کے لیے اپنا مال بھی ان پر خرچ کریں گے۔ گویا اس معاملے میں صدقہ وانفاق کا عمل، ان کی صدیقیت کا ایک تقاضا ہوگا۔
تخریج اور اختلاف طرق
یہ اثر کریمہ بنت مقداد کی سند سے تاریخ دمشق لابن عساکر 60/181 اور التاریخ الصغیر للبخاری 1/83 میں بھی مروی ہے۔
[باقی]
- ۔ مریم 19: 41، 56۔
- ۔ النساء 4: 69۔ الحدید 57: 19۔