عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ: ’’الَّذِي يُحَافِظُ عَلَى أَزْوَاجِي الصَّادِقُ الْبَارُّ‘‘، فَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُسَافِرُ بِهِنَّ، وَيُنْزِلُهُنَّ الشِّعبَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَنْفَذٌ، وَيَجْعَلُ عَلَى هَوَادِجِهِنَّ الطَّيَالِسَةَ.
(الطبقات الکبریٰ ابن سعد، رقم 8917)
’’ابن ابی نجیح نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو میری ازواج کی دیکھ بھال کرے گا، وہی سچا اور وفادار ہوگا۔ چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آپ کی ازواج کو (حج کے) سفر پر لے کر جاتے تھے اور راستے میں ان کے ٹھہرنے کا بندوبست ایسی گھاٹی میں کرتے تھے، جس میں دوسری جانب گزرنے کا راستہ نہ ہو اور ازواج کے محمل پر سبز رنگ کی چادریں ڈال کر رکھتے تھے۔“
لغوی تشریح
هَوَادِج: ’ھودج‘ کی جمع ہے، یعنی محمل یا پالکی، جس میں خواتین سوار ہوں۔
الطَّيَالِسَةَ: ’طیلسان‘ کی جمع ہے، یعنی سبز رنگ کی چادریں۔
شرح ووضاحت
حجاب کا یہ خصوصی اہتمام سورۂ احزاب کی اس ہدایت کی پیروی میں تھا، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب میں رہنے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِذا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتاعًا فَسْئَلُوهُنَّ مِنْ وَراءِ حِجابٍ ذلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ. (الاحزاب 53:33)
’’اور جب تم پیغمبر کی ازواج سے کوئی چیز طلب کرنا چاہو تو پردے کے پیچھے رہتے ہوئے طلب کرو۔ یہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے اور ان کے دلوں کے لیے بھی۔ “
اس ہدایت کی پیروی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی ازواج کو سفر میں ہم راہ لے کر جاتے تو ان کے لیے حجاب کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے خیبر سے واپسی کے سفر میں سیدہ صفیہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا ذکر یوں کیا ہے:
قَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ. فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ. (بخاری، رقم 4213)
’’مسلمانوں نے کہا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حجاب میں رکھا تو یہ امہات المومنین میں سے ایک ہیں اور اگر حجاب میں نہ رکھا تو پھر وہ آپ کی باندی ہیں۔ جب آپ کوچ کرنے لگے تو آپ نے سیدہ صفیہ کو اپنے پیچھے (اپنی سواری پر) بٹھانے کا بندوبست کیا اور (ان کے محمل پر بھی دیگر ازواج کی طرح) حجاب ڈال دیا۔“
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ازواج کے لیے دوران سفر میں اس کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ زیر بحث اثر میں اسی تناظر میں بتایا گیا ہے کہ حج کے ایک سفر میں عبد الرحمٰن بن عوف یہ ذمہ داری انجام دیتے رہے۔ ایسی گھاٹی کا انتخاب کرنے میں جس میں سے دوسری جانب نکلنے کا راستہ نہ ہو، یہی حکمت ملحوظ تھی کہ امہات المومنین گذرگاہ میں ٹھہرنے کے بجاے، جہاں وہ گزرنے والوں کی توجہ کا مرکز بن جائیں، راستے سےہٹ کر ایک گوشے میں قیام کریں۔
تخریج اور اختلاف طرق
ابن ابی نجیح کا یہ اثر فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل، رقم 1252 میں بھی مروی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو حج کے سفر پر لے جانے اور دوران سفر میں ان کے حجاب کے خصوصی اہتمام کی تفصیل دیگر آثار میں بھی بیان ہوئی ہے۔ مثلاً ابن سعد نے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے:
أَرْسَلَنِي عُمَرُ وَعُثْمَانُ بِأَزْوَاجِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ السَّنَةَ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا عُمَرُ يُحِجُّهُنَّ، فَكَانَ عُثْمَانُ يَسِيرُ أَمَامَهُنَّ، فَلَا يَتْرُكُ أَحَدًا يَدْنُو مِنْهُنَّ وَلَا يَرَاهُنَّ إِلَّا مِنْ مُدِّ الْبَصَرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَلْفَهُنَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَهُنَّ فِي الْهَوَادِجِ، وَكَانَا يَنْزِلَانِ بِهِنَّ فِي الشِّعَابِ، فَيُقِيلَانِهِنَّ فِي الشِّعَبِ، وَيَنْزِلَانِ فِي فَيْءِ الشِّعَبِ، وَلَا يَتْرُكَانِ أَحَدًا يَمُرُّ عَلَيْهِنَّ.
(الطبقات الکبریٰ، رقم 8912)
’’جس سال عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، انھوں نے اور عثمان بن عفان نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو حج کرانے کے لیے ان کے ہم راہ بھیجا۔ (راوی بتاتے ہیں کہ اس سفر میں) حضرت عثمان ازواج مطہرات کے آگے چلتے تھے، اور کسی کو ان کے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے، اور کوئی ان کو حد نگاہ سے زیادہ قریب ہو کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ عبد الرحمٰن بن عوف ان کے پیچھے چلتے تھے اور وہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ ازواج مطہرات پالکیوں میں ہوتی تھیں۔ عثمان اور عبد الرحمٰن بن عوف (راستے میں) ان کو پڑاؤ کراتے تو ازواج کو گھاٹیوں میں ٹھہراتے اور خود گھاٹی کے سایے میں، (یعنی بیرونی جانب) رکتے تھے اور کسی کو ازواج کے قریب سے گزرنے نہیں دیتے تھے۔“
ام معبد نے بھی اپنی روایت میں یہی کیفیت نقل کی ہے۔ وہ کہتی ہیں:
رَأَيْتُ عُثْمَانَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ حَجّا بِنِسَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ عَلَى هَوَادِجِهِنَّ الطَّيَالِسَةَ الْخُضْرَ، وَهُنَّ حِجْرَةٌ مِنَ النَّاسِ، يَسِيرُ أَمَامَهُنَّ ابْنُ عَفَّانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، يَصِيحُ إِذَا دَنَا مِنْهُنَّ أَحَدٌ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ، وَابْنُ عَوْفٍ مِنْ وَرَائِهِنَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَنَزَلْنَ بِقُدَيْدٍ قَرِيبًا مِنْ مَنْزِلِي، اعْتَزَلْنَ النَّاسَ وَقَدْ سَتَرُوا عَلَيْهِنَّ الشَّجَرَ مِنْ كُلِّ نَاحِيَةٍ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ وَهُنَّ ثَمَانٍ جَمِيعًا.
(الطبقات الکبریٰ، رقم 8914)
’’میں نے سیدنا عمر کی خلافت کے دور میں عثمان بن عفان اور عبد الرحمٰن بن عوف کو دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو حج کے لیے لے کر جا رہے تھے۔ میں نے ان کی پالکیوں پر سبز رنگ کی چادریں دیکھیں، اور وہ لوگوں سے الگ تھلگ سفر کر رہی تھیں۔ عثمان بن عفّان اپنی سواری پر ان کے آگے آگے چل رہے تھے اور جب کوئی قریب آتا تو وہ پکارتے تھے: دور رہو، دور رہو۔ عبد الرحمٰن بن عوف ان کے پیچھے چل رہے تھے اور وہ بھی ایسا ہی کر رہے تھے۔ رسول اللہ کی ازواج نے مقام قدید میں میرے گھر کے قریب پڑاؤ کیا۔ وہ لوگوں سے بالکل ہٹ کر ٹھہریں، اور انھوں نے ہر طرف سے ان پر درختوں (کی شاخوں) سے پردہ کر دیا۔ میں ان کے پاس گئی اور وہ آٹھ کی آٹھ وہاں موجود تھیں۔ “
(4)
عَن عَطَاءٍ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جِنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذِهِ زَوْجَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوهَا، وَلاَ تُزَلْزِلُوهَا، وَارْفُقُوا. فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ تِسْعٌ، كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلاَ يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ. (بخاری، رقم 4797)
’’عطاء کا بیان ہے کہ ہم عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام سرف میں ام المومنین ميمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حاضر ہوئے۔ ابن عباس نے کہا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، تو جب تم ان کی چارپائی کو اٹھاؤ تو زور سے جھٹکے نہ دو اور آہستگی سے لے کر چلو۔ (پھر بتایا کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں (بہ یک وقت) نو بیویاں تھیں، جن میں سے آٹھ کے پاس آپ باری باری دن گزارتے تھے اور ایک کے پاس نہیں گزارتے تھے۔“
لغوی تشریح
نَعْشَ: جنازے کی چارپائی۔
لاَ تُزَعْزِعُوهَا: ’زعزع‘ کا مطلب ہوتا ہے: زور سے جھٹکے دینا۔
شرح ووضاحت
سیدہ میمونہ کا انتقال 51ھ میں مکہ کے قریب مقام سرف میں ہوا اور وہیں ان کی تدفین کی گئی۔ سیدہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح اور رخصتی بھی 7ھ میں عمرے کے لیے مکہ مکرمہ جاتے اور واپس آتے ہوئے اسی مقام پر ہوئی تھی۔ اس اثر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی میت کی چارپائی اٹھانے والوں کو تلقین کر رہے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مکرمہ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھیں اور زور سے جھٹکے دینے کے بجاے چارپائی کو وقار اور سکون کے ساتھ اٹھا کر چلیں۔ مراد یہ ہے کہ امہات المومنین کی توقیر و احترام جیسے ان کی زندگی میں لازم تھا، اسی طرح وفات کے بعد ان کی میت کو اٹھانے اور تدفین میں بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔
ابن عباس نے مزید بتایا ہے کہ سیدہ میمونہ ان نو ازواج میں شامل تھیں جو بہ یک وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں۔ ان میں سے آٹھ ازواج، یعنی سیدہ عائشہ، سیدہ حفصہ، سیدہ زینب، سیدہ ام سلمہ، سیدہ ام حبیبہ، سیدہ میمونہ، سیدہ صفیہ اور سیدہ جویریہ کی باریاں مقرر تھیں اور آپ باری باری ان کے پاس ایک ایک دن گزارتے تھے، جب کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ نے کبرسنی کے باعث اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ کو دے دیا تھا اور آپ ان کے پاس دن نہیں گزارتے تھے۔ اثر کے بعض طرق میں عطاء بن ابی رباح نے اس زوجہ کا نام جن کے لیے باری مقرر نہیں تھی، سیدہ صفیہ بتایا ہے، جو درست نہیں۔ امام بیہقی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ دراصل سیدہ سودہ تھیں۔ 1
تخریج اور اختلاف طرق
ابن عباس کا یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی مروی ہے:
مسلم، رقم 2738۔ نسائی، رقم 3181۔ السنن الکبریٰ للنسائی، رقم 5159، 8653۔ مسند احمد بن حنبل، رقم 1989۔ المستدرک علی الصحیحین، رقم 6899۔ المعجم الکبیر للطبرانی، رقم 11220۔ مصنف عبد الرزاق، رقم 6051۔ السنن الکبریٰ للبیہقی، رقم 12566۔ مستخرج ابی عوانۃ، رقم 3620۔ الطبقات الکبریٰ لابن سعد، رقم 8717۔ اخبار مکۃ للفاکہی، رقم 2766۔ مشکل الآثار للطحاوی، رقم 1955۔
[باقی]
- ۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 12566۔