ایک اہم موضوع پر غور و فکر پر ابھارتے اہم سوالات۔ ان کے ذریعے سے ہم اپنے ایمان کی کیفیت بھی جان سکتے ہیں اور یہ بھی معلوم کر سکتے ہیں کہ اس میں کہاں کہاں خرابیاں اور کج فہمیاں ہیں!
ایمان یعنی یقین، اعتبار آخر کس چیز کا نام ہے؟ میرے نزدیک یقین کی بلند ترین منزل کا نام ہے: يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔ یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، بغیر دیکھے یقین کرتے ہیں۔
اب آپ کہیں گے کہ یہ تو ہم سب مسلمان کرتے ہیں۔ ہم ایمان لاتے ہیں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر۔ اور یہ تو ہمیں سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات سے ازبر ہے:
الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
بظاہر یہ سب کچھ سیدھی سادی باتیں لگتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے:
کیا واقعی ہم ایمان بالغیب رکھتے ہیں؟
اگر رکھتے ہیں تو معرفت کی منزلیں طے کرنے کی تڑپ کیوں ہے؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
روح کیا چیز ہے؟
جنت و دوزخ کی وہ تفصیلات جن کا ذکر اللہ نے نہیں کیا، اور وہ تشبیہات جن کا مقصد محض تسلی دینا ہے، ان بحثوں میں کون الجھا ہوا ہے؟
صوفی ازم کا شوق کس کو بے قرار کر رہا ہے؟ اور اس شوق سے درحقیقت حاصل کیا کرنا مقصود ہے؟
کیا یہ سب کچھ کر کے ہم واقعی “متقین” میں شامل ہو سکتے ہیں؟
کیونکہ متقین کی تعریف تو یہ کی گئی ہے کہ وہ غیب کے پردے کو چاک کرنے کی جستجو نہیں کرتے، بلکہ بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔
یہ ایمان بالغیب محض آزمائش نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی فن کے پروفیسر 2000 صفحات کی کتاب میں سے 200 صفحات منتخب کر کے کہہ دے کہ انہی کو پڑھ لو، کامیاب ہو جاؤ گے، تو کیا ہم ان باقی صفحات میں الجھنے لگیں گے جن کا ہم سے سوال ہی نہیں کیا جائے گا؟
یقین یا ایمان ایک عجیب و لطیف شے ہے۔
چھوٹے بچوں کو کامل یقین ہوتا ہے کہ ان کی ماں اسکول کے باہر بیٹھی رہتی ہے اور چھٹی کے بعد ضرور لے جائے گی۔ یہی یقین ان کے خوف کو زائل کرتا ہے۔ لیکن جس دن یہ یقین ٹوٹتا ہے، وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔
مجھے یاد ہے، ایک بار میں نے اپنی چھوٹی بہن کی سائیکل کو دھکا دیا اور تھک کر بغیر بتائے چھوڑ دیا۔ میرا گمان تھا کہ وہ گرے گی، رک جائے گی، لیکن وہ چلتی رہی کیونکہ اسے یقین تھا کہ میں نے اسے تھاما ہوا ہے۔ جب پلٹ کر دیکھا اور مجھے نہ پایا تو گر پڑی۔ یقین ٹوٹ گیا تھا۔
ہم اپنی اولاد کو کہتے ہیں: اللہ ہر وقت تمہارے ساتھ ہے، تمہیں دیکھ رہا ہے۔ وہ مان بھی لیتے ہیں۔ لیکن ان کا یقین اس وقت ٹوٹتا ہے جب وہ ہمیں جھوٹ بولتے، رشوت لیتے، یا کسی کا حق مارتے دیکھتے ہیں۔
ایک حکایت ہے:
ایک ماں روز کہتی: “دسترخوان لگالو، اللہ کھانا دیتا ہے۔” ایک دن ماں گھر پر نہ تھی۔ بچہ اسکول سے آیا، وضو کیا، دسترخوان بچھایا اور اللہ پر یقین کے ساتھ بیٹھ گیا۔ جب ماں پہنچی تو دیکھا کہ بچہ کھانا کھا رہا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ کھانا کیسے پہنچا، اللہ سبب الاسباب ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک بچہ اس یقین پر بیٹھ سکتا ہے تو آپ کس ڈر سے رشوت لیتے ہیں؟
کیا آپ کو یقین نہیں کہ عزت، روزی اور آزمائش سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں؟
کیا آپ اللہ پر بھروسا کر کے دیکھ چکے ہیں؟
جس معرفت کی تلاش میں ہم در در پھرتے ہیں، وہ معرفت تو خود آ جائے گی اگر اللہ پر بھروسا ہو۔ لیکن شرط یہ ہے کہ جب مدد آئے تو وسیلے کو معبود نہ بنایا جائے، اور یہ نہ کہا جائے کہ “یہ مدد کیوں اور کیسے آئی؟”
اللہ تعالیٰ نے تو واضح کر دیا ہے کہ غیب کا پردہ قیامت کے دن ہٹے گا۔
آج ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ایمان بالغیب کو مضبوطی سے تھام کر وہ عمل کریں جس کے لیے ہمیں دنیا میں بھیجا گیا ہے۔
یہ ہمارا کام نہیں کہ جانیں قیامت کب آئے گی؟
یا شیطان پہلے کون سے مرتبے پر تھا؟
یا جنت کی علامتی تشبیہات کا تجزیہ کریں۔
یا یہ سوال کریں کہ: “اُسے زیادہ دولت والوں میں کیوں پیدا کیا؟ مجھے غریب گھر میں کیوں؟”
یہ سب غیب کے پردے ہیں، جن کا ہماری آزمائش یا انجام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان میں الجھنا محض وقت کا ضیاع ہے۔
صراطِ مستقیم کوئی پہیلی نہیں اور نہ کوئی خفیہ راز، نہ متقی ہونے کے لیے چِلّے کاٹنے پڑتے ہیں۔
بس وہی کرنا ہے جو ہمارے اختیار میں ہے، نہ کہ ان باتوں میں الجھنا جو ہمارے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔
مولانا اشرف علی تھانوی کے ملفوظات میں ایک واقعہ ہے:
فرماتے ہیں کہ طالبِ علمی کے زمانے میں ایک بار جنات اور عملیات کا شوق پیدا ہوا۔ استاد سے سوال کیا تو فرمایا:
“ہاں، جن ہوتے ہیں، عملیات بھی ہوتے ہیں۔ سیکھ بھی سکتے ہو، میں سکھا بھی سکتا ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے: کس پر حکم چلانا چاہتے ہو؟ حاکمیت تو اللہ کا حق ہے۔ تمہارا کام بندگی ہے۔”
مولانا لکھتے ہیں کہ اسی وقت دل میں نفرت سی پیدا ہو گئی اس چیز سے جو مجھے بندگی کے مقام سے ہٹا دے۔ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ مجھے بندہ بن کر رہنا ہے۔ مجھے ان شوقوں سے پرہیز کرنا ہے جو مجھے اللہ کی بندگی سے غافل کر دیں۔
جب اللہ فرماتا ہے کہ متقی وہ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور انفاق کرتے ہیں، تو ہمیں تسلی نہیں ہوتی۔ ہم کہتے ہیں: “کچھ اور بھی تو ہونا چاہیے۔” ہم غیب کی باتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
جب ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: “قیامت کب آئے گی؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“تمہاری قیامت تو تمہاری موت ہے۔”
لیکن ہمیں یہ جواب کافی نہیں لگتا۔ ہم قیامت کی نشانیاں اکٹھی کرنا چاہتے ہیں، گویا ہمیں اس دن کا انتظام کرنا ہے!
قرآن کہتا ہے کہ اللہ صحابۂ کرام سے راضی ہو گیا۔ لیکن ہم کہتے ہیں: “تاریخ کی کتابیں تو کچھ اور بتاتی ہیں۔۔۔”
تو پوچھا جائے:
“کیا اللہ پر یقین ہے؟ رسول اللہ ﷺ پر ایمان ہے؟ قرآن کو حرفِ آخر مانتے ہیں؟”
اگر نہیں، تو محض زبانی دعوے سے مسلمان ہونا کافی نہیں۔ اور پھر ہم جنت کے نہ صرف دعوے دار بلکہ ٹھیکے دار بنے پھرتے ہیں!
قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کہتے تھے:
“دوزخ کی آگ ہمیں صرف چند دن چھوئے گی۔”
اللہ ان سے پوچھتا ہے:
“کیا تم سے کوئی وعدہ لیا ہے اللہ نے جس کی خلاف ورزی نہ کرے؟”
مسلمانو! ذرا غور کرو، تم بھی انہی باتوں پر تو بضد نہیں ہو؟ تمہیں کیا یقین ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ مختلف سلوک کرے گا؟
ایمان بالغیب، یقین، اور تسلیم ہی اللہ سے تعلق کو زندہ رکھتے ہیں۔
بحث، اعتراض، تاویلات اور اگر، مگر ہمیں اللہ سے دور کر دیتے ہیں۔ شیطان کی کوشش یہی ہے کہ تمہیں ان بحثوں میں لگا دے جہاں نہ دین ہے، نہ دنیا۔ تو بندے بنو، اپنی اصل کو پہچانو، اپنی جگہ پر جمے رہو۔ اسی میں تمہاری دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔