مواد پر جائیں

ایمان کا ذائقہ

محمد ذکوان ندوی اردو

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ’’تمھارے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کی کہ وہ پہاڑوں ، درختوں اور اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے چھتے بنائے ۔ پھر ہر قسم کے پھلوں کا رس چوسے اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہے ۔ اُس کے پیٹ سے ایک مشروب نکلتا ہے جس کے مختلف رنگ ہیں ۔ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے ۔ بے شک اس میں یقیناً اُن لوگوں کے لیے (اضافۂ ایمان و ہدایت کی) عظیم نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں ۔ ‘‘ (النحل 16: 68-69)

قرآن کی اس آیت سے متعلق استاذِ محترم مولانا وحید الدین خاں تحریر فرماتے ہیں :

’’شہد کی مکھی کی زندگی میں ایسی غیر معمولی نشانیاں ہیں جو اس حقیقت کو بتاتی ہیں کہ شہد کی مکھی کو یقینی طور پر خارج سے وحی جیسی رہنمائی دی جا رہی ہے، خارجی رہنمائی کے بغیر شہد کی مکھی خود سے ایسا نہیں کر سکتی ۔ شہد کی مکھی جس طرح کام کرتی ہے، اُس میں اِس نوعیت کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً شہد کی مکھی کا چھتا ۔ شہد کی مکھی اپنا ہر چھتا انتہائی صحت کے ساتھ اعلیٰ ریاضیاتی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے بناتی ہے ۔ اُس کو یہ ریاضیاتی علم کس نے دیا؟

شہد کے ایک چھتے میں ہزاروں مکھیاں کام کرتی ہیں ۔ اُن کا یہ کام اتنے زیادہ منظم انداز میں ہوتا ہے جس کی مثال کسی بھی انسانی کارخانے میں موجود نہیں ۔ شہد کی مکھیوں کو یہ ڈسپلن کس نے سکھایا؟ یہ مکھیاں جب پھولوں کا رس لا کر اپنے چھتے میں جمع کرتی ہیں تو اِسی کے ساتھ وہ انتہائی مناسب مقدار میں اُس کے اندر ایک ایسا تحفظاتی مادہ (preservative)شامل کرتی ہیں جو شہد کو لمبی مدت تک خراب ہونے سے بچانے والا ہے۔ یہ فن شہد کی مکھی کو کس نے سکھایا؟

شہد کی مکھی شہد لانے کے لیے اکثر اپنے چھتے سے کئی کلو میٹر دورتک جاتی ہے ۔ صبح کو جب وہ شہد لانے کے لیے اپنے چھتے سے روانہ ہوتی ہے تو وہ کس قدر اندھیرے میں روانہ ہوتی ہے، لیکن شام کو جب وہ شہد لے کر اپنی آخری ٹرپ سے لوٹتی ہے تو وہ کسی قدر اجالے میں لوٹتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ صبح کو اُس کا سفر اندھیرے سے اجالے کی طرف ہوتا ہے، لیکن شام کو اجالے سے اندھیرے کی طرف۔ اِس لیے صبح کو اگر وہ اندھیرے میں روانہ ہو تو اسے اطمینان ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر میں اجالا ہو جائے گا اور راستے صاف دکھائی دینے لگیں گے۔ اس کے برعکس، اگر وہ شام کو دیر سے واپس ہو تو اندیشہ ہے کہ جلد ہی اندھیرا ہو جائے اور وہ اپنے راستے سے بھٹک جائے ۔ صبح کے پہلے سفر اور شام کے آخری سفر میں فرق کرنے کا یہ شعور اُسے کس نے دیا؟‘‘ (مطالعۂ قرآن 101-102)

شہد کی تخلیق کے اس عجیب معاملے پر غور کرتے ہوئے یہ نکتۂ معرفت واضح ہوتا ہے کہ جس طرح شہد کے اندر مادی مٹھاس پائی جاتی ہے، اِسی طرح اگر ایک شخص شہد اور اِس جیسی بے شمار تخلیقاتِ خداوندی پر غور کرے، تو اِس غور و فکر کے نتیجے میں اُس کو وہ نادر ’رزق رب‘ (طٰہٰ 20: 131) ملے گا، جسے ایک قولِ رسول میں ’ایمانی حلاوت‘ (طعم الایمان) کہا گیا ہے، یعنی فکری اور روحانی سطح پر ایمان باللہ کا وجدانی تجربہ، اور رسمی ایمان کے بجاے زندہ اور شعوری ایمان کا لطیف ترین ذائقہ۔

[ بنگلور، 23 / جون 2023ء ]