مواد پر جائیں

ایک تاریخی خط

مولانا امین احسن اصلاحی اردو

مولانا امین احسن اصلاحی (1904- 1997) امام حمیدالدین فراہی کے شاگرد اور ان کے طریقہ تفسیر اور فکر کے جید شارح ، استاذ جاوید احمد صاحب غامدی کے استاذ اور تفسیر تدبر قرآن سمیت دیگر عظیم کتب کے مصنف تھے ۔ وہ کچھ عرصہ جماعت اسلامی کے نمایاں لیڈر بھی رہے مگر پھر 1958 میں اختلاف کی وجہ سے جماعت سے علیحدہ ہو گئے ۔ باقی ساری زندگی قرآن و سنت اور حدیث پر تحقیق اور اس کی تدریس میں وقف کر دی ۔ پاکستان بننے کے بعد ملک میں اسلام کے مطابق حکومت چلانے کے مطالبے پر انھیں 1949 میں گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری سراسر غیر متوقع اور صریحاً بے جا اور ظلم پر مبنی تھی ۔ وہ دو برس تک بانی جماعت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور سیکرٹری جماعت اسلامی میاں طفیل محمد کے ہمراہ قید میں رہے ۔ قید کے دوران میں انھوں نے اپنے احباب اور اہل خانہ کو خطوط لکھے ۔ ہم یہاں ان کا وہ خط شائع کر رہے ہیں جو انھوں نے اپنی اہلیہ محترمہ انوار بیگم صاحبہ کو لکھا۔ یہ خط ظاہر کرتا ہے کہ ایک عالم ِباعمل اپنی اہلیہ کو مصیبت اور آزمائش میں کیسی زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے ۔ ( مدیر )

سنٹرل جیل ملتان

انوار اختر ! اللہ تم کو اور بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور اپنے فیصلوں پر راضی اور شاکر رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

شاید تم کو اور والدہ صاحبہ کو میرے چار اپریل کو رہا نہ ہونے سے صدمہ ہوا ہو مگر مجھے امید ہے کہ تم اس صدمے کو پورے جذبے ، رضا بالقضا کے ساتھ برداشت کرو گی۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی اور جو کچھ اس کی مرضی ہے اسی میں ہم سب کی بہتری ہے بشرطیکہ ہم کو اس کے فیصلے پر راضی رہنے کی توفیق حاصل ہو۔ میری طرف سے تم اطمینان رکھو۔ محض تمہاری اور والدہ صاحبہ ( مولانا کی ساس صاحبہ) کی پریشانی کی وجہ سے مجھے اس کا اگر کچھ خیال ہوا ہو تو ہوا ہو ورنہ الحمدللہ دل بالکل مطمئن ہے اور اس اطمینان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں ۔

لاہور میں تو نہ کوئی مکان ملا اور نہ شاید ملے اس وجہ سے اگر تم مناسب خیال کرو تو ابو صالح ( مولانا کے بیٹے ) کو لکھو وہ تم کو راولپنڈی پہنچا دے ۔ وہاں کوئی نہ کوئی انتظام ان شاءاللہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت تو ذہن میں نہیں آتی اور اگر تمھارے سامنے اس کے سوا کوئی اور موزوں شکل ہو تو اس کو اختیار کر سکتی ہو البتہ والد صاحب ( مولانا کے سسر ) سے مشورہ کر لو ۔ میں یہاں سے تو صرف دعا کر سکتا ہوں اور اس سے خدا کے فضل سے غافل نہیں ہوں۔ امید ہے میری دعائیں ان شاءاللہ رائیگاں نہ جائیں گی ۔راولپنڈی جاتے ہوئے اگر تم ضروری سمجھو تو ابو صالح سے کہو کہ مجھ سے بھی تم کو ملاتے ہوئے لے جائے بشرطیکہ تمہارا آنا میرے لیے اطمینانِ قلب اور تسکین کا باعث ہو نہ کہ پریشانی کا ۔ میں نے اسی خیال سے تمہارا آنا پسند نہیں کیا تھا اور اب بھی میری اپنی خواہش یہی ہے کہ یہاں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ۔ اللہ تعالی اس صبر کا بھی صلہ عطا فرمائے گا۔ والدہ صاحبہ سے قدم بوسی کے بعد درخواست کرو کہ میرے لیے برابر دعا کرتی رہیں اور زیادہ تر دعا اس بات کے لیے کریں کہ اللہ تعالی مجھے اپنے دین کے راستے میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

والد صاحب قبلہ اور اماں زینب کی خدمت میں سلام مسنون اور دعا کی درخواست ۔ مریم ( بیٹی )کو بہت بہت پیار ۔ نثار سلمہ( مولانا کی خواہر نسبتی) اور ابو سعید ( بیٹے ) اور شیمہ کو دعا ۔

بس رات دن صرف ایک فکر رکھو کہ اللہ تعالی آخرت کی پکڑ سے بچائے اور اس کے غضب سے بچنے کے لیے جو کچھ کر سکو خود بھی کرو۔ بچوں کو بھی اس کی نصیحت کرو اور گھر والوں کو بھی اپنے امکان پر اس کی تاکید کرتی رہو۔ اپنے زیورات کی زکوٰۃ فوراً ا دا کرو اور سیرت اور قرآن اور استغفار برابر کرتی رہو ۔ بس آخرت کے سوا ساری فکریں چھوڑ دو اور فکر اللہ تعالیٰ خود کر لے گا ۔

میں اللہ کے فضل سے بہت اچھا ہوں۔ جانے پدر مریم کو پھر دعا اور پیار۔

امین احسن اصلاحی

چھ اپریل 1949