مواد پر جائیں

بھلا تو نے دیکھاتھا دل چیر کر؟

سید منظور الحسن اردو

[ مسلم کی روایت ، رقم 7 سے ماخوذ]

ہدایت کا روشن ہوا آفتاب

کھلا آگہی کا دَرَخشِندہ باب

محمد ہوئے جب عرب کے امام

رسالت کی حجت1 ہوئی جب تمام

سبھی مشرکینِ عرب کے لیے

ہر اک پیروِ بو لہب کے لیے

برأت2 کا اعلان نازل ہوا

خدا کا یہ فرمان نازل ہوا:

رسالت کا انکار جس نے کیا

ضلالت پہ اصرار جس نے کیا

اُسے زندگی کا کوئی حق نہیں

کرو قتل گر اُس کو پاؤ کہیں!

اُسی دور کی اک روایت ہے یہ

سراپا ہدایت، حکایت ہے یہ

ہے مسلم میں مرقوم یہ داستاں

اسامہ3 اِسے کر رہے ہیں بیاں

نَفاذِ پیامِ خدا کے لیے

سَرایا نبی نے روانہ کیے

ہمیں بھی نبی نے روانہ کیا

جہینہ4 میں ہم نے ٹھکانا کیا

وہاں ہم کو اک شخص آیا نظر

نہیں تھے ذرا اُس سے ہم بے خبر

بتوں کی پرستِش میں کامل تھا وہ

نبوت کا منکِر تھا، باطِل تھا وہ

میں نیزہ لیے اُس کی جانب بڑھا

ارادہ تھا دل میں مرے، قتل کا

یہ دیکھا تو خوف اُس پہ طاری ہوا

زرِ زندگی کا بھکاری ہوا

شتابی سے پھر اُس نے کَلْمہ پڑھا

مسلمان ہونے کو ظاہر کیا

یہ سن کر مرے دل میں آیا خیال

یہ جھوٹا ہے، اِس نے چلی ہے یہ چال

کیا قتل میں نے اُسے برملا

ذرا بھی نہ مجھ کو تردُد ہوا

ہوئی واپسی جب پیمبر کے پاس

کہا ماجرا میں نے بعد از سپاس

نبیؐ بات سن کر فسردہ ہوئے

بڑے رنج سے آپ گویا ہوئے:

زُباں سے شہادت اگر اُس نے دی

بھلا تم نے کیوں اُس کی پھر جان لی؟‘‘

کہا میں نے اے رحمتِ دوسرا

بچانے کو جاں اُس نے کلمہ پڑھا

اگر موت کا اُس کو ہوتا نہ ڈر

نہ پڑھتا کبھی ”لا الٰہ“ عمر بھر!

پیمبر نے فرمایا یہ جان کر:

’’بتا اب ذرا مجھ کو اے بے خبر!

بھلا تو نے دیکھا تھا دل چیر کر؟

بھلا تو نے دیکھا تھا دل چیر کر؟

اگر ”لا الٰہ“ تجھ سے مانگے حساب

اُسے دے گا کیا آخرت میں جواب؟“

پیمبر یہ کہتے رہے بار بار

کھڑا تھا میں مغموم اور شرمسار

رِوایت سے ہم کو سبَق یہ ملا

حکایاتِ دل جانتا ہے خدا

کسی دل میں ہم جھانک سکتے نہیں

خبر غیب کی کچھ بھی رکھتے نہیں

زُباں سے جو خود کو مسلماں کہے

رسالت پہ ایماں کو ظاہر کرے

ہمیں اُس کی تکفیر کا حق نہیں

یہی اصلِ دیں ہے، یہی شرحِ دیں

  1. ۔ رسول اللہ کے ذریعے سے دین کی حقیقت کا اس قدر واضح ہوجانا کہ ایمان لانا عقل و فطرت کا لازمی تقاضا بن جائے۔
  2. ۔ سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات میں ”برأت“ کا یہ اعلان درج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکینِ عرب نے حق کے مقابلے میں جانتے بوجھتے جس ہٹ دھرمی اور انکار کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بعد عذابِ الہٰی کے طور پر انھیں زندگی سے محروم کر دیا جائے۔
  3. ۔ حضرت اسامہ بن زید، صحابی۔ سرایہ:سریہ کی جمع، وہ جنگی مہم جو حضور نے روانہ کی۔
  4. ۔ عرب کی ایک بستی کا نام۔