تربیتِ اولاد کے اہم ترین سلسلے کی یہ تیسری کڑی ہے۔ ہمیشہ کی طرح ثوبیہ نورین نے بہت سے اہم نکات اور پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ عام طور پر ترقی پذیر معاشروں میں اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
پچھلے مضامین میں ہم نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ گھریلو تشدد، عدم برداشت، جذباتی جبر اور سماجی بے رحمی کے واقعات دیکھ کر چونک تو جاتے ہیں، مگر اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سب اچانک رونما ہو گئے۔ رشتہ دار، پڑوسی اور معاشرہ یوں محسوس کرتا ہے جیسے کسی دن ایک انسان نے یکدم انسانیت چھوڑ دی ہو۔
حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے انجام اچانک نہیں ہوتے۔ ان کی بنیاد بہت پہلے پڑ جاتی ہے۔ وہیں، جہاں ہم بچوں کی تربیت کے سنہری ابتدائی برس میاں بیوی، ساس بہو کے جھگڑوں یا گھریلو مصروفیات میں گزار دیتے ہیں، اور اگر کبھی فرصت مل بھی جائے تو تربیت کے حوالے سے بیداری پیدا نہیں ہو پاتی۔
ماں باپ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی مختلف رویے اپنانا شروع کر دیتے ہیں۔ میرا یہ کہنا نہیں کہ یہ رویے لازماً منفی یا نفرت پر مبنی ہوتے ہیں، بلکہ محض یہ توجہ دلانا مقصود ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کے پالنے پوسنے میں فرق موجود ہوتا ہے جسے ہم محسوس تو کرتے ہیں، مگر اس کے اثرات پر غور نہیں کرتے۔
والدین، ماضی میں جھانکیں: چند ماہ کے بچے اور ہمارے انداز
نوزائیدہ بچوں کے نام اور جسمانی ساخت تو فطری طور پر مختلف ہوتے ہیں، مگر عقیقے کے بکرے، خوشی کی مٹھائیاں اور
اظہارِ مسرت کے پیمانے ہم خود متعین کرتے ہیں۔
پہلے ہی برس میں بچے اور بچی سے بات کرنے، اٹھانے، جھولے دینے اور مخاطب کرنے کے انداز میں فرق نمایاں ہو جاتا ہے، اور ہم اسے بڑے معصوم لہجے میں بیان بھی کرتے ہیں:
“اب تو گھر میں مرد آ گیا ہے۔”
“بیٹیاں تو بڑی نازک ہوتی ہیں۔”
یہی جملے حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں ایک معروف اداکار کو نومولود بچوں کے جھولے جھلانے کے حوالے سے کہتے سنا۔ یہ سن کر ذہن میں کئی سوال ابھرتے ہیں:
کیا نومولود بچہ زیادہ طاقتور پیدا ہوتا ہے؟
کیا بچی کمزور یا کم معصوم ہوتی ہے؟
آخر یہ تفریق کس بنیاد پر؟
یہ فرق یہاں تک جا پہنچتا ہے کہ ڈائپر چینج کرتے وقت بھی حساسیت الگ ہو جاتی ہے، حالاں کہ اخلاقی اعتبار سے دونوں کے لیے تقاضا ایک ہی ہونا چاہیے۔ بظاہر یہ سب باتیں معمولی لگتی ہیں، اسی لیے موضوعِ بحث نہیں بنتیں، مگر یہ کب ’’بڑی‘‘ ہو جاتی ہیں، اس کا اندازہ بہت دیر سے ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ہماری نیت بری ہوتی ہے یا محبت میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم محبت کس طرح کرتے ہیں، اور ہمارے رویے بچوں کو کون سے پوشیدہ پیغامات دیتے ہیں، جو ان کے مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ابتدائی برس: جہاں فرق کا کوئی فطری جواز نہیں
زندگی کے ابتدائی برسوں میں لڑکے اور لڑکی کی نفسیات میں وہ فرق موجود ہی نہیں ہوتا جسے بنیاد بنا کر ہم تربیت کے اصول بدل دیتے ہیں۔ اس مرحلے پر بچہ محض بچہ ہوتا ہے۔ وہ کھیلنا، سوال کرنا، دریافت کرنا اور دنیا کو سمجھنا چاہتا ہے۔
مگر انہی بنیادی حقوق میں بھی بچیوں کے لیے مواقع محدود کر دیے جاتے ہیں، حالاں کہ اس عمر میں بچہ یہ شعور بھی نہیں رکھتا کہ اس کے ساتھ جو فرق روا رکھا جا رہا ہے، وہ کسی اہلیت یا بنیاد پر ہے۔
وہ رعایتیں جو نظر نہیں آتیں
لڑکوں کو کم عمری ہی میں ایسی رعایتیں ملنے لگتی ہیں جو ہمیں ’’معمول‘‘ محسوس ہوتی ہیں:
زیادہ دیر تک باہر رہنا،
ہر طرح کی اچھل کود،
کم جواب دہی،
زیادہ گنجائش اور کم روک ٹوک۔
یہ سب بظاہر چھوٹی باتیں ہیں، مگر تربیت میں کوئی چیز معمولی نہیں ہوتی۔ ہر رعایت، ہر چھوٹ ایک خاموش پیغام دیتی ہے، لڑکے کو بھی اور لڑکی کو بھی۔
یہ پیغام رفتہ رفتہ یہ شکل اختیار کر لیتا ہے کہ ایک جنس کی خواہش، آزادی اور مرضی دوسری سے زیادہ اہم ہے۔
یہاں سے کوئی فوراً ظالم نہیں بنتا، مگر ایک ایسا ذہن ضرور تشکیل پاتا ہے جو خود کو فطری طور پر برتر سمجھنے لگتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دینی پروگراموں میں یہ سوال زیر بحث آتا ہے کہ بیوی بدتمیزی کرے تو کیا مارا جا سکتا ہے، اور بحث اس بات پر ہوتی ہے کہ ’’کتنا مارا جائے‘‘۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ بدتمیزی کی تعریف کیا ہے؟ اور یہ مارنے کا اختیار کہاں سے آیا؟
کیا رائے دینا، جواب دینا، اپنے عمل کی وجہ بتانا یا عزتِ نفس کے لیے آواز اٹھانا بدتمیزی ہے؟
یہ معیار آخر کون طے کرے گا؟
یہی فکر کبھی آگے چل کر گھریلو تشدد، ہراسانی اور ریپ جیسے جرائم کو جنم دیتی ہے۔ اکثر کیسز کے پس منظر میں یہی سوچ ملتی ہے کہ عورت نے انکار کیوں کیا، باہر کیوں نکلی، اپنی مرضی کیوں کی؟
خوف کی بنیاد پر کی جانے والی تربیت
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کچھ انسان واقعی خطرہ ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اس خطرے کا بوجھ صرف بچیوں پر کیوں ڈال دیا جاتا ہے؟
اگر مسئلہ طاقت کا ہے تو طاقت کے اخلاقی استعمال کی تربیت کس کو ملنی چاہیے؟ طاقت رکھنے والے کو یا اس کا ہدف بننے والے کو؟
حفاظت اور نزاکت کے نام پر ہم بچیوں کو خوف میں پلا کر ایک کمزور، محتاج اور دب کر جینے والی نسل تیار کرتے ہیں،
جب کہ لڑکوں کی تربیت سے ایک بنیادی عنصر غائب رہتا ہے:
طاقت کے ساتھ انصاف،
آزادی کے ساتھ ذمہ داری،
اور جذبات کے ساتھ ضبط۔
سیرتِ رسول ﷺ — تربیت کا اصل معیار
رسول اللہ ﷺ نے بچوں کے ساتھ نرمی، عدل اور برابری کا برتاؤ کیا۔ انہوں نے طاقت کو خوف نہیں، امانت بنایا۔
تربیت کو کبھی جبر یا تذلیل کا نام نہیں دیا۔
اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا:
کیا ہماری گھریلو تربیت اسی عدل، اسی نرمی اور اسی شعور کی عکاس ہے؟
شاید مسئلہ لڑکے اور لڑکی کا نہیں۔
شاید مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تربیت کو کنٹرول، اور ذمہ داری کو رعایت میں بدل دیا ہے۔
اور جب تربیت انصاف سے خالی ہو جائے تو جبر محض وقت کا کھیل رہ جاتا ہے۔