مواد پر جائیں

بیٹوں کی تربیت اور چند سنگین مسائل

ثوبیہ نورین اردو

اس مضمون میں ایسے اہم مگر بہت عام رویوں پر توجہ دلائی گئی ہے جو غیر شعوری طور پر ہماری اولاد پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو مضمون نگار کے نقطۂ نظر سے کلی یا جزوی اختلاف ہو۔ ایسی صورت میں “صالحات” کے یہ صفحات آپ کے لیے حاضر ہیں۔ ہم آپ کا نقطۂ نظر ضرور شائع کریں گے۔

شاہ یوسف کا قتل ہو یا نور مقدم کے ساتھ پیش آنے والی بھیانک واردات، اجتماعی بے حرمتی کے قصے ہوں یا بیٹی، بہن اور بیوی کا غیرت کے نام پر قتل، یہ سب وہ ناسور ہیں جنہیں کچھ لوگ آج کے نام نہاد روشن خیال دور میں بھی مسئلہ ماننے کو تیار نہیں۔ علاج تو دور کی بات ہے، انہیں سنجیدگی سے سمجھنے اور ان کی جڑ تک پہنچنے کی زحمت بھی کوئی گوارا نہیں کرتا۔

ہم اکثر بیٹیوں کی تربیت، ان کے تحفظ، حدود، کردار اور ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہیں، مگر بیٹوں کی تربیت پر بات بہت کم ہوتی ہے۔ ہم اپنے بیٹوں کو کیسے پالتے ہیں؟ کیا سکھاتے ہیں؟ ان سے کیا توقعات وابستہ کرتے ہیں؟ ان کی شخصیت اور کردار میں گھر اور سماج کا کیا کردار ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر عمومی طور پر خاموشی چھائی رہتی ہے۔

یہاں میں ایک اہم نکتہ اٹھانا چاہتی ہوں۔ ایک فلم جس نے خاص طور پر لڑکوں کی تربیت کے مسائل، مردانگی اور عورت دشمنی جیسے حساس پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ یاد رکھیے! ہماری بیٹیوں کو عزت و مقام دینا، ان کی حفاظت کو یقینی بنانا صرف نعرے بازی، جلوس نکالنے یا خواتین کے دن منانے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے والدین اور ہر تربیتی ادارے کو سنجیدہ توجہ دینا ہوگی۔

میں آپ کی توجہ چند بنیادی نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہوں جو اگر سمجھ لیے جائیں تو بیٹیوں کا مستقبل زیادہ محفوظ اور بیٹوں کی زندگی میں سکون اور خوشی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

ہمارے گھروں میں بچپن سے ہی کچھ جملے تربیت کے نام پر بچوں کو سنائے جاتے ہیں، جن کے پیچھے چھپی زہریلی نفسیات کو سمجھنا ازحد ضروری ہے۔ یہ جملے لاشعوری طور پر لڑکوں کی ذہن سازی کر کے سماج میں آنے والی نسلوں کی تباہی کی بنیاد رکھتے ہیں۔

“لڑکے روتے نہیں” — جذباتی گھٹن کا آغاز

بچپن سے ہی بیٹوں کو سکھایا جاتا ہے کہ آنسو کمزوری کی علامت ہیں۔ “لڑکے روتے نہیں” جیسا جملہ بچوں کے ذہن میں یہ پیغام بٹھا دیتا ہے کہ دکھ، غم یا خوف کا اظہار شرم کی بات ہے۔ جذبات کو دبانا، ان سے انکار کرنا اور ہر حال میں مضبوط دکھائی دینا ہی مردانگی ہے۔

یہ بظاہر معمولی تربیت بعد ازاں اندرونی گھٹن میں بدل جاتی ہے۔ بچے اپنی بات کہنا چھوڑ دیتے ہیں، اپنے احساسات کو دباتے دباتے چڑچڑاہٹ، غصہ، بے حسی اور بعض اوقات پرتشدد رویوں تک جا پہنچتے ہیں۔ اس گھٹن کو اور بھی کئی جملے غذا دیتے ہیں، جیسے:

مرد کا بچہ ہے تو مقابلہ کر۔

شیر دا پتر اے۔

مرد ہے تو ڈٹ کر کھڑا ہو۔

یہ جملے نہ صرف معصوم بچوں کی شرافت اور معصومیت چھین لیتے ہیں بلکہ مرد کی بنیادی انسانیت کا بھی گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ یہی بچے بڑے ہو کر ازدواجی زندگی میں نرمی اور برداشت سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے پاس دلیل کی جگہ اکڑ ہوتی ہے اور گفتگو کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

“غصہ مرد کی شان ہے” — عدم برداشت کی جڑ

بچپن سے غصے کو طاقت کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نرم دلی کو شرمناک قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ آج ہمیں ہر طبقے اور ہر گھرانے میں گھریلو تشدد کی شکل میں نظر آتی ہے۔

“مرد سخت جان ہوتا ہے” — طاقت کے مظاہرے کا جنون

یہ کہنا درست ہے کہ اللہ نے عورت کے مقابلے میں مرد کو عمومی طور پر جسمانی طاقت زیادہ دی ہے، مگر مسلسل اس پہلو کو ابھارنے کے نتیجے میں ہمارے نوجوان اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیے بدن کو مصنوعی طاقت سے بھرنے میں لگے رہتے ہیں۔ لمبے لمبے وقت ورزش گاہوں میں گزرتے ہیں۔ طاقت کی نمائش کے لیے ہتھیار، دولت اور غنڈہ گردی کے رجحانات کو فروغ ملتا ہے۔

گلی محلوں اور تعلیمی اداروں میں لڑائی جھگڑے معمول بن جاتے ہیں۔ شریف لڑکوں کو بزدلی کے طعنے ملتے ہیں، ان کی غیرت کو للکارا جاتا ہے۔ اس سب کی جڑ ہمارے ہی بولے ہوئے جملے ہیں۔ ان کے نتائج کی ذمہ داری آخر کون لے گا؟

“مرد بنو!” — کردار کی قربانی

ایسے جملے:

گھر میں داخل ہوں تو سب چپ ہو جائیں۔

مرد کا موڈ دیکھ کر بات کرو۔

شوہر تو غصے کے تیز ہوتے ہیں، جواب نہ دیا کرو۔

اچھی لڑکیاں بحث نہیں کرتیں۔

یہ سب لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی ذہنی تربیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مرد کو ندامت اور اعترافِ غلطی سے دور رکھا جاتا ہے جبکہ لڑکی کو چپ رہنے اور سب سہنے کی عادت ڈال دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ مرد اپنی غلطیوں پر معافی مانگنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔

“لڑکیوں کی طرح مت بنو” — نفرت کا زہر

کمزوری، ہچکچاہٹ یا شرم کو لڑکیوں سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے:

ذرا کمزور پڑے تو کہا جاتا ہے: “لڑکیوں کی طرح نہ بن۔”

شرما لیا تو طعنہ: “یہ لڑکیوں کی طرح شرما رہا ہے۔”

کوئی نرمی دکھائے تو طعنہ: “چوڑیاں پہن لی ہیں کیا؟”

یہ جملے عورت کو کمتر، قابلِ نفرت اور طعنہ دینے کی علامت بنا دیتے ہیں۔ مرد اپنے اندر سے ہر وہ وصف نکال پھینکتے ہیں جو کسی بھی طرح عورت سے جڑتا ہو۔

“بہنوں کا محافظ” — غیرت کا غلط تصور

جب ایک دس سالہ بچے کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی بہن کا محافظ ہے تو ہم بھول جاتے ہیں کہ ایک بچے کے ذہن پر کیسا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ اس بظاہر معصوم جملے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیٹا بہن کا محافظ بنتے بنتے اس کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ یہی سوچ بعد میں غیرت کے نام پر پابندیوں، تشدد اور بعض اوقات جان لینے تک جا پہنچتی ہے۔

ابھی بہت سے جملے اور رویے باقی ہیں جن کی نشاندہی اگلی تحریر میں کی جائے گی۔ لیکن تب تک آپ خود سوچیے کہ کیا واقعی بیٹوں کی تربیت کو ہم طاقت، غصے اور سرد مہری کا نام دے کر اپنی نئی نسل کو انسانیت سے محروم نہیں کر رہے؟ کیا ہم جذباتی اظہار، ہمدردی اور گفت و شنید کو نسوانی اوصاف کہہ کر بیٹوں کو ان سے دور نہیں کر رہے؟ کیا بیٹوں کی تربیت صرف مرد تیار کرنے کا نام ہے یا باکردار، ہمدرد اور انصاف پسند انسان بنانے کا؟

وقت آگیا ہے کہ ہم سب خود کو بدلیں، آگاہی حاصل کریں اور اپنی اولاد کی بہتر تربیت کے لیے خود پر بھی محنت کریں۔