سید سلیمان ندوی کا تاریخی ذوق بے مثل تھا۔ سید صاحب کو یہ ذوق ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سے ورثےمیں ملا تھا۔ استاد نے اپنے سب سے قابل شاگرد کو اپنا جوہر چمکانے اور اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لانے کا خوب موقع فراہم کیا۔ لہٰذا جب شبلی نے انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستان کے اسلامی عہد کی مسخ شدہ تاریخ کی تصحیح کے لیے ندوه میں ایک شعبہ ’’تصحیح اغلاط تاریخی‘‘ کے نام سے 1910ء میں قائم کیا تو اس کا سیکریٹری اپنے لائق و فائق شاگرد سید سلیمان ندوی ہی کو منتخب کیا۔ سید صاحب کا انتخاب ایک ایسا بیج تھا، جو بعد میں ایک سود مند ثمرآور شجر کی صورت میں دنیا کے سامنے ظاہر ہوا۔
سید صاحب نے تصحیح اغلاط کا کام ابھی شروع ہی کیا تھا کہ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس(علی گڑھ) نے اس کام کو اپنے ہاتھوں لے لیا اور اخبار ’’البشیر‘‘ میں اس کا خاکہ بھی شائع کیا، مگر اس میں سید صاحب کا کوئی حوالہ نہ تھا۔ سید صاحب نے یہ خبر پڑھ کر کانفرنس والوں کو خط لکھا اور اظہار مسرت کے بعد فرمایا کہ ’’ایک قومی کام کو دو الگ الگ مقاموں میں انجام پانا خلاف مصلحت ہے۔‘‘1 اور اپنی اس خواہش کا ارادہ بھی فرمایا کہ اس کام کو متحدہ قوت کے ساتھ انجام دیا جائے تاکہ قوم کو فائدہ پہنچے، مگر افسوس جس قوم کو اتحاد کا سبق بھولے زمانہ گزر گیا ہو، وہ کوئی کام متحد ہو کر کیسے کر سکتی تھی۔ لہٰذا سید صاحب کی یہ خواہش ادھوری ہی رہی۔ سید صاحب خود فرماتے ہیں : ’’اس خط کا مناسب جواب نہیں آیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ کام ندوه میں بھی نہ ہو سکا اور ایجوکیشنل کانفرنس نے بھی نہیں کیا ‘‘۔
بھلے ہی بہ وجوہ نا مساعد حالات یہ کام اس وقت نہ ہو سکا، لیکن سید صاحب نے تصحیح کا یہ کام ’’معارف‘‘ اور ’’معارف‘‘ کے شذرات کے ذریعے سے جس لگن،تسلسل اور علمیت کے ساتھ انجام دیا، اس کی دوسری مثال اردو صحافت کی دنیا میں نہیں مل سکتی۔
سید صاحب اس اہم کام کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں :
’’ہمارے پاس ملک کے مختلف گوشوں سے اکثر احباب انگریزی اخبارات و رسائل کے ایسے ایسے مضامین کے ٹکڑے کاٹ کر اس غرض سے بھیجا کرتے ہیں کہ ’’معارف‘‘ میں ان کی تصحیح کی جائے اور ان کے جوابات لکھے جائیں۔‘‘2
سید سلیمان ندوی صاحب علمی جرح کے معاملے میں بڑے سے بڑے اہل علم کی علمیت سے نہ مرعوب ہوتے تھے اور نہ مشہور سے مشہور شخصیت سے خائف ہوتے تھے۔ یہاں مثال کے لیے صرف ایک شخصیت، جس کے علم و فضیلت کا ایک زمانہ معترف رہا ہے، کا ذکر کرتا ہوں۔
مغل ہندوستان کی تاریخ کے ماہرین میں سر جدوناتھ سرکار (Sir Jadunath Sarkar) کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ ’’عالم گیریات‘‘ ان کی تحقیق کا خاص موضوع رہا ہے۔ موصوف اپنے زمانے میں اورنگزیب پر سند مانے جاتے تھے۔ اورنگز یب کی زندگی اور اس کی حکومت کی مفصل تاریخ پر چار جلدوں پر مشتمل سرکار کی کتاب ’’The History of Aurangzeb‘‘سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ بنگال کے اس مایۂ ناز مورخ پر بنگال ہی کے ایک اور قلم کار، دیپیش چکر ورتی نے حال ہی میںThe Calling of History :Sarkar And His Empire Of‘‘ ’’Truth لکھ کر سرکار کی شخصیت اور اس کے فن کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والے احباب کو یہ کتاب مطالعے کی دعوت دیتی ہے۔
قارئین کی سہولت کے لیے بتاتا چلوں، یہ وہی جدو ناتھ سرکار ہیں جن کی مدد کے بغیر ’’رقعات عالم گیری‘‘ کی جمع و تدوین کا پروجیکٹ نہایت مشکل تھا۔ سید صاحب اس کے متعلق خود تحریر فرماتے ہیں :
’’رقعات عالم گیری کی جمع و تدوین کا جو کام ہمارے یہاں شروع ہوا تھا، مولوی ابو الحسنات صاحب ندوی رفیق دار المصنفین کی وفات سے بند ہو گیا تھا،اب چند مہینوں سے ہمارے ایک دوسرے با ہمت رفیق سید نجیب اشرف صاحب ندوی نے شروع کیا ہے۔ عالم گیریات کے سب سے بڑے ماہر ہندوستان میں مشہور بنگالی مورخ بابو جدو ناتھ سرکار مانے جاتے ہیں، نجیب اشرف صاحب پٹنہ کالج میں ان کے شاگرد رہ چکے ہیں، اس تعلق سے وہ سرکار صاحب کی سرکار میں استفادہ کی غرض سے کلکتہ گئے ہیں، سرکار صاحب کے پاس عالمگیر کی تاریخ کا بڑا ذخیرہ فراہم ہے، ہم شکر گزار ہیں کہ موصوف نے یہ تمام ذخیرہ ہمارے رفیق کو استعمال کی غرض سے عنایت کیا ہے۔‘‘3
اس اعترافِ کمال و بزرگی کے باوجود جب سرکار کے قلم سے کچھ بے بنیاد باتیں سرزد ہوئیں تو ہندوستان میں سب سے پہلے سید صاحب ہی کا قلم حرکت میں آیا۔ سید صاحب کے لیے سرکار کی بلند شخصیت تنقید کی راہ میں رکاوٹ نہ بنی۔ اکتوبر 1923ء کے ’’معارف‘‘ میں سید صاحب تحریر فرماتے ہیں :
’’قابل ذکر ہندو اہل قلم اور مورخ جدو ناتھ سرکار، جنھوں نے اپنی علمی زندگی کا نصب العین عموماً سلاطین تیموری کی تاریخ اور خصوصاً اورنگزیب عالمگیر کے واقعات کو قرار دیا ہے، نے تیموری بیگمات کے حسن و عشق کے افسانوں کو اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ ناواقف ہندو اصحاب ان کو تاریخی واقعات یقین کرنے لگتے ہیں۔‘‘4
’’سلاطین تیموری میں سب سے زیادہ بدنام مسلمان بادشاہ عالمگیر ہے۔ اس کو دوست دشمن، مشرقی و مغربی تمام مصنفین زہد پیشہ اور متقی جانتے ہیں، مگر سرکار نے بڑی محنت سے ’’فرامین عالمگیری‘‘ نامی کسی کہنہ مجموعہ کا پتا لگایا ہے اور جس کو مع انگریزی ترجمہ کے چھاپا بھی ہے اور اس کی سند پر اس کے ایک خوش جمال کنیز پر فریفتہ ہو کر غش کھا کر گر جانے کی ایک داستان مشتہر کی ہے۔‘‘5
سید صاحب مرحوم آگے چل کر جدو ناتھ سرکار اور ان کے ہم نواؤں سے پوچھتے ہیں کہ
’’ یورپین افسانہ نویسوں نے اسی طریقۂ تحریر کے ذریعے سے ترکوں کی اخلاقی اور خانگی زندگی کی یورپ میں بدترین تشہیر کی ہے اور اب اسی قسم کا پرو پیگنڈہ ہندوستان کے مسلمان سلاطین کے خلاف یورپین افسانہ نویسوں کے بہترین مقلد بنگالی، مرہٹی اور گجراتی افسانہ نویس پھیلا رہے ہیں۔ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اس طریقے سے ملک یا علم کس کی خدمت انجام دے رہے ہیں؟‘‘6
آخر میں سید سلیمان ندوی مرحوم جدو ناتھ سرکار اور ان کی صف میں کھڑے مصنفین و مورخین کو دعوت فکر دیتے ہیں اور ہم دردانہ لہجے میں اپیل کرتے ہیں :
’’ہم نے ان مورخوں سے بار بار کہا ہے اور اب پھر کہتے ہیں کہ ہندوستان کی بھلائی مقصود ہے تو منافرت اور کشمکش کے واقعات پھیلانے کے بجاے اگر وہ ان واقعات کا انتخاب کریں، جن سے ملک کی ان دو بڑی قوموں میں میل ملاپ اور اتحاد پیدا ہو تو یہ اس بدنصیب ملک کی سب سے بڑی خدمت ہوگی، ورنہ اس قسم کی خرافات نگاری سے نہ وہ علم کی خدمت کر رہے ہیں اور نہ قوم کی۔‘‘7
مذکورہ بالا اقتباس سے ایک اہم نکتے کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ سید سلیمان ندوی صاحب علمِ تاریخ سے کس طرح کا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، کیونکہ بہ قول سید صاحب کے ’’تاریخ کچا مواد ہے، اس سے بنانے والا جو چاہے، بنا سکتا ہے۔‘‘
سید صاحب ’’معارف‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’ ہم ایسی تاریخ لکھنا چاہتے ہیں جس سے ہندو مسلمان، دونوں فریقوں سے منافرت کے بجاے یکجہتی اور اتحاد پیدا ہو۔‘‘8
لہٰذا سید سلیمان ندوی نے صحافت کو وسیلہ بنا کر تاریخ اور تاریخ نگاری کے ذریعے سے ہندو مسلم اتحاد کی بڑی پر زور حمایت کی۔ اور یہ حمایت کم زور بنیادوں پر کھڑی نہیں تھی، بلکہ سید صاحب نے اس بنیاد کو بہت مدلل اور طاقت ور بنا کر پیش کیا تھا۔ ہندوستان کی صحافت کی تاریخ میں بلا شبہ، یہ بڑا کارنامہ ہے، جس کےلیے ہندوستان سید صاحب مرحوم کا سدا ممنون رہے گا۔
کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا تاریخی شعور (Historical Consciousness ) گہرا اور پختہ ہو۔ یہی شعور کسی قوم کو اپنے حال پر مسلسل نظرِ ثانی کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ شعور ایک ایسا آئینہ فراہم کرتا ہے، جس میں قومیں اپنا حسن و قبح دیکھتی ہیں۔ جن قوموں کا تاریخی شعور فعال حالت میں رہتا ہے، ان کا قبلہ درست رہتا ہے۔ نتیجتاً قوم اس صفت سے مزین ہو کر ترقی کی راہ پر گام زن رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں شکست خوردہ قوموں کو اس صفت سے عاری تصور کیا جاتا رہا ہے۔ جب انگریز ہندوستان پر قابض ہوئے تو نوآبادیاتی مورخین خصوصاً James Millوغیرہ کی طرف سے ہندوستانیوں کو بھی اسی شعور کی کمی (lack of historical consciousness )کا طعنہ دیا گیا، حالاں کہ اس طعنے کی تاریخی حیثیت اور اس کا کافی اور شافی جواب زمانۂ حال کی ممتاز مورخ رومیلا تھاپر (Thapar Romila) نے اپنے مضمون ’’Society And Historical Consciousness9 ‘‘ میں دینے کی کوشش کی ہے۔
ہم جب بیسویں صدی کے ہندوستان کے مسلمانوں کے سماجی، معاشرتی، سیاسی اور مذہبی رویوں کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ ان کا تاریخی شعور زنگ آلود ہو چکا تھا۔ماضی کی وہ قندیل بجھ چکی ہے، جس کی روشنی میں حال کا اندھیرا دور کیا جاتا ہے۔ ایسا مترشح ہوتا ہے کہ کسی تاریخی جبر یت(Historical Determinism)کے نتیجے میں مسلمانوں کا یہ شعور ان سے چھن گیا ہے۔
سید صاحب نے ’’معارف‘‘ کے ذریعے سے مسلمانوں کے اندر اسی شعور کی بازیافت کا بیڑا اٹھایا۔ جب بھی ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر تاریخی شعور کی کمی نظر آئی، سید صاحب کا قلم اپنی بصیرت کے ساتھ حرکت میں آیا۔سید صاحب بہ خوبی جانتے تھے کہ قومیں اپنے اچھے یا برے فیصلے سے اپنا مقدر خود بناتی ہیں۔اگر قومیں تاریخی شعور سے عاری ہوں گی تو ان کے فیصلے مبنی بر حقیقت نہیں، بلکہ مبنی بر جذبات ہوں گے۔ لہٰذا سید صاحب پوری زندگی مسلمانوں کے اسی شعور کو صیقل کرنے میں لگے رہے۔ مثال کے لیے ’’معارف‘‘ کے صفحات کے صفحات پیش کیے جا سکتے ہیں، لیکن خوف طوالت سے صرف ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔
1857ء کی جنگ آزادی کی ناکام کوشش کے نتیجے میں،جیسا کہ مشہور مورخ تارا چند (Tara Chand)نے بھی اپنی کتاب ’’History of the freedom movement in India‘‘ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ہندو اور مسلم، دونوں جماعتوں میں خود احتسابی کی نفسیات پیدا ہوئی۔ اپنی خوبیوں اور خامیوں کو نظر ثانی کے مرحلے سے گزارا جانے لگا،جس کے نتیجے میں سماجی اصلاح کے ساتھ ساتھ مذہبی اصلاح کا رجحان پیدا ہوا۔ مسلمانان ہند کے یہاں اس کی بہترین مثال سر سید کی تحریک ہے۔
Sekhar Bandyopadhyay نے اپنی کتاب From Plassey to Partition‘‘ ’’And After میں لکھا ہے:
’’ابتدا میں اس اصلاح پسندی کی باگ ڈور اعتدال پسندوں (Moderates)کے ہاتھوں رہی، لیکن انیسوی صدی کے نصف آخر میں ان moderates کے مقابلے میں ایسے extremists پیدا ہو ئے، جن کی تحریک کو تاریخ ہندو احیا پرستی (Hindu Revivalism) کے نام سے یاد کرتی ہے۔‘‘10
ویسے تو احیا پرستی کی یہ تحریک ہندوستان بھر میں پھیلی، لیکن اس کی سب سے بد ترین صورت بال گنگا دھر تلک(B.G. Tilak) کی قیادت میں مہاراشٹر میں ظاہر ہوئی۔ ماضی کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ مذہبی احیا پرستی اور ہیرو ورشپ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔تاریخ میں ایسے کئی واقعات پیش آئے جہاں مذہبی خطیبوں اور رہنماؤں نے مذہب کا کارڈ کھیلتے ہوئے کسی ایسی قابل ذکر شخصیت کو Ideal بنا کر پیش کیا، جس پر عوام دیوانہ وار گرتی ہو تاکہ ان رہنماؤں کا مقصد پورا ہو سکے۔وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ ایسے Ideals ہر طرح کی خامیوں سے پاک سمجھے جانے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے بعض مذہبی حلقوں میں اورنگزیب عالمگیر کا نام اگر رحمۃ اللہ علیہ کے لاحقے کے بغیر لیا جائے تو اس بات کو بہت معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ یہ ہیرو ورشپ کی بدترین مثال ہے۔ لہٰذا تِلک کو بھی سیاسی مفاد کے حصول کے لیے ایک ایسے ہی hero کی ضرورت محسوس ہوئی، جس کے نام پر بھیڑ اکٹھی ہو سکے۔لہٰذا اس نے شیواجی کا انتخاب کیا اور اس کو ہیرو کی صورت میں ہندوؤں کے سامنے پیش کیا۔لہٰذا تلک نے اس تحریک کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر 1896ء میں شیواجی میلہ (Shivaji Festival)کی بنیاد ڈالی اور پورے ملک میں یہ پیغام بھیجا کہ مسلمان حکمرانوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر ہندو دھرم کی حفاظت کرنے والا مرد مجاہد کوئی اور نہیں، بلکہ شیواجی تھا۔جشن شیواجی کے پردے میں مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت پھیلائی گئی، جس کے نتیجے میں ہندو-مسلم اتحاد کے مبلغین کو سخت صدمہ اٹھانا پڑا۔
تین دہایوں کے بعد بھی ہندوستان کی سیاسی فضا میں یہی صورت حال برقرار رہی۔ ملاحظہ فرمائیے کہ سید سلیمان ندوی اس وقت کے سیاسی اور مذہبی منظر نامے پر کیسی تاریخی بصیرت سے جرأت آمیز تنقید کرتے ہیں۔جون 1927ء کے ’’معارف‘‘ کے شذرات میں سید سلیمان ندوی تحریر فرماتے ہیں :
’’شیواجی کا جشن پیدایش امسال بھی ہر جگہ بڑی دھوم دھام سے منایا گیا،ہمارا صرف یہ کہنا ہے کہ کاش شیواجی کی پیدایش کا جشن منانے والے شیواجی کے عہد میں ہوتے اور اس کی قزاق فوج کے کارنامے اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور … چوتھ کی مصیبت میں گرفتار ہوتے،آج ہندو جشن منا رہے ہیں، لیکن ان کو یاد رہے کہ کل جب یہ مہاراشٹری لٹیرے تمام ہندوستان کو لوٹتے پھرتے تھے تو ان کی لوٹ میں ہندو مسلمان کی تمیز نہ تھی اور نہ دیر و حرم اور بت خانہ و مسجد کا امتیاز تھا …‘‘11
’’جو لوگ شیواجی کو ہندو قوم کا ہیرو اور اس کی جد و جہد کا اصل منشا خاص مسلمانوں کو ہلاک و برباد کرنا قرار دیتے ہیں، در حقیقت وہ یا تاریخ سے نا واقف ہیں یا تاریخ سے کھیل کرتے ہیں۔‘‘
سید صاحب آگے چل کر ایک اہم تاریخی نکتے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’عالمگیر کی طرف سے جو فوجی عہدہ دار اور افسر شیواجی سے بر سر پیكار تھے، ان میں بڑے ہندو راجپوت اور راجپوتانہ کے راجہ تھے،شیواجی کو دکن کی جس ریاست سے مدد مل رہی تھی، وہ بیجاپور کی اسلامی ریاست تھی۔ شیواجی کی فوج میں توپ خانہ کا انصرام مسلمان افسروں کے ہاتھ میں تھا،عربوں کی بڑی فوج مرہٹوں کے ساتھ تھی،یہ اچھی کفر و اسلام کی جنگ تھی، جس میں اسلام کی طرف سے کفر اور کفر کی طرف سے اسلام شمشیر بہ کف اور نبرد آزما تھا۔‘‘12
شیواجی اور اورنگزیب کے درمیان سیاسی جنگ ( war of politics) کو مذہبی جنگ (war of religion) بناکر پیش کرنے کی سازش کو سید صاحب مرحوم نے جس تاریخی صداقت (Historical Veracity)کے ساتھ بےنقاب کیا ہے، اردو صحافت میں اس کی مثال شاذ ہے۔
اب آئیے، اصل مسلے کی طرف۔اس مذہبی منافرت کے عمل کے نتیجے میں مسلمانانِ ہند کے اندر بھی رد عمل کا جذبہ پیدا ہوا اور یہ رد عمل بدلے کی نفسیات کی صورت میں ظاہر ہوا۔ بعض مسلمانوں کے اندر انتقامی خواہش پیدا ہوئی کہ وہ بھی اپنے بادشاہوں کا جشن منائیں،ان کا عرس نکالیں، ان کے فضائل و مناقب کا ترانہ گائیں۔لہٰذا اسی سال سندھ اور اس سے ملحقہ بعض علاقوں میں محمد بن قاسم(فاتح سندھ) کی برسی دھوم دھام سے منائی گئی۔اس سے بڑھ کر دکن اور گجرات کے مسلمان اورنگزیب کا عرس کرنے کا تہیہ کرنے لگے۔ظاہر ہے کہ مسلمانوں کا یہ عمل آگ میں گھی ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ان سنگین حالات سے باخبر ہوتے ہی سید صاحب قومی مصالح کے پیش نظر مسلمانوں کو متنبہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’افسوس ہے کہ ہم پراے شگون پر ناک کٹانے کا مشوره نہیں دے سکتے،مسلمانوں میں مذہبی بزرگوں کے عرسوں کی کیا کمی تھی کہ سیاسی عرسوں کا بھی آغاز کیا جائے،اس نقالی سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔‘‘13
سید صاحب جیسا قوم و ملت کا سچا درد رکھنے والا آگے یوں گویا ہوتا ہے:
’’مسلمان ہندوؤں کو توڑ دینا چاہتے ہیں، ہندو مسلمانوں کو چور چور کر دینا چاہتے ہیں،مگر یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ جس خاکی کشتی پر جس کا نام ہندوستان ہے، دونوں سوار ہیں،اس کے تختوں میں اندر اندر سوراخ کون کر رہا ہے، اس جنگ میں خواہ مسلمان جیتیں یا ہندو، مگر بہر حال جیت سے ہندوستان کی جیت نہیں ہو سکتی۔‘‘
سید صاحب کی ان تنبیہات کے باوجود اورنگزیب عالمگیر کا جشن دھوم دھام سے منایا گیا۔ گہری سوچ و فکر سے کام لینے کے بجاے سستے جذبات کو محرک بنایا گیا اور اس طرح قوم نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا کہ مذہبی اور سیاسی جنونی رہبروں کے آگے سید صاحب جیسے سوچنے سمجھنے والے مشیر کی کوئی جگہ نہیں۔اصل میں یہ ہمارا ہی انتخاب ہوتا ہے کہ ہم خدا کی بستی کو جنت کا گہوارہ بنائیں یا جہنم کا ٹھکانا۔ آج بر صغیر کے مسلمان جس ’’زمینی آفت‘‘ سے دو چار ہیں، اگر سید سلیمان ندوی جیسی مورخانہ بصیرت رکھنے والے صاحب علم،جو قوم کو گم راہی سے بچا کر صحیح نہج پر چلا سکیں، ہمیں میسر آ جائیں تو یقیناً ہمارے لیے اس بحران سے نکلنے کی کوئی صورت نکل آئے۔
خیال و خامہ
جاوید احمد غامدی
وہی ہے دہر میں اپنے مقام سے آگاہ
ہوا جو لذتِ ذکرِ دوام سے آگاہ
یہ تیرا علم و محبت، یہ معرفت، یہ خیال
ہوئے نہ آہ، خدا کے کلام سے آگاہ
سمجھ ہی لے گی شریعت کا مدعا بھی خرد
اگر ہے اپنے حلال و حرام سے آگاہ
ترے جہاں میں غریبوں کی زندگی کیا ہے!
نہ اپنی صبح سے واقف، نہ شام سے آگاہ
وفورِ شوق میں کہہ دی ہے سرگذشت اپنی
وگرنہ آپ ہیں اپنے غلام سے آگاہ
- ۔ حیات سلیمان 34۔
- ۔ شذرات سلیمانی 1/ 300۔
- ۔ شذرات سلیمانی 2/ 123۔
- ۔ شذرات سلیمانی 1/ 300۔
- ۔ حیات سلیمان 254۔
- ۔ شذرات سلیمانی 1/ 302۔
- ۔ شذرات سلیمانی 2/ 184۔
- ۔شذرات سلیمانی 2/ 361۔
- ۔ Readings in Early Indian History45۔
- ۔ 234۔
- ۔ شذرات سلیمانی 2/ 119۔
- ۔ شذرات سلیمانی2 / 120۔
- ۔ شذرات سلیمانی 2/ 123۔