ـــــ براے المورد و رفقاے المورد ــــ
[زیرِ نظر تحریر ’’المورد ‘‘ کے اہتمام میں ہونے والے تصنیفی کاموں کا مجوزہ پالیسی بیان ہے۔ یہ راقم کا موقف ہے اور اِسے بعض احباب کے استفسار پر لکھا گیا ہے۔ یہ موقف اُس فہم پر مبنی ہے، جو راقم نے گذشتہ 30برسوں کے دوران میں استاذ ِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے فکر و عمل سے اخذ کیا ہے۔ اِسے پیش کرنے کا مقصد اُس ابہام اور خلط ِ مبحث کو دور کرنے کی کوشش ہے، جو گذشتہ دس پندرہ سالوں سے اہل المورد محسوس کر رہے ہیں اور اِس کے ساتھ اُس ہلاکت خیز غلطی سے متنبہ کرنے کی جدوجہد ہے، جس میں ’’المورد‘‘ کے مختلف مراکز کے اہل انتظام بہت حد تک مبتلا ہو چکے ہیں ۔ ڈر ہے کہ اگر اِس کی جلد اصلاح نہ کی گئی تو ’’المورد‘‘ جیسے عظیم الشان دعوتی ادارے کو کتابوں کی اشاعت کے ادارے میں تبدیل ہونے سے نہیں روکا جاسکے گا۔ مصنف ]
مقصد
ادارۂ علم و تحقیق المورد کے زیرِ اہتمام تصنیف و تالیف اور نشر و اشاعت کے کاموں کا بنیادی مقصد انبیا علیہم السلام کے طریقے پر دعوت و انار کا احیا ہے۔ اِس کی صورت یہ ہے کہ دین پر غور و فکر کے عمل کو صحیح نہج پر قائم کیا جائے اور دین کی دعوت کو فرقہ دارانہ تعصبات سے الگ رہ کر خالص قرآن و سنت کی بنا پر پیش کیا جائے۔ اِس مقصد کے حصول کے لیےایسی تصانیف کا سامنے آنا ضروری ہے، جن میں:
1۔قرآن و سنت کو اساس کی حیثیت حاصل ہو،
2۔دین کی شرح و وضاحت کسی آمیزش کے بغیر اور بے کم و کاست کی گئی ہو،
3۔انفرادی اور اجتماعی معاملات میں تزکیہ و تطہیر اور اخلاق و ادب کی تعلیم دی گئی ہو،
4۔ علم جدید کےاُس چیلنج کا جواب دیا گیا ہو، جو اِس وقت امت مسلمہ کو درپیش ہے ،
5۔فکر اسلامی کے مختلف علوم و فنون کی تحقیق و تنقیح کی گئی ہو،
6۔زمانۂ رسالت سے دورِ حاضر تک مسلمانوں کے فکر و عمل کا جائزہ لیا گیا ہو،
7۔ رائج افکار پر نقد و تبصرہ کیا گیا ہو۔
بنیادی اصول
’’المورد‘‘ کا تصنیفی کام جس اصول پر قائم ہے، وہ یہ ہے کہ دین کی دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری علماے دین پر عائد ہے۔ وہ اِس بات کے مکلف ہیں کہ پوری جستجو اور جاں فشانی سے دین کے علم کو حاصل کریں اور پھرکامل عزم و ہمت کے ساتھ اُسے لوگوں تک پہنچائیں۔ عام مسلمان اِس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اُن سے دین کا تقاضا ہے کہ وہ علما کے کاموں کے انتظام و انصرام اور اُن کی نشر و اشاعت کے لیے اپنا تعاون بہم پہنچائیں اور دامے درمے قدمے سخنے دین کے فروغ اور تجدید و احیا کے لیے اپنی خدمات پیش کریں۔ یہ خدمات اُنھیں خالص نصرتِ دین کے جذبے سے اور عنداللہ اپنا اجر محفوظ کرنے کے لیے پیش کرنی چاہییں۔
’’المورد‘‘ کا کردار
درج بالا مقصد اور بنیادی اصول کی بنا پر ’’المورد‘‘ کے کر دار کے ایجابی اور سلبی پہلو درج ذیل ہیں:
اولاً، ’’المورد‘‘ کے تینوں عناصر ترکیبی ــــــ علما، منتظمین اور مخاطبین ــــــ للہ فی اللہ ادارے سے متعلق ہوتے ہیں۔ علما اِس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے حضور اپنی معذرت پیش کر سکیں، اصحاب ثروت اور اہل عمل اِس لیے مدد کرتے ہیں کہ اللہ کی خوش نودی کو پا سکیں اور عوام الناس اِس لیے متوجہ ہوتے ہیں کہ دین کو سمجھ کر اُس پر عمل پیرا ہو سکیں۔ اگر تمام عناصر ترکیبی کی وابستگی کا مقصد رضاے الٰہی ہے تو لازم ہے کہ ادارے کے تمام افعال و احوال کا اصل ہدف آخرت ہونا چاہیے۔
ثانیاً، ’’المورد‘‘ کا انتظامی ڈھانچا ـــــ جو عام مسلمانوں پر مشتمل ہے ـــــ دین کی شرح و وضاحت اور دعوت و تبلیغ کا مکلف نہیں ہے۔ اُس کی ذمہ داری علما کو اُن کے کام میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ مدد وہ کسی کاروباری ترقی یا کسی مالی منفعت کے لیے نہیں، بلکہ اخروی اجر و ثواب کی غرض سے انجام دیتا ہے۔ چنانچہ ’’المورد‘‘ کے اہداف اور اُس کی تنظیم و ترتیب کے معیارات کئی پہلوؤں سے عام کاروباری اداروں سے مختلف ہیں۔
ثالثاً،نجی شعبے میں تعلیم و تعلم(education)اور نشر و اشاعت(media) کے ادارے، بالعموم کاروباری مقاصد کے لیے قائم ہوتے ہیں۔ اُن میں کچھ سرمایہ کار منافع کمانے کے لیےسرمایہ لگاتے ہیں۔ معلمین، مصنفین اور مقررین وغیرہ کو اِسی مقصد کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔ اُن کا مقصد بھی محض ملازمانہ فرائض انجام دینا ہوتا ہے۔ اِن میں عوام کی فلاح و بہبود بھی اصلاً پیش نظر نہیں ہوتی۔ ’’المورد‘‘ کو ایسے کاروباری اداروں پر ہرگز قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اِس کا نتیجہ ادارے کی شکست و ریخت کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔
رابعاً، ’’المورد‘‘ کو اِس لیے بھی کاروباری اشاعتی اداروں پر قیاس کرنا درست نہیں ہے کہ اِس میں کسی سرمایہ کار نے سرمایہ کاری نہیں کی۔ اِس کے مالیات کا انحصار لوگوں کی اعانتوں پر ہے، جو وہ نصرتِ دین اور خدمتِ خلق کے جذبے سے پیش کرتے ہیں۔ اِس کے معلمین، مصنفین اور مقررین ملازمت کی غرض سے نہیں، بلکہ خدمتِ دین کے لیے وابستہ ہوئے ہیں۔ اِس کے منتظمین کی بھی اِس سے کوئی کاروباری یا مالی منفعتیں وابستہ نہیں ہیں۔
خامساً، علم و تحقیق، تصنیف و تالیف اور دعوت و تبلیغ ’’المورد‘‘ کے علما کا کام ہے۔ وہی اِس کام کی نوعیت کو واضح کر سکتے، اِس کی حقیقت کو سمجھا سکتے، اِس کے پیش و عقب کو جان سکتے، اِس کے عیب و صواب کو پرکھ سکتے اور اِس کے نتائج و اثرات کا مواجہہ کر سکتے ہیں۔ اِس امر کا فطری تقاضا ہے کہ تصنیف و تالیف اور نشر و اشاعت کی حکمتِ عملی کی ترتیب و تشکیل اور اطلاق و انطباق میں کلیدی حیثیت علما کی آرا کو حاصل ہونی چاہیے۔
حکمتِ عملی
درجِ بالا مقدمات کی روشنی میں ’’المورد‘‘ کی تصنیف و تالیف اور نشر و اشاعت کی حکمتِ عملی کے خط و خال درجِ ذیل ہیں:
1۔تصنیف کے تمام علمی امور ــــ فکر، بیان، معلومات، مشمولات اور پریزنٹیشن ــــ کی اصل ذمہ داری مصنف پر عائد ہو گی۔ چنانچہ تصنیف کے جملہ علمی امور کے حقوق و اختیارات (rights) مصنف کے پاس ہوں گے۔
2۔تصنیف کے تمام عملی امور ــــ پرنٹنگ، پبلشنگ اور مارکیٹنگ ــــ کی اصل ذمہ داری ادارے پر عائد ہو گی۔ چنانچہ تصنیف کے جملہ عملی امور کے حقوق و اختیارات (rights)ادارے کے پاس ہوں گے۔
3۔ مصنف اور ادارہ ایک دوسرے کے امور میں اپنی تجاویز اور مشورے پیش کر سکیں گے۔
4۔تصنیف کی ایڈیٹنگ، پروف ریڈنگ، فارمیٹنگ اور ڈیزائننگ کے تمام کام ادارے کی ذمہ داری ہوں گے، تاہم اِن میں ترجیح و اختیار کی فیصلہ کن حیثیت مصنف کو حاصل ہو گی۔
5۔ کتاب کا ٹائیٹل مصنف اور پبلشر کے باہمی اتفاق سے طے ہو گا۔ اختلاف کی صورت میں مصنف کی راے حتمی ہو گی۔
6۔تصنیف کی ساخت(ای بک، ہارڈ باؤنڈ، پیپر بیک)، قیمت، تقسیم، ترسیل، تشہیر کے کاموں کی ذمہ داری اور اختیارات ادارے کے پاس ہوں گے۔ مصنف کو اِن میں مداخلت کا حق نہیں ہو گا۔
7۔ اگر کوئی تصنیف کسی صاحبِ علم کی تحریر و تقریر سے اخذ و استفادے پر مبنی ہے تو اولاً اُس سے اشاعت کی اجازت حاصل کی جائے گی اور ثانیاً اُسے رائلٹی میں شریک کیا جائے گا۔
(شرح و وضاحت کی کتابوں پر اِس اصول کا اطلاق نہیں ہو گا)
8۔ اگر ادارہ اپنے نظم سے وابستہ یا غیر وابستہ مصنف کی کتاب کا دوسری زبان میں ترجمہ کرا کے اُسے شائع کرنا چاہے گا تو اولاً مصنف سے اجازت حاصل کرنا ہو گی اور ثانیاً اُسے رائلٹی میں شریک کیا جائے گا۔
9۔ اگر ادارہ اپنے نظم سے وابستہ یا غیر وابستہ مصنف کی کتاب کو آڈیو /ویڈیو بک میں پیش کرنا چاہے گا تو اولاً مصنف سے اجازت حاصل کرنا ہو گی اور ثانیاً اُسے رائلٹی میں شریک کیا جائے گا۔
10۔ کتاب کی ایڈیٹنگ، پروف ریڈنگ، فارمیٹنگ اور ڈیزائننگ تصنیف و تالیف سے بالکل الگ کام تصور ہوں گے۔ چنانچہ مصنف سےیہ تقاضا نہیں کیا جائے گا کہ وہ کتاب کو قابلِ اشاعت (printable)صورت میں دستیاب کرے۔ یہ کام ادارہ بہ طور پبلشر انجام دے گا۔
11۔ بوقتِ ضرورت کسی مصنف کےتصنیفی کام کی جانچ پرکھ اور نظرِ ثانی کا کام دیگرمصنفین انجام دیں گے۔ انتظامی افراد کو یہ ذمہ داری نہیں سونپی جائے گی۔
فکر سے کتاب تک کے مراحل
1۔ فکر/ مفکر (thinker)
فکر ایک نظریہ(thought) یا تصور ہے، جسے کوئی مفکر(thinker) پیش کرتا ہے۔
ہمارےمفکرین: حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی، جاوید احمد غامدی۔
2۔ تحقیق/ محقق(researcher)
کسی فکر یا نظریے کو ثابت کر نے کے لیے محقق مواد کی تحقیق کرتا ہے۔
ہمارے محققین: حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی، جاوید احمد غامدی۔
3۔ تحقیقی معاونت/ معاون محقق(research assistant)
محقق کی ضرورت اور ہدایت کے مطابق معاون محقق مواد کی تلاش اور چھان پھٹک کے لیے اُسے معاونت فراہم کرتا ہے۔
ہمارے معاون محققین: بعض موقعوں پر معز امجد، ڈاکٹر شہزاد سلیم، ڈاکٹر محمد عامر گزدر، محمد حسن الیاس اور بعض دوسرے اہل علم استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کو تحقیقی معاونت پیش کرتے رہے ہیں۔
4۔ تصنیف/ مصنف(author/writer)
کسی فکر یا تحقیق کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے مصنف اُسے تحریر کرتا اور کتاب کا مسودہ تیار کرتا ہے۔
مفکر، محقق اور مصنف الگ الگ شخصیات بھی ہو سکتی ہیں اور ایک شخصیت بھی اِن تینوں کی جامع ہو سکتی ہے۔
ہمارے مصنفین1: فراہی، اصلاحی، غامدی۔
(اِنھوں نے اپنے بیش تر افکار اور تحقیقات کو خود لکھا ہے)۔
ہمارے مصنفین 2: خالد مسعود، محمد رفیع مفتی، طالب محسن، معز امجد، نعیم احمد بلوچ، ساجد حمید، ڈاکٹر شہزاد سلیم، ریحان یوسفی، محمد ذکوان ندوی، عرفان شہزاد، رضوان اللہ، جنید حسن، محمد حسن الیاس، ڈاکٹر محمد عامر گزدر، سید منظور الحسن۔
(اِنھوں نے ہمارے مفکرین ــــــ فراہی، اصلاحی اور غامدی ــــــ کے افکار اور تحقیقات کو لکھا ہے)۔
5۔ترجمہ/ مترجم (translator)
مترجم تصنیف کو دوسری زبان میں تحریر کرتا ہے۔
ہمارے مترجمین: ہمارے ہاں یہ کام خالد مسعود، ڈاکٹر شہزاد سلیم اور بعض دیگر اہل علم نے انجام دیا ہے۔
6۔ ٹرانسکرائبنگ/ ٹرانسکرائبر (transcriber)
ٹرانسکرائبر تقریر یا گفتگو کو تحریر میں منتقل کرتا ہے۔
ہمارے ٹرانسکرائبر: استاذ گرامی کے بعض انٹرویوز اور تقاریر کو شاہد محمود نے ٹرانسکرائب کیا ہے۔
7۔ کمپوزنگ / کمپوزر(composer)
کمپوزر مسودے کو کمپوز کرتا ہے تاکہ اُسے اشاعت کے لیے تیار کیا جا سکے۔
ہمارے کمپوزر: فاروق ضمیر اور بعض دوسرے افراد یہ کام انجام دیتے رہے ہیں۔
8۔ پروف ریڈنگ/ پروف ریڈر(proof reader)
پروف ریڈر کمپوزڈ مسودے کو اصل مسودے کے مطابق کرتا اور کمپوزنگ کی غلطیاں درست کرتا ہے۔
ہمارے پروف ریڈر: یہ کام نعیم احمد اور بعض دوسرے افراد انجام دیتے رہے ہیں۔
9۔ ادارت / مدیر(editor)
مدیر تحریر کی زبان و بیان کو دیکھتا ہے، اُس میں اوقاف لگاتا ہے، سرخیاں نکالتا ہے، حوالوں کی پڑتال کرتا ہے، فہرست بندی کرتا ہے، تکرار یا اضافی چیزوں کو ختم کرتا ہے، کوئی خلا ہیں تو اُنھیں پر کرتا ہے۔
ہمارے مدیر: جناب جاوید احمد غامدی، علامہ خالد مسعود، ڈاکٹر منیر احمد، معز امجد، ڈاکٹر شہزاد سلیم، آصف افتخار، سید منظور الحسن، محمد بلال اور محمد ذکوان ندوی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔
10۔ ادارت میں معاونت/معاون مدیر(assistant editor)
یہ مدیر کے درج بالا کاموں میں معاونت ہے۔
ہمارے معاون مدیران :معظم صفدر، شاہد محمود، طارق ہاشمی، شاہد رضا یہ کام انجام دیتے رہے ہیں۔
11۔ ڈیزائننگ/ ڈیزائنر(designer)
ڈیزائنر کتاب کے ٹائیٹل، سب ٹائیٹل، بیک ٹائیٹل اور اندرونی صفحات کی فارمیٹنگ، پلیسمنٹ اور ایڈجسٹمنٹ کا کام کرتا ہے۔
ہمارے ڈیزائنر: یہ کام محمد مشتاق اور بعض دیگر افراد انجام دیتے رہے ہیں۔
12۔ پبلشنگ/ پبلشر (publisher)
پبلشر مصنف کی تصانیف کو معاشرے تک پہنچانے کا کام کرتاہے۔ اِس ضمن میں وہ تین امور انجام دیتا ہے:
1۔ مسودے کے بعد سےپی ڈی ایف تک کی تیاری،
2۔ پرنٹنگ کا اہتمام،
3۔ ڈسٹری بیوشن کا اہتمام۔
ہمارے پبلشر:استاذِ گرامی کی کتابوں کے لیے یہ پوزیشن ’’المورد‘‘ پاکستان کو حاصل ہے۔
13۔ پرنٹنگ/ پرنٹر(printer)
عموماً پبلشر کا اپنا پریس نہیں ہوتا۔ کتاب چھپوانے کے لیے وہ پرنٹر کی خدمات حاصل کرتا ہے۔
ہمارے پرنٹر:’’المورد‘‘ پاکستان کی کتابوں کے لیے یہ کام شرکت پرنٹنگ پریس، ٹوپیکل پرنٹنگ پریس، فائن پرنٹرز اور بعض دوسرے پرنٹر انجام دیتے رہے ہیں۔
14۔ ڈسٹری بیوشن/ ڈسٹری بیوٹر(distributer)
مختلف آؤٹ لٹس تک کتابوں کو پہنچانے کا کام بعض اوقات پبلشر خود انجام دیتا ہے اور بعض اوقات اس کام کے لیے مخصوص کمپنیوں کی خدمات حاصل کرتا ہے۔
ہمارے ڈسٹری بیوٹر: یہ کام زیادہ تر ’’المورد‘‘ نے خود اور بعض موقعوں پر ’’دارالتذکیر‘‘ نے انجام دیا ہے۔
تصنیفی کام کی اقسام
1۔ اصل اور حقیقی تصانیف (original & genuine writings)
اِن تصانیف میں فکر(thinking)، تحقیق (research)اور تصنیف (writing) کے کام ایک ہی شخصیت سے صادر ہوتے ہیں۔ ’’المورد‘‘ کی مطبوعات میں اِس کی مثال جناب جاوید احمد غامدی کی تصانیف ’’البیان‘‘، ’’میزان‘‘، ’’برہان‘‘، ’’مقامات‘‘ اور ’’خیال و خامہ‘‘ ہیں۔
2۔بیانیہ تصانیف (narration/description based writings)
اِن تصانیف میں ایک مصنف کسی مفکر کے علم و تحقیق کو اُس کی تقریروں اور تحریروں سے اخذ کر کے اپنے فہم(understanding) اور اسلوب(writing style) کے مطابق تحریر کرتا ہے۔
’’المورد‘‘ کی مطبوعات میں اِس کی مثال ’’اسرا و معراج: غامدی صاحب کا موقف‘‘ اور ’’نزول مسیح: غامدی صاحب کا موقف‘‘ ہیں۔ اِن میں جناب جاوید احمد غامدی کے افکار اور تحقیقات کو راقم (سید منظور الحسن) نے اپنے فہم کے مطابق اور اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔
3۔ شرح و وضاحت پر مبنی تصانیف(explanation & analysis based writings)
اِن تصانیف میں ایک مصنف کسی مفکر کے علم و تحقیق کی اپنے زاویۂ نظر سے توضیح و تحلیل کرتا ہے۔
’’المورد‘‘ کی مطبوعات میں اِس کی مثال ’’میزان ـــ توضیحی مطالعہ‘‘ ہے۔ یہ ڈاکٹر عمار خان ناصر کی تصنیف ہے۔ اِس میں اُنھوں نے جناب جاوید احمد غامدی کی کتاب ’’میزان‘‘ کی شرح و وضاحت کا کام کیا ہے۔
4۔ تراجم(translations)
اِن تصانیف میں ایک مصنف کسی دوسرے مصنف کی تصنیف کا مختلف زبان میں ترجمہ کرتا ہے۔
’’المورد‘‘ کی مطبوعات میں اِس کی مثال ڈاکٹر شہزاد سلیم کی کتاب ‘‘Islam –– A Comprehensive Introduction’’ہے۔ یہ جناب جاوید احمد غامدی کی کتاب ’’میزان‘‘ کا انگریزی ترجمہ ہے۔
5۔ ملفوظات/ خطبات نگاری/ مکالمہ نگاری
اِن تصانیف میں کسی مفکر کی گفتگویا تقریرکو ضروری تدوین کے بعد بعینہٖ نقل کر دیا جاتا ہے۔
’’المورد‘‘ کی مطبوعات میں اِس کی مثال راقم (سید منظور الحسن) کے درج ذیل مضامین ہیں:
*مدرسۃ الاصلاح سیمینار: جناب جاوید احمد غامدی کا خطاب (اشراق، جنوری 2020ء)
*پوتے کی وفات پر غامدی صاحب کے تاثرات (اشراق، نومبر 2022ء)
*اخذ دین کی بحث: غامدی صاحب سے ایک گفتگو (اشراق، نومبر2018ء)
6۔ ترتیب و تدوین
اِن تصانیف میں کوئی تصنیفی کام نہیں ہوتا، بلکہ منتخب مضامین کی ایڈیٹنگ کر کے اور اُنھیں خاص صورت میں ترتیب دے کر شائع کیا جاتا ہے۔ اِس کی مثال ماہنامہ ’’اشراق‘‘ ہے۔
تصنیفی کام کی ملکیت
تصنیفی کام کی ملکیت کا معاملہ نہایت اہم اور قدرے پیچیدہ ہے۔ دورِ جدید کے اشاعتی مسائل نے اِس کی اہمیت اور پیچیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ ’’المورد‘‘ کے کام کی مختلف نوعیت کی وجہ سے اِسے دیگر اشاعتی اداروں کے معاملات پر قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اِس معاملے میں کوئی ایسی پالیسی تو وضع نہیں ہو سکتی، جو ابہام و خطا سے پاک ہو اور جسے مستقلاً اختیار کیا جا سکے، تاہم آغازِ کار کے لیے جس پالیسی کو اختیار کرنا مجموعی طور پر مفید ہو سکتا ہے، وہ درجِ ذیل ہے:
’’المورد‘‘ کا مقصد، اُس کی تاریخ، اُس کے زیر اہتمام ہونے والی تصانیف کی نوعیت، اُس سے وابستہ علما و مصنفین کی غیر کاروباری (non professional) خدمات اور اُس کے راس المال (capital) کا عوام الناس (public)کے تعاون پر انحصار جیسے امور متقاضی ہیں کہ تصنیف کے متن کی ملکیت کا حق مصنف کے لیے تسلیم کیا جائے۔ اِس سے قطعِ نظر کہ ادارہ مصنف کی رائلٹی طےکرتا ہے، کوئی مشاہرہ مقررکرتا ہے یا اُس کے تصنیفی منصوبے کا محنتانہ ادا کرتا ہے۔ اِس کی تفصیل اِن نکات پر مبنی ہے:
1۔ دعوتِ دین کے لیےتصنیف و تالیف کا کام علما کی ذمہ داری ہے۔ وہی اِس کے کار پرداز ہیں اور وہی عنداللہ اور عندالناس اِس کے بارے میں جواب دہ ہیں۔
2۔ تصنیف و تالیف کا کام تخلیق ہے۔ فطری طور پر تخلیق کا حق ملکیت تخلیق کار کے لیے تسلیم کیا جاتا ہے۔
3۔کتاب کی تصنیف کے بعد مصنف ہی اُس کے متن کو بہتر (develop)کر نے کے لیے اُس میں ترمیم و اصلاح کر سکتا ہے۔ وہ یہ کام عمر بھر جاری رکھتا ہے اور اپنی تخلیق کو نکھارتا رہتا ہے۔
4۔ کتاب میں جو فکر پیش کیا گیا ہے، ممکن ہے کہ مصنف بعد ازاں اُسے غلط سمجھ کر اُس سے رجوع کرنا چاہے اور اُسے اپنی نسبت سے دنیا میں نہ پیش کرنا چاہے۔ یہ اُسی صورت میں ممکن ہے، جب اُسے کتاب کی ملکیت کا حق حاصل ہو ۔
5۔ کتاب کے متن کی بنا پر اگر تکفیر، غداری یا دین و ملت سے انحراف کا لیبل لگتا ہے تو وہ مصنف پر لگتا ہے اور اِس کے نتیجے میں مصنف ہی کو قید، جلا وطنی یا موت کا سامنا کرنا ہے۔
6۔ ’’المورد‘‘ کے مصنفین کا مقصدِ زندگی ملازمت، کاروباری منافع یا مالی ترقی ہرگز نہیں ہے۔ وہ اِس کام کو دینی ذمہ داری کے طور پر انجام دے رہے ہیں۔
7۔ دعوت دین کی ترقی اور تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ جدید نسل کے ذہین نوجوان اِس کام کو اپنا آئیڈیل بنائیں، یہ اُسی صورت میں ممکن ہے، جب اُنھیں ملازمانہ مراعات اور ملکیت میں سے کوئی ایک چیز میسر ہو۔ اگر ملازمانہ مراعات بھی محدود ہوں اور ملکیت بھی دستیاب نہ ہو تواِس کام کے لیے وہی لوگ میسر ہوں گے، جو مقابلتاً کم صلاحیت ہوں گے یا اکا دکا وہ باصلاحیت میسر ہوں گے، جو اپنے خاندان اور معاشرے سے لڑ کر اِس کام کو اختیار کر پائیں گے۔
8۔ ادارے کے پاس جو راس المال(capital) بھی جمع ہوتا ہے، اُس کی اصل حقیقت پبلک فنڈ کی ہے۔ یہ فنڈ مصنفین اور معلمین کی شخصیت اور کارکردگی کی بنا پر میسر ہوتا ہے۔ فنڈ دینے والوں کے سامنے عموماً ادارہ یا اس کا انتظامی انفراسٹرکچر نہیں ہوتا۔ یہ چیز بھی ادارے کے مقابلے میں مصنف کے اسٹیک کو قدرے بڑھاتی ہے۔
9۔ دنیا بھر میں قائم ’’المورد‘‘ کے مختلف اداروں کی قانونی صورت یہ ہےکہ اِس میں غیر علما کاموں کے مالک اور علما و مصنفین ملازم قرار پاتے ہیں۔اگر ادارے کو تصنیف کا مالک بنایا جائے گا تو تصنیف کی ملکیت عملاً اُن افراد کے ہاتھ میں آئے گی، جو نہ علما ہیں، نہ کل وقتی طور پر ادارے میں سرگرم عمل ہیں اور نہ اُن کا کوئی بڑا دنیوی اسٹیک ادارے سے وابستہ ہے۔
10۔ تصنیفی کام کے تین اسٹیک ہولڈرز ہیں: ایک عوام جو مال و اسباب فراہم کرتے ہیں، دوسرے ’’المورد‘‘ کی مجلس انتظام اور تیسرے مصنفین۔ عوام کو حق ملکیت دیا نہیں جا سکتا، باقی دو میں سے اگر انتخاب کرنا ہو تو دیکھنا چاہیے کہ بہ لحاظ منفعت اور بہ اعتبار تعلق کون تصنیف کے زیادہ قریب ہے۔