مواد پر جائیں

تطہیر اخلاق کے بنیادی اصول

سید منظور الحسن اردو

اخلاق کے فضائل و رذائل کی اساس ’’عمل صالح‘‘ ہے۔استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک قرآنِ مجید کی اصطلاح میں اِس سے مراد ’’ہر وہ عمل ہے، جو خدا کی اُس حکمت کے موافق ہو، جس پر کائنات کی تخلیق ہوئی، اورجس کے مطابق اُس کی تدبیرِ امور کی جاتی ہے۔ اِس کی تمام اساسات عقل و فطرت میں ثابت ہیں اور خدا کی شریعت اِسی عمل کی طرف انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوئی ہے۔‘‘1 اِس کا مطلب یہ ہے کہ عمل اگر صالح ہو گا تو اُس کا شمار اخلاق کے فضائل میں ہو گا اور اگر غیر صالح ہو گا تو اُسے اُس کے رذائل میں گردانا جائے گا۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’یہی عمل صالح ہے، جسے فضائل اخلاق سے، اور اِس کے مقابل میں غیر صالح اعمال کو اُس کے رذائل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے: ’إنما بعثت لأتمم صالح الأخلاق‘2 (میں اخلاق عالیہ کو اُن کے اتمام تک پہنچانے کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں)۔ نیز فرمایا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں، جو اپنے اخلاق میں دوسروں سے اچھے ہیں۔3 یہی لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی ہیں۔4 قیامت کے دن آدمی کی میزان میں سب سے زیادہ بھاری چیز اچھے اخلاق ہی ہوں گے،5 اور بندۂ مومن وہی درجہ حسن اخلاق سے حاصل کرلیتا ہے، جو کسی شخص کو دن کے روزوں اور رات کی نمازوں سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘6(میزان 201)

اعمال کے فضائل اور رذائل متعد د ہو سکتے ہیں اور مختلف حالات میں اِن کی صورتیں بھی مختلف ہو سکتی ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اِن کے اصولوں کو خود متعین فرما دیا ہے۔ انسان کی فطرت جن معروفات کو اپنانے، جن اوامر کو بجا لانے اورجن فضائل کو پانے کا تقاضا کرتی ہے، وہ اِن میں بیان ہوگئے ہیں۔ اِسی طرح وہ جن منکرات سے اِبا کرتی، جن نواہی سے گریزاں ہوتی اور جن رذائل کو برا سمجھتی ہے، وہ بھی اِن میں شامل ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآئ ِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ، یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ. (النحل 16: 90)

’’بے شک، اللہ (اِس میں) عدل اور احسان اور قرابت مندوں کو دیتے رہنے کی ہدایت کرتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔‘‘

یہ آیت قرآن کے تمام اوامر و نواہی کا خلاصہ ہے۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’… قرآن جن باتوں کا حکم دیتا ہے، اُن کی بنیادیں بھی اِس میں واضح کر دی گئی ہیں اور جن چیزوں سے وہ روکتا ہے، اُن کی اساسات کی طرف بھی اِس میں اشارہ ہے۔ تمام قرآنی اوامر کی بنیاد عدل، احسان اور ذوی القربیٰ کے لیے انفاق پر ہے اور اُس کی منہیات میں وہ چیزیں داخل ہیں، جن کے اندر فحشا، منکر اور بغی کی روحِ فساد پائی جاتی ہے۔ یہاں اِس کا حوالہ دینے سے مقصود اُن لوگوں کومتنبہ کرناہے، جو قرآن کی مخالفت میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے تاکہ وہ سوچیں کہ جس چیز کی وہ مخالفت کر رہے ہیں، اُس کی تعلیم کیا ہے اور اُس کی مخالفت سے کس عدل و خیر کی مخالفت اور کس شر و فساد کی حمایت لازم آتی ہے؟‘‘ (تدبرقرآن4/ 438)

سورۂ نحل کی اِس آیت میں دین کے معروفات و منکرات، شریعت کے اوامر و نواہی اور اخلاق کے فضائل و رذائل کے بنیادی اصولوں کو متعین کیا ہے۔یعنی اعمال کے ایجابی اور سلبی، دونوں پہلوؤں کی تعیین فرمائی ہے۔ چنانچہ استاذِ گرامی کے نزدیک اخلاقیات کے حلال و حرام میں قرآن کی ہدایت اِنھی بنیادی اصولوں پر مبنی ہے اور اُس کے تمام اخلاقی احکام اِنھی کی تعلیق و تفصیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’… انسان کی فطرت جن فضائل اخلاق کو پانے اور جن رذائل سے بچنے کا تقاضا کرتی ہے، اُن کی بنیادیں اِس میں واضح کر دی گئی ہیں۔خیر و شر کے یہ اصول بالکل فطری ہیں، لہٰذا خدا کے دین میں بھی ہمیشہ مسلم رہے ہیں۔ تور ات کے احکام عشرہ اِنھی پر مبنی ہیں اور قرآن نے بھی اپنے تمام اخلاقی احکام میں اِنھی کی تفصیل کی ہے۔‘‘(میزان 206)

یہ کل چھ اصول یا چھ انواع ہیں۔ اِن میں تین چیزوں کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور تین سے منع فرمایا ہے۔

جن چیزوں کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، وہ یہ ہیں:

1۔’عَدل‘،

2۔ ’اِحْسَان‘،

3۔ ’اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی‘۔

جن چیزوں کو ممنوع قرار دیا ہے، وہ یہ ہیں:

1۔’فَحْشَآء‘،

2۔’مُنْکَر‘،

3۔ ’بَغْی‘۔

البیان

  1. ۔ البیان 5/ 528۔
  2. ۔ احمد، رقم 8729۔
  3. ۔ بخاری، رقم 3559۔ مسلم، رقم 6033۔
  4. ۔بخاری، رقم 3759۔
  5. ۔ ابوداؤد، رقم 4799۔ ترمذی، رقم 2002۔
  6. ۔ ابوداؤد، رقم 4798۔ ترمذی، رقم 2003۔