]’’نقد و نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس
میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
عوام، بشمول تعلیم یافتگان میں بالعموم یہ خیال پایا جاتا ہے کہ تعلیم ایک مقدس فریضہ ہے، اسے کاروبار بنا لینا کوئی قابل تحسین کام نہیں۔ نیز ، یہ پیغمبروں کا پیشہ ہے، اس لیے اوّلاً تو اس کی کوئی اجرت ہی نہیں ہونی چاہیے اور ہو بھی تو قدر ِضرورت سے زائدنہ ہو۔ نجی تعلیمی اداروں کی بھاری فیسیں اسی لیے ہد ِف تنقید بنتی ہیں۔
اس کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ پیغمبروں کا کام خدا کا دین لوگوں تک پہنچانا اور اس کی تعلیم دینا تھا، سائنسی اورسماجی علوم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعلیم پیغمبروں کا کام نہیں رہا۔ اس قسم کے علوم و فنون کے لیے انھیں بھی دوسروں کی مدد درکار ہوتی تھی ، جس کا معاوضہ ادا کیا جاتا تھا۔ جنگِ بدر کے غیر مسلم قیدیوں میں سے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان سےمسلم بچوں کو کتابت سکھائی گئی تھی اور یہی ان کی رہائی کا معاوضہ قرار پایا تھا۔
خدا کے پیغمبر جنھیں ان کی دینی مصروفیات کی وجہ سے کسبِ معاش سے آزاد رکھا گیا تھا، ان کی معاش کا انتظام بھی خدا کی اسکیم میں موجود تھا۔ مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ1 اور مال فے2 (جو جنگ میں لڑے بغیر ہاتھ آ جائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھا۔ جسےآپ اپنے اہل خانہ اور سماج کے دیگر ضرورت مندوں کے مصارف میں خرچ کیا کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے ہاں اللہ تعالیٰ نے یہ دستور رکھا تھا کہ ان کےدینی امور کے نگران بنی لاوی کے اخراجات پورےکرنا قوم کی اجتماعی ذمہ داری تھی۔ عام لوگوں کی معاش کے لیے ایسا کوئی خدائی انتظام نہیں کیا گیا۔ لہٰذا دین کی تعلیم و تدریس کے لیے بھی خدمات کا معاوضہ وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں، چہ جائیکہ دنیا سےمتعلق امور کی تعلیم کے معاوضے یا کاروبار کو ناقابل رشک نگاہ سے دیکھا جائے۔یہی بات مبنی بر حقیقت اور قرینِ انصاف ہے۔
جس طرح سستی اور معیاری سفری سہولتیں اور علاج معالجہ کی فراہمی جدید ریاست کی ذمہ داری شمار ہوتی ہے، اسی طرح سستی اور معیاری تعلیم کی فراہمی بھی اس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ تاہم، تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری تعلیم کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔حکومتی ترجیحات میں اس کا نمبر بہت نیچے ہے۔ اس صورت حال میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ معیاری تعلیم کی کمی پوری کرنے کے لیے نجی شعبے سے حوصلہ مند اور باصلاحیت افراد آگے آئیں، ایسے ہی جیسےطب اور ٹرانسپورٹ کے میدانوں میں نجی سطح پر افراد، ہسپتال اور کمپنیاں مطلوبہ سہولیات فراہم کرتی اور اس سے مالی فوائد حاصل کرتی ہیں۔
تعلیم و تدریس کے لیے بھی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے،جیسے کسی بھی دوسرے کاروبار کے لیے درکار ہوتی ہے۔ عمارت، اس کا کرایہ، لیبارٹری اور سپورٹس کا سامان، یوٹیلیٹی بلز، اور سب سے بڑھ کر اساتذہ اور دیگر عملے کی تنخواہیں، اس ساری تگ و دو کا اطمینان بخش معاوضہ اورمنافع ملنا اخلاقیات کے کسی پیمانے سے غلط نہیں۔ اس لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ تعلیم کا کاروبار بھی ایک درست کاروبار ہے۔ فیس کے لحاظ سے تعلیمی معیار کو یقینی بنانا تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے اور والدین ان سے جواب دہی کا حق رکھتے ہیں۔
نج کے تعلیمی اداروں میں ایک استاد کا تجربہ جتنا زیادہ ہوتا جاتا ہے، اس کی خدمات کی طلب بھی بڑھتی جاتی ہے۔اسی تناسب سے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ بھی اس کا حق بنتا ہے۔ ایثار یا بے غرض خدمات پیش کرنا انفرادی ذوق اور رجحان کا معاملہ ہے، جو چند ہی لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ ایسی کسی انفرادی مثال سے عام لوگوں سے اس کا مطالبہ کرنا بے جا ہے۔ اپنی ضروریات سے بندھے ہوئے عام لوگ عمومی رجحانات کے حامل ہوتے ہیں۔ سماج کو یہ عمومی رجحانات ہی قائم رکھتے ہیں۔ ہر کوئی درویش صفت ہو نے لگےتو سماج تباہ ہو جائے۔ پھر ایثار کا مطالبہ صرف استاد یا نجی تعلیمی اداروں کے مالکان ہی سے کیوں؟ یہ مطالبہ ہر اس پیشہ ور سے کیا جا سکتا ہے جس کا پیشہ مقدس سمجھا جاتا ہے، جیسے طب اور عدالت۔ ڈاکٹر اور جج سے بے غرضی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، اسی طرح اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے مالکان سےبھی نہیں کرنا چاہیے۔
تعلیمی اداروں کے یہ اخراجات ہر علاقے اور ہر طبقے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ طبقات کا یہ فرق جس طرح ریستورانوں، کپڑوں کے برینڈز وغیرہ میں ظاہر ہوتا ہے، اسی طرح تعلیم کے مختلف معیارات میں بھی اس کا ظاہر ہونا بالکل فطری بات ہے۔
جب تک سرکاری تعلیم کا معیار بلند نہیں ہو جاتا، یہ فیصلہ لوگوں کے وسائل اور ذوق پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ بچوں کو کس قسم کی تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔ وسائل کی کمی کے سبب سے معیاری تعلیم نہ دلا سکنا افسوس ناک ہے، مگر اس کا علاج نجی تعلیمی اداروں سے ایثار کے مطالبے میں نہیں، وسائل میں اضافے اور سرکاری اسکولوں کے معیار میں بہتری لانے میں ہے۔
نجی کاروبار کرنا آسان کام نہیں، خصوصاً پاکستان میں جہاں کاروبار کے لیے حالات اکثر غیر یقینیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود کاروبار کی ہمت جٹانے والے داد کے مستحق ہیں۔تعلیم کو بہ طور کاروبار اختیار کرنے والے ایک بھاری اور نازک ذمہ داری اٹھاتے ہیں، جس میں کسی کوتاہی کی گنجایش نہیں دی جا سکتی۔ انھیں چاہیے کہ اپنا کاروباری فریضہ پوری دیانت داری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔
- ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. (الانفال 8: 41)’’(تم نے پوچھا تھا تو) جان لو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا تھا، اُس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے، اُس کے پیغمبر کے لیے، (پیغمبر کے) اقربا اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے خاص رہے گا۔ (یہ اللہ کا حکم ہے، اِس کی بے چون و چرا تعمیل کرو)، اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اُس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن اتاری تھی، جس دن دونوں گروہوں میں مڈبھیڑ ہوئی تھی، اور (جان رکھو کہ) اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘
- ۔مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ. (الحشر 59: 7)’’اِن بستیوں کے لوگوں سے اللہ جو کچھ اپنے رسول کی طرف پلٹائے، وہ اللہ اور رسول اور قرابت مندوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے خاص رہے گا تاکہ وہ تمھارے دولت مندوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے۔ اور رسول( کا منصب یہی ہے کہ) جو تمھیں دے، وہ لے لو اور جس چیز سے روکے، اُس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘