مواد پر جائیں

تن من نیل و نیل

احتشام نبی اردو

پروڈیوسر: سلطانہ صدیقی

نشر: ہم ٹی وی

ہدایت کار: سیفی حسن

تحریر: مصطفی آفریدی

کاسٹ: سحر خان، شجا ع اسد، نعمان مسود، نادیہ افغان، ممتا، عثمان جاوید۔

ڈرامے پر تبصرہ

اقساط پرمشتمل ڈرامہ سیریل “تن من نیل و نیل “ابھی حال ہی میں ہم ٹی وی پر نشر ہوا ۔ اس سیریل کو مصطفی آفریدی نے تصنیف کیا اور سیفی حسن نے اس کی ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے ۔ یہ دونوں حضرات اپنے اپنے فن میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔

پاکستان میں لکھاریوں کو اپنے اردگرد سے موضوعات چننے کے لیے آزادی میسر نہیں ہے ۔ معاشرے میں موجود مذہبی انتہا پسندی، عدم برداشت ، سیاسی پولرائزیشن ، اقلیتوں’ خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے بارے میں رائج دینی تصورات اور معاشرے میں سچ جاننے کی جستجو کا فقدان ، فنون لطیفہ کے اظہار کے مواقع کو بہت محدود کر دیتا ہے ۔ مزید یہ کہ فلم اور ٹی وی پر ریٹنگ کی دوڑ نے سچ کی عکاسی کرنے والے سنجیدہ مسائل کو پس پشت ڈال کر صرف رومانوی یا ساس بہو والے ڈرامے دکھانے کی روایت ڈال دی ہے ۔ ایسے ماحول میں” تن من نیل و نیل “ہماری سماعتوں اور بصارتوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے ۔

ڈرامے کا پلاٹ رابی اور سونو کے مرکزی کرداروں کے گرد گھومتا ہے۔ یہ کردار معاشرے میں موجود تضادات اور اخلاقی گراوٹوں کے درمیان اپنی بقاء کی جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں ۔ رابی ایک متوسط طبقے کے روایت پسند گھر میں رہتی ہے جو ایک روایتی محلہ میں آباد ہے ۔ اس کا چچا زاد بھائی (کامی) اس کو پسند کرتا ہے جو اسی گھر میں رہتا ہے ۔ سونو ایک بن باپ کا نوجوان ہے جو ایک ڈانس گروپ کا حصہ ہے ۔ دونوں کردار سوشل میڈیا کے اس دور میں معاشی جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا اتفاقی تعلق آہستہ آہستہ پسندیدگی اور پھر محبت میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ ان نوجوانوں کے نئے زمانے کے رومانس کے متوازی ان کے والدین (رابی کا والد اور سونو کی والدہ) کی نوجوانی کے زمانے کی شناسائی بھی کہانی کا حصہ ہے ۔ ولن کے کردار میں کامی، رابی اور سونو کے راستے میں روایتی روڑے اٹکاتا ہے ۔ لیکن گلی محلے میں رہنے کے باوجود رابی کو ایک روشن خیال باپ ، ماں اور تایا کی حمایت حاصل ہوتی ہے ۔

ڈرامے کی کہانی میں رابی کی والدہ ایک ایسا کردار نبھاتی نظر آتی ہیں جو بظاہر دھیما ہونے کے باوجود اندر سے بہت مضبوط ہے ۔ وہ اپنے خاوند کو یک طرفہ چاہنے اور اس کی خوشنودی کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کے باوجود، مشرقی رشتوں میں گندھی ہوئی روتی دھوتی کمزور روایتی ماں نہیں ہے ۔ اسی طرح سونو کی والدہ بھی اپنے خوابوں کی تعبیر کا پیچھا کرتے ہوئے زمانے سے ٹکرا جانے والا کردار ہیں ۔ تن من نیل و نیل کا طرہ امتیاز ہی یہ ہے کہ اس کے کردار رونے دھونے کے بجائے زمانے کے جبر کا مقابلہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ڈرامے میں یہ سب کچھ بڑے ہلکے پھلکے انداز میں دکھایا جاتا ہے ۔ اس ڈرامے کی کہانی سے معاشرے میں موجود کمزور طبقات ( خواتین) کو یہ مثبت پیغام ملتا ہے کہ حالات کا مقابلہ کرنا آخری فتح کا موجب بنتا ہے جبکہ استحصال کو برداشت کرنا استحصال کو شہہ دینے کا سبب بنتا ہے ۔

ڈرامہ بہت سے ایسے ذیلی موضوعات کو بھی اٹھاتا ہے جن پر بات کرنا پاکستان میں شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے ۔ ان میں ہم جنس پرستی پر مبنی ریپ ، ڈانس کرنے والوں کے بارے میں متعصبانہ رویہ, سیاست میں کرائے کے غنڈوں کا استعمال اور مذہبی جنونیت پر مبنی ہجوم گردی کی بربریت وغیرہ شامل ہیں۔ کہانی کے مصنف نے ان حساس موضوعات کو ایسے پیرائے میں سپرد قلم کیا ہے کہ بات بھی کہہ دی ہے لیکن اس نظام کے محافظین کو اتنا ناراض نہیں ہونے دیا کہ ڈرامے کے عین درمیان میں اس کو بین ہونے جانے کے خطرات میں جھونک دیا جاتا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو بہت سی فلموں اور ڈراموں کی طرح اس ڈرامے کا انجام بھی سرمد گھوسٹ کی فلم “زندگی تماشہ ہے” جیسا ہوتا ۔

ڈرامے کی آخری قسط میں جب کامی، رابی اور سونو کے خلاف توہینِ مذہب کے جذبات بھڑکا کر ہجوم کو ان کے قتل پر امادہ کرتا ہے تو مجھے ایک لمحے کے لیے کہانی کا یہ موڑ غیرحقیقی محسوس ہوا ۔ مجھے لگا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنا بڑا ہجوم ناحق ان معصوموں کے قتل کے درپے ہو جائے لیکن پھر مجھے اس سری لنکن مینجر کی یاد آئی جس کو مشین پر ایک اسٹکر اکھاڑنے کی پاداش میں ہجوم نے بھری سڑک پر جلا کر بھسم کر دیا ۔ اس مینجر کو اس انجام سے دوچار کرنے والے لوگ (عمومی معنی میں) جرائم پیشہ افراد نہیں تھے بلکہ سڑک پر چلنے والے وہ عام لوگ تھے جو بظاہر شرافت کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں لیکن درندگی میں بھیڑیا یا ہائینا بننے میں بالکل دیر نہیں لگاتے ۔ پھر مجھے لاہور کی وہ خاتون یاد آ گئی جس کے لباس پر عربی کیلیگرافی تھی اور بھیڑیے اپنے “خود ساختہ مذہب” کی حفاظت کی غرض سے ، اس کو گھیرے میں لیے ہوئے تھے ۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر منظر بدلا اور مجھے وہ مسیحی دوڑتے نظر آئے جو جلتے ہوئے چرچ سے نکل کر ہجوم کے ہتھے چڑھ گئے تھے ۔ ان جیسے بہت سے مناظر کو یاد کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ تن من نیل و نیل کی آخری قسط ہمارے معاشرے کے زندہ کرداروں پر مشتمل ہے ۔ جگہ چاہے سیالکوٹ ہو، لاہور ہو ، ناروال ہو, مردان ہو یا میرپور خاص ، ہمارے معاشرے میں ایسے کرداروں کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تن من نیل و نیل جیسے ڈرامے کے آئینے میں اپنا عکس تلاش کریں اور اپنی اصلاح کا سلسلہ فی الفور شروع کر دیں