مواد پر جائیں

تکفیر یا تبلیغ

مولانا وحید الدین خان اردو

خلافت راشده کے آخری زمانے میں اس فرقے کا ظہور ہوا جس کو خوارج کہا جاتا ہے۔ خوارج دراصل غلو (extremism) کا شکار تهے۔ وه ہر گناه پر لوگوں کو کافر قرار دینے لگے۔ (الذین یکفرون بکل ذنب) اس کے ردعمل میں علما کے درمیان اس پر بہت زیاده بحثیں ہوئیں، آخر کار اس دور کے علما نے اس پر اتفاق کر لیا کہ جو شخص قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑهے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ امام ابو جعفر الطحاوی (وفات :321 ھ) نے اپنے زمانے کے علما کا موقف بیان کرتے ہوئے لکها ہے کہ : ’’یعنی ہم کسی اہل قبلہ کی تکفیر کسی گناه کے ارتکاب پر نہیں کرتے، جب تک وه اس کو حلال نہ قرار دے۔‘‘ (شرح عقیدۃ الطحاویہ 1/296)  علما کے اس متفقہ موقف پر اب ہزار سال گزر چکے ہیں، مگر ابهی تک تکفیر کا ہنگامہ بند نہیں ہوا۔ تکفیر کا غیر اسلامی طریقہ اس کے بعد بهی امت کے درمیان جاری ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس معاملے میں علما نے جو موقف اختیار کیا، وه موقف بجاے خود صحیح نہ تها۔ انهوں نے تکفیر عام کو ناجائز بتایا، مگر اسی کے ساتھ انهوں نے تکفیر مشروط کو جائز قرار دے دیا۔ یہ موقف بجاے خود غلط تها، اس لیے وه امت میں تکفیر کا دروازه بند نہ کر سکا۔ صحیح بات یہ تهی کہ علما متفقہ طور پر یہ اعلان کرتے کہ تکفیر کا طریقہ اصلاً ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔ کسی عالم یا مفتی کو شرعی طور پر یہ حق نہیں کہ وه کسی کو کافر قرار دے۔ کافر قرار دینے کا طریقہ اصحاب رسول کے درمیان موجود نہ تها۔ وه بعد کے زمانے میں امت کے اندر رائج ہوا۔ علما کو یہ کرنا چاہیے تها کہ وه متفقہ طور پر یہ اعلان کریں کہ تکفیر کا طریقہ بدعت کا طریقہ ہے۔ اہل ایمان کی ذمے داری یہ ہے کہ وه لوگوں کے خیر خواه بنیں، وه تکفیر کے بجاے تبلیغ کا طریقہ اختیار کریں۔ امت مسلمہ کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وه تمام انسانوں کو اپنا مدعو سمجھے، وه لوگوں کے رویے پر حکم لگانے کے بجاے ان کو اللہ کا پیغام پہنچائے۔ امت مسلمہ کے عمل کی منصوبہ بندی مبنی بر تبلیغ ہونی چاہیے، نہ کہ مبنی بر تکفیر۔ تکفیر اللہ کا کام ہے، تکفیر ہرگز انسانوں کا کام نہیں۔ اگر تبلیغ موثر ثابت نہ ہو تو اس کے بعد مومن کا کام یہ ہے کہ وه دعا کرتے ہوئے ایسے لوگوں کے معاملے کو اللہ کے حوالے کر دے۔

[الرسالہ، مارچ 2015]