مواد پر جائیں

تہجد کی نماز/ تراویح کی نماز

جاوید احمد غامدی اردو

[یہ تحریر ’’میزان‘‘ سے لی گئی ہے۔ اس کتاب میں اسے نفل نمازوں کے ذیل میں ’’رات کی تنہائی میں‘‘ کے زیر عنوان ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔]

شب وروز کی پانچ نمازوں کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات میں ایک اور نماز بھی لازم کی گئی تھی۔ اِسے بالعموم صلوٰۃ اللیل یا تہجد کی نماز کہا جاتا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ’نَافِلَۃً لَّکَ‘1 کے الفاظ سے اِس کی تصریح فرمائی ہے۔ پھر سورۂ مزمل میں مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو انذار عام کا حکم دیا تو اِس کے لیے بطور خاص اِس نماز کی ہدایت فرمائی۔ قرآن کا ارشاد ہے:

یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ، قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلاً، نِّصْفَہٓٗ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً، اَوْزِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً، اِنَّاسَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیْلاً، اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلاً، اِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبْحًا طَوِیْلاً، وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً.

(73: 1-8)

’’اے اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے، رات کو کھڑے رہو، مگر تھوڑا۔ آدھی رات یا اُس سے کچھ کم کر لو یا اُس پر کچھ بڑھا دو اور( اپنی اِس نماز میں) قرآن کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔ اِس لیے کہ عنقریب ایک بھاری بات کا بوجھ ہم تم پر ڈال دیں گے۔ رات کا یہ اٹھنا، درحقیقت دل کی جمعیت اور بات کی درستی کے لیے بہت موزوں ہے۔ اِس لیے کہ دن میں تو (اِس کام کی وجہ سے) تمھیں بہت مصروفیت رہے گی۔ (لہٰذا اِس وقت پڑھو) اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو اور (رات کی اِس تنہائی میں) سب سے ٹوٹ کر اُسی کے ہو رہو۔‘‘

عام مسلمانوں کے لیے یہ ایک نفل نماز ہے اور جنھیں اللہ تعالیٰ توفیق دے، اُن کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اِس کا اہتمام کریں۔ بیان کیا گیا ہے کہ آپ اِس نماز کی زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعتیں پڑھتے اور اِس میں بہت لمبا رکوع و سجود اور قیام کرتے تھے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ بعض روایتوں میں تیرہ رکعتوں کا ذکر بھی ہوا ہے، لیکن اِس کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نماز چونکہ فرض تھی، اِس لیے آپ کبھی کبھی اِس سے پہلے یا اِس کے بعد اُسی طرح دو رکعت نفل نماز پڑھتے تھے، جس طرح ہم ، مثلاً فجر سے پہلے یا مغرب کے بعد یہ نفل پڑھتے ہیں، لیکن بعض لوگوں نے غلطی سے اُسے اصل کے ساتھ شامل سمجھ لیا۔2 اِس باب میں بنیادی حیثیت جس روایت کو حاصل ہے، وہ یہ ہے:

عن أبي سلمۃ بن عبد الرحمٰن أنہ أخبرہ أنہ سأل عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا: کیف کانت صلٰوۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في رمضان؟ فقالت: ما کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدی عشرۃ رکعۃ.

(بخاری، رقم1147)

’’ عبد الرحمن کے بیٹے ابو سلمہ نے بتایا کہ اُنھوں نے سیدہ عائشہ سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیا ہوتی تھی؟ سیدہ نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ پڑھتے تھے اور نہ رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز بالعموم جن طریقوں سے پڑھتے تھے یا آپ نے اِسے پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے، وہ یہ ہیں:

1۔ دو دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے، پھر ایک رکعت سے یہ نماز وتر کر دی جائے۔3

2۔ دو دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا جائے، پھر پانچ رکعتیں اِس طرح پڑھی جائیں کہ اُن میں قعدہ صرف آخری رکعت میں کیا جائے ۔4

3۔ چار چار رکعتیں عام طریقے سے پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے، پھر تین رکعتیں قعدے کے بغیر مسلسل پڑھ کر آخری رکعت میں قعدہ کیا جائے اور اُس کے بعد سلام پھیرا جائے۔5

4۔ دو یا چار یا چھ یا آٹھ رکعتیں قعدے کے بغیر مسلسل پڑھ کر آخری رکعت میں قعدہ کیا جائے، پھر سلام پھیرے بغیر اٹھ کر ایک رکعت پڑھی جائے اور قعدے کے بعد سلام پھیرا جائے۔6

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس نماز میں پہلے سراً وجہراً، دونوں طریقوں سے قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی تھی، بعد میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اِن کے بین بین کا لہجہ اختیار کیا جائے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً.

(بنی اسرائیل 17: 110)

’’اور (اوپر جو نماز، اے پیغمبر، خاص تم کو پڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے)، تم اپنی اُس نماز کو نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو، نہ بہت پست آواز سے، بلکہ اِن دونوں کے درمیان کا طریقہ اختیار کرو۔‘‘

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے بعد اپنے صحابہ کو بھی اِسی کا پابند کیا۔ ابو قتادہ کی روایت ہے کہ حضور نے صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمھارے پاس سے گزرا تو تم ( رات کی نماز میں) بہت پست آواز سے قرآن پڑھ رہے تھے۔ اُنھوں نے جواب دیا: میں اُسے سناتا ہوں جو میری سرگوشی سنتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اِسے کچھ بلند کر لو۔ پھر آپ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمھارے پاس سے گزرا تو تم بہت بلند آواز سے قرآن پڑھ رہے تھے۔ اُنھوں نے جواب دیا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : اِسے کچھ پست کر لو۔7

اِس نماز کا اصل وقت ، جیسا کہ قرآن مجید کی سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ مزمل سے واضح ہے، سو کر اٹھنے کے بعد ہی کا ہے اور اِسی وجہ سے اِسے نماز تہجد کہا جاتا ہے۔ قرآن نے اِسے حضوری کا وقت قرار دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات ہماری اِس دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو فرماتے ہیں: اِس وقت کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اُس کی پکار کا جواب دوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اُسے عطا کردوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے کہ میں اُسے بخش دوں۔8

تاہم کوئی شخص اگر یہ سعادت حاصل کرنے میں کسی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے تو وہ یہ نماز سونے سے پہلے بھی پڑھ سکتا ہے۔ سورۂ مزمل میں اِس نماز سے متعلق تخفیف کی آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ وَطَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ، وَاللّٰہُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ، عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ فَتَابَ عَلَیْکُمْ، فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ. عَلِمَ اَنْ سَیَکُوْنُ مِنْکُمْ مَّرْضٰی وَاٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ. (73: 20)

’’ تمھارا پروردگار خوب جانتاہے کہ تم کبھی دوتہائی رات کے قریب، کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (اُس کے حضور میں) کھڑے رہتے ہو اور ایک گروہ تمھارے ساتھیوں میں سے بھی۔ (لوگوں کی ضرورت کے لحاظ سے) اللہ ہی رات اور دن کی تقدیر ٹھیراتا ہے۔ اُس نے جان لیا کہ تم لوگ اِسے نباہ نہ سکو گے تو اُس نے تم پر عنایت کی نظر کی۔ چنانچہ اب قرآن میں سے جتنا ممکن ہو،(اِس نماز میں) پڑھ لیا کرو۔ اُسے معلوم ہے کہ آگے تم میں بیمار بھی ہوں گے اور کچھ دوسرے وہ بھی جو خدا کے فضل کی تلاش میں سفر کریں گے اور کچھ دوسرے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اُٹھیں گے۔ اِس لیے جتنا ممکن ہو، اِس میں سے پڑھ لیا کرو۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے:

أیکم خاف أن لا یقوم من اٰخر اللیل فلیؤتر ثم لیرقد، ومن وثق بقیام من اللیل فلیؤتر من اٰخرہ، فإن قراء ۃ اٰخر اللیل محضورۃ، وذٰلک أفضل. ( مسلم، رقم 1767)

’’ تم میں سے جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہ اٹھ سکے گا، اُسے چاہیے کہ سونے سے پہلے اپنی نماز وتر کر لے، لیکن جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ یقیناًاٹھے گا، اُسے یہ نماز رات کے آخری حصے ہی میں پڑھنی چاہیے۔ اِس لیے کہ آخر شب کی قراء ت روبرو ہوتی ہے اور وہی افضل ہے۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز ہمیشہ تنہا پڑھتے تھے۔ تاہم رمضان کے کسی مہینے میں جب آپ تہجد کے لیے اٹھے اور مسجد میں بوریے کا جو حجرہ آپ رمضان میں بنا لیتے تھے، اُس سے نکل کر باہر مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کی اقتدا کے شوق میں عام مسلمان بھی نماز کے لیے جمع ہونے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے دیکھا تو چند دنوں کے بعد یہ سلسلہ اِس اندیشے سے منقطع کر دیا کہ آپ کی طرح مبادا یہ عام مسلمانوں پر بھی فرض کر دی جائے۔ عروہ بن زبیر کی روایت ہے:

أن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا أخبرتہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خرج لیلۃ من جوف اللیل فصلی فيالمسجد وصلی رجال بصلٰوتہ، فأصبح الناس فتحدثوا فاجتمع أکثر منہم فصلوا معہ، فأصبح الناس فتحدثوا فکثر أہل المسجد من اللیلۃ الثالثۃ، فخرج رسول اللّٰہ فصلی فصلوا بصلٰوتہ. فلما کانت اللیلۃ الرابعۃ عجز المسجد عن أہلہ حتی خرج لصلٰوۃ الصبح، فلما قضی الفجر أقبل علی الناس فتشہد، ثم قال: ’’أما بعد، فإنہ لم یخف علي مکانکم، ولکني خشیت أن تفرض علیکم فتعجزوا عنہا‘‘.

(بخاری، رقم 2012)

’’ سیدہ عائشہ نے اُنھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت نکلے اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھی۔ وہاں کچھ لوگ آپ کے ساتھ اُس میں شریک ہو گئے۔ اُنھوں نے صبح اِس کا ذکر کیا تو دوسرے دن زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ اِس رات بھی آپ نے مسجد میں نماز پڑھی تو لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ نماز ادا کی۔ صبح پھر اِس کا ذکر ہوا تو تیسری رات نمازیوں کی ایک بڑی تعداد مسجد میں آگئی۔ آپ اِس رات پھر نکلے اور لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ پھر چوتھی رات ہوئی تو مسجد لوگوں سے اِس طرح بھر گئی کہ اُس میں کسی آنے والے کے لیے جگہ باقی نہ رہی۔ لیکن اُس رات آپ صبح سے پہلے نہیں نکلے، بلکہ فجر ہی کے وقت باہر آئے۔ پھر فجر کی نماز کے بعد آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے،خطبے میں اللہ کی توحید بیان کی اور فرمایا: میں تم لوگوں کے آنے سے بے خبر نہ تھا، لیکن مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ کہیں تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اُسے ادا نہ کر سکو۔‘‘

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت تک لوگ رمضان کے مہینے میں بھی گھروں اور مسجدوں میں اِسے بالعموم اپنے طور پر ہی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ وہ ایک دن مسجد کی طرف آئے تو اُنھوں نے دیکھا کہ لوگ مختلف ٹکڑیوں میں اِس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں کہ کوئی شخص تنہا تلاوت کر رہا ہے اور کچھ کسی امام کی اقتدا میں ہیں۔ اِس نماز میں چونکہ تلاوت کچھ بلند آواز سے ہوتی ہے، اِس وجہ سے مسجد میں عجیب بے نظمی کی کیفیت تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے آداب کے لحاظ سے اِسے پسند نہیں فرمایا اور ابی بن کعب کو اِس نماز کے لیے لوگوں کا امام مقرر کر دیا۔ اِس کے بعد ایک دوسری رات آپ پھر تشریف لائے، لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یہ نئی چیز اچھی ہے، لیکن جس کو چھوڑ کر یہ سوئے رہتے ہیں، وہ اِس سے بہتر ہے۔9

روایت سے واضح ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نہ صرف یہ کہ لوگوں کے ساتھ اِس نماز میں شامل نہیں ہوئے، بلکہ اُنھوں نے رات کے آخری حصے میں اٹھ کر تنہا یہ نماز پڑھنے کو اِس سے بہتر قرار دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، کبھی گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھی۔ تاہم اِس کے لیے رکعتوں کی کوئی تعداد چونکہ متعین نہیں ہے، اِس لیے جب ایک امام کا تقرر ہوا تو لوگ رمضان میں نماز تراویح کے نام سے اِس نماز کی تئیس، بلکہ اِس سے بھی زیادہ رکعتیں پڑھنے لگے۔ اُس وقت سے اب تک مسلمانوں کا عام طریقہ یہی ہے اور اُن میں سے زیادہ اب اِس بات سے واقف بھی نہیں رہے کہ یہ درحقیقت تہجد ہی کی نماز ہے جسے وہ عشا کے ساتھ ملا کر پڑھ رہے ہیں۔

اِن نوافل کے علاوہ وضو کے بعد نماز کی فضیلت بھی آپ سے منقول ہے۔10 سفر سے واپسی پر آپ کے دو رکعت نماز پڑھنے کا ذکر بھی روایتوں میں ہوا ہے۔11 گناہوں سے توبہ اور استخارے کی غرض سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔12 استخارے کی یہ دعا درج ذیل ہے:

اَللّٰہُمَّ، إِنِّيْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ. اَللّٰہُمَّ، إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِيْ فِيْ دِینِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِيْ فَاقْدِرْہُ لِيْ وَیَسِّرْہُ لِيْ ثُمَّ بَارِکْ لِيْ فِیْہِ. وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِيْ فِيْ دِینِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِيْ فَاصْرِفْہُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْہُ وَاقْدِرْ لِيَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِيْ.13

’’ اے اللہ، میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے قدرت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں، اِس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا اور تو علام الغیوب ہے۔ اے اللہ، اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگانی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اِسے میرے لیے مقدر کردے اور آسان بنا دے ، پھر اِس میں برکت پیدا کر دے؛ اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگانی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اِس کو مجھ سے اور مجھے اِس سے پھیر دے۔ (پروردگار)، میرے لیے خیر کو مقدر فرما، وہ جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اُس سے راضی کر دے۔‘‘

  1. ۔ 17: 79۔’’یہ تمھارے لیے اِن کے علاوہ ہے۔‘‘
  2. ۔ بخاری، رقم 1138۔1140۔ مسلم، رقم 1788۔
  3. ۔ بخاری، رقم 992، 1137۔ مسلم، رقم 1717، 1748۔
  4. ۔ مسلم، رقم 1720۔ ابوداؤد، رقم 1338، 1358، 1359۔
  5. ۔ بخاری، رقم 1147۔ مسلم، رقم 1723۔
  6. ۔ مسلم، رقم 1739۔
  7. ۔ ابو داؤد، رقم 1329۔ ترمذی ، رقم 447۔
  8. ۔ بنی اسرائیل 17: 79۔ بخاری، رقم 1145۔ مسلم، رقم 1772۔
  9. ۔ بخاری، رقم 2010۔
  10. ۔ بخاری، رقم 1149۔ مسلم، رقم 6324۔
  11. ۔ بخاری، رقم3087، 3088۔ مسلم، رقم 1659۔
  12. ۔ ابو داؤد، رقم 1521۔ بخاری، رقم 1162۔
  13. ۔ بخاری، رقم 1162۔