مواد پر جائیں

جاوید احمد غامدی رفیق صبوحی

اردو

بارفیقان زخود رفتہ سفر دست نداد

سیر صحراے جنوں حیف کہ تنہا کر دم

سرما کی آمد میرے لیے ہمیشہ بڑے اہتزاز کا باعث ہوتی ہے۔ تاروں کے ڈوبنے سے پہلے جب میں گیس کی ا نگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر لپکتے شعلوں کو دیکھتا اور خیال و خامہ کو باہم رشتہ بپا کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو جمعیت خاطر کا جو سامان اُس وقت میسر ہوتا ہے، اُس کے بعد کسی بے سروسامانی کا غم باقی نہیں رہتا:

دل کہ جمع ست، غم از بے سرو سامانی نیست

فکر جمعیت اگر نیست، پریشانی نیست

لیکن27 نومبر کی صبح جب میں نے اِس موسم میں پہلی مرتبہ آتش فسردہ کو شعلہ باری کا اذن دیا تو میں نے دیکھا کہ میرے محسوسات کی دنیا اُس اہتزاز سے بالکل خالی ہے۔ کمرے کی انگیٹھی میں خاموش پڑی آگ تو دیا سلائی کا شعلہ دکھاتے ہی گویا ہو گئی، مگر اِس کے ساتھ لَے لینے کے لیے جو آواز اُس روز دل سے اٹھی، اُسے بس ایک نغمۂ خوں گشتہ ہی کہنا چاہیے:

آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں؟

سوز غم ہاے نہانی اور ہے

ہم جب زندگی کا سفر شروع کرتے ہیں تو اُس میں گاہے کچھ ساتھ چلنے والے بھی میسر آ ہی جاتے ہیں۔ یہ ہم سفر بارہا آپس میں وفا کے عہد باندھتے اور جو کچھ کہتے ہیں، اکثر اُس کو نباہ دینے کے لیے ایک دوسرے سے بڑی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ پھر کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ وفا کے عہد ریت کے گھروندوں کی طرح بکھر جاتے اور توقعات کی دنیا صحراے نجد کی طرح ویران ہو جاتی ہے۔ سفر کی ابتدا میں یہ خیال نہیں ہوتا کہ زندگی کی حقیقتیں اِس قدر تلخ ہوں گی، لیکن اُن کا زہر رگ و پے میں اترتا ہے تو اندر کا انسان باہر آ جاتا اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔ اُس وقت کوئی شخص اگر اپنی وفا پر قائم رہے تو اندوہ وفا کے سوا اُس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ جانے والے مشتاقانہ اپنی اپنی راہوں پر چلے جاتے ہیں اور وہ حرماں نصیب اپنے عزیز از جان عزیزوں کو خود گاڑی پر بٹھا کر اُسے اسٹیشن پر رینگتے دیکھتا اور پھر تنہا پلیٹ فارم پر کھڑا رہ جاتا ہے:

نہ گلہ ہے دوستوں کا، نہ شکایت زمانہ ​​

اب سے کم و بیش نو برس پہلے نومبر کی اِسی 27 تاریخ کو میں نے اپنے کچھ عزیز از جان عزیزوں کو اِسی طرح رخصت کیا تھا۔ یہ دن ہر سال لوٹ کر آتا رہا، لیکن اِس کی یادوں کا آزار کبھی اِس طرح دل و دماغ پر حاوی نہیں ہوا۔ اب کیا پھر کوئی عزیز از جاں پا در رکاب ہو گا؟ میں آتش دان کے سامنے بیٹھا رہا اور میری زبان پر بے اختیار وہ شعر جاری ہو گئے جو اب سے نو برس پہلے میں نے اِن جانے والوں کی یاد میں کہے تھے:

مقام شرح جنوں پہ وہی سرور و حضور

نفس نفس وہی تنہا سرود نیم

مری نگاہ سرابوں کی آرزو کا وجود

کہاں سے آئے ندیموں میں ذوق تشنہ لبی

اِسی خطا پہ گریزاں ہیں ہم سفر میرے

کہ میری طبع رواں مصلحت شناس نہیں

وہ ہم سفر کہ زمانے میں جن کی دھوم ہوئی

مثال ماہ تھی تیرہ شبوں میں جن کی جبیں

مرے وجود میں پنہاں وجود کا حاصل

زبان شعر میں اپنے معلقات کہوں

مری نواؤں سے اب وہ بھی آشنا نہ رہے

مرے ندیم، میں شہر جنوں میں تنہا ہوں

مجھے رفیق صبوحی کی جستجو ہی رہی

مرے سبو کی حقیقت تہ سبو ہی رہی

[1988ء]