مواد پر جائیں

جاوید احمد غامدی شعلہ و نشیمن

اردو

پچھلے چند مہینوں میں مجھے دو مرتبہ اپنا مکان بدلنا پڑا۔ نیو گارڈن ٹاؤن سے اٹھے ہوئے ابھی بہ مشکل پندرہ بیس ہفتے ہوئے تھے کہ اقبال ٹاؤن میں نئے گھر کے مالک نے اُسے بیچنے کا فیصلہ کر لیا۔ گویا وہی معاملہ ہوا کہ:

آ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے

میں نے اِس مکان کی تلاش اور اِسے رہنے کے قابل بنانے میں بڑی محنت اٹھائی تھی۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مجھے اتنی جلدی یہاں سے اٹھنا پڑے گا۔ گھر کے مالک کو بھی اِس کا احساس تھا۔ اُس نے بڑی ندامت کے ساتھ اپنی مجبوری کا ذکر کیا۔ میں انکار کر دیتا تو وہ یقیناًخاموش ہو جاتا۔ مجھے خیال ہوا، شعلہ و نشیمن کو جمع کرنے میں جو مزہ ہے، وہ اُس عافیت میں ہر گز نہ ہو گا جو انکار کی صورت میں مجھے یہاں میسر رہے گی۔میں نے گھر خالی کر دینے کا وعدہ کر لیا:

از بہر آشیانہ خس اندوزیم نگر

باز ایں نگر کہ شعلۂ در گیرم آرزوست

پچھلے پندرہ برسوں میں، میں نے کئی مکان بدلے ہیں۔ دوسرے کا گھر ایک دن آدمی کو خالی کرنا ہی پڑتا ہے۔ مجھے جب کبھی گھر کا مالک اپنا گھر چھوڑنے کے لیے کہتا ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ ایک بڑی حقیقت کی یاددہانی ہے۔ اِس دنیا میں ہم جس کے گھر میں رہ رہے ہیں، وہ بھی ایک دن یقیناًاِسے چھوڑنے کے لیے کہے گا۔ ہم اِس مالک سے تکرار کر سکتے ہیں، اُس کے سامنے اِس کا بھی امکان نہیں۔ یہاں ہم اپنا سب سازو برگ ساتھ لے جا سکتے ہیں، وہاں یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ہم مجبور ہیں کہ ایک دن اُس کا گھر خالی کر دیں اور ہم نے اُسے جس طرح استعمال کیا ہے، اُس کے لیے اُس کے سامنے مسؤل ٹھیرائے جائیں۔ یہ اِس عالم کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس سے کسی کے لیے مفر نہیں۔ یہاں ہر حادثہ دراصل اِسی حقیقت کی یاددہانی ہے:

اہل بینش کو ہے طوفان حوادث، مکتب

لطمۂ موج کم از سیلی استاد نہیں

[1986ء]