حافظ شیراز نے کہا تھا:
بدہ ساقی می باقی کہ درجنت نخواہی یافت
کنار آب رکنا باد و گلگشت مصلا را
مجھے نہیں معلوم، شیراز کے شاعر کی یہ آرزو برآئی یا نہیں، لیکن میں نے بارہا دیکھا ہے کہ لاہور کے آب رکنا باد کے کنارے ساقی ہر روز صبوحی لنڈھاتا ہے۔
رکنا باد دیلمی نے جاری کیا تھا اور اُس کے زلال کا ہر جرعہ، حافظ ہی کے کہنے کے مطابق، عمر خضر بخشتا ہے:
ز رکنا باد ما صد لوحش اللہ
کہ عمر خضر می بخشد زلالش
لاہور کی نہرکسی دیلمی نے جاری نہیں کی اور اُس میں زلال بھی نہیں بہتا۔ اُس کے پانی میں مٹی اِس طرح ملی ہوئی ہے، جس طرح سمندر میں شور، لیکن جو منظر اُس کی آہستہ خرامی اور اُس کے کناروں پر دورویہ درخت اور سبزہ زار پیدا کرتے ہیں، اُس کے حسن میں وہ سب کچھ ہے جو نگاہوں میں اِس طرح ٹھیرتا ہے کہ پھر نگاہ رو برو کہنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آدمی اِس پر نگاہ غلط انداز بھی ڈالے تو واپس نہیں آتی اور زبان بے اختیار کہتی ہے:
دل کے لیے ہزار سود، ایک نگاہ کا زیاں
رکنا باد کاپانی ’’درۂ اللہ اکبر‘‘ سے آتا ہے۔ آب خضر کے بارے میں کہتے ہیں کہ اُس کا مقام ظلمات ہے۔ دیکھیے، حافظ نے اِس سے کیا مضمون پیدا کیا ہے:
شیراز و آب رکنی و ایں باد خوش نسیم
عیبش مکن کہ خال رخ ہفت کشور است
فرقست از آب خضر کہ ظلمات جای اوست
تاآب ما کہ منبعش ’’اللہ اکبر‘‘ است
اپنے شہر کی اِس نہر کا منبع جاننے کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ مجھے اِس کی انتہا معلوم ہے۔ رکنا باد، جیسا کہ حافظ نے کہا،’’درۂ اللہ اکبر‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔ یہ میرے لیے ہمیشہ مقام ’اللہ اکبر‘ پرختم ہوتی ہے۔ اِسے بے شک، قدرت کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا، لیکن شہر کی سنگین عمارتوں کے درمیان یہ ہر صاحب ذوق کے لیے مراقبۂ سحر کا مقام ہے۔ میں نے کئی مرتبہ اُس وقت جب پو پھوٹتی اور فضا میں کچھ کچھ روشنی پھیل جاتی ہے، اِسے زمین کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں تک پہنچتے دیکھا ہے۔
اِس زمانے کے شہروں میں رہنے والے، جن کے لیے دن نیۂ شب کے بعد ختم ہوتا اور صبح نیۂ روز سے کچھ پہلے طلوع ہوتی ہے، اِسے سمجھ نہ سکیں گے۔ وہ اگر کبھی ڈوبتے تاروں کی چھاؤں میں اِس کے کنارے کھڑے ہو کر صبح کو طلوع ہوتے دیکھیں تو اُنھیں معلوم ہو کہ یہ محض آب جو نہیں، اِس عالم کے بنانے والے تک پہنچنے کا راستہ بھی ہے۔
نئے تمدن نے ہمیں صرف اُس قرآن سے بے تعلق نہیں کیا جس میں حقائق لفظوں کے لباس میں جلوہ گر ہوئے ہیں، اُس قرآن سے بھی محروم کر دیا ہے جس کی آیتیں صحیفۂ فطرت میں لکھی گئیں اور جسے انسان کبھی شب و روز پڑھتا تھا۔ اب وہ پہر دن چڑھے اٹھتا، برگ سیاہ کا پانی اپنے رگ و پے میں اتارتا اور سب سے پہلے اخبار پڑھتا ہے جس میں اُس کے لیے سب خبریں ہوتی ہیں، اُس کی اپنی کوئی خبر نہیں ہوتی۔
اِن روز و شب میں، اُسے کیا معلوم کہ وہ صبوحی کیا ہے جو لاہور کے اِس آب رکنا باد کے کنارے لنڈھائی جاتی ہے؟ دیکھیے، کیا شعر یاد آیا۔ کسی نے شاید، اِسی طرح کے کسی مقام پر صبح کو اترتے دیکھ کر کہا تھا:
ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے