صنعتی دور اور قومی ریاستوں کی تشکیل کے زمانےمیں تعلیم کا حصول ہر فرد کا مسئلہ بنا دیا گیا تاکہ صنعت اور ریاست کو مطلوبہ افرادی قوت میسر آ ہو سکے۔ دور جدید کا یہ ایک غیر متوازن رجحان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہرفرد تعلیمی رجحان کا حامل نہیں ہوتا۔ تعلیم پر بھرپور وسائل خرچ کرنے والے ممالک میں بھی یہ ممکن نہیں ہوسکا کہ ہر بچے کو رسمی تعلیم کے ذریعے سے تعلیم یافتہ بنایا جا سکے۔ فطری رجحانات کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
جس طرح تعلیمی رجحان رکھنے والے بچوں کو تعلیم کے بجاے کسی کام، دھندے یا ہنر سیکھنے پر لگا دینا ظلم ہے، اسی طرح تعلیمی رجحان نہ رکھنے والے بچوں کو حصول تعلیم پرمجبور کرنا بھی زیادتی ہے۔ ایسے بچے موافق حالات اور وسائل کے باوجود بھی پڑھنے کی طرف مائل نہیں ہو پاتے۔ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں اور نہ ہی تعلیمی رجحان کی کمی کوئی بری چیز ہے۔ کم تعلیمی رجحان رکھنے والے بچے ہم نصابی اور غیر تعلیمی سرگرمیوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ کچھ بچے تکنیکی ذہن رکھتے ہیں، چیزوں کو کھولنے جوڑنے میں ہوشیار ہوتے ہیں۔ بعض کھیل کود میں بہت مہارت دکھاتے ہیں، کچھ کھیتی باڑی یا جانور وغیرہ پالنے میں دل چسپی رکھتے ہیں، بعض کاروباری صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ لڑکیوں میں یہ رجحانات گھر داری، تصویر کشی، فیشن ڈیزائننگ یا بیوٹیشن وغیرہ کی ہنرمندیوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔
ان بچوں کو اگر ان کے طبعی رجحان کے مطابق آگے بڑھنے دیا جائے تو اکثر اپنے طبعی میدانِ عمل میں بہت کامیاب ہوتے ہیں۔ مگر رائج نظام تعلیم میں ہر بچے کو کم از کم دس بارہ سال رسمی تعلیم کی چکی میں پیسنا ضروری سمجھا گیا ہے، حتیٰ کہ غیر تعلیمی شعبہ جات کی ملازمتوں کے لیے بھی کم سے کم معیارِ تعلیم میٹرک رکھا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک بچہ اگر تعلیمی رجحان نہ رکھتا ہو تو اسے بھی ایک ادنیٰ ملازمت کے لیے دس بارہ سال ناچاہی تعلیم کی مشقت میں بسر کرنا ہوتے ہیں۔ ایک ناگوار کام مسلسل دس بارہ سال کرتے رہنے کی اذیت سے انسانی دماغ اور نفسیات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا احساس تک موجود نہیں۔
ایسے ہنرمند افراد کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں جو اس تعلیمی چکر میں پڑے بغیر اپنی مرضی کا ہنر سیکھ کر اپنے شعبے میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ پیشہ یا ہنر سیکھنے کے لیے دس بارہ سال کی عمومی رسمی تعلیم کی پابندی غیر ضروری ہے، نہ صرف غیر ضروری ہے، بلکہ تعلیمی رجحان سے عاری بچوں کے لیے بڑی تکلیف اور نقصانات کا باعث ہے۔
جبری تعلیم سے بچنے کے لیے ایسے بچے جب ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں تو نکمے اور باغی کہلاتے اور اپنی نظر میں بھی مجرم بنا دیے جاتے ہیں اور یوں وہ منفی نفسیات کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ایسے بچوں کو زبردستی تعلیم دلا بھی دی جائے تو بہت محنت کے بعد بھی معمولی کارکردگی ہی دکھا پاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ معمولی تعلیم کی وجہ سے کوئی ڈھنگ کی ملازمت پانے میں بھی ناکام رہتے ہیں اور اپنے طبعی ٹیلنٹ کو برتنے کی مسرت اور اس کے ذریعے سے ممکنہ کامیابی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
ایسے تعلیم بیزار طلبہ امدادی کتب سے تیاری کرتے، اسائنمنٹس کاپی کرتے، امتحانات میں نقل کرتے اور شارٹ کٹس کی تلاش میں لگے رہتے ہیں اور کم گریڈز کی وجہ سے مغموم اور شاکی بھی رہتے ہیں۔ اساتذہ اور اداروں کے قیمتی وقت اور وسائل کا بہت بڑا حصہ ان طلبہ کے تعلیمی نقائص دور کرنےاور سرقے (Plagiarism) کے حیلوں سے نمٹنے پر لگتا ہے، مگر اس میں کامیابی پھر بھی نہیں ملتی۔ ڈگری کی مجبوری ختم کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ کتنے افراد تعلیم کی کٹھنائیوں میں شامل ہونا پسند کریں گے۔
ایسے طلبہ رسمی تعلیم سے ہٹ کر دیگر کاموں کی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ اگر یہ اپنا قیمتی وقت درست مصرف میں لگائیں تو رسمی تعلیم کے حصول کی ذہنی اذیت سے بھی بچیں گے اورپیشہ ورانہ زندگی میں بہت جلد مناسب مقام بھی حاصل کر پائیں گے۔
پیشہ ورانہ تعلیم یا ہنر سیکھنا ہمارے ہاں ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔ سائنسز اور پھر سوشل سائنسز کی تعلیم ہی اولین ترجیح ہے۔ ان مضامین میں بہتر کارکردگی نہ دکھا سکنے پر طلبا کو جب پیشہ ورانہ تعلیم یا کاروبار کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے، تب تک بچے کا بہت وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے۔
ابتدائی تعلیم کے دوران ہی میں بچے کے رجحانات دیکھ کر اس کا فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اسے مزید تعلیم دلانی ہے تو کس قسم کی تعلیم اس کے طبعی رجحان کے مطابق مفید رہے گی اور اگر تعلیم اس کا میدان ہی نہیں تو پھر کون سا شعبۂ زندگی یا ہنر اس کے لیے بہتر رہے گا۔
دور جدید سے پہلے، تعلیم ہمیشہ سے متوسط طبقے کا مسئلہ اور میدان رہا تھا، اشرافیہ اور غربا بطور طبقہ باقاعدہ رسمی تعلیم حاصل نہیں کیا کرتے تھے۔ البتہ تعلیمی ذوق رکھنے والے افراد حصولِ تعلیم کا اہتمام انفرادی طور پر کیا کرتے تھے۔ شہنشاہ اکبر کا دربار علم و ہنر میں یکتا نو رتنوں سے سجتا تھا، مگر اس رونق افروزی کے لیے خود اکبر کا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہ تھا۔ اشرافیہ اپنے وسائل سے وہ میدان سجاتے ہیں جہاں ہنر مند، تعلیم یافتہ متوسط طبقہ اپنے علم و ہنر سے سماج کو مستفید کرتا ہے۔ اشرافیہ کے لیے ڈگری اہم نہیں ہوتی اور ملازمت اختیار کرنا بھی عموماً وہ پسند نہیں کرتے۔ لیکن سماج میں عزت اور معاش کو رسمی تعلیم سے منسلک کردینے کے بعد اشرافیہ اور غربا بھی تعلیم کے حصول کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ یوں قومی وسائل پر بے جا بوجھ میں اضافہ ہوا۔
تعلیمی اسناد کے حصول کی دوڑ میں سب سے بڑا نقصان غریب کا ہوا۔ وہ اس کوشش میں رہا کہ اس کا بچہ پڑھ لکھ کر اچھا کمانے کے قابل ہو جائے اور سماج میں عزت بھی مل جائے۔ اسی کوشش میں وہ اپنے تمام وسائل بچوں کی تعلیم میں جھونک دیتا ہے، مگر معیاری تعلیم پھر بھی نہیں دلوا سکتا۔ کسی نمایاں کامیابی کے لیے اس کے بچے کا نہ صرف غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری ہے، بلکہ خوش قسمت ہونا بھی لازم ہے اور ایسے کتنے ہوتے ہیں؟ میٹرک، ایف اے یا بی اے کرنے کے بعد غریب کا بچہ اب چھابہ لگانا بھی پسند نہیں کرتا اور نہ کسی دکان پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ دفتری ملازمت کا خواب تمام عمر ایک ناتمام حسرت بن کر اسے کچوکے لگاتا رہتا ہے۔
حصول تعلیم کی پابندی اچھے کاروباری خاندان کے بچوں کے لیے بھی بعض اوقات ناگوار صورتِ حال کا باعث بنتی ہے۔ تعلیم کے حصول کے بعد جب وہ ملازمت اختیار کرتے ہیں تو کاروباری آمدنی کے مقابلے میں اپنی کم تر آمدنی والی ملازمت سے بد مزا ہو جاتے ہیں۔ پھر اگر کاروبار کی طرف رخ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت دیر ہوچکی۔
ایک اچھا کاروباری ذہن عموماً تعلیم میں بہت اچھا نہیں دیکھا گیا اور اچھی تعلیمی کارکردگی دکھانے والے اکثر اچھا کاروباری ذہن نہیں رکھتے۔
یہ بھی ایک غلط فہمی ہے کہ تعلیم سے فرد کے سماجی اور سیاسی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، دیکھا گیا ہے کہ تعلیمی مصروفیات کی زیادتی بچوں کو عملی سمجھ بوجھ سے محروم کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ جو بچے تعلیم کی طرف کم رجحان رکھتے ہیں، عملی سمجھ بوجھ میں اکثر فائق نظر آتے ہیں۔ شعور علم اور تجربہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے لیے رسمی تعلیم لازم نہیں ہوتی، خصوصاً طبعی سائنس کی تعلیم کا شعور کے اضافے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ سماجیات، بشریات اور تاریخ کے علوم اگر عملی زندگی سے متعلق کر کے پڑھائے جائیں تو شعور کی آب یاری میں معاون ہوتے ہیں ۔
مسلمانوں میں ’’تعلیم سب کے لیے‘‘ کی غلط فہمی کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک روایت سے بھی کی جاتی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض منصبی دین کا ابلاغ تھا، اور آپ کے بیان میں علم سے مراد دین کا علم ہوتا ہے۔ دنیوی علوم کی ترغیب کے لیے پیغمبر کو تلقین کی ضرورت نہیں۔ انسان یہ علوم ان ترغیبات کے بغیر بھی اپنی ضروریات کے تحت ہمیشہ سے حاصل کرتا آیا ہے اور کر رہا ہے۔ روایت میں مذکور دین کا علم بھی اتنا ہی حاصل کرنا لازم قرار دیا جا سکتا ہے جو ضروریاتِ دین سے متعلق ہے۔ ہر شخص سے عالم دین بننے کا مطالبہ بھی مراد نہیں ہو سکتا، یہ عملاً ناممکن ہے، نیز خود قرآن مجید نے علم دین کے حصول کے چند لوگوں کے انتخاب کو کافی قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ. (التوبہ 9: 122)
’’یہ تو ممکن نہیں تھا کہ مسلمان، سب کے سب نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکلتے تاکہ دین میں بصیرت پیدا کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو (اُن کے اِن رویوں پر) خبردار کرتے، جب اُن کی طرف لوٹتے، اِس لیے کہ وہ خدا کی گرفت سے بچتے؟‘‘
تعلیم اور ڈگری سے سماجی رتبہ (status symbol) کے حصول کے تصور کی نفی ضروری ہے۔ فرد کی عزت اس کے ہنر، خدمات اور کردار کی بنا پر ہونی چاہیے، نہ کہ محض تعلیمی ڈگری کی بنا پر۔ تعلیم اگر صرف وہی افراد حاصل کریں جو پڑھنے لکھنے کا فطری اور طبعی رجحان رکھتے ہیں تو دستیاب محدود وسائل میں یہی بہتر ہے ۔
تجویز یہ ہے کہ پرائمری کی سطح کی تعلیم سب بچوں کے لیے لازم ہونی چاہیے تاکہ وہ بنیادی مہارتیں سیکھ لیں۔ اس کے بعد بچوں کا رجحان پرکھنے کا جامع طریقۂ کار اختیار کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کی جائیں۔صرف منتخب بچوں کو ان کے رجحان کے مطابق رسمی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے اگلے مراحل میں بھیجنا چاہیے۔ اس طرح تعلیمی اخراجات میں خاطر خواہ کمی آئے گی اور کم وسائل سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔ دوسری طرف رسمی تعلیم سے باہر ہونے والے بچے اپنے اپنے ٹیلنٹ کے مطابق دیگر پیشوں اور کاروبار میں مشغول ہو کر اپنے اور سماج، دونوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ حکومت پر نوکریاں پیدا کرنے کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔
تعلیم کو سماجیات سے عملاً منسلک ہونا چاہیے تاکہ کتاب اور عملی زندگی میں دوری ختم ہو۔ اس کے لیے نظام تعلیم میں عملی سرگرمیوں اور تعلیمی اداروں کی چار دیواری سے باہر کی دنیا کو بھی نصاب کا حصہ بنانا ضروری ہے۔