مواد پر جائیں

جزیرۂ عرب سے یہود ونصاریٰ کا اخراج (22) (1)

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ قَالَ: لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللّٰهِ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا مُسْلِمٌ.

(صحیح ابن حبان، رقم 3753)

’’جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ یہود اورنصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا تاکہ یہاں صرف مسلمان رہ جائیں۔“

تخریج اور اختلاف طرق

جابر بن عبد اللہ کےطریق سے سیدنا عمر کی یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی نقل ہوئی ہے:

مسلم، رقم 3400۔ ابوداؤد، رقم 3030۔ ترمذی، رقم 1606۔ السنن الکبریٰ،نسائی، رقم 8686۔ مسند احمد، رقم 219، 14716۔ المنتقیٰ، ابن الجارود، رقم 1182۔ مصنف عبد الرزاق، رقم 7150۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم 6705۔ المستدرک علی الصحیحین، رقم 7914۔ مسند البزار، رقم 230۔

ان میں سے بعض طرق میں ’لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ‘ کے الفاظ نقل نہیں ہوئے، جب کہ کچھ دوسرے طرق میں ’حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا ‘کے الفاظ مذکور نہیں۔

بزار کے نقل کردہ طریق کے الفاظ یہ ہیں کہ سیدنا عمر نے کہا:

عَنِ النَّبِيِّ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: أَخْرِجُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ.(مسند البزار، رقم 230)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود ونصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔“

بہ ظاہر یہ کسی راوی کا وہم ہے، جس نے بعض دیگر صحابہ کی روایات میں منقول الفاظ سیدنا عمر کی طرف منسوب کر دیے ہیں۔ درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ ارادہ تو سنا تھا، لیکن اس کی باقاعدہ ہدایت جو آپ نے مرض الوفات میں فرمائی، براہ راست نہیں سنی تھی۔

(2)

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ: أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ، وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ. (مسند احمد، رقم 1645)

’’ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری الفاظ ارشاد فرمائے، وہ یہ تھے کہ حجاز کے یہودیوں اور نجران کے مسیحیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور جان لو کہ بدترین لوگ وہ ہیں جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“

شرح ووضاحت

بنی اسمٰعیل پر شہادت علی الناس کی جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے، اس کا ایک لازمی تقاضا یہ تھا کہ مرکزِ توحید اور سرزمینِ حرم ہونے کی حیثیت سے جزیرۂ عرب کو شرک اور بت پرستی سے پاک کر دیا جائے اور یہاں شرک یا مشرکین کا وجود کسی بھی درجے میں گوارا نہ کیا جائے۔ اس مقصد سے فتح مکہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مہمات روانہ کر کے اہل عرب کے تمام بڑے بتوں کو منہدم کرا دیا تھا اور قرآن مجید کے حکم کے مطابق 9؍ ہجری میں حج کے موقع پر اس کی عام منادی کرا دی گئی تھی کہ اگلے سال سے کوئی مشرک حج کے لیے مکہ مکرمہ نہیں آ سکے گا۔

اسی مقصد سے دوسرا اہم اقدام یہ مطلوب تھا کہ اس علاقے کو اس طرح مسلمانوں کے لیے خاص کر دیا جائے کہ غیر مسلموں کو گروہی حیثیت میں یہاں مستقل سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر بحث ارشاد میں اسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں یہود و نصاریٰ سے مراد خاص طور پر خیبر کے یہود اور نجران کے نصاریٰ ہیں، جو مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کے تحت اس علاقے میں مقیم تھے۔ ان میں سے خیبر کے یہود کے ساتھ تو معاہدہ پہلے دن سے ہی مشروط تھا، جیسا کہ آیندہ روایات سے واضح ہوگا، اور مسلمان انھیں کسی بھی وقت یہاں سےنکال دینے کا اختیار رکھتے تھے، البتہ نجران کے مسیحیوں کے ساتھ معاہدے میں یہ شرط شامل نہیں تھی، اور انھیں یہاں سے منتقل کرنے کا اقدام ان کی رضامندی سے ہی کیا جا سکتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں یہ بات لفظاً‌ تو بیان نہیں ہوئی، لیکن اسے اس میں مضمر سمجھنا چاہیے اور صحابہ نے بھی اس ہدایت کو رو بہ عمل کرتے ہوئے اس کو ملحوظ رکھا۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 35201۔ مسند الحمیدی، رقم 85۔ سنن الدارمی، رقم 2657۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم 872۔ مسند البزار، رقم 1278۔ التمہيد، ابن عبد البر 1/‏171۔

مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت ابو عبیدہ بن الجراح کے علاوہ سیدہ عائشہ، ابن عباس اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایت سے بھی نقل ہوئی ہے۔

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں:

قَالَتْ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ: لَا يُتْرَكُ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ.

(مسند احمد، رقم 25758)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے آخری جو تاکید فرمائی، وہ یہ تھی کہ جزیرۂ عرب میں دو دینوں کو باقی نہ رہنے دیا جائے۔“

سیدہ عائشہ کی یہ روایت السیرۃ النبویہ، ابن ہشام(2/665)، المعجم الاوسط، طبرانی (رقم 1073) اور تاریخ دمشق، ابن عساکر (30/315)میں بھی منقول ہے۔

ابن عباس بیان کرتے ہیں:

وَأَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ بِثَلاَثٍ: أَخْرِجُوا المُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ العَرَبِ، وَأَجِيزُوا الوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ. (بخاری، رقم 2916)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب تین باتوں کی تاکید فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا، اور (آنے والے) وفود کو اسی طرح تحفے تحائف دے کر رخصت کرنا، جیسے میں کیا کرتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ تیسری بات مجھے یاد نہیں رہی۔“

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

مسلم، رقم 1637۔ ابوداؤد، رقم 3029۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم 5823۔ مسند الحمیدی، رقم 536۔ مسند احمد، رقم 1935۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم 2409۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 32990۔ مصنف عبد الرزاق، رقم 19371۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’أَخْرِجُوا المُشْرِكِينَ ‘کے الفاظ غالباً‌ بالمعنی روایت کے طریقے پر آئے ہیں۔ جزیرۂ عرب سے اخراج کی ہدایت دراصل یہود ونصاریٰ سے متعلق تھی، کیونکہ مشرکین عرب کے متعلق قرآن مجید نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ اگر اسلام قبول نہ کریں تو انھیں قتل کر دیا جائے(التوبہ 9: 5)۔ تاہم روایات وآثار میں بعض دفعہ یہود ونصاریٰ پر بھی توسعاً‌ مشرکین کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی زیربحث روایت کو بھی اسی پر محمول کرنا چاہیے۔

بعض روایات میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ ہدایت ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَيْسَ عَلَى مُؤْمِنٍ جِزْيَةٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ قِبْلَتَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ.

(السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم 18702)

’’مومن پر جزیہ عائد نہیں کیا جا سکتا اور جزیرۃ العرب میں دو قبلے اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“

الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

ترمذی، رقم 633۔ ابو داؤد، رقم 3032۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 10883۔ مسند احمد، رقم 2576۔ الاحادیث المختارہ، مقدسی، رقم 517۔ تاہم محدثین کے نزدیک یہ سند کے لحاظ سے ضعیف روایت ہے (ضعیف الجامع الصغیر، البانی1/901)۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے یہ روایت مسند البزار (رقم 7786) اور السنن الکبریٰ، بیہقی (رقم 10740)میں نقل ہوئی ہے۔ تاہم زیادہ تر طرق میں اس روایت کو سعید ابن المسیب سے مرسلاً‌ نقل کیا گیا ہے اور محدثین کے نزدیک اسے ابن المسیب کی مرسل روایت شمار کرنا ہی درست ہے (التمہید، ابن عبد البر 4/414۔ علل، دارقطنی 7/ 289- 290)۔

(3)

عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا أَجْلَى اليَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ اليَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ، وَأَرَادَ إِخْرَاجَ اليَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتِ اليَهُودُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ لِيُقِرَّهُمْ بِهَا، أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ: نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلاَهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ. (بخارى، رقم 2338)

’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن الخطاب نے یہودیوں اور عیسائیوں کو سر زمین حجاز سے نکال دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کیا تو آپ نے بھی یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تھا، کیونکہ فتح کے بعد خیبر کی زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کر لیا،لیکن یہودیوں نے درخواست کی کہ آپ انھیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ یہود ( خیبر کی زمینوں کی کاشت کا) سارا کام کریں گے، جس کے عوض میں پیداوار کا نصف حصہ انھیں ملے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس شرط پر جب تک چاہیں گے، تمھیں یہاں رہنے دیں گے۔ چنانچہ وہ لوگ وہیں رہے، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے دور میں) انھیں تیما اور اریحا کی طرف جلا وطن کر دیا۔“

شرح ووضاحت

خیبر کے یہود کی جلاوطنی میں جزیرۂ عرب کی خاص مذہبی حیثیت کے علاوہ یہود پر اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ایک مستقل سزا، یعنی دربدری اور جلا وطنی کے نفاذ کا پہلو بھی بہت نمایاں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے اور آپ کے بالمقابل عناد وشقاق کا رویہ اختیار کرنے پر حجاز میں مقیم یہودیوں کے مختلف قبائل پر یہ سزا موقع بہ موقع نافذ کی جاتی رہی، تاآنکہ خیبر سے ان کے اخراج پر یہ سلسلہ مکمل ہو گیا۔

قرآن مجید میں اس سزا کا ذکر بنی نضیر کی جلا وطنی کے تناظر میں یوں کیا گیا ہے:

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَخۡرَجَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ دِیَارِہِمۡ لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِ … وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمُ الۡجَلَآءَ لَعَذَّبَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا ؕ وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ.(الحشر 59:: 2- 3)

’’ اللہ ہی ہے جس نے اہلِ کتاب میں سے ان کو جنھوں نے کفر کیا، ان کے گھروں سے پہلی جلاوطنی کے موقع پر نکال دیا۔ … اور اگر اللہ نے ان کے لیے جلاوطنی مقدر نہ کر رکھی ہوتی تو وہ انھیں دنیا ہی میں عذاب میں مبتلا کر دیتا، جب کہ آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب بہرحال مقرر ہے۔“

ابن عطیہ نے ’لِأَوَّلِ الْحَشْرِ‘ کی تفسیر میں لکھا ہے:

قال قوم في كتاب المهدوي: المراد الْحَشْرِ في الدنيا الذي هو الجلاء والإخراج، فهذا الذي فعل رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم ببني النضير أوله، والذي فعل عمر بن الخطاب بأهل خيبر آخره، وأخبرت الآية بمغيب وقد أخبر النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بجلاء أهل خيبر، ويحتمل أن يكون آخر الحشر في قول النبي عليه السلام في مرضه: لا يبقين دينان في جزيرة العرب، فإن ذلك يتضمن إجلاء بقاياهم.

(المحرر الوجیز 5/284)

’’مفسرین کی ایک جماعت نے، جن کا قول کتاب المہدوی میں نقل ہوا ہے، کہا ہے کہ اس آیت میں ’الْحَشْرِ‘ سے مراد دنیا میں ہونے والا وہ معاملہ ہے جو انھیں جلاوطنی اور بے دخلی کی صورت میں پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنو نضیر کو جلاوطن کرنا اس سلسلے کا آغاز تھا، اور سیدنا عمر بن خطاب نے خیبر کے یہودیوں کو جو جلاوطن کیا، وہ اس کا آخری مرحلہ تھا۔ یہ آیت ایک واقعے کی پیشگی خبر دے رہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اہلِ خیبر کی جلاوطنی کی خبر دے دی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سلسلے کی آخری کڑی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد ہو جو آپ نے اپنی آخری بیماری کے دوران میں فرمایا تھا، یعنی یہ کہ جزیرۂ عرب میں دو دین باقی نہیں رہیں گے، کیونکہ اس فرمان کا تقاضا یہ تھا کہ باقی رہ جانے والے یہودیوں کو بھی جلاوطن کر دیا جائے۔“

امام سرخسی نے سرزمین عرب سے یہود کی جلا وطنی کے اس پہلو کو یوں واضح کیا ہے :

وكان المعنى في ذلك أن اليهود إنما جاءوا من الشام إلى أرض الحجاز، وكان مقصود رؤسائهم من ذلك طلب الحنيفية لما وجدوا في كتبهم من بعث رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ونعت أمته، وبذلك كان يوصي بعضهم بعضًا، فلما بعث اللّٰه تعالى رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم امتنعوا من متابعته والانقياد للحق الذي دعا إليه حسدًا وكفرًا. قال اللّٰه تعالى: وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا[البقرة: 89] الآية. فجوزوا على سوء صنيعهم بأن لا يمكنوا من المقام في أرض العرب، وأن يعودوا إلى الموضع الذي جاء منه آباؤهم، فلهذا أجلاهم عمر رضي اللّٰه عنه. (المبسوط 23/4)

’’اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ یہودی دراصل شام سے ہجرت کرکے سرزمینِ حجاز میں آئے تھے۔ ان کے پیشواؤں کا مقصد یہ تھا کہ وہ دینِ حنیف کو تلاش کریں، کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ کی امت کی صفات کا ذکر پاتے تھے اور وہ ایک دوسرے کو اس کی تلقین بھی کیا کرتے تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو انھوں نے حسد اور انکار کی بنا پر آپ کی پیروی کرنے اور اس حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جس کی طرف آپ دعوت دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اس سے پہلے وہ کافروں کے مقابلے میں اسی نبی کے واسطے سے فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔“ (البقرہ: 89)۔ چنانچہ انھیں ان کے اس برے طرزِ عمل کی سزا یہ دی گئی کہ انھیں سرزمینِ عرب میں سکونت نہ کرنے دی جائے، اور انہیں واپس اسی علاقے (شام) کی طرف لوٹا دیا جائے جہاں سے ان کے آبا و اجداد آئے تھے۔ اسی بنا پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں جلاوطن کر دیا۔“

تخریج اور اختلاف طرق

ابن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی نقل ہوئی ہے:

مسلم، رقم 1551۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم 5106۔ ابوداؤد، رقم 3007۔ مسند احمد، رقم 6368۔ المصنف لعبد الرزاق، رقم 9989۔ المنتقیٰ لابن الجارود، رقم 720۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 17981۔

[باقی]