جیسا کہ نقشے پر نگاہ ڈالنے سے واضح ہوتا ہے عرب1 کا جزیرہ نما، جو دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما ہے، برِّ اعظم ایشیا کے جنوب مغربی کونے پر واقع ہے۔ اس کا انتہائی طول، ساحلِ بحرِ احمر پر، تقریباً چودہ سو میل اور انتہائی عرض، یمن سے عمان تک، بارہ سو پچاس میل ہے اور کل رقبہ دس لاکھ مربع میل کے لگ بھگ ہے۔2 تا ہم ایک بڑا حصہ بے آب و گیاہ ریگزاروں پر مشتمل ہے اس لیے رقبے کے مقابلے میں آبادی کا تناسب کم ہے۔3
جزیرہ نمائے عرب کے مشرق میں خلیج فارس4 اور خلیج عمان ہے۔ جنوب میں بحر ہند5 اور خلیج عدن اور مغرب میں بحر احمر6 ہے۔ اس طرح اس سرزمین کے تین اطراف میں پانی ہے۔ چوتھی جانب، یعنی شمال میں، اس کی سرحدیں ”ہلال زرخیز‘‘7 (Fertile Crescent) یعنی موجودہ عراق، شام اور اردن وغیرہ سے متصل ہیں لیکن اس جانب صحرائے نفود دور دور تک پھیلا ہوا ہے اور بڑی حد تک اسے ہمسایہ ممالک سے جدا کر رہا ہے۔ اس اعتبار سے قدیم عرب اپنی سرزمین کو ’’جزیرۃ العرب‘‘ کہنے میں حق بجانب تھے کیونکہ یہ ’’جزیرہ نما‘‘ عملا ًایک ’’جزیرہ‘‘ ہی ہے اور باقی دنیا سے بڑی حد تک اس کا پیوند جدا چلا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب کا تاریخی ارتقا ایشیا کے عام تاریخی عوامل کے تابع نہیں رہا اور اسی سبب سے عرب نسلی اور لسانی اعتبار سے زیادہ خالص رہ سکے8 ساتھ ہی ساتھ جزیرہ نمائے عرب، وسیع تر تناظر میں، ایک تضاد بھی پیش کرتا ہے۔ یعنی ہر چند ایشیا میں اس کا محل وقوع علیحدگی اور انقطاع کی صورت لیے ہوئے ہے تا ہم بین البرِّا عظمی اعتبار سے یہ سرزمین ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان ایک ایسے نقطۂ ماسکہ کی حیثیت بھی رکھتی ہے جس کی وساطت سے یہ تمام برِّ اعظم ایک دوسرے کے اثرات کشید کر سکے ہیں۔ تاریخ میں عرب کی ان دونوں متضاد حیثیتوں کا ظہور ہوا ہے۔ ایک طرف انقطاعی پہلو غالب رہا اور یہاں کے باشندے بڑی حد تک آس پاس کی دنیا سے الگ تھلگ زندگی بسر کرتے رہے لیکن دوسری طرف نہایت قدیم زمانے ہی سے بین الاقوامی تجارت میں عربوں کو ایک اہم رابطے کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے ۔9
مجموعی طور پر عرب ایک سطح مرتفع ہے جو مغرب سے مشرق کی طرف بتدریج ایک ڈھلوان ہے۔ البتہ عمان میں الجبل الاخضر کا علاقہ اس ڈھلوان میں ایک کو ہان کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب میں بحرِ احمر کے کنارے کنارے نشیبی علاقہ ہے جو ’’تہامہ‘‘ (نشیبی سرزمین ) کہلاتا ہے۔ جزیرہ نما کے وسط میں ’’نجد‘‘ (بلند سرزمین) ہے اور دونوں کے درمیان ’’حجاز‘‘ (آڑ ، روک) حائل ہے۔ جنوب مغربی کونے پر ’’یمن‘‘10 ہے جو ایک قدیم تہذیب کا مدفن ہے۔ اس کے متصل عمان ہے جو جنوب مشرقی کونے تک جا پہنچتا ہے۔ مشرق میں خلیج فارس کے کنارے کنارے دُبئی، ابوظہبی اور دیگر متحدہ امارات نیز قطر، بحرین اور کویت کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہیں۔
صحرائی منطقوں کی تفصیل یہ ہے: شمال میں صحرائے نفود پھیلا ہوا ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے۔ ”نفود‘‘ نیا نام ہے۔ پرانا نام ’’بادیۃ السماوة‘‘11 یا صرف ’’البادیۃ‘‘ ہے۔12 سُرخی مائل نرم ریت کا یہ صحرا شرقًا غربًا تقریباً چار سو میل لمبا ہے اور اس کی اوسط چوڑائی دوسومیل ہے۔ یہاں ہواؤں کے دباؤ سے ریت کے بہت اونچے اونچے اور حیرت خیز حد تک لمبے ٹیلے بن جاتے ہیں جن کے بیچ میں بسا اوقات دس دس بارہ بارہ میل لمبی گزرگاہ پیدا ہو جاتی ہے۔13 اگر چہ اس میں پانی معدوم ہے لیکن موسم سرما کی بارشوں کے بعد یہاں گھاس پھوس خوب ہوتا ہے اور موسمِ بہار میں یہاں خانہ بدوش بدووں کا قیام رہتا ہے جو گرمیوں میں یہاں سے کوچ کر جاتے ہیں۔
نفود کے جنوب میں ’’جبلِ شَمّر‘‘ کا علاقہ ہے جو ہلالی شکل رکھتا ہے۔ اس کا قدیم نام ’’جبلا طیّئ‘‘14 ( بنوطے کے دو پہاڑ) تھا ۔ یہ پہاڑ ’’أجأ ‘‘اور ’’سلمٰی‘‘ تھے۔15 شمّر ، بنو طے کی نئی شاخ ہے جن کے نام سے اب یہ علاقہ موسوم ہے۔ یہاں آب و ہوا معتدل ہے۔ بارش خاصی مقدار میں ہوتی ہے اور سبزہ بھی کافی پایا جاتا ہے چنانچہ یہاں کچھ مستقل آبادی ہے۔ 16
صحرائے نفود سے جو ریگزار ایک تنگ سی پٹی کی شکل میں جنوب کی طرف اترتا ہے وہ ’’الدھناء‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ شمالاً جنوباً چار سومیل کے قریب لمبا ہے اور اس کی اوسط چوڑائی تیسں میل کے لگ بھگ ہے۔ اس کے شمالی نصف حصے میں جا بجا دوسو، تین سو فٹ بلند سرخ ریت کے ٹیلوں کی قطاریں نظر آتی ہیں لیکن جنوبی حصے میں ایسے ٹیلے دکھائی نہیں دیتے۔17 نفود کی طرح یہاں بھی سرما اور بہار میں گھاس چارہ ہوتا ہے اور بدّو یہ زمانہ یہاں بسر کرتے ہیں۔
جنوب میں پہنچ کر یہ صحرا زبردست پھیلاؤ اختیار کر لیتا ہے۔ اس کو ’’الربع الخالی‘‘ (’’وہ چوتھائی حصہ جو خالی پڑا ہے‘‘) کہتے ہیں۔ عام بول چال میں اسے صرف ’’الرّ ملۃ ‘‘( ’’ریگزار‘‘) بھی کہہ لیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا مسلسل ریگستان ہے18 اور بڑا ہی خوفناک اور بے آب و گیاہ صحرا ہے جس میں نباتی و حیوانی زندگی کے آثار بہت کم ہیں۔ ریت کی دلدل، جو صحرا کے دوسرے حصوں میں اب نہیں رہی، یہاں اُس کی مثال اب تک موجود ہے۔19 گھاس پھوس کے موسم میں بدّو اس کے بعض حصوں میں گشت کرتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں یہاں قدم رکھنے کی جرأت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ بیسویں صدی کے رُبع اول تک اسے عبور کرنے کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔20 ان عظیم صحرائی منطقوں کے علاوہ جا بجا ریگزار کی چھوٹی چھوٹی شاخیں بھی ہیں جنھیں ’’عروق‘‘ (وا = عرق ) یعنی ’’رگیں‘‘ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’عرق السبیع‘‘ جو مکہ سے ریاض کے راستے میں ہے اور ’’عرق المظہور‘‘ جو سات عروق کا مجموعی نام ہے۔21
سرزمین عرب کا ایک اور قابل ذکر حصہ ’’حرّات‘‘یا ’’حِرار‘‘ (وا= حَرّۃ) ہیں ۔ ’’حَرّۃ‘‘ کی تعریف یاقوت نے خلیل بن احمد کے حوالے سے یوں کی ہے:
’’سیاہ بھربھرے پتھروں والی سرزمین، گویا کہ وہ آگ سے جلا ڈالے گئے ہیں۔‘‘22 ان کی حقیقت یہ ہے کہ کسی زمانے میں عرب میں آتش فشاں پہاڑ پھٹتے رہے ہیں جن کے خاموش دہانے آج بھی موجود ہیں ۔ آتش فشاں کا آخری انفجار، جو ہمارے علم میں ہے، جولائی 1256ء میں ہوا۔23 حرّات ریتلی چٹانوں پر پھیلے ہوئے شکن در شکن لاوے کی تہوں سے عبارت ہیں۔ یاقوت نے عرب میں انتیس حرّات شمار کیے ہیں جو جا بجا پھیلے ہوئے ہیں۔24 مدینہ منورہ کے قرب و جوار سے لے کر شام تک حرّات کی کثرت ہے اور خود مدینہ بھی دوحرّات کے درمیان واقع ہے۔ حرَّات سیر و سفر کے اعتبار سے دشوار گزار ہوتے ہیں اور جانوروں کے پیروں کو زخمی کر ڈالتے ہیں تاہم ان کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان میں معدنی اجزاء کی فراوانی ہوتی ہے جن کے اثر سے آس پاس کی زمینیں بہت زرخیز ہو جاتی ہیں چنانچہ تبوک، تیماء، خیبر اور مدینہ میں سرسبز نخلستان پائے جاتے ہیں اور یہ سب حرّات کے علاقے ہیں۔
کچھ قطعاتِ زمین ایسے ہیں جن پر نمک کی سفید چمکدار تہ چڑھی ہوئی ہے۔ یہ عموماً نشیبی علاقے ہیں جہاں بارش کا پانی جمع ہو جاتا ہے۔ جب تیز دھوپ پانی کو اُڑالے جاتی ہے تو نمک، جو آس پاس کی زمینوں سے دُھل دُھل کر جمع ہو گیا تھا، ایک دبیز تہ کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ ایسے قطعاتِ زمین کو ’’سِباخ‘‘ (وا = سبخة) کہتے ہیں۔25
بعض مقامات پر پانی کے کچھ ذخیرے اور کچھ سدا بہار گھاس پھوس پایا جاتا ہے چنانچہ شتربان صحرانشیں یہاں اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں گردش کرتے رہتے ہیں جنھیں ’’دارات‘‘ (وا = دارة یا جدید لہجے میں دِیرۃ26 ) کہتے ہیں ۔27
عرب میں نہ کوئی قابل ذکر جنگل ہے28 نہ کوئی مستقل بہنے والا دریا البتہ برساتی پانی نے جگہ جگہ اپنی گزرگاہیں بنالی ہیں۔ ایسی ہر گزرگاہ کو اصطلاح میں ’’وادی‘‘ (ج = اَودیۃ ) کہا جاتا ہے۔ طوفانی بارشوں کے بعد پانی ایک تند و تیز دھارے کی شکل میں کئی کئی دن اور بعض اوقات کئی کئی ہفتے ان میں چلتا رہتا ہے اور ’’السّیل‘‘ (ج = سُیول) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ’’سَیل‘‘ بسا اوقات بڑا منہ زور ہوتا ہے۔ پہاڑوں سے بڑی بڑی چٹانیں لڑھکا لاتا ہے اور خاصا نقصان کرتا ہے29 تاہم یہ زور شور عارضی ہوتا ہے اور سیل کی یہ گزرگا ہیں ، یا عرب اصطلاح کے مطابق ’’وادیاں‘‘ ، جلد ہی خشک ہو جاتی ہیں اور سال کے اکثر حصے میں خشک ہی پڑی رہتی ہیں۔ تاہم ان کی تہوں میں جذب شدہ پانی ہمیشہ موجود ہوتا ہے اور کنویں کھود کر برآمد کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس نمی کے سبب ان کے قرب و جوار میں نخلستان خوب پھلتے پھولتے ہیں۔ یہ وادیاں اَن گنت ہیں اور ہاتھ کی لکیروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ مثلاً ’’وادی حنیفۃ “، ”وادی حمض‘‘، ’’وادی سرحان‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ وادیوں کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ پانی کا محفوظ ذخیرہ رکھنے کے سبب یہ قدیم زمانے سے فطری شاہراہوں کا کام بھی دیتی چلی آرہی ہیں اور جب یہ خشک ہوں تو مسافران پر سفر کرتے رہے ہیں چنانچہ ’’وادی الرُمّۃ‘‘ وسط عرب سے زیریں فرات تک کئی سو میل لمبی شاہراہ کا کام دیتی رہی ہے۔ اسی طرح ’’وادی سرحان‘‘ حوران سے الجوف تک تقریباً دو سو میل پر پھیلی ہوئی ہے اور شام آنے جانے کے لیے نہایت قدیم زمانوں سے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ چلی آئی ہے۔30
’’عرب‘‘ کا نام لیتے ہی شدت کی گرمی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ اور یہ غلط بھی نہیں۔ بلاشبہ عرب کے صحرا دنیا کے گرم ترین مقامات میں سے ہیں چنانچہ تپشِ آفتاب سے بچنے کے لیے صحرا نشین بدو سفر کے لیے رات کا انتخاب کرتے ہیں۔ صحرا کی گرم لو ، جسے ’’سَمُوم‘‘ کہا جاتا ہے، ایسی قاتل ہوتی ہے کہ اُس کی زد پر ٹھیر نا ممکن نہیں ہوتا۔31 بحرِ احمر اور خلیجِ فارس کے ساحلی علاقوں مثلاً جده اور مسقط وغیرہ میں پریشان کن گرمی اور حبس کی کیفیت ہوتی ہے تاہم عرب کی آب و ہوا کا یہ عام تصور درست ہونے کے باوجود صرف جزوی ہے اور قدرے مبالغہ آمیز بھی۔ سندھ کے ریگستانوں اور عراق کے بعض علاقوں کے درجۂ حرارت کا ریکارڈ عرب سے زیادہ پایا گیا ہے۔32
عرب کے تمام علاقوں کی آب و ہوا بھی یکساں نہیں۔ مثلاً مکہ کی آب و ہوا شدید گرم ہے۔ طائف گرمیوں کے لیے ایک خنک مقام ہے۔ جزیرہ نما کے بعض حصوں کی آب و ہوا سال بھر صحت بخش اور خوشگوار رہتی ہے۔ سردیوں میں شمالی نجد میں کُہر اور دھند عام ہوتی ہے۔ صحرا کی زمستانی راتیں سخت یخ بستہ ہوتی ہیں33 کیونکہ ریت جتنی جلدی گرم ہوتی ہے اُتنی ہی تیزی سے ٹھنڈی بھی ہوتی ہے۔ شمال کی طرف سے آنے والی ہوا حد درجہ سرد ہوتی ہے۔34
بارش اگر چہ کم ہے لیکن ، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، جب ہوتی ہے تو چند ہی روز میں طوفانی زور شور دکھا دیتی ہے اور وقتی طور پر سیلابی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ یمن میں بارشیں خاصی مقدار میں ہوتی ہیں۔ بعض علاقوں ، مثلاً مدین میں، برف بھی پڑتی ہے اور سردیوں میں مشرق کی طرف سے برفانی ہوائیں چلتی ہیں۔ عمان میں خاصی بارش ہوتی ہے اور گاہے گاہے برف بھی پڑتی ہے۔ سعودی عرب کے پر فضا مقام ’’ابہاء‘‘ میں بھی کبھی کبھی برف باری ہو جاتی ہے۔35
عرب کے جغرافیائی خط و خال پر ان مختصر اشارات کو سمیٹنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ اُس قدیم تقسیم کا ذکر بھی کر دیا جائے جو رومی و یونانی مصادر سے منقول ہے۔ اس کے مطابق سرزمین عرب کو تین حصوں میں بانٹا گیا ہے:
1) سنگستانی عرب (Arabia Patraea)
2) ریگستانی عرب (Arabia Deserta)
3)عربِ شاداں (Arabia Felix)
جس کے لیے ’’عرب آباداں‘‘ اور ’’عرب سعید‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔36
سنگستانی عرب نبطی مملکت اور سیناء کے علاقوں پر محیط تھا اور پٹرا (Petra) اس کا مرکز تھا۔ 106ء میں اسے ’’صوبۂ عربیہ‘‘ (Provincia Arabia) کے نام سے سلطنت روما میں شامل کر لیا گیا۔
ریگستانی عرب میں شام اور عراق سے متصل صحرا (موجودہ ’’نفود‘‘) تک کا علاقہ اور عربِ شاداں میں جزیرہ نما کا باقی تمام علاقہ شامل تھا۔ اس کو علاقۂ یمن تک محدود سمجھ لینے کی غلط روایت ازمنۂ وسطیٰ میں پیدا ہوئی۔ سبب یہ تھا کہ اُس زمانے کے یورپ کو اس خطے میں یمن ہی کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات حاصل تھیں، اندرونی علاقوں کے بارے میں بہت کم علم تھا۔ شاید یہ نام ’’Felix‘‘ بمعنی ’’شادان و فرحاں‘‘ بھی لفظ ’’ یمن‘‘ (بمعنی ’’دایاں‘‘) کو ’’ یمن‘‘ ( بمعنی ’’نیک بختی و برکت‘‘) سے ملتبس کر دینے کے باعث ہی رائج ہوا ہو ۔37
ڈاکٹر خورشید رضوی
چادرِ ابر میں سورج کو چھپانے کے لیے
وہ پسِ پردہ بھی بیٹھے نظر آنے کے لیے
میں کئی بار خفا ہو کے چمن سے اُٹھا
پھر کوئی گُل نکل آتا ہے بُلانے کے لیے
دل کچھ ایسا تری مہکار میں ڈوبا ہوا تھا
بوئے گُل آئی مجھے ہاتھ لگانے کے لیے
جانے اِس جلوہ گہِ ہست میں آئے کیوں ہیں
ہم کہ خود اپنے لیے ہیں نہ زمانے کے لیے
اُن کے دل میں ہے بہت دردِ نہاں کی دولت
جن کے سینے پہ نہیں داغ دکھانے کے لیے
اُسے ہر طور مرے دل کو لہو کرنا تھا
موسمِ گُل کو رکھا ایک بہانے کے لیے
خیال و خامہ
- ۔ جزیرہ نمائے عرب میں سعودی عرب کے علاوہ یمن، عمان، قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
- ۔ Enc. Brit., 2/169, Arabia ۔ پیمائشوں کے بارے میں مختلف انسائیکلو پیڈیا اور ان کے مختلف ایڈیشن تھوڑا تھوڑا اختلاف رکھتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بعض ویب سائٹس پر تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ رقبہ گیارہ لاکھ ساٹھ ہزار مربع میل بتایا گیا ہے۔
- ۔ عرب کو سامیوں کا اصل وطن تصور کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ جزیرہ نما اپنے مخصوص جغرافیائی کوائف کی بنا پر ایک خاص حد سے زیادہ آبادی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا اور زاید آبادی کو یہاں سے ہجرت کرنا پڑتی تھی۔ چنانچہ قدیم زمانے میں مصر، شام، فلسطین، وادیِ دجلہ وفرات ، اور پٹرا (Petra) کی طرف ایسی ہجرتیں عمل میں آئیں جن کے نتیجے میں مختلف سامی قوموں کا ظہور ہوا۔ (دیکھیے :Hitti, 10-12)
- ۔ عرب اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ’’الخلیج العربی‘‘ بھی کہہ لیتے ہیں اور قدیم جغرافیے میں اسے ’’بحر الہند‘‘ اور ’’بحر فارس‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ (دیکھیے: معجم البلدان، ’’البحرين‘‘، ’’الفرات‘‘، ’’الحيرہ‘‘۔)
- ۔ اسے ’’بحر ِعرب‘‘ بھی کہہ لیتے ہیں۔
- ۔ اسی کو ’’بحرِ قلزم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
- ۔ اس کے لیے ’’ہلال خصیب‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔
- ۔ تاہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں عرب کا یہ انقطاعی پہلو تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور کئی ہزار برس میں جو تغیرات عمل میں نہ آسکے تھے وہ گزشتہ نصف صدی کے دوران رونما ہو گئے ہیں۔
- ۔ Geog. Fact, Chapter III
- ۔ ’’یمن‘‘ بمعنی ’’دایاں‘‘ اور ’’شام‘‘ بمعنی ’’بایاں‘‘ قابل غور الفاظ ہیں ۔ دائیں اور بائیں کی یہ تعیین غالباً مکہ کی نسبت سے ہے جو یمن سے شام جانے والے راستے پر تقریباً وسط میں واقع ہے۔ اس سے نہایت قدیم ادوار میں مکہ کی اہمیت اور مرکزی حیثیت پر روشنی پڑتی ہے۔ دائیں اور بائیں کی اس تعیین میں رخ مشرق کی جانب ہوگا جو مطلع آفتاب ہونے کے باعث اہم ہے۔
- ۔ فجر الاسلام،1۔
- ۔ صحرا کے مختلف حصوں کے ناموں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ صحرائے نفود کو بعض اوقات ’’الدھناء‘‘ بھی کہہ لیتے ہیں حالانکہ، جیسا کہ آگے آتا ہے، عموماً یہ ایک الگ حصے کا نام سمجھا جاتا ہے۔ نفود کے شمال میں جو حصے عراق اور شام سے متصل ہیں انھیں علی الترتیب ’’بادیۃ العراق‘‘ اور ’’بادیۃ الشام‘‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ بعض کے خیال میں ’’بادیۃ السّماوۃ‘‘ کا نام صرف ’’بادیۃ العراق‘‘ کے لیے مخصوص ہے، وغیرہ وغیرہ۔(بعض اور تفصیلات کے لیے دیکھیے :15 ,Hitti)
- ۔ Enc. Brit., 2/173 Arabia
- ۔ انھیں محض ’’الجبلان‘‘ (دو پہاڑ) بھی کہہ لیتے ہیں ۔ (دیکھیے: معجم البلدن، 2/20 ، الجبلان)۔
- ۔ ’’ أجأ‘‘ مرد کا اور سلمٰی عورت کا نام تھا جنھیں باہمی عشق کے نتیجے میں ان پہاڑوں پر قتل کر دیا گیا۔ (ایضاً،1/123،’’ أجأ‘‘ )
- ۔ فجر الاسلام ، 2،1۔
- ۔ Enc. Brit., 2/173, Arabia
- ۔ Enc. Isl.= 1/537, DJazirat-al-Arab
- ۔ Enc. Brit., 2/173, Arabia
- ۔ انگریز مستشرق Bertram Thomas نے 1931ء میں پہلی بار اس صحرا کو عبور کرنے کا ہوشربا کارنامہ انجام دیا۔ اگلے ہی سال مشہور نو مسلم الحاج عبد اللہ فلبی (سابق H.ST. John Philby) نے اس کا اعادہ کیا۔ دونوں نے آغاز سفر کے لیے جنوری کا مہینہ منتخب کیا۔ بعد ازاں 1945-50ءکے دوران W.P. Thesiger نے جنوبی عرب کے سفر کے دوران الربع الخالی کے کئی حصوں میں گزر کیا اور تھامس اور فلبی کے مشاہدات کی مزید تکمیل کرتے ہوئے اس ریگزار کے بارے میں بیش بہا معلومات مہیا کیں۔((Enc. Brit., 2/172, 173, Arabia. Hitti, 7, 17.
- ۔ Enc. Isl., 1/537, DJazirat-al-Arab
- ۔ معجم البلدان، 2/247 ، ذكر الحرار فی ديار العرب… (أرض ذات حجارة سود نخرة كأنها أُحرقت بالنار.)
- ۔ 17 .Geog. Fact بحوالہ ابو الفداء، مقریزی وغیرہ۔
- ۔ مثلاً حرّة تبوك، حرة لیلیٰ، حرة واقم وغیرہ ۔ (دیکھیے: معجم البلدان،2/ 247- 254، ذکر الحرار فی دیار العرب )
- ۔ Geog. Fact. 18
- ۔ پنجابی ’’ڈیرہ‘‘ کے قریب معنی بلکہ بعض علاقوں کی پنجابی میں ’’دارہ‘‘ بمعنی چوپال بھی مستعمل ہے۔
- ۔ ’’ دارۃ‘‘ کے معنی پہاڑوں یا گولائی کے ساتھ واقع ہونے والے ریگ تودوں کے درمیان کھلے میدان کے ہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے القاموس: ’’الدّارة‘‘، معجم البلدان: ’’دارات العرب‘‘) یاقوت نے دارات کی تعداد ساٹھ سے کچھ اوپر بتائی ہے۔ صغانی نے تکملۃ میں اکہتر دارات شمار کیے ہیں۔ فیروز آبادی نے قاموس میں ایک سو گیارہ نام گنائے ہیں اور بجا طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ کوئی دوسرا محقق اتنے دارات کے نام یکجا نہیں کر سکا۔ جواد علی (1/156) نے ان مصادر کے باہمی موازنے کے بعد دارات کی تعداد ایک سو بیسں کے لگ بھگ قرار دی۔ حرّات کی طرح دارات کے نام بھی مرکب اضافی کی شکل میں ہوتے ہیں مثلاً دارة الارآم، دارة الاکوار، دارة باسِل وغیرہ ۔ ’’دارۃ جُلجل‘‘ کا ذکر امرؤ القیس کے معلقے (شعر، 10) میں آتا ہے۔ دیکھیے : ص 364ببعد۔
- ۔ یمن، مدین اور عسیر میں عرعر (Juniper) کے جنگل کسی حد تک قابل ذکر ہیں۔ (Enc. Isl. 1/540, Djazirat-al-Arab, Flora & Faunna) سعودی حکومت اپنے جنوبی منطقے عسیر میں ان جنگلوں کے حالیہ انحطاط کے اسباب کا سراغ لگانے ، ان کا سد باب کرنے اور از سر نو شجر کاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
- ۔ دیکھیے : فتوح البلدان، 1/62-64، ’’ أمر السیول بمکۃ‘‘ یعنی مکہ کے بعض تاریخی ’’سُیول‘‘ کا ذکر جن میں سے بعض کعبہ کی عمارت تک پہنچے اور حفاظتی اقدامات کرنے پڑے۔ ایک موقعے پر سیلاب حاجیوں کو مع ساز و سامان کے بہا کر لے گیا۔ نیز دیکھیے : معلقہ امرؤ القیس کے آخری حصے میں سیل کی منظر کشی۔ دیکھیے :ص 372 ببعد۔
- ۔ Geog. Fact. 19-20
- ۔ سموم کی ہولناکی کا نقشہ دیکھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے: تمدنِ عرب، 110-109، ارض القرآن، 174- 175۔
- ۔ Enc. Brit., 2/175, Arabia
- ۔ دیکھیے : الحماسہ : باب الاضیاف والمدائح۔ نظم 2لا ينبح الكلب فيها غير واحدةحتىٰ يلُفَّ علىٰ خيشومه الذنبا’’اُس رات میں کتا ایک مرتبہ سے زیادہ نہیں بھونک پاتا کہ بھونکنے کے فوراً ہی بعد اپنی ناک پر دُم لپیٹ لیتا ہے۔‘‘
- ۔ دیکھیے الحماسۃ = باب الھجاء۔ نظم 8وأنت على الادنىٰ شمال عريّةشآميّة تُزوى الوجوہَ بَلِيل’’اور تو قریبی رشتے دار کے لیے سرد بادِ شمال ہے، شام کی جانب سے آنے والی ، نم آلود چہروں کو سُکیڑ کررکھ دینے والی ۔‘‘
- ۔ اپریل 1971ء میں ابہاء میں بہت برف باری ہوئی جس کی تہ بعض مقامات پر پانچ پانچ فٹ دبیز تھی۔ اس سے کہیں کہیں سڑکیں بھی بند ہو گئیں۔ (دیکھیے : روز نامہ امروز /The Pakistan Times 11 اپریل 1971ء)
- ۔ ارض القرآن ، 1/ 28۔
- ۔ دیکھیے:Hitti, 44, 74