مواد پر جائیں

جماعت صحابہ کی خصوصی حیثیت (19) (1)

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

عن عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ، وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ: ’’اللّٰهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللّٰهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ‘‘، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ :’’إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ‘‘، فَأَمَدَّهُ اللّٰهُ بِالْمَلَائِكَةِ. (مسلم، رقم 4687)

’’عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: غزوۂ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف نظر ڈالی۔ ان کی تعداد ایک ہزار تھی، جب کہ آپ کے صحابہ تین سو انیس تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھ پھیلائے اور اپنے رب کو پکارنے لگے: اے اللہ، تو نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا فرما۔ اے اللہ، وہ چیز عطا فرما جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اے اللہ، اگر مسلمانوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ پھیلائے ہوئے قبلہ رخ کھڑے رہے اور اپنے رب کو پکار تے رہے، یہاں تک کہ آپ کی چادر کندھوں سے گر گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور چادر اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈالی اور پیچھے سے آپ کے ساتھ چمٹ کر کہا: اے اللہ کے نبی، آپ نے اپنے رب سے جتنی التجا کر لی ہے، وہ کافی ہے۔ وہ یقیناً آپ کے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کرے گا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ’إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ‘ (جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمھاری دعا قبول کر لی کہ میں تمھاری مدد ایک ہزار فرشتوں سے کروں گا جو ایک کے پیچھے ایک آئیں گے)۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے سے اپنے نبی کی مدد فرمائی۔“

شرح ووضاحت

1۔ وعدے سے اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی طرف اشارہ ہے جو اس نے اپنے رسولوں کی نصرت کے باب میں مقرر کیا ہے۔ بخاری کے طریق میں اس روایت میں یہ اہم اضافہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ قمر کی یہ آیات پڑھتے ہوئے میدان کی طرف نکلے تھے، جن میں قریش کو مخاطب کر کے ان کے انجام سے آگاہ کیا گیا ہے:

سَيُهْزَمُ الجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ. (بخاری، رقم 2915)

’’ یہ جتھا عنقریب شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ رہا ہوگا، بلکہ اِن سے جو وعدہ ہے، اُس کے پورا ہونے کا اصل وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کا دن (اِن منکروں کے لیے) بڑا سخت اور بڑا ہی تلخ ہو گا۔“

قرآن مجید میں اس وعدے کا ذکر جگہ جگہ کیا گیا ہے۔ سورۂ صافات میں ہے:

وَ لَقَدۡ سَبَقَتۡ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِیۡنَ.  اِنَّہُمۡ لَہُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ. وَ اِنَّ جُنۡدَنَا لَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ.

(37: 171- 173)

’’اور اپنے رسول بنا کر بھیجے گئے بندوں کے بارے میں ہمارا یہ فیصلہ پہلے سے طے ہے کہ وہی مدد کے حق دار ہوں گےاور یقیناً ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“

سورۂ مجادلہ میں اس قانون کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ. (58: 21)

’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ بے شک، اللہ بڑے زور والا اور بڑا زبردست ہے۔“

جنگ بدر مسلمانوں اور مشرکین کے مابین پہلا بڑا اور فیصلہ کن معرکہ تھا، جس کے نتیجے پر اس پوری جدوجہد کا مستقبل موقوف تھا۔ چنانچہ اللہ کا یہ وعدہ لفظ بہ لفظ پورا ہوا اور جنگ میں اہل ایمان کی فتح اور قریش کی شکست سے ان کی سیادت وقیادت کا وہ بھرم بالکل ٹوٹ گیا جو انھیں عرب میں حاصل تھا۔ قرآن مجید نے اسی پہلو سے اس معرکے کو ’یوم الفرقان‘ کا نام دیا ہے (الانفال 8: 41)۔

2۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کہ ’اللّٰهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ ‘ صرف سرزمین عرب میں توحید کے مستقبل کی طرف اشارہ نہیں کر رہی، بلکہ پورے سلسلۂ نبوت و رسالت کے اختتامی مرحلے اور اس میں جماعتِ صحابہ کی اہمیت اور حیثیت کو بھی واضح کرتی ہے۔ مراد یہ تھی کہ دنیا کے صنم کدے میں توحید کی صدا بلند کرنے کے لیے صدیوں کی تیاری سے جس آخری امت کو میدان کارزار میں اتارا گیا ہے، اگر یہ بھی اس معرکے میں کام آ گئی تو پھر ظاہری اسباب کے لحاظ سے اس کے بعد زمین پر توحید کا بول بالا کرنے والا کوئی گروہ باقی نہیں رہے گا۔

ابن حجر نے اس کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے:

وانما قال ذلك لأنه علم أنه خاتم النبيين فلو هلك هو ومن معه حينئذ لم يبعث أحد ممن يدعو إلى الإيمان، ولاستمر المشركون يعبدون غير اللّٰه، فالمعنى لا يعبد في الأرض بهذه الشريعة.

(فتح الباری 7/‏289)

’’آپ نے یہ بات اس لیے کہی کہ آپ کو معلوم تھا کہ آپ نبیوں کے خاتم ہیں۔ پس اگر آپ اور آپ کے ساتھی اس وقت ہلاک ہو جاتے تو کوئی ایسا شخص نہ بھیجا جاتا جو ایمان کی طرف بلائے، اور مشرکین ہمیشہ غیر اللہ کی عبادت کرتے رہتے۔ پس (عبادت نہ کیے جانےسے) مراد یہ ہے کہ اس شریعت کے مطابق زمین پر اللہ کی عبادت نہ ہوتی۔“

تخریج اور اختلاف طرق

ابن عباس کی یہ روایت درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

بخاری، رقم 2676۔ ابوداؤد، رقم 2359۔ ترمذی، رقم 3153۔ احمد، رقم 208، 212۔ صحیح ابن حبان، رقم 4879۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 28980۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم 5368۔ دلائل النبوہ، ابی نعیم، رقم 395۔ الاوسط، ابن المنذر، رقم 6604۔

ابن عباس جنگ بدر میں موجود نہیں تھے، اس لیے یہ ان کے براہ راست مشاہدے کا بیان نہیں۔ تاہم بخاری کی روایت میں وہ تصریح کرتے ہیں کہ یہ سارا واقعہ انھوں نے سیدنا عمر سے سنا ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے بعض طرق میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا میدان بدر میں دونوں لشکروں کے صف آرا ہو جانے کے موقع پر بھی کی:

قَالَ: فَلَمَّا اخْتَلَطَ الْقَوْمُ قَالَ أَبُو جَهْلٍ: اللّٰهُمَّ أَوْلَانَا بِالْحَقِّ فَانْصُرْهُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ: ’’يَا رَبِّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ لَمْ تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا‘‘.(دلائل النبوہ، ابی نعیم، رقم 387۔ تفسیر الطبری 11/51)

’’جب دونوں لشکر آپس میں بھڑ گئے تو ابوجہل نے دعا کی کہ اے اللہ، ہم میں سے جو حق کے زیادہ قریب ہو، اس کی مدد فرما۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور دعا کی کہ اے اللہ، اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین پر کبھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔“

جنگ بدر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا اور اس میں مذکورہ جملہ سیدنا علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایات میں بھی نقل ہوا ہے۔

سیدنا علی کی روایت میں ہے:

وَبَاتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَبَّهُ عز و جل وَيَقُولُ: ’’اللّٰهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ‘‘.(احمد، رقم 948)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات اللہ سے دعا کرتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ یا اللہ، اگر تو نے اس چھوٹی سی جماعت کوہلاک کر دیا تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔“

پوری روایت مسند احمد کے علاوہ درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 36679۔ مسند البزار، رقم 719۔ تاریخ الطبری 2/425۔ دلائل النبوہ، بیہقی 3/62۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 38/248۔ الاوسط، ابن المنذر، رقم 6616۔

اس کے مذکورہ ٹکڑے کو جس میں دعا کا ذکر ہے، طبری نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے (تفسیر الطبری 11/62)۔

ابن مسعود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

اللّٰهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ وَعْدَكَ وَعْهَدَكَ، اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكُ مَا وَعَدْتَنِي، اللّٰهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ.

(السنن الکبریٰ، نسائی، رقم 8628)

’’یا اللہ، میں تیرے وعدے اور تیرے عہد کا واسطہ دیتا ہوں۔ اے اللہ، تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا، اس کے پورا کرنے کی التجا کرتا ہوں۔ اے اللہ، اگر یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔“

یہ اثر طبرانی نے بھی نقل کیا ہے (المعجم الکبیر، رقم 10074)۔

جنگ بدر کے بعد دوسری جنگوں کے موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا کرنا روایات میں نقل ہوا ہے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد میں بھی یہ دعا کرتے رہے (صحیح مسلم، رقم 1743۔ صحیح ابن حبان، رقم 4804۔ مسند احمد، رقم 13649۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم 3318۔ مسند عبد بن حمید، رقم 1346)۔ جنگ احد کے حوالے سے یہ جملہ موسیٰ بن عقبہ نے بھی مرسلاً‌ نقل کیا ہے (دلائل النبوہ، بیہقی 3/211)۔

زہری نے سعید بن المسیب سے نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احزاب میں بھی اس دعا کا اہتمام کرتے رہے (تفسیر عبد الرزاق، رقم 251۔ مصنف عبدالرزاق، رقم 9737۔ مغازی الواقدی 2/477۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد 2/ 56۔ انساب الاشراف، بلاذری 1/345۔ دلائل النبوہ، بیہقی 3/404۔ المستخرج من کتب الناس، ابن مندہ 1/388۔ الاموال، ابی عبید، رقم 455۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم 6964۔ الاموال، ابن زنجویہ، رقم 657)۔

سیدنا انس کی ایک روایت میں غزوۂ حنین میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا کرنا منقول ہے (مسند احمد، رقم 12004۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 28981۔ تاريخ بغداد 4/‏165)۔

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز منبر پر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور کہتے تھے: اے اللہ، اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم 15389۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 39/63)۔

(2)

عَنِ السُّدِّيِّ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَقَالَ أَنْتُمْ، فَكُنَّا كُلَّنَا، وَلَكِنْ قَالَ: كُنْتُمْ فِي خَاصَّةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ وَمَنْ صَنَعَ مِثْلَ صَنِيعِهِمْ، كَانُوا خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ. (تفسیر الطبری 5/673)

’’سدی کی روایت ہے کہ سیدنا عمر نے ’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ‘ کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو (’كُنْتُمْ ‘کی جگہ) ’أَنْتُمْ ‘کہتے اور ہم سب، (یعنی ہمارے بعد آنے والے) بھی اس کا مصداق ہوتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ’كُنْتُمْ‘ کہہ کر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی خاص جماعت کے متعلق اور ان کے طرز عمل کی اتباع کرنے والوں کے متعلق فرمائی ہے۔ یہ بہترین گروہ تھے جنھیں لوگوں کے لیے نکالا گیا، یہ نیکی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے تھے۔ “

شرح ووضاحت

سیدنا عمررضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایسا اسلوب اختیار نہیں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل سب لوگ خود کو اس کا مصداق سمجھیں، بلکہ رسول اللہ کے اصحاب کو مخاطب کر کے انھیں یہ سند دی ہے کہ وہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی ذمہ داری عملا‌ً ادا کرنے کی وجہ سے اللہ کی نظر میں بہترین گروہ ہیں، جسے اس کام پر مامور کیا گیا ہے۔ جہاں تک ان کے بعد آنے والوں کا تعلق ہے تو ذمہ داری تو ان کی بھی یہی ہے، لیکن ان کے لیے اللہ نے کوئی سند بیان نہیں کی، البتہ اگر وہ صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری عملاً‌ ادا کر کے دکھائیں تو وہ بھی اس کا مصداق بن سکتے ہیں۔

ایک دوسرے اثر میں قتادہ نے سیدنا عمر سے اس بات کی وضاحت یوں نقل کی ہے:

عن قتادةَ، قال: ذكِر لنا أن عمرَ ابن الخطابِ قال في حَجّةٍ حجَّها ورأى من الناسِ رِعةً سيئةً، فقرأ هذه: ’’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ الآية. ثم قال: يا أيها الناسُ، مَن سرَّه أن يكون مِن تلكم الأمةِ فليؤدِّ شرطَ اللّٰهِ منها.

(تفسیر الطبری102/7)

’’قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب نے ایک حج کے موقع پر لوگوں میں بے احتیاطی کی کیفیت دیکھی تو یہ آیت پڑھی: ’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘۔ پھر کہا کہ اے لوگو، تم میں سے جن کو یہ پسند ہو کہ ان کا شمار اس گروہ میں ہو تو وہ اللہ کی بتائی ہوئی شرط کو پورا کریں۔“

تخریج اور اختلاف طرق

یہ اثر ابن ابی حاتم نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے (تفسیر ابن ابی حاتم، رقم 3971)۔ طبری اور ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے ہی یہ اثر اختصاراً‌ بھی نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

عَنِ السُّدِّيِّ عَمَّنْ حَدَّثَهُ، قَالَ عُمَرُ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، قَالَ: تَكُونُ لِأَوَّلِنَا، وَلَا تَكُونُ لِآخِرِنَا. (تفسیر الطبری 7/101۔ تفسیر ابن ابی حاتم، رقم 3969)

’’سدی نے ایک راوی سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر نے ’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘ کے متعلق فرمایا کہ اس کا مصداق ہماری اولین جماعت، (یعنی جماعتِ صحابہ) تو ہے، لیکن بعد میں آنے والے نہیں۔“

(3)

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللّٰهِ تَعَالَى: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، قَالَ: هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ.(السنن الکبریٰ، نسائی، رقم 11006)

’’سعید بن جبیر نقل کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد وہ صحابہ ہیں جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔“

شرح ووضاحت

اس اثر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ اس خصوصی امتیاز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو صحابہ کی جماعت میں مہاجرین کو حاصل ہے۔ قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والی جماعت میں سے مہاجرین کا ذکر ہر مقام پر امتیازی اسلوب میں کیا گیا ہے(البقرہ 2: 218۔ آل عمران 3: 198۔ الانفال 8: 72۔ التوبہ 9: 20، 100، 117)۔ قریش کے خلاف جہاد وقتال کی اور پھر اس کے بعد اقتدار وحکومت کی ذمہ داری بھی اصلاً‌ اسی گروہ پر عائد کی گئی تھی(الحج 22: 40۔ النور 24: 55)۔ آل عمران کی زیر بحث آیت ’كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘ کا مصداق مہاجرین کو قرار دینے کے لیے ابن عباس کا استنباط غالباً‌ ’اُخْرِجَتْ‘ کے لفظ سےہے۔ گویا ان کی راے میں اس کا اشارہ ان آیات کی طرف ہے جن میں مہاجرین کا ذکر ’الَّذِینَ اُخرِجُوا مِن دِیَـٰرِهِم‘ کے الفاظ سے کیا گیا ہے(الحج 22: 40۔ الحشر 59: 8)۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

مسند احمد، رقم 3321۔ المستدرک علی الصحیحین، رقم 6964۔ مصنف ابن ابی شيبہ، رقم 33015۔ حلیۃ الاولیاء 1/ 319۔ تفسیر الطبری 7/ 101۔ تفسیر ابن ابی حاتم، رقم1157۔ تفسیر ابن المنذر، رقم 801۔ الاحادیث المختارہ، مقدسی 10/‏182۔

(4)

عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، قَالَ: خَيْرَ النَّاسِ لِلنَّاسِ، تَأْتُونَ بِهِمْ فِي السَّلاَسِلِ فِي أَعْنَاقِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُوا فِي الإِسْلاَمِ. (بخاری، رقم 4557)

’’ابو حازم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ’ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں کے لیے سب سے باعث خیر جماعت ہو جو ان کی گردنوں میں زنجیریں ڈال کر، (یعنی جنگ میں قیدی بنا کر) انھیں لاتے ہو، یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔“

شرح ووضاحت

سیدنا ابو ہریرہ کا یہ اثر دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پر مبنی ہے، جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہی روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا:

عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ.

(ابوداؤد، رقم 2677)

’’اللہ تعالیٰ نے ایک قوم پر تعجب کیا، جسے زنجیروں میں جکڑکر جنت کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔“

ابوالطفیل کی روایت میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

رَأَيْتُ نَاسًا يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، مَنْ هُمْ؟، قَالَ: ’’قَوْمٌ مِنَ الْعَجَمِ يَسْبِيهُمُ الْمُهَاجِرُونَ فَيُدْخِلُونَهُمُ الْإِسْلَامَ‘‘.(مسند البزار، رقم 2780)

’’میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنھیں زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا : یہ عجم کے کچھ لوگ ہیں جنھیں مہاجرین جنگ میں قیدی بنائیں گے اور یوں انھیں اسلام میں داخل کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے۔“

زیربحث اثر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث سے اس امت کے بہترین گروہ ہونے کا ایک خاص پہلو استنباط کر رہے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب میں صحابہ کو شہادت علی الناس کے منصب پر بھی فائز کیا ہے، جس کی رو سے وہ اس دین کا انکار کرنے والوں کے خلاف قتال پر مامور ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں نے جو جنگوں میں قیدی بن کر آئے تھے، اسلام قبول کر لیا۔ یوں یہ امت لوگوں کے لیے اس اعتبار سے بہترین امت ہے کہ اللہ کے حکم سے ایسے لوگوں کو بھی ہدایت اور نجات کے راستے پر لانے کا ذریعہ بن رہی ہے جنھیں ابتداءً‌ یہ دین قبول کرنا پسند نہیں تھا۔

تخریج اور اختلاف طرق

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:

المستدرک علی الصحیحین، رقم 7207۔ السنن الكبرىٰ، نسائی، رقم 11071۔ تفسیر الطبری 5/ 674۔ تفسیر ابن المنذر، رقم 803۔ تفسیر ابن ابی حاتم، رقم 3971۔

(5)

عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَرَأَ: ’’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘، قَالَ: فَقَالَ الْحَسَنُ: هُمْ الَّذِينَ مَضَوْا مِنْ صَدْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، يَعْنِي أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، قَدْ كَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَلْقَى أَخَاهُ فَيَقُولُ: أَبْشِرْ أَلَسْتَ أَنْتَ كُنْتِيًّا؟ قَالَ جَلَّ وَعَزَّ: تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ.

(تفسیر ابن المنذر، رقم 806)

’’سفیان بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: ’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘۔ پھر حسن نے کہا: اس سے مراد اس امت کا اولین گروہ، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جو گزر چکے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص اپنے بھائی سے ملتا تو اس سے کہتا تھا : خوش خبری ہو، کیا تم ’ كُنْتُمْ‘ والوں میں شامل نہیں ہو؟ (اس کی وجہ صحابہ کو مخاطب کر کے) اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ تم معروف کا حکم دیتے، منکر سے روکتے اور اللہ پر ایمان پر رکھتے ہو۔“

تخریج اور اختلاف طرق

حسن بصری کا یہ اثر بہ ظاہر ابن المنذر کے علاوہ کسی دوسرے مصدر میں منقول نہیں ہوا ہے۔

(6)

عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِ اللّٰهِ: ’’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘. يَقُولُ: عَلَى هَذَا الشَّرْطِ: أَنْ تَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوا بِاللّٰهِ. يَقُولُ: لِمَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِ، كَقَوْلِهِ: وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ.

(تفسیر الطبری 5/‏673)

’’ابن ابی نجیح نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘ کے متعلق مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ یہ بشارت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ تم معروف کا حکم دو، منکر سے روکو اور اللہ پر ایمان رکھو۔ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ تم اس وقت (دنیا میں موجود) گروہوں میں سے بہترین گروہ ہو (جس کو اللہ نے اس کام کے لیے چنا ہے)۔ گویا اس آیت کا وہی مفہوم ہے جو (بنی اسرائیل کے متعلق) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ہے کہ ’وَ لَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ‘ (ہم نے ان کو اپنے علم کے مطابق دنیا والوں پر فضیلت دیتے ہوئے منتخب کیا)۔‘‘

شرح ووضاحت

اس اثر میں مجاہد نے قرآن مجید سے ایک بہت عمدہ نظیر کی روشنی میں اس آیت کا مفہوم واضح کیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے گذشتہ زمانے میں اُس دور کے گروہوں اور امتوں میں سے بنی اسرائیل کو کتاب و شریعت کی نعمت کے لیے منتخب کیا اور انھیں اہل عالم پر فضیلت بخشی تھی، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں اہل عالم کی ہدایت اور اصلاح کے لیے صحابہ کی جماعت کو منتخب کیا اور انھیں ان کی ذمہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے اس دور میں دنیا کا بہترین گروہ ہونے کی سند دی ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

مجاہد کا یہ اثر تفسیر ابن المنذر (رقم 804، 808) میں بھی مروی ہے، جب کہ سیوطی نے اسے عبد بن حمید کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے(الدر المنثور 2/‏294)۔

(7)

عَنِ الضَّحَّاكِ، فِي قَوْلِهِ: ’’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘، قَالَ: هُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ خَاصَّةً، يَعْنِي وَكَانُوا هُمُ الرُّوَاةَ الدُّعَاةَ الَّذِينَ أَمَرَ اللّٰهُ الْمُسْلِمِينَ بِطَاعَتِهِمْ. (تفسیر الطبرى 3/174- 175)

’’ضحاک نے اس آیت کے متعلق کہا کہ اس سے خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مراد ہیں، یعنی وہی دین کو نقل کرنے اور اس کی دعوت دینے والی جماعت ہے، جن کی پیروی کا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے۔‘‘

شرح ووضاحت

ضحاک کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھ کر اسے امت تک منتقل کرنے اور اقوام عالم تک اس کی دعوت پہنچانے کی ذمہ داری بنیادی طور پر صحابہ نے انجام دی ہے، جب کہ باقی سب لوگوں نے انھی سے دین سیکھا اور ان کی پیروی میں ہی اس دین کو اختیار کیا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اصلاً‌ جس جماعت کا ذکر کیا ہے، وہ صحابہ ہی کی جماعت ہے۔

تخریج اور اختلاف طرق

طبری اور ابن المنذر نے ضحاک کا یہ اثر ایک دوسری آیت ’وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ‘کی تفسیر میں نقل کیا ہے: ’قال: هم خاصة أصحابِ رسول اللّٰه، وهم خاصَّة الرواة‘ (تفسیر الطبری 7/92۔ تفسیر ابن المنذر، رقم 784)۔

[باقی]