مواد پر جائیں

جڑوں کی حفاظت

نعیم احمد بلوچ اردو

بطور خاص ان والدین کے لیے جو اپنی تہذیبی اور ثقافتی جڑوں سے جڑے رہنا چاہتے ہیں ۔ اپنی زبان کو نئی نسل میں منتقل کرنا چاہتے ہیں ۔ اپنی نسل کو اپنی شناخت دینا چاہتے ہیں

رات گہری ہو چکی تھی، لیکن زاہد ابھی تک اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ کمرے میں ایک دھیمی زرد روشنی تھی، جوپرسکون مگر کسی قدر اُداس سا ماحول پیدا کر رہی تھی۔ میز پر کتابوں کا ایک ڈھیر لگا تھا، جن میں سے کچھ اردو ادب کی تھیں اور کچھ مغربی فلسفے پر۔ ایک طرف چائے کا کپ رکھا تھا، جس کی بھاپ اٹھنا کب کی بند ہو چکی تھی ۔ کمرے کی ٹھنڈک اس کی حدت کو کھا چکی تھی ۔ زاہد کے ہاتھ میں ایک پرانی سی بڑی کتاب تھی ۔ وہ تو اسے یادوں کا دریچہ کہتا تھا مگر اس کے بچے اسے ” فیملی البم” کہتے ۔

البم کھولتے ہی سب سے پہلی تصویر اس کے والد کی تھی۔ یہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں لی گئی تصویر تھی۔ ان کے والد سفید کرتا ، تہہ بند اور ایک خالص دیہاتی طرز کی چادر کی بکل مار کر کھیتوں کے کنارے کھڑے تھے۔ تصویر دیکھ کر زاہد کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آ گئی، لیکن ساتھ ہی دل میں ایک سوال جاگ اٹھا: “کیا میرے بچے بھی کبھی ان جڑوں کو سمجھ سکیں گے؟ کیا انہیں یہ معلوم ہوگا کہ ہم کہاں سے آئے تھے؟”

زاہد کی زندگی کا بڑا حصہ مغرب میں گزرا تھا۔ وہ یہاں اپنی محنت اور علم کی بدولت ایک کامیاب انجینئر بن چکا تھا۔ ایک خوب صورت گھر، اچھی نوکری اور خاندان کی ہر آسائش کے ساتھ زندگی بظاہر مکمل لگتی تھی، لیکن دل کے کسی کونے میں ایک انجانا سا خوف کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔ یہ خوف تھا کہ اس کے بچے، جو مغربی معاشرے میں پل بڑھ رہے تھے، کہیں اپنی ثقافت کو نہ کھو دیں۔اپنی شناخت نہ گم کر دیں ۔

اس کا سب سے بڑا خوف تھا کہ اس کے بچے مغربی تہذیب کا حصہ بنتے بنتے اس ثقافت سے دور نہ ہو جائیں، جسے وہ اپنا فخر سمجھتا تھا۔یہ حلال و حرام کی تمیز ، یہ حفظِ مراتب کا لحاظ ، یہ حدود آشنائی ، یہ پاکی پلیدی کا فرق ۔۔۔ جب اس کی بیٹی آمنہ، جو صرف تیرا برس کی تھی، کسی بات پر اردو کے بجائے انگریزی میں جواب دیتی، تو زاہد کا دل عجیب طرح سے ڈوبنے لگتا۔ “بابا، اردو مشکل ہے۔ یہاں سب انگریزی بولتے ہیں،” آمنہ کی معصومیت زاہد کو اندر سے ہلا دیتی۔زبان محض زبان نہیں ہوتی ، یہ اپنے ساتھ تہذیبی روایات اور ثقافتی عنا صر بھی لاتی ہے ۔

صرف زبان ہی کا مسئلہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ماحول اور تمدن مغرب میں بچوں کو بہت جلد آزاد اور خود مختار بنا دیتا تھا۔یہ اچھی چیز تھی لیکن اس کے ساتھ کچھ آفات بھی تھیں ۔ وہ تہوار، جو زاہد کے بچپن میں پورے خاندان کے ساتھ منائے جاتے تھے، یہاں صرف چھوٹے سے خاندان تک محدود ہو چکے تھے۔ عید کی نماز پر بچوں کو لے جانا اب ایک جدوجہد بن چکا تھا۔ انہیں صبح اٹھانے سے زیادہ مشکل یہ سمجھانا تھا کہ عید کا مطلب صرف نئے کپڑے یا پیسے لینا نہیں بلکہ قربانی اور شکر گزاری ہے۔

زاہد اکثر اپنی بیوی صائمہ سے اس بارے میں بات کرتا۔ صائمہ، جو خود بھی اس خوف کا شکار تھی، کہتی: “ہمیں اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، زاہد۔ لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ یہ بچے اس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ ہم چاہیں بھی تو انہیں اس ماحول سے الگ نہیں کر سکتے۔”

زاہد کے لیے یہ بات مان لینا آسان نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ مغربی معاشرہ اپنی آزادی، انفرادی حقوق اور لذت پسندی پر مبنی ہے۔ وہ معاشرہ جہاں “میری مرضی” سب کچھ ہے۔ یہاں کا فلسفہ افادیت ایثار ، قربانی ، صبر اور برداشت کی خوبیوں پر کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوتا ہے ۔ یہ وہ دنیا تھی جہاں بچوں کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ “اپنی خوشی سب سے اہم ہے۔”یہ محبت کی جگہ مفاد ، فرائض کی جگہ حقوق میں عدم توازن پیدا کر سکتا ہے ۔

ایک دن، زاہد نے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک فیصلہ کیا۔ اس نے کہا: “ہم ہر ہفتے ایک شام اپنی ثقافت کے لیے رکھیں گے۔ ہم اردو بولیں گے، دیسی کھانے کھائیں گے، اور اپنے ملک کی کہانیاں سنائیں گے۔”

بچوں نے پہلے تو اعتراض کیا، لیکن آمنہ اور زاہد کے بیٹے علی نے جب پہلی کہانی سنی، تو انھیں بہت دل چسپی محسوس ہوئی ۔ زاہد نے انہیں دادا جان کی کہانی سنائی کہ کیسے وہ گاؤں سے نکل کر ایک نئے ملک میں آئے اور اپنی محنت سے ایک نئی زندگی بنائی۔

آمنہ نے کہا: “بابا، دادا جان کی کہانی فلم جیسی ہے۔ کیا میں اس پر لکھ سکتی ہوں؟” زاہد کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ گئی۔

یہ آسان سفر نہیں تھا۔ بچوں کے ساتھ مغربی تہذیب کی کشش کو متوازن رکھنا ایک مسلسل جدوجہد تھی۔ لیکن زاہد نے سیکھ لیا تھا کہ یہ جدوجہد ترک کرنا ایک بڑی شکست ہوگی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ اپنی اولاد کو مکمل طور پر اپنے ماضی کا حصہ نہیں بنا سکتا، لیکن وہ یہ ضرور کر سکتا تھا کہ انہیں اس ماضی سے جوڑے رکھے۔ یہ ان کی جڑیں تھیں، اور جڑوں کے بغیر درخت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے۔

زاہد نے بچوں کو اپنی ثقافت سے جوڑنے کی جو کوشش شروع کی تھی، وہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ یہ ایک مسلسل جنگ تھی، جو ہر روز ایک نئی شکل میں سامنے آتی تھی۔ مغربی ماحول نے ان کے بچوں کو ایک ایسی شناخت دے دی تھی، جو زاہد اور صائمہ کی جڑوں سے مختلف تھی۔ یہ فرق کبھی لباس کی شکل میں ظاہر ہوتا، کبھی موسیقی کی، کبھی تعلقات کی، اور کبھی زبان کی۔

ایک دن آمنہ اسکول سے واپس آئی اور اس نے صاف کہہ دیا: “بابا، میں عید پر وہ کپڑے نہیں پہنوں گی جو آپ اور امی نے بنائے ہیں۔ سب مجھ پر ہنسیں گے۔” زاہد حیران رہ گیا۔ آمنہ کی بات میں شرمندگی اور خوف تھا۔ یہ اس کے چہرے پر عیاں تھا۔

“بیٹا، یہ ہمارے روایتی کپڑے ہیں، ان میں شرمندگی کیسی؟” زاہد نے نرمی سے پوچھا۔

“بابا، سب بچے جینز اور ٹی شرٹ پہنتے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ میں عجیب لگ رہی ہوں۔” آمنہ نے جواب دیا۔

یہ زاہد کے لیے ایک دھچکا تھا۔ اس کے ذہن میں وہ دن گھومنے لگے جب اس کے گاؤں میں عید کا دن خوشیوں کا پیامبر ہوتا تھا۔ نئے کپڑوں کی خوشبو، لوگوں کی تعریف، اور خاندان کے ہر فرد کی گرم جوشی۔۔۔ یہ سب آج کے مغربی ماحول میں کھو چکی تھی۔

علی، زاہد کا بیٹا، اپنے کمرے میں ہپ ہاپ گانے سن رہا تھا۔ زاہد نے دروازہ کھولا تو ایک بار پھر حیران ہوا۔

“علی، مجھے یہ میوزک ہماری مشرقی موسیقی کے مقابلے میں اچھل کود اور شور شرابا زیادہ لگ رہا ہے ۔اس میں میوزیکل انسٹرومنٹ کی آواز شاعری پر حاوی ہے ۔۔۔ آخر اس موسیقی میں کیا کشش ہے ؟”

بابا، یہ میوزک زبردست ہے! سب یہی سنتے ہیں۔ آپ بھی تو کلاسیکل موسیقی جس میں صرف سُر وغیرہ ہی کی ہانک لگائی جاتی ہے ، بے معنی لفظوں کی تکرار کی جاتی ہے ،پسند نہیں کرتے ۔۔۔ اسی طرح ہمیں یہ قوالی بہت بورنگ لگتی ہے ۔ یہ تالیاں بجانا کتنا احمقانہ میوزک ہے ! لگتا ہے مچھرمار رہے ہیں ۔یہ آآآآ۔۔۔سارے، کاما، پادا ۔۔۔ یہ کیا چیز ہوئی بھئی؟ “اس نے باقاعدہ ہانک لگائی ۔

آمنہ، علی کی بات پر قہقہہ لگا کر ہنسی تو زاہد بہت بدمزا ہوا۔ مگر اس کے پاس اس کا جواب نہ تھا۔ اس کا دل دکھ سے بھر گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ صرف موسیقی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ اس جڑ سے کٹنے کی علامت تھی جو بندروں کی طرح ناچنے کودنے کو موسیقی قرار دیا جارہا ہے ۔ اسے قوالی ایک روحانی تجربہ لگتی تھی مگر اب علی کے لیے محض “بورنگ” ہو گئی تھی یا مچھر مارنے والی حرکت ۔

ایک اور دن، دادی نے زاہد سے شکایت کی: “بچے مجھ سے بات بھی ٹھیک سے نہیں کرتے۔ ہر بات پر سوال کرتے ہیں۔ پہلے بچے بڑوں کی بات کو مان لیتے تھے، اب تو ہر بات میں بحث کرتے ہیں۔”

زاہد نے آمنہ کو بلایا اور پوچھا: “بیٹا، دادی کو کیوں جواب دیتی ہو؟ وہ تم سے پیار کرتی ہیں اور تمہیں نصیحت کرتی ہیں۔”

“بابا، وہ مجھے چائے میں ادرک ڈالنے ، برش کے بجائے منہ میں لونگ رکھنے اور لکڑی کی ایک اسٹک سے دانت صاف کرنے ، چمچ کے بغیر کھانا کھانے کا کہہ رہی تھیں ۔ میں نے کہا دادی ۔ آپ کے زمانے میں یہ کٹلری نہیں ہوتی تھی اس لیے نا ۔ مگر وہ ناراض ہو گئیں ۔ ” آمنہ کے لہجے میں سخت بے پروائی تھی۔

اب زاہد کے لیے شرمندگی کا موقع تھا کیونکہ وہ تو خود بھی ہاتھ کے بجائے کانٹے چمچ کا استعمال کرتا تھا۔ اور اس طرح کے ٹوٹکوں کا بچوں کے لیے استعمال نامناسب اور مشکل سمجھتا تھا۔ مسواک کے بجائے برش کو ز یادہ مناسب سمجھتا تھا۔ یہ لمحہ زاہد کے لیے ایک اور یاد دہانی تھی کہ چیزیں بلیک اینڈ وہائیٹ نہیں ہیں ۔ بلکہ کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ بھی کرنا پڑے گا۔

سب سے بڑا مسئلہ جو زاہد کے دل کو کاٹ رہا تھا وہ “اردو” ان کی زبان۔ یہ ان کے بچوں کے لیے اجنبی ہوتی جا رہی تھی۔ علی اور آمنہ اکثر انگریزی میں بات کرتے تھے۔ زاہد جب اردو بولتا تو آمنہ مسکرا کر کہتی:

“بابا، آپ بہت مشکل زبان بولتے ہیں ۔۔۔ ہمیں خدشہ ہے کہ آپ بھی رمیش سنگھ کے باپو کی طرح کسی دن ٹاول کو” شریر رگڑو” اور تھرمامیٹر کو ” پخ میچو ” کہنے کی ضد نہ کرنے لگیں ۔ “

اب زاہد بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ اگر غالب و میر کی زبان وہ نہیں بول سکتا تو ان بچوں کو بھی وہ نستعلیق اردو درست شین کاف سے بولنے پر آمادہ نہیں کر سکتا ۔انھیں ان الفاظ پر سمجھوتا کرنا پڑے گا جو عام استعمال میں رائج ہو چکے ہیں ۔ البتہ بچوں کے ذخیرہ الفاظ کو بڑھانے کے لیے اردو ادب کے مطالعے کی عادت انھیں ضرور ڈالنی ہوگی ۔

یہ مسئلہ ایسا تھا کہ وہ سوچتا کہ زبان وہ رسی ، وہ ڈوری ہے جو ایک نسل کو دوسری نسل سے جوڑتی ہے،باندھتی ہے لیکن اس کے کمزور ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اس کے بچے اس ثقافت سے دور ہو رہے ہیں جس پر زاہد کو فخر تھا۔

زاہد نے فیصلہ کیا کہ وہ ان مسائل کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ ایک شام اس نے سب کو ڈرائنگ روم میں بلایا۔

“بچو، مجھے معلوم ہے کہ تمہاری دنیا مجھ سے مختلف ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ ہماری ثقافت، ہماری زبان، اور ہمارے تہوار ہمیں وہ شناخت دیتے ہیں جو ہمیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ ہم اپنی جڑوں کے بغیر ادھورے ہیں۔”

علی نے کہا: “لیکن بابا، یہ سب ہمارے دوستوں کو عجیب لگتا ہے۔”

زاہد مسکرایا: “ہاں، شاید وہ عجیب لگے۔ لیکن یاد رکھو، اگر تم اپنی پہچان کھو دو گے تو اپنی شناخت کو خطرے میں ڈال لوگے ۔ تم اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرا سکتے کہ اپنی ملکی قومیت تو بدل سکتے ہو لیکن رنگ اور نسل نہیں ۔ تم کبھی ان کی شناخت میں اپنے آپ کو گم نہیں کر سکتے ۔ تم ایک خاموش علیحدگی کا شکار رہو گے ۔ جبکہ اپنی جڑوں سے جڑے رہنا تمھیں علیحدگی کے بجائے اپنی پہچان دے گا ۔ اس سے تم احساسِ کم تری کا شکار نہیں ہو گے ۔ یہ تمھیں اپنی مضبوطی کا ا حساس دلائے گا۔تم مطمئن ہو گے ہماری تہذیب بھی خوب صورت ہے ، اس کی زبان بھی بہت اعلیٰ روایات کی حامل ہے ۔ اس کے فنون لطیفہ ، اس کی موسیقی بھی قابل فخر ہے ۔ “

” بابا ، ہمیں آپ کی یہ لوجک کبھی سمجھ میں نہیں آئی ۔ دنیا ترقی کرتی ہے ۔ اس کی تہذیب ، اس کی زبان ، اس کے خیالات ۔۔۔ سب کچھ بدلتا ہے ۔ مگر آپ ہیں کہ ہمیشہ ہمیں ” نہ بدلنے “پر لیکچر دیتے رہتے ہیں ۔ “

زاہد صاحب کے لیے یہ سوال غیر متوقع نہیں تھا۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہے ۔ اپنی سوچوں کو اکٹھا کیا اور پھر بولے : ” بھئی سوال تو تمھارا بہت اچھا ہے ۔لیکن یہ ایک غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ اچھا تم یہ بتاؤ کہ کیا اگر تمہیں معلوم ہو کہ مجھ سے بھی اچھے ایک والد صاحب ہیں ، وہ تمھارے خیالات اور نظریے کے زیادہ قریب ہیں ، مجھ سے زیادہ شفیق ، زیادہ مال دار اور زیادہ پڑھے لکھے ہیں ، تو کیا تم چاہو گے تم مجھے چھوڑ کر اسے اپنا والد بنا لو ؟ “

” یہ کیا سوال کیا بابا آپ نے ؟ کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے ۔۔۔ یہ پوچھا بھی آپ نے کیوں ؟ “

صرف آمنہ ہی نے نہیں ، علی نے بھی اس سوال پر بہت احتجاج کیا۔ان کے لہجے میں محبت بھری شکایت تھی ۔ تب زاہدصاحب بولے : ” اچھا ، تو چلو یہ بتاؤ کہ کونے میں جو بہت ہی خوب صورت گھر ہے اور جو آپ سب کو بہت پسند ہے ، آپ چاہیں گے کہ آپ اپنا گھر چھوڑ کر اسے اپنا گھر بنالیں ؟ “

اس سوال پر وہ تھوڑا سا گڑبڑائے ، آمنہ بولی : ” یہ تو فضول بات ہوگی کہ ہم اس پر قبضہ جما لیں ،اول تو وہ ہمیں قبضہ ہی کیوں کرنے دیں گے ؟ اس لیے ہم وہی کریں گے جو ہم اکثر سوچتے ہیں ۔۔۔ وہ یہ کہ اپنے گھر کو ویسا بنا لیں ، اس میں وہ خوبیاں اور تبدیلیاں کریں جو ہمیں اس خوب صورت گھر کی پسند ہیں ۔ “

زاہد صاحب کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی ، وہ ایسا جواب ہی چاہتے تھے ۔ فوراً بولے : ” بس میرے بچو ، میں بھی یہی چاہتا ہوں ۔ تم اپنی تہذیب اپنا لباس ، اپنی زبان نہ چھوڑو ، بس اس میں وہ تبدیلیاں کر لو جو اس معاشرے میں رہنے کے لیے ضروری ہیں ۔ میں نہیں کہتا کہ تم پتلون کوٹ کے بجائے ململ کے پاجامے پہنو ، تم کھُسّے اور ٹوپیاں پہنو ، بائیں طرف کی ٹریفک کو اپناؤ ، چمچ اور کانٹے کے بجائے ہاتھ سے ہی کھانا کھاؤ ۔ کافی کے بجائے ٹھنڈی لسیاں پیو ۔ تھرمامیٹرکے بجائے پخ میچو کہو ۔۔۔۔ نہیں ۔میں تو یہ کہتا ہوں تم کرسمس بھی مناؤ مگر اپنی عیدوں کو نہ بھولو ، انگلش خوب بولو اور سیکھو مگر غالب، اقبال اور فیض کو بھی یاد رکھو ۔ یہاں کے کھانے ،مشروب اورلباس خوب پہنو مگر حلال حرام اور برہنگی اور پاکیزگی کا ضرور خیال رکھو ۔سوال ضرور کرو لیکن حفظ مراتب کا خیال رکھو۔ آزادی اور بے باکی ضرور اختیار کرو مگر اپنی حدود کو پہچان کر کرو ۔ یہی ہماری تہذیب ہے ۔۔۔۔جیسا کہ اپنے مکان کو نہیں چھوڑنا چاہتے ، اپنے باپ کو نہیں بدلنا چاہتے ، اسی طرح اپنی جڑوں پر قائم رہتے ہوئے اپنے کلچر اور تہذیب کو بھی نہ چھوڑو ۔ “

انھوں نے بات مکمل کی تو بچوں کے چہرے بتا رہے تھے بات ان تک ا یک حد تک پہنچ چکی ہے ۔ علی بولا : ” ٹھیک ہے بابا ، بات تو سمجھ میں آتی ہے آپ کی ۔۔۔ مگر کرنا کیا ہے ۔ ؟ “

اور اس کے بعد ان میں مزید گفتگو ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ انھوں نے ایک نئی روایت قائم کی۔ ہر ہفتے ایک دن ایسا رکھا گیا جب سب اردو بولتے، انگر یزی کا لفظ بولنے والے کو اس لفظ کو دس دفعہ لکھنے کی ” سزا ” دی جاتی ۔ ایسے دیسی کھانے کھاتے جس کی بچے فرمایش کرتے ۔ اور اپنی ثقافت کے بارے میں گفتگو کرتے، اچھا سوال پوچھنے پر پچاس ڈالر کا انعام تھا اور کوئی بھی سوال نہ پوچھنے والے کو اقبال یا غالب کا ایک شعر یاد کرنے کو کہا جاتا۔ مہینے میں وہ اپنے ان دوستوں کو اکٹھا کرتے جو، ان کے ہم وطن اور ہم خیال ہوتے ۔ ون ڈش پارٹی کرتے ، آؤٹنگ کرتے ۔ باہمی دلچسپی کے کھیل کھیلتے ۔ آن لائن اچھے اہل علم لوگوں سے سوال وجواب کی مجالس منعقد کرتے ۔

ایک زاہد انہیں اردو کے ادیبوں کی دل چسپ کہانیاں سناتے ، اپنے پسند کے گانے سنواتے ، اور تہواروں کی روح کو سمجھاتے ۔ یہ آسان نہیں تھا، لیکن آمنہ اور علی نے آہستہ آہستہ دلچسپی لینا شروع کی۔ان کے لیے غالب و اقبال ، فیض و فراز ، یوسفی وغامدی ،اشفاق و بانو ،بیدی و منٹو اورعمیرہ ونمرہ وغیرہ اجنبی نہیں رہ گئے تھے ۔

یہ ایک مسلسل جدوجہد تھی، لیکن زاہد جانتا تھا کہ یہ کوشش ضروری ہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ اگر وہ یہ جنگ ہار گیا، تو وہ اپنی نسل کو کھو دے گا۔ یہ صرف اس کے بچوں کا مسئلہ نہیں تھا، یہ ہر اس خاندان کی کہانی اور جدوجہد ہے جو اپنی ثقافت کو ایک نئی دنیا میں محفوظ رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔