مواد پر جائیں

حادثے کے بعد حادثے

نعیم احمد بلوچ اردو

اگست 2024ء میں پاکستان کے شہر کراچی میں ایک خوفناک حادثہ پیش آیا۔ اس کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار ایک باپ بیٹی جاں بحق ہوگئے۔ اس کے ساتھ پانچ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ موٹر سائیکل اور دوسری گاڑیوں کو خاصا نقصان بھی پہنچا۔ اس حادثے کی ذمہ دار ایک خاتون نتاشا دانش ہیں۔ وہ کئی کمپنیوں کی ایم ڈی اور مالک ہیں۔ ان کا تعلق ایک معروف کاروباری اشرافیہ کے ایک متمول خاندان سے ہے۔ حادثےکے فوراً بعد اس کی سی سی ٹی وی ویڈیوز سوشل میڈیا میں ٹاپ ٹرینڈ کرنے لگیں۔ پولیس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ملزمہ کو گرفتار کر لیتی۔ ملزمہ پر مقدمہ چلتا رہا، وہ اس دوران میں سلاخوں کے پیچھے رہی، لیکن اس کے ورثااپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسے حوالات میں ممکن حد تک سہولتیں پہنچاتے رہے۔ آخر کار ٹھیک بیس دنوں کے اندر اندر خاتون کے ورثا اور حادثے کا شکار ہونے والے تمام فریقوں میں معاملات طے پاگئے اور اسلامی شرعی قانون ’’ دِیَّت‘‘ کے مطابق ہر ایک کو معاوضہ ادا کر دیا گیا اور جاں بحق عمران عارف اور آمنہ عارف کے ورثا کی جانب سے حلف نامہ عدالت میں پیش کردیا گیا۔ اہل خانہ نے کہا کہ معاہدہ کسی دباؤ کے بغیر اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔ عدالت نے ایک، ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کےعوض ملزمہ نتاشا اور اس کے خاوند کی درخواست ضمانت منظور کرلی، جب کہ منشیات استعمال کرنے کے کیس میں درخواست ضمانت کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ نتاشا کو عدالت نےاجازت دی ہے کہ وہ چاہے توملک سے باہر بھی جاسکتی ہے۔

اس موقع پر سوشل میڈیا پر ایسی تصویریں گردش کرنے لگیں جن میں وہ وکٹری کا نشان بنا کر، چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹیں بکھیرتے ہوئے ایک نئی گاڑی میں سوار ہو کر گھر روانہ ہو رہی ہیں۔ اس تصویر کو پاکستان کے دو بڑے نام ور اور ذمہ دار صحافیوں نے وائرل کیاتھا۔ 1

یہ ایک دل دوز حادثے کا بہ ظاہر ڈراپ سین تھا، لیکن یہ حادثہ اصل میں اپنے اندر کئی بڑے حادثوں، غلط فہمیوں اور معاشرتی خرابیوں کی گمبھیر تصویر ہے۔

پہلا حادثہ تو یہ ہوا کہ ملزم خاتون کے ورثا جلد ہی نتاشا کا ایسا میڈیکل سرٹیفکیٹ لے آئے جس کے مطابق وہ بعض نفسیاتی بیماریوں کا شکار بتلائی گئی۔ان رپورٹس کے ذریعے سے خاتون کے جرم کی شدت کم کرکے اسے فوری ضمانت دلانا مقصود تھا، لیکن دوسری رپورٹس بھی سامنے آئیں، جن میں خاتون کا نشے کی حالت میں ہونا ثابت ہورہا تھا۔ پاکستانی جائز طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا پیسے کے زور پر کوئی بھی مرضی کی رپورٹ حاصل کر سکتا ہے ؟ بلاشبہ، یہ پاکستانی معاشرے کی بہت ہی بری تصویر ہے۔

دوسری خبریہ تھی کہ جس ڈاکٹر نے بھاری رشوت لے کر ملزمہ کو نفسیاتی مریض ظاہر کیا ہے، وہ مسلمان ہے، لیکن ایک دوسرے ڈاکٹرصاحب نے ایک دوسری رپورٹ جاری کی۔ اس نے رشوت کی پیش کش قبول نہیں کی اور لکھا کہ ملزمہ سو فی صد نارمل ہے۔ یہ ڈاکٹر ہندو ہے۔ عام مسلمانوں کے لیے یہ خبر بھی کسی حادثے سے کم نہیں تھی۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا اسلام کا ایمان داری سکھانے میں کوئی کردار نہیں؟اور کیا ہندو مذہب انسان کے اچھے کردار کی ضمانت دیتا ہے؟ یہ سوچ اصل میں اس غلط فہمی کا نتیجہ ہے کہ انسان کی کوئی فطرت نہیں ہوتی۔ اس کے اندر اچھا یا برا انسان اس کا مذہب تشکیل دیتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے نیک فطرت پر پیدا کیا ہے اور تمام مذاہب اصل میں انسان کی اس نیک فطرت کومخاطب کرتے ہیں۔ وہ اسی کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔ دنیا کاکوئی مذہب اپنے ماننے والوں کو جھوٹ بولنے اور بددیانتی کرنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ وہ اسے سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہندو ڈاکٹر نے اپنی نیک فطرت کو زندہ رکھا اور مسلمان ڈاکٹر نے اسے فراموش کر دیا۔ مذہب تو ایک ٹول کی طرح ہے، جس کا درست استعمال ماننے والے کو باکردار بناتا ہے اور جو اسے فراموش کر دیتا ہے، اس پر اس کاکوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس سے ہم کسی مذہب کے سچا یا جھوٹا ہونے کا کوئی حکم نہیں لگا سکتے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پاکستانی معاشرے میں مذہب کے درست شعور کی آگہی کی سخت ضرورت ہے اور اس حوالے سے ہمارے ہاں متعصبانہ رویہ پایا جاتا ہے۔

تیسرا حادثہ وہ واویلا تھا جس میں کہا جارہاتھاکہ ایک عورت بھلا اتنی بڑی گاڑی کیسے سنبھال سکتی ہے ؟ عورت کو گھر میں بیٹھنا چاہیے، نہ کہ وہ سڑکوں پر گاڑیاں چلاتی پھرے۔ اسی لیے جب خاتون نے غلطی سے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، اس کے بعد وہ عورت ہونے کی وجہ سے اس قدر گھبرا گئی کہ ٹکروں پر ٹکریں مارتی گئی۔ اس میں حادثے کا پہلو عورت کے حوالے سے وہ غلط تاثر ہے جو عام طور پر پاکستانی معاشرے میں پایا جاتا ہے۔ یہ معاشرے کی جہالت اور غلط مذہبی نظریات کی نشان دہی کرتا ہے اور اس بات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے کہ اس طرح کے غلط تصورات کی اصلاح کس قدر ضروری ہے۔

چوتھا حادثہ بی بی سی کی یہ خبر تھی کہ وکٹری کے نشان والی تصویریں جعلی تھیں اور کسی نے اے آئی سے یہ تصویریں بنائی تھیں۔ دونوں صحافیوں نے تصدیق کیے بغیر انھیں شائع کر دیا۔ بعد میں احساس ہونے پر انھوں نے معذرت کرتے ہوئے یہ تصاویر ہٹا دیں۔ یہ المیہ بہت ہی پریشان کن ہے۔ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ انسان اگر جلد بازی کا مظاہرہ کرے تو وہ حقیقت سے کس قدر دور ہو سکتا ہے۔ جو ذرائع انسان کو حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں،وہ اصل میں دو دھاری تلوار ہیں۔ وہی ذرائع ہمیں گم را ہ بھی کر سکتے ہیں، اس لیے کامن سینس اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تصدیق کیے بغیر کسی خبر کو سچا تسلیم نہ کیا جائے اور نہ ہی اسے آگے پھیلایا جائے۔ یہ بات بھی عقل کے فطری استعمال پر مشتمل ہے اور قرآن مجید نے اس کی یاد دہانی کرائی ہے کہ خبر کی تصدیق کیے بغیر اسے نہ مانا جائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس بات کی مزید تشریح میں یہ بھی فرمایا ہے کہ کسی انسان کےجھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو آگے پھیلاتا پھرے۔

اس حوالے سے یہ پہلو بھی ہمارے سامنے رہنا چاہیے کہ آج کے جدید دور میں جب ہمارے پاس اطلاعات کے محیر العقول اور ماضی کے مقابلے میں ناقابلِ تصور قسم کے ذرائع موجود ہیں، ہم کس قدر آسانی سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سمجھ سکتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کے کردار کو کس قدر بھیانک انداز میں منفی بنا سکتے ہیں جن کے بارے میں پہلے سے منفی قسم کے شواہد موجود ہوں۔ سوچیے کہ اگر آج کے اس دور میں یہ سب کچھ ممکن ہے تو ماضی میں ہم تاریخ کے حوالے سے کتنے گم راہ کن نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تاریخی معاملے میں،خاص طور پر جب وہ مذہب اور قوم کے متعلق ہو، نتائج اخذکرنے میں کتنی احتیاط کی ضرورت ہے اور اس میں بلیک اینڈ وائٹ راے بنانا کس قدر گم راہ کن ہو سکتا ہے۔ اسی لیے دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ واقعات سے مذہبی اور قومی نظریات مرتب نہ کیے جائیں اور نہ کسی واقعے کو قانون کا ماخذ بنایا جائے۔ نہ کسی شخصیت کو ہم شیطان سمجھ سکتے ہیں اور نہ کسی واقعے کی روشنی میں کوئی فرشتہ قرار پا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر برصغیر کی تاریخ میں تقسیم اور اس کے بعد کے واقعات وحادثات میں دونوں ملکوں کی قوموں کو اس پہلو سے اپنے خیالات اور نظریات کا جائزہ لینا چاہیے۔

چھٹا حادثہ اس بدظنی کی صورت میں سامنے آیا کہ اسلامی قوانین کے تحت انصاف نہیں مل سکتا۔ یہ قبائلی قوانین ہیں جو اشرافیہ کے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس قانون ِدیت کے تحت تو انسانی جان، مال اور عزت بھی خریدی جا سکتی ہے۔

یہ تاثر اسلامی قوانین کے حوالے سے قلت ِتدبر اور قلت ِمطالعہ کا نتیجہ ہے۔ دیت کے قوانین معاشرے میں بہت فلاح کا باعث ہو سکتے ہیں، لیکن ان کو سمجھنےاور نافذ کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ جان بوجھ کر قتل ( قتلِ عمد )ہو یا قتل خطا، اس میں جرم دو ہوتے ہیں: ایک جرم اسٹیٹ کے خلاف اور ایک جرم ُمدَّعِی،یعنی مضروب یا مقتول کے خلاف۔

جہاں تک مضروب یا مقتول کا معاملہ ہے، اس میں یہ رعایت رکھی گئی ہے کہ وہ اگر معاف کرنا چاہے اور اپنے نقصان کی قیمت لینے پر آمادہ ہو جائے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ یعنی اگر صاف نظر آرہا ہو کہ ایک حادثے کے تحت یہ نقصان یا قتل ہوا ہے اور اس میں کسی نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا یا حالات مجرم کو رعایت دینے کا تقاضا کر رہے ہیں تو یہ آپشن رکھا ہے کہ مجرم یا ذمہ دار کے ساتھ رعایت برتی جائے۔ اور اس میں اس کے غریب یا امیر ہونے کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ذمہ دار جیسا کہ اس واقعے میں ہے، مال دار ہے تو اس سے مال لیا جائے گا اور نقصان جس قدر ممکن ہو،پورا کیا جائے گا، لیکن وہ اگر غریب یا کم حیثیت ہے تو اس موقع پر حکومت آگے بڑھے گی۔وہ پابند ہے کہ مقتول کا خون بہا ادا کرے اور دوسرے کے نقصان کو بھی عدل کے ساتھ پورا کیا جائے۔ یہ کسی طور مناسب نہیں ہے کہ مالی حیثیت کسی کو بچانے کا باعث ہو اور کسی کی غربت اس کے مقدر میں سزا لکھ دے۔ ایسا ہوا تو یہ دیت کے قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ دیت کا قانون ماضی میں بھی اور آج بھی معاشرے میں بدلے اور انتقام کی روایت کو روک دینے کا باعث ہے۔ اس سے معاشرے میں امن و امان اور سماجی توڑ پھوڑ کا خاتمہ ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ریاست کسی طور پر بھی ایسے مجرم کو معاف نہیں کر سکتی جس نے مجرمانہ غفلت اور اپنی سماجی حیثیت کے غلط استعمال سے جرم کیا ہے، جیسا کہ بہ ظاہر اس معاملے میں نظر آ رہا ہے۔ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ اور قانون کو خریدنے یا جعل سازی سے قانون کو دھوکا دینے کی کوشش ایسے جرائم ہیں جو کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ نہ پاکستان کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ دنیا کا کوئی اور معاشرہ۔ زیر بحث کیس میں یہی چیز اعتراض کا باعث بنی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دیت کا قانون اس بات کی کسی طور پر اجازت نہیں دیتا کہ صرف مالی ہرجانہ لے کر ذمہ دار یا مجرم کو چھوڑ دیاجائے، بلکہ اس کے خلاف ریاست سارے حالات دیکھتے ہوئے فیصلہ دے گی کہ مجرم یا ذمہ دار کس قدر رعایت یا کس قدر سخت سزا کا حق دار ہے۔

آخری بات اس حادثے کے حوالے سے یہ کی جارہی ہے کہ ورثا نے ملزمہ کو بچانے کی اتنی کوشش کیوں کی ہے؟ ہمارے خیال میں یہ بہت ہی مثبت اور قابل تعریف بات ہے۔ ایسے حادثوں میں ورثا کا رویہ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہی فطری رویہ ہے اور یہی انسانیت کا تقاضا ہے۔اس سے خیر و برکت کے بہت سے پہلو نکلتے ہیں۔ البتہ، اس میں یہ چیز ضرور مدنظر رکھنی چاہیے کہ معاملہ عدل کے خلاف نہ ہو۔ ناجائز فیور لینے کا نہ ہو، جیسا کہ اس معاملے میں بہ ظاہر ہوا ہے۔یقیناً یہ پہلو قابل مذمت ہے، لیکن ورثا نے نتاشا کا خیال رکھا ہے اور اسے تنہا نہیں چھوڑا تو یہ قابل ِ مذمت نہیں، قابل ِتعریف بات ہے۔

اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے،ان سے ہم دردی اور ان کے نقصان کے ازالے کی زیادہ سے زیادہ کوشش ہونی چاہیے۔ اس موقع پر بچت نا قابل معافی کنجوسی، سنگ دلی اور کم ظرفی ہے اور جان چھڑانا اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے، کیونکہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے حادثے میں ایک دوسری عدالت بھی ہے اور وہ آخرت کی عدالت ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی عدالت میں کسی کی کوئی حیثیت، کوئی چالاکی اور کوئی دھونس نہیں چل سکتی۔ اس کافیصلہ تو اس عدالت میں ہونا ہے، دنیا کی عدالت کا اس کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ یہاں تو مرنے والوں نے کچھ وصول نہیں کیا۔وہ تو مٹی اوڑھ کر قیامت تک کے لیے خاموش ہو گئے۔ ان کا دعویٰ تو باقی ہے۔حشر کے دن نتاشا دانش کو ان کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے !

  1. ۔ مذکورہ واقعہ اور اس سے متعلق جملہ تفصیلات ذرائع ابلاغ کی اطلاعات پر مبنی ہیں۔ ان میں کسی غلطی کے لیے ہم پیشگی معذرت خواہ ہیں۔ (ادارہ)