مواد پر جائیں

حدیث: قرآن وسنت کا بیان یا اُن پر اضافہ غامدی صاحب کا موقف

سید منظور الحسن اردو

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا موقف ہے کہ دین اصلاً، قرآن اور سنت1 کی دو صورتوں میں محصورہے۔ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے تو اُس کی حیثیت دین کی تفہیم و تبیین کی ہے۔ لہٰذا اُس کے ذریعے سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’… دین اصلاً، (قرآن و سنت کی)اِنھی دو صورتوں میں ہے۔ اِن کے علاوہ کوئی چیز دین ہے، نہ اُسے دین قرار دیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنھیں بالعموم ”حدیث“ کہا جا تا ہے، اِن سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں اِن میں آتی ہیں، وہ درحقیقت قرآن و سنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم و تبیین اور اِس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ اِس معاملے میں یہی ہے۔ اِس کی تبلیغ و حفاظت کے لیے آپ نے اِسی بنا پر کبھی کوئی اہتمام نہیں کیا، بلکہ دیکھنے اور سننے والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ اِس کی جس چیز کو اُس کی نوعیت کے لحاظ سے ضروری سمجھیں، آگے پہنچائیں اور جس کو نہ سمجھیں، نہ پہنچائیں۔‘‘

(میزان 15)

اِس اقتباس سے واضح ہے کہ استاذِ گرامی یہ نہیں کہہ رہے کہ حدیث میں کسی عقیدہ و عمل کا بیان نہیں ہے، بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اِس سے ’’کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہوتا‘‘۔ اِس میں اصل لفظ ’’اضافہ‘‘ ہے۔ یعنی اُن کا موقف یہ ہے کہ حدیث میں عقائد کا بیان بھی ہے اوراعمال کا بھی، مگر یہ بیان اُنھی عقائد و اعمال کی شرح وفرع اور تفہیم و تبیین پر مبنی ہے،جو قرآن میں مذکور اور سنت میں جاری ہیں۔ اِسی طرح اِس میں شرعی احکام بھی نقل ہوئے ہیں، لیکن اُن کی نوعیت نئے احکام کی نہیں ہے، بلکہ قرآن و سنت کے احکام کی تشریح و تعبیر اور اُن پر آپ کے عملی نمونے کی ہے۔ چنانچہ اُن کے نزدیک قرآن و سنت کے احکام بھی دین ہیں اور حدیث میں نقل اُن کی شرح و فرع، تفہیم و تبیین اور اُن پر عمل کے لیے آپ کا اسوۂ حسنہ بھی دین ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر اُن کی نسبت متحقق ہے تو اُن کا انکار ایمان کے منافی ہے۔ اِس بات کو اُنھوں نے پوری صراحت کے ساتھ اِن الفاظ میں لکھا ہے:

’’… اِس دائرے کے اندر، البتہ حدیث کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اِسے قبول کر لیتا ہے۔ اِس سے انحراف پھر اُس کے لیے جائز نہیں رہتا، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اِس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔‘‘(میزان 15)

استاذِ گرامی کے مدعا کی تفہیم کے لیے ’’فتح الباری‘‘ یا ’’عمدۃ القاری‘‘ کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ یہ صحیح بخاری کی شرحیں ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اِن کتب کے مندرجات امام بخاری کے تحقیقی کام میں نہ کوئی اضافہ کرتے ہیں اور نہ اُس سے ہٹ کر کوئی نئی تحقیق بیان کرتے ہیں، بلکہ یہ اُسی کام کی تفہیم و تبیین اور شرح و وضاحت ہیں،جو امام صاحب نے اپنی صحیح میں جمع کیا ہے تو اُس کی بات کو بجا قرار دیا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ قائل نے اِن شروح کی حیثیت کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ استاذِ گرامی کا یہ موقف کہ حدیث قرآن و سنت کی شرح و فرع اور تفہیم و تبیین ہے،کوئی منفرد موقف نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی موقف ہے، جس پر علماے امت کی اکثریت قائم ہے۔ اِس ضمن میں چند حوالے درجِ ذیل ہیں۔

امام شافعی بیان کرتے ہیں:

وسنتہ لا تکون إلا بالإبانۃ عن اللّٰہ تبارک و تعالیٰ واتباع أمرہ.

(الام 7/ 3)

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (حدیث) اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حکم کی توضیح اور اُسی کے حکم کی اتباع ہے۔‘‘

اِسی بنا پر امام شافعی نے آیاتِ قرآنی کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: ایک وہ آیات جنھیں خارج کے بیان کی ضرورت نہیں اور دوسری وہ جن کی تبیین سنت سے ہوتی ہے۔ ابو زہرہ امام شافعی کے اِس موقف کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’جب صورت یہ ٹھیری کہ قرآن بیانِ کلّی ہے اور سنت حسبِ ضرورت اُس کی شارح و مفسر تو شافعی بیانِ قرآن کی دو قسمیں کرتے ہیں:

1۔ وہ بیانِ قرآن جو نص ہے اور جس کی تشریح و توضیح کے لیے خارج سے کسی امداد کی ضرورت نہیں، وہ خود واضح ہے۔

2۔ وہ بیانِ قرآن جواپنی تشریح و توضیح میں سنت کا محتاج ہے، خواہ اپنے اجمال کی تفصیل میں یامعنی محتمل کی تعیین میں یا عموم کی تخصیص میں۔‘‘

(محمد ابو زہرہ، امام شافعی عہد اور حیات،لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز، 85)

امام احمد بن حنبل کہتے ہیں:

ما أجسر علی ھذا أن أقولہ ولکن السنۃ تفسر الکتاب وتعرف الکتاب وتبینہ.

(الکفایہ فی علم الروایہ19)

’’یہ کہنے کی جسارت میں نہیں کر سکتا (کہ سنت کتاب اللہ پر حاکم ہے)۔ سنت (حدیث) تو قرآن کی تفسیر کرتی، اُس کی تعریف کرتی اور اُس کی مجمل باتوں کی وضاحت کرتی ہے۔‘‘

امام شاطبی نے لکھاہے:

السنۃ راجعۃ فی معناھا إلی الکتاب، فھی تفصیل مجملہ، وبیان مشکلہ، وبسط مختصرہ. وذلک لأنہا بیان لہ. فلا تجد فی السنۃ أمرًا إلا والقرآن دل علٰی معناہ دلالۃ إجمالیۃ وتفصیلیۃ.2

’’سنت (حدیث) اپنے معنوں میں کتاب کی طرف راجع ہوتی ہے اور وہ قرآن کے اجمال کی تفصیل، اُس کے مشکل کی وضاحت اور مختصر کی تفصیل ہے، اِس لیے کہ وہ قرآن کا بیان (وضاحت) ہے۔لہٰذا آپ سنت میں کوئی ایسی بات نہیں پائیں گے، جس کے معنی پر قرآن دلالت نہ کررہا ہو۔ خواہ یہ دلالت اجمالی ہو یا تفصیلی ہو۔‘‘

استاذ ِگرامی کا نقطۂ نظر بھی یہی ہے، جسے اُنھوں نے اپنی کتاب ’’مقامات‘‘میں امام شافعی کے موقف کی تائید میں ’’عام و خاص‘‘ کے زیرِ عنوان واضح کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’…رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الہٰی کی یہی خدمت انجام دی ہے اور اپنے ارشادات سے اُن مضمرات و تضمنات کو واضح کر دیا ہے جن تک رسائی اُن لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جو لفظ و معنی کی اِن نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔امام شافعی بجا طور پر اصرار کرتے ہیں کہ ظاہر الفاظ کی بنیاد پر آپ کی اِس تفہیم و تبیین سے صرف نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرآن کا بیان ہے، اِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا پیغمبر کتاب الہٰی کا تابع ہے۔ وہ اُس کے مدعا کی تبیین کرتا ہے، اُس میں کبھی تغیر و تبدل نہیں کرتا۔ امام اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دیتے اور بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ بیان اور صرف بیان ہے۔ اُسے نہیں مانا جائے گا تو یہ قرآن کی پیروی نہیں، اُس کے حکم سے انحراف ہو گا، اِس لیے کہ اُس کا متکلم وہی چاہتا ہے جو پیغمبر کی تفہیم و تبیین سے واضح ہو رہا ہے، اُس کا منشا اُس سے مختلف نہیں ہے۔…

ہم نے ’’میزان‘‘ میں کوشش کی ہے کہ امام کے موقف کو پوری طرح مبرہن کر دیں، اِس لیے کہ اصولاً وہ بالکل صحیح ہے۔ اہل نظر ’’میزان‘‘ کے مقدمہ ’’اصول و مبادی‘‘ میں ’’میزان اور فرقان‘‘ کے زیر عنوان یہ مباحث دیکھ سکتے ہیں۔ اِس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ قرآن مجید کے احکام سے متعلق روایتوں میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ اُس کے الفاظ کا مضمر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریحات سے ظاہر کر دیا ہے۔ قرآن کے طالب علموں کو اِس سے لفظ کے باطن میں اتر کر اُس کو سمجھنے کی تربیت حاصل کرنی چاہیے، اِسے رد کر دینے یا اِس سے قرآن کے نسخ پر استدلال کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ (144)

استاذِ گرامی کیسے احادیث کو قرآنِ مجید کی تفہیم و تبیین کے طور پر پیش کرتے ہیں، اِس بات کی تفہیم کے لیے اُن کی کتاب ’’میزان‘‘ سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

1۔ محرماتِ نکاح کی جو فہرست سورۂ نساء (4) کی آیات 22 تا 24 میں بیان ہوئی ہے، اُس میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اِس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی (تم پر حرام کی گئی ہیں)‘‘۔

یعنی قرآن سے واضح ہے کہ جس طرح نسب اور مصاہرت کی بنا پر اللہ نے بعض خواتین سے نکاح کو ممنوع قرار دیا ہے، اُسی طرح رضاعت کے تعلق سے بھی نکاح کی ممانعت فرمائی ہے۔ اِس ضمن میں قرآنِ مجید کا مدعا یہ ہے کہ دودھ پلانے کی عمر میں بالاہتمام دودھ پلانا ہی رضاعت ہے، چند گھونٹ اتفاقاً پی لینے سے یا دودھ پینے کی عمر کے بعد ایسا کوئی واقعہ ہونے سے رضاعت کا تعلق قائم نہیں ہو جاتا۔ غامدی صاحب کے نزدیک قرآنِ مجید کا یہی مدعا ہے، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے بخاری و مسلم کے حوالے سے لکھا ہے:

’’قرآن کا یہ منشا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر واضح فرمایا ہے:

سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا: ایک دو گھونٹ اتفاقاً پی لیے جائیں تو اِس سے کوئی رشتہ حرام نہیں ہوجاتا (مسلم، رقم 3590)۔

سیدہ ہی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ آپ کو یہ ناگوار ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے پر غصے کے آثار ہیں۔ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ، یہ میرے رضاعی بھائی ہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے اِن بھائیوں کو دیکھ لیا کرو، اِس لیے کہ رضاعت کا تعلق تو صرف اُس دودھ سے قائم ہوتا ہے جو بچے کو دودھ کی ضرورت کے زمانے میں پلایا جائے (بخاری، رقم 5102۔ مسلم، رقم 3606)۔‘‘(میزان 415)

2۔ نکاح کی وہ حرمتیں جو قرآن نے سورۂ نساء (4) میں مصاہرت کے پہلو سے بیان کی ہیں، اُن میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور اِس کے لیے ’وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمانا، قرآن کے اِسی حکم کا بیان ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے لکھا ہے:

’’…قرآن نے ’بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘ہی کہا ہے، لیکن صاف واضح ہے کہ زن و شو کے تعلق میں بہن کے ساتھ بہن کو جمع کرنا اُسے فحش بنا دیتا ہے تو پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع کرنا بھی گویا ماں کے ساتھ بیٹی ہی کو جمع کرنا ہے۔ لہٰذا قرآن کا مدعا، لاریب یہی ہے کہ ’أن تجمعوا بین الأختین وبین المرأۃ وعمتھا وبین المرأۃ وخالتھا‘۔ وہ یہی کہنا چاہتا ہے، لیکن ’بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ‘کے بعد یہ الفاظ اُس نے اِس لیے حذف کر دیے ہیں کہ مذکور کی دلالت اپنے عقلی اقتضا کے ساتھ اِس محذوف پر ایسی واضح ہے کہ قرآن کے اسلوب سے واقف اُس کا کوئی طالب علم اِس کے سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

لا یجمع بین المرأۃ وعمتھا ولا بین المرأۃ وخالتھا.

(الموطا، رقم 1600)

’’عورت اور اُس کی پھوپھی ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہے، نہ عورت اور اُس کی خالہ۔‘‘‘‘ (میزان 418)

3۔ سورۂ بقرہ (2) کی آیات 235- 234 میں بیواؤں کی عدت کا حکم بیان ہوا ہے۔ اِس میں مردوں کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اگر بیوہ ہونے والی خواتین سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اُنھیں عدت کے زمانے میں غم زدہ عورت یا اُس کے خاندان کے سوگ اور غم کا لحاظ کرنا چاہیے اور نکاح کا پیغام بھیجنے اور خفیہ عہد و پیمان سے احتراز کرنا چاہیے۔ اگر ضرورت ہو تو اشارے کنایے میں اظہارِ مدعا پر اکتفا کرنا چاہیے۔ قرآنِ مجید نے یہاں مردوں ہی کے حوالے سے بات کی ہے، مگر عورتوں کو اِس معاملے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا۔ غامدی صاحب کے نزدیک اِن آیات میں عورتوں کے لیے جو حکم مقابلتاً مفہوم ہوتا ہے، اُسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا ہے:

’’اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ زمانۂ عدت میں عورت کا رویہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ (یعنی مردوں ہی کی طرح غم اور سوگ کے معروفات کا لحاظ کرنے کا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر عورتوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اگر اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں اُس کے لیے عدت گزار رہی ہیں تو سوگ کی کیفیت میں گزاریں اور زیب و زینت کی کوئی چیز استعمال نہ کریں۔ ارشاد فرمایا ہے:

المتوفی عنھا زوجھا لا تلبس المعصفر من الثیاب ولا الممشقۃ ولا الحلی ولا تختضب ولا تکتحل.

(ابوداؤد، رقم 3204)

’’بیوہ عورت رنگین کپڑے نہیں پہنے گی، نہ زرد، نہ گیروسے رنگے ہوئے۔ وہ زیورات استعمال نہیں کرے گی اور نہ مہندی اور سرمہ لگائے گی۔‘‘‘‘

(میزان 464)

4۔ سورۂ مائدہ (5) کی آیات 33-34میں اللہ اور رسول اللہ سے جنگ کرنے (محاربہ) اور فساد فی الارض کی سزائیں بیان ہوئی ہیں۔ یہ سزائیں عبرت ناک طریقے سے قتل، سولی، ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دینا اور جلاوطن کرنا ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زناکے بعض مجرموں کو جلا وطنی اور رجم (عبرت ناک طریقے سے قتل) کی سزا دینا قرآنِ مجید کے اِسی حکم کا اطلاق تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’آیت میں یہ سزائیں حرف ’اَوْ‘ کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔اِس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید نے یہاں حکومت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جرم کی نوعیت، مجرم کے حالات اور جرم کے موجود اور متوقع اثرات کے لحاظ سے اِن میں سے جو سزا مناسب سمجھے، اِس طرح کے مجرموں کو دے سکتی ہے۔تقتیل اور تصلیب جیسی سزاؤں کے ساتھ اِس میں نفی کی سزا اِس لیے رکھی گئی ہے کہ سزا میں انتہائی سختی کے ساتھ حالات کا تقاضا ہو تو مجرم کے ساتھ نرمی کے لیے بھی گنجایش باقی ر کھی جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ نے اپنے زمانے میں اوباشی کے اُن مجرموں کو جو اپنے حالات اور جرم کی نوعیت کے لحاظ سے کسی حد تک رعایت کے مستحق تھے، مائدہ کی اِسی آیت کے تحت جلاوطنی کی سزا دی اور وہ مجرم جنھیں کوئی رعایت دینا ممکن نہ تھا، اِسی آیت کے تحت رجم کر دیے گئے۔…

چنانچہ زنا کے بعض عادی مجرموں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

خذوا عنی، خذوا عنی، خذوا عنی، فقد جعل اللّٰہ لھن سبیلاً. البکر بالبکر جلد مائۃ ونفی سنۃ والثیب بالثیب جلد مائۃ والرجم.

(مسلم، رقم 4414)

’’مجھ سے لو، مجھ سے لو، مجھ سے لو۔ اللہ نے اِن عورتوں کے لیے راہ نکال دی ہے۔ اِس طرح کے مجرموں میں کنوارے کنواریوں کے ساتھ ہوں گے اور اُنھیں سو کوڑے اور جلاوطنی کی سزا دی جائے گی۔ اِسی طرح شادی شدہ مرد و عورت بھی سزا کے لحاظ سے ساتھ ساتھ ہوں گے اور اُنھیں سو کوڑے اور سنگ ساری کی سزا دی جائے گی۔‘‘‘‘(میزان 615)

5۔ سورۂ نساء (4) کی آیت 43 اور سورۂ مائدہ (5) کی آیت 6 میں تیمم کا حکم اِن الفاظ میں بیان ہو ا ہے کہ ’’اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر پانی نہ ملے تو کوئی پاک جگہ دیکھو اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔‘‘

غامدی صاحب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے اِسی حکم پر قیاس کر کے موزوں اور عمامے پر مسح کرنے کی اجازت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نساء اور مائدہ میں مذکور) تیمم کے اِسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے موزوں اور عمامے پر مسح کیا (بخاری، رقم182، 203، 205۔ مسلم، رقم 622، 633) اور لوگوں کو اجازت دی ہے کہ اگر موزے وضو کر کے پہنے ہوں تو اُن کے مقیم ایک شب و روز اور مسافر تین شب و روز کے لیے موزے اتار کر پاؤں دھونے کے بجاے اُن پر مسح کر سکتے ہیں(مسلم، رقم 639)۔‘‘(میزان 290)

6۔ سورۂ اعراف (7) کی آیت 157 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام ٹھہراتا ہے اور اُن کے اوپر سے اُن کے وہ بوجھ اتارتا اور بندشیں دور کرتا ہے، جو اب تک اُن پر رہی ہیں۔‘‘ قرآنِ مجید نے پاک چیزوں کے لیے ’طیبات‘ اور ناپاک چیزوں کے لیے ’خبائث‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اب واقعہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں خورو نوش سے متعلق جو چیزیں طیب اور خبیث یا بہ الفاظِ دیگر حلال و حرام ٹھہرائی گئی ہیں، اُن تمام کو جمع کرنے سے طیبات اور خبائث کی کوئی جامع و مانع فہرست مرتب نہیں ہوتی۔ اِس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ متعدد چیزیں جن کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں ہوا، اُن کے حلال و حرام کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے گا؟ جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک اِس کا فیصلہ اُس دین فطرت کی بنیاد پر کیا جائے گا، جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو ودیعت کر کے اِس دنیا میں بھیجا ہے۔ اُن کے نزدیک یہی سبب ہے کہ جس کی بنا پر قرآن نے طیبات و خبائث کا ذکر کیا ہے، مگر اُن کی کوئی فہرست بیان نہیں کی۔ اُس نے صرف اُن چار چیزوں کی حرمت کو بیان کیا ہے، جو کسی نہ کسی وجہ سے مشتبہ ہو سکتی ہیں یا جن کا فیصلہ انسان اپنی عقل و فطرت کی روشنی میں نہیں کر سکتا۔ تاہم، جہاں تک اِس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا تعلق ہے تو آپ نے دینِ فطرت ہی کی چیزوں کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’اِن طیبات وخبائث کی کوئی جامع ومانع فہرست شریعت میں کبھی پیش نہیں کی گئی۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت اِس معاملے میں بالعموم اُس کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ کیا چیز طیب اور کیا خبیث ہے۔ وہ ہمیشہ سے جانتا ہے کہ شیر،چیتے، ہاتھی،چیل، کوے،گد،عقاب، سانپ، بچھو اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہیں۔اُسے معلوم ہے کہ گھوڑے اور گدھے دسترخوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اِن جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ نشہ آور چیزوں کی غلاظت کو سمجھنے میں بھی اُس کی عقل عام طور پر صحیح نتیجے پر پہنچتی ہے۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے اِس معاملے میں انسان کو اصلاً اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچلی والے درندوں،چنگال والے پرندوں(مسلم، رقم 3334، 4994) اور جلالہ (نسائی، رقم 4452) وغیرہ کا گوشت کھانے کی جو ممانعت روایت ہوئی ہے،وہ اِسی فطرت کا بیان ہے۔ شراب کی ممانعت سے متعلق قرآن کا حکم بھی اِسی قبیل سے ہے۔‘‘ (میزان236)

یہاں غور کیجیے کہ غامدی صاحب صرف احادیث میں مذکور ممانعتوں کو بیان فطرت قرار نہیں دے رہے، بلکہ قرآن میں نقل شراب کی حرمت کے حکم کو بھی بیانِ فطرت ہی سے تعبیر کر رہے ہیں۔

مزید لکھتے ہیں:

’’اِس میں شبہ نہیں کہ انسان کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ ہو جاتی ہے، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اِس معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔ چنانچہ شریعت نے اِس طرح کی کسی چیز کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔ اِس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کے طیب یا خبیث ہونے کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسانوں کے لیے ممکن نہ تھا۔‘‘(میزان633)

شاہ ولی اللہ نے اِسی بیان فطرت کو ’’اخلاق مطلوبہ‘‘ اور ’’طبائع سلیمہ‘‘ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’اور اس کے بعد اُن جانوروں کو کھانے کا درجہ ہے کہ جو انسان سے مطلوبہ اخلاق کے خلاف اخلاق پر پیدا ہوا، حتیٰ کہ ان کی طرف کسی ضرورت سے ہی رخ کرتے ہیں اور ان کی مثال دی جاتی ہے۔ اور طبائع سلیمہ ان کو ناپاک سمجھتی ہیں اور ان کو کھانے سے انکار کرتی ہیں۔‘‘ (2/ 924)

امام شاطبی نے اِس مسئلے کو اِن الفاظ میں واضح کیا ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ چیزوں (طیبات) کو حلال اور گندی چیزوں (خبائث) کو حرام کیا۔ اب ان دونوں اصلوں، (یعنی طیبات اور خبائث) کے درمیان بہت سی چیزیں ہیں جنھیں کسی ایک اصل سے ملایا جا سکتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایسی وضاحت کی جس سے معاملہ واضح ہو جائے۔ آپ نے سب کچلی والے درندوں اور پنجوں والے پرندوں کو کھانے سے منع فرما دیا اور گھریلو گدھوں کو کھانے سے منع کیا اور فرمایا کہ وہ ناپاک ہیں… گویا (احادیث میں مذکور) یہ سب باتیں خبائث کی اصل سے الحاق کے معنی کی طرف راجع ہیں۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ، سرخاب، خرگوش اور اس سے ملتی جلتی چیزوں کا پاکیزہ چیزوں (طیبات) کی اصل سے الحاق کر دیا ہے۔‘‘3

بہرحال، یہ چند مثالیں ہیں۔ ’’میزان‘‘ کی ہر بحث قرآن و سنت اور احادیث کے باہمی تعلق کو اِسی طریقے سے بیان کرتی ہے، جس سے قرآن و سنت کا اصل یا مستقل بالذات دین کو بیان کرنا اور احادیث کا اُس کی تفہیم و تبیین کرنا پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ اِس میں اگر کوئی شخص نقد یا اختلاف کر سکتا ہے تو اِس قدر کر سکتا ہے کہ غامدی صاحب نے قرآن و سنت کے احکام اور احادیث میں مذکور اُن کی تفہیم و تبیین میں جو نسبت اور تطبیق پیدا کی ہے، وہ فلاں فلاں پہلوؤں سے درست نہیں ہے، مگر یہ ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ اُنھوں نے، معاذ اللہ، احادیث سے صرفِ نظر کیا ہے یا اُن کا استخفاف یا انکار کیا ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ غامدی صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفہیم و تبیین کو اللہ تعالیٰ کی تائید و تصویب سے متصف سمجھتے ہیں اور اِس بنا پر وہ آپ کی ہر تشریح، ہر توضیح، ہر تفریع، ہر فیصلے، ہر اجتہاد اور قیاس کو خطا سے پاک سمجھتے اور من جملۂ دین قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر تھے، اِس لیے دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم، بلکہ سب عالموں کے امام بھی آپ ہی تھے۔ دین کے دوسرے عالموں سے الگ آپ کے علم کی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ کا علم بے خطا تھا، اِس لیے کہ اُس کو وحی کی تائید و تصویب حاصل تھی۔‘‘(مقامات174)

  1. ۔ ’’سنت‘‘ سے غامدی صاحب کی مراد: ’’دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔ قرآن میں آپ کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت بھی اُسی کا حصہ ہے۔ …ثبوت کے اعتبار سے اِس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے۔وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے، یہ اِسی طرح اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہوتی ہے۔‘‘(میزان 14)
  2. ۔ الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشریعہ، (مترجم: کیلانی، مولانا عبدالرحمٰن)، لاہور: دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، 2006ء، 4/10۔
  3. ۔ الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشریعہ، (مترجم: کیلانی، مولانا عبدالرحمٰن)، لاہور: دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، 2006ء،4/55۔