انسان کا نصب العین دارالآخرت ہے۔یہ امن و سلامتی کا جہان اور ابد الآباد کی بادشاہی ہے۔ قرآنِ مجید نے اِسے ’’جنت‘‘ سے موسوم کیا ہے اور اِس کے لیے ’جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ، جَنَّاتِ النَّعِيمِ، جَنَّاتِ عَدْنٍ، جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ‘ اور اِس طرح کی متعدد تعبیرات اختیار کی ہیں۔ فرمایا ہے کہ یہ فردوس کے باغ،1 راحت کے گلستان2 اور ابد کے چمن زار ہیں۔3 اِن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔4 اِن میں نہ دھوپ کی حدت ہے، نہ سردی کی شدت۔5 اِن میں رہنے کے لیےپاکیزہ مکان ہیں۔6 یہ بہترین سکونت گاہ ہے۔7 اِس کی راحت دائمی ہے۔8 لوگ اِس میں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنے اورسندس و استبرق اور ریشم کی پوشاک زیب تن کیے مسند آرا ہوں گے۔9 اُن کے کھانے کے لیے قسم قسم کے میوے ہوں گے، جو مانگیں گے، حاضر کر دیا جائے گا۔10 اِس میں بندوں کو اپنے پروردگار کا قرب حاصل ہو گا اور اُن کا مالک اُنھیں خود شرابِ طہور کے جام پلائے گا۔11 چنانچہ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا کی یہ ’’جنت‘‘ خیر و عافیت کی سرزمین، راحت و تسکین کی سلطنت اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی ہے۔ دنیا کی زندگی اِس کے مقابلے میں ادنیٰ اور کم ترین ہے، یہ اُس سے بلند و برتر اور ارفع و اعلیٰ ہے۔ استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے اِس کے بارے میں لکھا ہے:
’’یہ عیش دوام کی جگہ ہے۔ اِس حیات دنیوی کے بر خلاف اِس میں زندگی کے ساتھ موت، لذت کے ساتھ الم، خوشی کے ساتھ غم، اطمینان کے ساتھ اضطراب، راحت کے ساتھ تکلیف اور نعمت کے ساتھ نقمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اِس کا آرام دائمی ہے، اِس کی لذت بے انتہا ہے، اِس کے شب و روز جاوداں ہیں، اِس کی سلامتی ابدی ہے، اِس کی مسرت غیر فانی ہے، اِس کا جمال لازوال اور کمال بے نہایت ہے۔‘‘ (میزان 197)
انسان اِسی جنت کو پانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ نے اُسے ہدایت کی ہے کہ وہ زندگی بھر اِسے پانے کی جدو جہد میں سرگرم رہے۔ ارشاد فرمایا ہے :
وَ سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَجَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِیۡنَ.
(آل عمران 3: 133)
’’اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف بڑھ جانے کے لیے دوڑو، جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اُن پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘
دوسرے مقام پر اِس کے حصول کی جدوجہد میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ترغیب فرمائی ہے۔ ارشاد ہے:
سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ .
(الحدید 57: 21)
’’(اِس لیے) دوڑو اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، جس کی وسعت زمین و آسمان جیسی ہے۔ اُن لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے، جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر سچا ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جس کو چاہے گا، عطا فرمائے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘
اللہ کا دین اِسی جنت کی طرف انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے۔ اُس کی کتابیں اِسی کے راستوں کا پتا دیتی ہیں اور اُس کے پیغمبر اِسی کو پانے کے لیے انسان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا اور اُن کی ذریت کوامتحان کے لیے زمین میں آباد ہونے کا حکم دیاتو اُس موقع پر یہ وعدہ کیاکہ وہ انسانوں پر اپنی رحمت فرمائے گا اور اُن کے لیے دین کی صورت میں اپنی ہدایت کا سامان کرے گا۔ جو لوگ اُس ہدایت کی قدر کریں گے اور اُس پر عمل پیرا ہوں گے، وہی اُس جنت کے مستحق قرار پائیں گے، جہاں نہ کوئی خوف ہو گا اورنہ کوئی غم ہو گا۔ فرمایا ہے:
قُلۡنَا اہۡبِطُوۡا مِنۡہَا جَمِیۡعًا ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ. (البقرہ 2: 38)
’’ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر میری طرف سے اگر کوئی ہدایت تمھارے پاس آئے تو اُسی پر چلنا، اِس لیے کہ جو لوگ میری اِس ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کا صلہ جنت ہے، سو اُن کے لیے نہ وہاں کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔‘‘
اس مقام کی وضاحت میں استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’اِس سے واضح ہوا کہ انسان کا نصب العین ازل ہی سے جنت الفردوس ہے۔ وہ اِسی کو پانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے، لہٰذا اُس کے تمام اعمال کا محرک یہی جنت ہے۔ وہ اگر اِس کی اصلی جگہ پر اِس کے حصول کی جدوجہد نہ بھی کر رہا ہو تو اِس سے بے پروا نہیں ہو سکتا۔ اپنے علم و عمل کی تمام صلاحیتیں وہ پھر اِسی دنیا میں اِسے پا لینے کی جدوجہد میں صرف کر دیتا ہے۔ یہ چیز اُس کی فطرت میں ودیعت ہے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اِسی نصب العین کے لیے جیتا اور اِسی کے لیے مرتا ہے۔‘‘(البیان 1/ 54)
جنت الفردوس کے اِس نصب العین کو پانے کے لیے اللہ کا مقرر کردہ طریقہ تزکیۂ نفس ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ بہشتِ بریں کے دروازے اُنھی لوگوں کے لیے کھلیں گے، جو اپنے ظاہر و باطن کو ہر لحاظ سے پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں گے۔
ارشاد فرمایا ہے:
وَ مَنۡ یَّاۡتِہٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰی. جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَکّٰی. (طٰہٰ:20: 75-76)
’’جو مومن ہو کر اُس کے حضور آئیں گے، جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں، جن کے لیے اونچے درجے ہیں۔ ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اُن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اُن کا جو پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘
امام امین احسن اصلاحی اِس مقام کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’یہ صلہ ہے اُن لوگوں کا جو اپنے ظاہر و باطن اور اپنے عقیدہ و عمل کو پاکیزہ بنائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹی تمناؤں سے ملنے والی چیز نہیں ہے، بلکہ اِس کے حق دار وہی ٹھہریں گے، جو اِس کے حاصل کرنے کے لیے اپنے نفس کو ہر قسم کی آلایشوں سے، خواہ وہ فکری و نظری ہوں یا عملی و اخلاقی، پاک کرنے کی جدوجہد کریں گے۔ اِس راہ میں آدمی کو جو ٹھوکریں لگتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے اُن کے تدارک کی تدبیریں بھی اپنی اِس کتاب میں بتا دی ہیں اور انسان اپنی کم زوریوں کی وجہ سے جن رعایتوں کا محتاج ہے، وہ بھی اُس کو بخشی گئی ہیں۔‘‘ (تدبر قرآن 5/ 69)
سورۂ نازعات (79) میں اِسی حقیقت کو دوسرے اسلوب میں واضح کیا ہے۔ فرمایا ہے کہ جنت اُن لوگوں کو ملے گی، جو اپنے نفس کو باطل خواہشوں کی پیروی کرنے سے روکیں گے:
وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی. فَاِنَّ الۡجَنَّۃَ ہِیَ الۡمَاۡوٰی. ( 40-41)
’’اور جو اپنے پروردگار کے حضور میں پیشی سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں کی پیروی سے روکا تو بہشت ہی اُس کا ٹھکانا ہے۔‘‘
اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ انسان کا مقصدِ حیات جنت الفردوس کا حصول ہے۔ اُس کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس کو پاکیزہ بنائے۔ اللہ کے پیغمبر انسان کو اُس طریقے کی تعلیم دیتے ہیں، جس کو اختیار کر کے انسان اپنے نفس کو پاکیزہ بنا سکتا ہے۔انبیا علیہم السلام کے اِسی طریقے کا نام دین ہے۔ چنانچہ دین کا مقصد تزکیۂ نفس ہے۔ یعنی اُس کا وظیفہ یہ ہےکہ لوگوں کو پاکیزگی اختیار کرنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔
استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:
’’اِس دین کا جو مقصد قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ قرآن کی اصطلاح میں ’’تزکیہ‘‘ ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آلایشوں سے پاک کر کے اُس کے فکرو عمل کو صحیح سمت میں نشوونما دی جائے۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ انسان کا نصب العین بہشت بریں اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی ہے اور فوزوفلاح کے اِس مقام تک پہنچنے کی ضمانت اُنھی لوگوں کے لیے ہے جو اِس دنیا میں اپنا تزکیہ کر لیں :
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی. بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا، وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی.
(الاعلیٰ 87: 14- 17)
’’البتہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اِس کے لیے اپنے رب کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔ (لوگو، تم کوئی حجت نہیں پاتے)، بلکہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، دراں حالیکہ آخرت اُس سے بہتر بھی ہے اور پایدار بھی۔‘‘
لہٰذا دین میں غایت اور مقصود کی حیثیت تزکیہ ہی کو حاصل ہے۔ اللہ کے نبی اِسی مقصد کے لیے مبعوث ہوئے اور سارا دین اِسی مقصود کو پانے اور اِسی غایت تک پہنچنے میں انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ، یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ.
(الجمعہ 62: 2)
’’ اُسی نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے، جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور اِس کے لیے اُنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘‘‘ (میزان 80)
چنانچہ جو شخص اپنے نفس کو پاکیزہ کر لیتا، یعنی اُسے فکر و عمل اور روح و بدن کی آلایشوں سے صاف کر لیتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک ایک نفس مطمئن ہے، اور وہی ہے، جسے ’راضیۃً مرضیةً‘ کی بادشاہی میں داخل ہونے کا اذن دیا جائے گا۔ ارشاد ہو گا:
یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ.
(الفجر 89: 27-30)
’’اے نفس مطمئن،اپنے رب کی طرف لوٹ، اِس حال میں کہ تو اُس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی۔ سو میرے بندوں میں شامل ہو اور میری جنت میں داخل ہو۔‘‘
’اِرْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘کے کلماتِ اذن کے بارے میں امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:
’’ (یہ)اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین کا کلمہ ہے۔ اُن لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد ہو گا کہ شاباش! تمھارے رب نے جس میدان امتحان میں تمھیں اتارا، اُس میں تمھاری بازی نہایت کامیاب رہی۔ اب تم اپنے رب کی طرف اِس سرخ روئی کے ساتھ لوٹو کہ تم نے ثابت کر دیا کہ تم ہر طرح کے نرم و گرم حالات میں اپنے رب سے راضی و مطمئن رہے اور ساتھ ہی تمھیں یہ سرفرازی بھی حاصل ہوئی کہ تم اپنے رب کی نظروں میں بھی پسندیدہ ٹھہرے۔ جس طرح تم اپنے رب سے کسی مرحلے میں گلہ مند نہیں ہوئے، اُسی طرح تمھارے رب نے تم کو بھی کسی مرحلے میں اپنے معیار سے فروتر نہیں پایا۔ تم اُس سے راضی، وہ تم سے راضی!‘‘
(تدبر قرآن 9/ 362)
اِس سے واضح ہے کہ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو دین پیش کیا ہے، وہ اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بنانے کی دعوت ہے۔
تزکیۂ نفس کی بنیاد خیر و شر کا شعور ہے، جو انسان کے وجود کا لازمی حصہ ہے۔ جس طرح انسان کو خلقی طور پر توالد و تناسل، سمع و بصر، نطق و کلام، فہم و ادراک اور عقل و دانش کی صلاحیتیں عطا ہوئی ہیں، اُسی طرح خیر و شر کا شعور بھی ودیعت کیا گیا ہے۔یہ شعور اُس کی فطرت میں الہام ہے۔ چنانچہ وہ بغیر کسی خارجی رہنمائی کے نیکی اور بدی کو پہچاننے اور اُن میں امتیاز کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ گویا یہ ایک حاسۂ اخلاقی ہے، جس کی بدولت وہ اچھے اور برے اخلاق میں تفریق کر سکتا اور یہ جان سکتا ہے کہ اُن میں سے کون سے اجزا اُس کی شخصیت کے لیے مفیداور کون سے ضرر رساں ہیں۔ اِس فطری شعور اور اِس حاسۂ اخلاقی کے لیے قرآن مجید نے ’اَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتْقوٰھَا‘ کی تعبیر اختیار کی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا، فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتْقوٰھَا، قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا.
(الشمس 91: 7- 10)
’’اور نفس اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی کہ (روزِ قیامت شدنی ہے، اِس لیے) فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اُسے آلودہ کر ڈالا۔‘‘
استاذِ گرامی اِس مقام کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اُسی طرح نیکی اور بدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اور عقلی وجود ہی نہیں ہے، اِس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ خیر و شر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اُس کے دل و دماغ میں الہام کر دیا گیا ہے۔ بعض دوسرے مقامات پر یہی حقیقت ’اِنَّا ھَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ‘(ہم نے اُسے خیر و شر کی راہ سجھا دی) اور’ھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘ (ہم نے کیا اُسے دونوں راستے نہیں سجھائے) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالم گیر حقیقت ہے۔ چنانچہ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتا ہے تو پہلے مرحلے میں اُسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دینے کے بعد اُس کی لاش چھپانے کی کوشش کی تھی تو ظاہر ہے کہ احساس گناہ کی وجہ سے کی تھی۔ یہی معاملہ نیکی کا ہے۔ انسان اُس سے محبت کرتا ہے، اُس کے لیے اپنے اندر عزت و احترام کے جذبات پاتا ہے اور اپنے لیے جب بھی کوئی معاشرت پیدا کرتا ہے، اُس میں حق و انصاف کے لیے لازماً کوئی نظام قائم کرتا ہے۔ یہ اِس امتیاز خیر و شر کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ برائی کے حق میں انسان بعض اوقات بہانے بھی تراش لیتا ہے، لیکن جس وقت تراشتا ہے، اُسی وقت جانتا ہے کہ یہ بہانے وہ اپنی فطرت کے خلاف تراش رہا ہے، اِس لیے کہ وہی برائی اگر کوئی دوسرا اُس کے ساتھ کر بیٹھے تو بغیر کسی تردد کے وہ اُسے برائی ٹھیراتا اور اُس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔‘‘(البیان 5/ 465- 466)
خیر وشر کا یہی شعور انسان کو تزکیۂ نفس پر آمادہ کرتا ہے۔ اِس کی بنا پر اُسے یقین ہوتا ہے کہ نیکی اور بدی اپنی حقیقت اور اپنے ظاہر و باطن میں یکساں نہیں ہیں، لہٰذا اِن کے نتائج بھی یکساں نہیں ہو سکتے۔ یہ فرق اِس امر کا متقاضی ہے کہ اِن کا صلہ بھی ملنا چاہیے اور یہ صلہ یکساں نہیں، بلکہ ایک دوسرے سے مختلف ہونا چاہیے۔ چنانچہ وہ جان لیتا ہے کہ وہ مطلق العنان اور مختارِ کل نہیں، بلکہ کچھ حدود و قیود کا پابند ہے۔ وہ اگر حدود کی پاس داری کرے گا تو فلاح پائے گا اور اگر اُنھیں قطع کرے گا تو نامراد ہو گا۔ استاذِ گرامی نے سورۂ شمس کی مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں اِس امر کی وضاحت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ اصل محرک کیا ہے جو انسان کو تزکیۂ اخلاق پر آمادہ کرتا ہے؟ اِس سوال کا جواب قرآن نے اِن آیتوں میں یہ دیا ہے کہ وہ محرک اِسی الہام خیرو شر کی بنا پر انسان کا یہ احساس ہے کہ اِن دونوں کے نتائج اُس کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا شعور اپنے وجود ہی سے اِس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اِن دونوں کا نتیجہ بھی اِنھی کے لحاظ سے سامنے آئے۔ اِس سے یہ حقیقت اُس پر واضح ہوتی ہے کہ وہ کوئی شتربے مہار نہیں ہے اور اپنے اعمال کے صلے میں اُسے لازماً جزاو سزاسے دوچار ہونا ہے۔ قرآن نے اِسی کو یہاں مراد کو پہنچنے اور نامراد ہو جانے سے تعبیر کیاہے۔ اِس سے ظاہر ہے کہ خوف و طمع کا ایک احساس انسان کے اندر پیدا ہوتا اور اِس بات کا محرک بن جاتا ہے کہ اپنے طبعی رجحانات کے علی الرغم وہ اپنے اخلاق کو پاکیزہ بنائے۔ پھر جب وہ ایمان لے آتا ہے تو یہی احساس خدا سے متعلق ہو جاتا ہے۔ اُس وقت قرآن اُس سے مطالبہ کرتا ہے کہ اچھے اخلاق کی پابندی اور برے اخلاق سے اجتناب کے لیے اصل محرک اب صرف اُس خدا کی محبت، اُس کی رضا کی طلب اور اُس کی ناراضی کا خوف ہونا چاہیے جو عالم الغیب ہے، دانا ے راز ہے، واقف اسرار ہے اور وجود کی ہر حرکت اور قلب و نظر کی ہر جنبش سے پوری طرح با خبر ہے۔‘‘
(میزان 204)
- ۔ سورۂ کہف18: 107۔
- ۔سورۂ یونس 10: 9۔
- ۔سورۂ توبہ 9: 72۔
- ۔ سورۂ نسا 4: 57۔
- ۔ سورۂ دہر 76: 13۔
- ۔ سورۂ توبہ 9: 72۔
- ۔ سورۂ فرقان 25: 75۔
- ۔ سورۂ توبہ 9: 21۔
- ۔ سورۂ کہف 18: 31۔سورۂ حج 22: 23۔
- ۔ سورۂ یسین 36: 57۔
- ۔ سورۂ دہر 76: 21۔