عَنْ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: رُئِيَ عَلَى عَلِيٍّ بُرْدٌ كَانَ يُكْثِرُ لُبْسَهُ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ لَتُكْثِرُ لُبْسَ هَذَا الْبُرْدِ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَسَانِيهِ خَلِيلِي وَصَفِيِّي وَصَدِيقِي وَخَاصِّي عُمَرُ، إِنَّ عُمَرَ نَاصَحَ اللّٰهَ فَنَصَحَهُ اللّٰهُ، ثُمَّ بَكَى.(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31357)
’’ابو السَّفَر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی جاتی تھی، جسے وہ اکثر اوڑھا کرتے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا: آپ یہ چادر بہت زیادہ اوڑھتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: یہ چادر مجھے میرے دوست، میرے جگری یار، میرے صدیق اور میرے خاص رفیق عمر رضی اللہ عنہ نے پہنائی تھی۔ بے شک، عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے ساتھ اخلاص اور وفاداری اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے ساتھ بہترین معاملہ فرمایا۔پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔“
لغوی تشریح
’صَفِيِّ‘، یعنی چنا ہوا اور منتخب دوست۔
’خَاصِّ‘ کا مفہوم بھی یہی ہے، یعنی بہت قریبی اور رازدان دوست۔
تخریج اور اختلاف طرق
ابو السفر کے طریق سے یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:
الشریعۃ، آجری، رقم 1766۔ فضائل الصحابۃ، دارقطنی، رقم 12۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/363۔
ابن شبہ کے نقل کردہ طریق میں خلف بن حوشب نے اس واقعے کی تفصیل یوں بیان کی ہے:
عن خلف بن حوشب، قال: ادركت رجلًا من اصحاب عبد اللّٰه شيخًا كبيرًا، قال: خرج علينا علي رضي اللّٰه عنه من القصر وعليه بردة يمانية من هذه اليمانية الخمر، عتيق منها جيد، فجعل القوم يمسونه ويقولون: من اين لك هذا يا امير المؤمنين؟ قال: هذا كسانيه حبيبي عمر رضي اللّٰه عنه، فلما ذكر عمر رضي اللّٰه عنه قبع رأسه بالبُرد، ثم بكى حتى رحمه من كان ثم. (تاریخ المدینۃ، رقم 1498)
’’خلف بن حوشب کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے ایک بزرگ شخص کو پایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قصر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ ان کے جسم پر یمنی چادروں میں سے ایک عمدہ، مگر پرانی چادر تھی۔ لوگ اسے چھونے لگے اور کہنے لگے: اے امیرالمومنین، یہ چادر آپ کے پاس کہاں سے آئی؟سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مجھے میرے محبوب عمر رضی اللہ عنہ نے پہنائی تھی۔ جب انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو اپنا سر چادر میں چھپا لیا اور اتنا روئے کہ جو لوگ وہاں موجود تھے، انھیں ان پر ترس آنے لگا۔“
خلف بن حوشب نے ہی اس واقعے کو عمر بن شرحبیل سے بھی روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
خرج إلينا علي عليه السلام، وعليه برد، فقال: هذا برد كسانيه خليلي عمر بن الخطاب عليه السلام، ثم رفع البرد فقنع به رأسه، ثم بكى حتى ظننا أن نفسه خارجة من بين جنبيه.
(فضائل الصحابۃ، دارقطنی، رقم 14)
’’سیدنا علی علیہ السلام نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ ان کے جسم پر ایک چادر تھی۔ انھوں نے کہا: یہ وہ چادر ہے جو میرے خلیل عمر بن الخطاب علیہ السلام نے مجھے پہنائی تھی۔ پھر انھوں نے چادر اٹھا کر اپنے سر پر ڈال لی اور اتنا روئے کہ ہمیں گمان ہوا کہ ان کی جان ان کے پہلو سے نکل جائے گی۔“
ایک دوسرے راوی ابو مریم بیان کرتے ہیں:
رأيت على علي بن ابي طالب رضي اللّٰه عنه بردا خلقا قد انسحقت حواشيه، فقلت: يا امير المؤمنين، ان لي اليك حاجة. قال: وما هي؟ قلت: تطرح هذا البرد وتلبس غيره. قال: فقعد وطرح البرد على وجهه وجعل يبكي. فقلت: يا امير المؤمنين، لو علمت ان قولي يبلغ منك هذا ما قلته. فقال: ان هذا البرد كسانيه خليلي .قلت: ومن خليلك؟ قال: عمر رحمه اللّٰه، ان عمر عبد ناصح اللّٰه عز وجل فنصحه.
(الشریعۃ، آجری، رقم 1767)
’’میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک پرانی چادر دیکھی، جس کے کنارے گھس چکے تھے۔ میں نے عرض کی: اے امیر المومنین، مجھے آپ سے ایک درخواست کرنی ہے۔ فرمایا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ چادر اتار دیں اور کوئی نئی چادر پہن لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے، چادر کو اپنے چہرے پر ڈال لیا اور رونے لگے۔ میں نے کہا: اے امیرالمومنین، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میری بات آپ کو اتنا غم زدہ کرے گی تو میں کبھی نہ کہتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ چادر میرے مخلص دوست نے مجھے پہنائی تھی۔ میں نے پوچھا: آپ کا مخلص دوست کون تھا؟ فرمایا: عمر، اللہ ان پر رحم فرمائے۔ عمر اللہ کے مخلص اور وفادار بندے تھے تو اللہ عز و جل نے بھی ان کے ساتھ بہترین معاملہ فرمایا۔“
ابو مریم کا یہ اثر ابن شبہ نے بھی نقل کیا ہے (تاریخ المدینۃ، رقم 1496)۔
اس کے علاوہ، یہ واقعہ ابو حیان التیمی کی روایت سے بھی نقل ہوا ہے (الاخوان، ابن ابی الدنیا، رقم 219)۔
(10)
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ أَوَّاهًا حَلِيمًا، وَإِنَّ عُمَرَ نَاصَحَ اللّٰهَ فَنَصَحَهُ اللّٰهُ، وَقَدْ كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ نَرَى أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ يَعْنِي عَلَى لِسَانِ عُمَرَ، وَقَدْ كُنَّا نَرَى أَنَّ الشَّيْطَانَ يَهَابُهُ أَنْ يَأْمُرَهُ بِالْخَطِيئَةِ. (فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 600)
’’شعبی روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نہایت ہم درد اور بردبار تھے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے ساتھ اخلاص اور وفاداری کا معاملہ کیا تو اللہ نے بھی ان کے ساتھ خیر خواہی کی۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ یہ سمجھتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے فرشتہ کلام کرتا ہے، اور ہم یہ بھی سمجھتے تھے کہ شیطان انھیں گناہ کی تلقین کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔“
لغوی تشریح
’أَوَّاه‘، یعنی غم خوار اور ہم درد۔
’السَّكِينَةَ‘ لفظی مفہوم کے لحاظ سے ایسی چیز کو کہتے ہیں جو باعث تسکین ہو۔ بعض احادیث میں اس کا اطلاق فرشتوں کی جماعت یا ان سے ملتی جلتی ایک مخلوق پر کیا گیا ہے، جو قرآن کی تلاوت کیے جانے کے مقام پر نازل ہوتی ہے (بخاری، رقم3449) ۔ وہب بن منبہ سے اس کی تشریح یوں نقل ہوئی ہے: ’السكينة روح من اللّٰه تتكلم‘، یعنی سکینہ اللہ کی طرف سے مامور ایک روح ہے جو کلام کرتی ہے (تفسیر الطبری 5/328) ۔ زیر بحث اثر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی اسی مفہوم میں اسے استعمال کیا ہے۔ بعض دیگر آثار میں ’سكينة‘ کی جگہ ’ملک‘، یعنی فرشتے کے الفاظ آئے ہیں، جس سے مراد مزید واضح ہو جاتی ہے۔
شرح ووضاحت
سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ان اوصاف کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بھی ہوا ہے۔ چنانچہ غزوۂ بدر کے موقع پر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قیدیوں کو چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سیدنا ابراہیم اور سیدنا مسیح علیہما السلام کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے ان کی رقت قلبی اور نرم دلی کا ذکر یوں فرمایا:
ان اللّٰه ليلين قلوب رجال فيه حتى تكون الين من اللبن.
(احمد، رقم 3527)
’’اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں کچھ لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم کر دیتا ہے کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں۔“
اسی طرح ایک موقع پر سیدنا عمر کے متعلق فرمایا:
ان اللّٰه وضع الحق على لسان عمر يقول به. (ابوداؤد، رقم 2619)
’’اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے جو وہ بولتے رہتے ہیں۔“
اسی طرح ایک موقع پر انھیں مخاطب کر کے فرمایا:
ان الشيطان ليخاف منك يا عمر. (ترمذی، رقم 3781)
’’اے عمر، بے شک شیطان تم سے ڈرتا ہے۔“
تخریج اور اختلاف طرق
شعبی کے طریق سے یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی مروی ہے:
مجموع مصنفات ابی جعفر ابن البختری، رقم 92۔ امالی المحاملی، رقم 165، 166۔ امالی بن بشران، رقم 176۔
تاہم بیش تر طرق میں شعبی سے اس کا صرف ایک جملہ، یعنی ’إِنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ‘ منقول ہے (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31334۔ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، لالکائی، رقم 2390۔ حلیۃ الاولیاء، ابی نعیم، رقم 94، 6066۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1326۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/109)۔
یہی جملہ شعبی کے علاوہ ابو جحیفہ، زر بن حبیش اور طارق بن شہاب نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ کی روایت امام احمد نے نقل کی ہے (مسند احمد، رقم 821۔ السنۃ، عبد اللہ بن احمد، رقم 1254۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 45) ۔
زر بن حبیش کے طریق سے یہ جملہ الجامع، معمر بن راشد ، رقم 993، الشریعۃ، آجری، رقم 1184 اور فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 498 میں منقول ہے۔
طارق بن شہاب کی روایت میں یہ جملہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے:
كنا نتحدث ان ملكًا ينطق على لسان عمر.
(حلیۃ الاولیاء، ابی نعیم، رقم 93)
’’ ہم آپس میں یہ بات کیا کرتے تھے کہ عمر کی زبان سے ایک فرشتہ بولتا ہے۔“
اثر کا پہلا ٹکڑا: ’إِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ أَوَّاهًا حَلِيمًا، وَإِنَّ عُمَرَ نَاصَحَ اللّٰهَ فَنَصَحَهُ اللّٰهُ‘ ابو سریحہ کے طریق سے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، رقم 3104۔ فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 104، 168۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1805۔ انساب الاشراف، بلاذری 10/59۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 30/379)، جب کہ ابن عساکر نے اسے قیس بن ابی حازم کی سند سے بھی نقل کیا ہے۔
عمرو بن میمون نے یہ اثر ایک جملے کے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے:
قال: اذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر، ما كنا نبعد اصحاب محمد عليه السلام ان السكينة تنطق على لسان عمر.(المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 5653۔ حلیۃ الاولیاء، ابی نعیم، رقم 5537)
’’ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب صالحین کا ذکر ہو تو سب سے پہلے عمر کا نام آئے گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس کو بعید نہیں خیال کرتے تھے کہ عمر کی زبان سے فرشتہ کلام کرتا ہے۔ “
(11)
قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُنْتُ قَرِيبًا مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ حِينَ جَاءَهُ أَهْلُ نَجْرَانَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنْ كَانَ رَادًّا عَلَى عُمَرَ شَيْئًا فَالْيَوْمَ، قَالَ: فَسَلَّمُوا وَاصْطَفُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ بَعْضُهُمْ يَدَهُ فِي كُمِّهِ فَأَخْرَجَ كِتَابًا فَوَضَعَهُ فِي يَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، خَطُّكُ بِيَمِينِكَ وَإِمْلَاءُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ عَلَيْكَ، قَالَ: فَرَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ وَقَدْ جَرَتِ الدُّمُوعُ عَلَى خَدِّهِ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: يَا أَهْلَ نَجْرَانَ، إِنَّ هَذَا لَآخِرُ كِتَابٍ كَتَبْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، قَالُوا: فَأَعْطِنَا مَا فِيهِ، قَالَ: سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَاكَ، إِنَّ الَّذِي أَخَذَ مِنْكُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ لَمْ يَأْخُذْهُ لِنَفْسِهِ، إِنَّمَا أَخَذَهُ لِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ الَّذِي أَخَذَ مِنْكُمْ خَيْرًا مِمَّا أَعْطَاكُمْ، وَاللّٰهِ لَا أَرُدُّ شَيْئًا مِمَّا صَنَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ كَانَ رَشِيدَ الْأَمْرِ. (السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 18977)
’’عبد خیر کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب تھا جب اہلِ نجران ان کے پاس آئے۔ میں نے (دل میں) کہا کہ اگر علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کسی فیصلے کو رد کرنا ہے تو آج اس کا موقع ہے۔ اہلِ نجران نے سلام کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے صف باندھ کر بیٹھ گئے۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنی آستین میں ہاتھ ڈالا اور ایک تحریر نکال کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دے دی۔ انھوں نے کہا: اے امیر المومنین، یہ آپ کی تحریر ہے جو آپ نے اپنے ہاتھ سے لکھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو املا کرائی تھی۔ (عبد خیر کہتے ہیں): میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ پھر انھوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اے اہلِ نجران، یہ وہ آخری تحریر ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی تھی۔ اہل نجران نے کہا: جو اس میں لکھا ہے، وہ ہمیں دے دیجیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمھیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ جو علاقہ عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے لیا، وہ اپنے لیے نہیں لیا، بلکہ مسلمانوں کی جماعت کے لیے لیا اور جو تم سے لیا، وہ اس سے بہتر تھا جو انھوں نے تمھیں دیا ۔ اللہ کی قسم، میں عمر رضی اللہ عنہ کے کسی فیصلے کو رد نہیں کروں گا۔ بے شک، عمر رضی اللہ عنہ بہت درست فیصلے کرنے والے تھے۔“
شرح ووضاحت
1۔ اس کا پس منظر روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کو یہ تحریر لکھ کر دی تھی کہ انھیں اس علاقے سے نکالا نہیں جائے گا۔ یہ تحریر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قلم بند کی تھی۔ تاہم اہل نجران کی تعداد بہت بڑھ گئی اور چونکہ وہ جزیرۂ عرب کے اندر مقیم تھے، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فکرمند رہتے تھے کہ کہیں وہ مسلمانوں کے خلاف شورش نہ برپا کر دیں۔ پھر بعض اسباب سے ان کے درمیان آپس میں پھوٹ پڑ گئی، جس پر وہ خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ ہم باہمی اختلافات کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں یہاں سے کسی دوسرے علاقے میں منتقل کر دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور انھیں وہاں سے دوسری جگہ منتقل کر دیا۔ اس کے بعد اہل نجران نادم ہو کر واپس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہاکہ وہ انھیں واپس نجران میں آباد کر دیں، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پس منظر میں جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے عہد خلافت میں کوفہ منتقل ہوئے تو اہل نجران انھی کی لکھی ہوئی تحریر لے کر ان کے پاس آئے اور کہاکہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمیں واپس نجران بھیج دیں (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 36343)۔ زیربحث اثر میں اسی واقعے کا ذکر ہے۔
2۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہ تو معاہدے کی خلاف ورزی کی اور نہ نجران کا علاقہ اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے اہل نجران سے لیا۔ یہ سارا معاملہ خود اہل نجران کے مطالبے پر ہوا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی سیاسی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا، جس کے صائب اور درست ہونے میں انھیں کوئی شبہ نہیں ہے، اس لیے وہ اس فیصلے کو رد نہیں کریں گے۔
تخریج اور اختلاف طرق
عبد خیر کے طریق سے یہ واقعہ آجری نے بھی نقل کیا ہے (الشریعۃ، رقم 1210)۔
عبد خیر کے علاوہ اسے سالم بن ابی الجعد، ابو اسحاق السبیعی اور شعبی نے بھی روایت کیا ہے۔
سالم بن ابی الجعد کا اثر درج ذیل مصادر میں مروی ہے:
مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 36343۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم 18976۔ تاریخ دمشق، ابن عساکر 44/364۔ اخبار مکۃ، فاکہی، رقم 2857۔ الشریعۃ، آجری، رقم 1211۔ السنۃ، عبد اللہ بن احمد، رقم 1194۔ الابانۃ الکبریٰ، ابن بطۃ، رقم 73۔ الاموال، ابن زنجویہ، رقم 418۔
ابو اسحاق السبیعی کی روایت سے اسے حسب ذیل مصادر میں نقل کیا گیا ہے:
فضائل الصحابۃ، دارقطنی، رقم 1، 2۔ الحجۃ فی بیان المحجۃ، اصبہانی، رقم 345۔ تاریخ بغداد، خطیب 7/131۔
شعبی کا اثر درج ذیل مآخذ میں منقول ہے:
فضائل الصحابۃ، ابن حنبل، رقم 513۔ الخراج، یحییٰ بن آدم، رقم 31۔ الاموال، ابی عبید، رقم 273۔
بعض آثار میں اسی تناظر میں شعبی سے یہ جملہ بھی منقول ہے:
قال علي حين قدم الكوفة: ما قدمت لأحل عقدة شدها عمر.
(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31365)
’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوفہ آئے تو فرمایا کہ میں اس گرہ کو کھولنے کے لیے نہیں آیا جو عمر نے باندھی ہے۔“
(مزید دیکھیے: الاموال، ابی عبید، رقم 849۔ الخراج، یحییٰ بن آدم، رقم 32۔ الاموال، ابن زنجویہ، رقم 420۔ الابانۃ الکبریٰ، ابن بطۃ 8/383)