قرآن مجید نے جنت کی عورتوں کی جن صفات کا ذکر کیا ہے، ان میں ایک نمایاں وصف ان کا ’’حور‘‘ ہونا ہے۔ یہ لفظ ان خواتین کے لیے استعمال ہوا ہے جو کشادہ آنکھوں اور نکھری ہوئی رنگت کی حامل ہوں۔ عربی زبان میں ’’حور‘‘ اُن عورتوں کو کہا جاتا ہے جن کی آنکھوں میں سفیدی اور سیاہی کا دل کش امتزاج ہو اور جن کا حسن نگاہوں کو بھا لینے والا ہو۔
چنانچہ جوہری ’’الصحاح‘‘ میں لکھتے ہیں:
الحُورأيضًا: شدّةُ بياضِ العينِ في سوادِها في شدّةِ سوادِها.(202/3)
’’حور وہ عورت ہے جس کی آنکھ کی سفیدی بہت نمایاں ہو، اور سیاہی گہری ہو۔‘‘
یوں عربی زبان، تہذیب اور معاشرت میں ’’حور‘‘ کا تصور ایک صفاتی استعارے کے طور پر رائج تھا، جو گوری رنگت اور دل لبھانے والی آہو چشم عورتوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
اسی پس منظر میں قرآن نے ’’حور‘‘ کا ذکر کیا ہے، اور جن خواتین کو اس عنوان سے بیان کیا ہے، وہ کوئی اجنبی یا محض جنت کے لیے پیدا کی گئی مخلوق نہیں، بلکہ وہی نیک، باحیا اور صالح عورتیں ہیں جو دنیا میں ایمان و عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاریں گی اور اسی بنیاد پر جنت میں داخل ہوں گی۔
چنانچہ قرآن جنت کی رفاقت کو بھی ایمان و کردار کی بنیاد پر استوار کرتا ہے، نہ کہ کسی غیر متعلق یا اجنبی مخلوق پر۔
ارشاد فرمایا:
’’پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیےہوں گی اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔‘‘
(النور24: 26)
اسی حقیقت کو سورۂ یٰسین میں مزید وضاحت سے یوں بیان کیا:
’’ وہ اور اُن کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔‘‘ (36: 56)
اور اسی مفہوم کو سورۂ رعد میں یوں مزید کھول دیا:
’’ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، جن میں یہ داخل ہوں گے اور ان کے آبا و اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کی نسلیں بھی، جو نیک ہوں گی۔‘‘(13: 23)
یہ تمام آیات پوری صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ جنت میں رفاقت نہ خواہشات کی بنیاد پر ہے، نہ کسی نئی مخلوق کے ساتھ، بلکہ وہ ان نیک خواتین کے ساتھ ہوگی جو دنیا میں ایمان، پاکیزگی اور صالح عمل کی راہ پر قائم رہیں۔
جنت کا یہ نظام اسی حکمت کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے کہ وہاں ہر فرد کو اس کے روحانی مقام، باطنی مزاج اور اخلاقی ہم آہنگی کے مطابق ساتھی عطا کیا جائے۔ جنت کی رفاقت محض جسمانی نہیں، بلکہ صفاتی، روحانی اور باطنی مطابقت پر مبنی ہوگی، جو جنت کے ابدی سکون اور اطمینان کا اصل سرچشمہ ہے۔
تاہم، بعض لوگوں نے سورۂ رحمٰن کی اس آیت کوبنیاد بنا کر یہ تصور قائم کر لیا ہے کہ جنت کی ’’حوریں‘‘ کوئی الگ، غیر زمینی اور ماورائی مخلوق ہیں:
’’ جنھیں اُن سے پہلے کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہیں لگایا ہو گا۔‘‘(55: 56)
اگرچہ قرآن کا بیان بالکل واضح اور بے غبار ہے، لیکن منبروں پر سنائی جانے والی ضعیف روایات، من گھڑت حکایات اور واعظانہ تعبیرات کی بنیاد پر یہ مفروضہ قائم کر لیا گیا کہ چونکہ ان پر کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہیں رکھا، لہٰذا یہ لازماً کوئی نئی، اجنبی، ماورائی اور غیر انسانی مخلوق ہی ہوں گی۔
یوں ایک ایسا تصور پیدا ہوا جو نہ صرف قرآن کے سیاق و سباق سے ہٹا ہوا ہے، بلکہ قرآن کی مجموعی اسکیم سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
لیکن یہی تو قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ اپنی تمثیلات اور اشارات سے پیدا ہونے والی ہر امکانی غلط فہمی کی اندرونی وضاحت خود کرتا ہے، اور ایسی توضیح پیش کرتا ہے کہ کسی خارجی تعبیر یا بیرونی تاویل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
چنانچہ جہاں کہیں کوئی ابہام پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے، وہاں دوسری جگہ اسے رفع کر کے اصل مفہوم نکھار دیا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’نہ باطل اس کے آگے سے آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے۔‘‘(حٰم السجدہ 41: 42)
چنانچہ جب سورۂ رحمٰن کی آیت56 کو سورۂ واقعہ کی آیات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو قرآن کا اصل مدعا واضح ہو جاتا اور روایتی الجھنیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ ارشاد فرمایا:
اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا عُرُبًا اَتۡرَابًا. (56: 35-37)
’’ہم نے اُنھیں ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہو گا اور اُنھیں کنواری، دل ربا اور ہم سن بنا دیا ہو گا۔‘‘
یہ آیات دراصل جنت کے اُس خوش نصیب گروہ، یعنی ’’اصحاب الیمین‘‘ (دائیں والوں) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، جن کے لیے قرآن جنت کی عظیم نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان کی بیویوں کا خصوصی ذکر کرتا ہے۔
یہاں ’’ ہم نے اُنھیں ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہو گا‘‘ کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی وہی نیک، صالح اور باوفا خواتین ہیں جو دنیا میں ان کے ساتھ شریکِ حیات تھیں، جنھیں جنت میں ایک نئی تخلیقی شان، طہارت اور شباب کے ساتھ دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔
یہ بات درج ذیل نکات سے پوری وضاحت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے:
پہلا،’اَنۡشَاۡنٰہُنَّ‘ میں ضمیر انھی عورتوں کی طرف لوٹ رہی ہے جو پہلے سے موجود تھیں، یعنی وہ کوئی نئی مخلوق نہیں، بلکہ وہی سابقہ صالح خواتین ہیں۔
دوسرا، ’اِنۡشَآءً‘ کا لفظ واضح کرتا ہے کہ یہ ایک خلقِ جدید ہے — وہی ہستیاں نئے سانچے میں، نئے حسن اور نئی طہارت کے ساتھ۔
تیسرا، ’اَبْكَارًا‘، یعنی ’’کنواریاں‘‘ بنایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عورتیں دنیا میں ازدواجی زندگی گزار چکی تھیں اور جنت میں انھیں طہارت اور معصومیت کے ساتھ دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔ اگر یہ نئی مخلوق ہوتی تو ’’کنواری‘‘ بنانے کا ذکر بےمعنی ہوتا۔
چوتھا، ’’عُرُبًا اَتْرَابًا‘‘، یعنی ’’دل ربا اور ہم سن‘‘، ظاہر کرتا ہے کہ ان کی رفاقت صرف جسمانی نہیں، بلکہ جذباتی اور روحانی ہم آہنگی پر مبنی ہوگی۔
ان تمام نکات کی روشنی میں سورۂ رحمن کی ’لَمْ يَطْمِثْهُنَّ‘ والی آیت کو دیکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہاں ’’ہاتھ نہ لگایا جانا‘‘ دراصل اس خلقِ جدید کے بعد کی کامل طہارت کی علامت ہے۔
یہ ہے وہ واضح حقیقت جو خود قرآن نے ’’حور‘‘ کے بارے میں پیش کی ہے، اور جو ہر اضافی، افسانوی اور مافوق الفطرت تعبیر کی نفی کرتی ہے۔
البتہ یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جنت کے معاملات قرآن نے عموماً تمثیل اور تشبیہ کے انداز میں بیان کیے ہیں۔ خود قرآن واضح کرتا ہے کہ ان نعمتوں کا تعارف انسان کے فہم کو قریب لانے کے لیے ہے، نہ کہ ان کی نوعیت کو حتمی طور پر متعین کرنے کے لیے۔
چنانچہ ارشاد ہوا:
’’تمھارے لیے وہاں وہ سب کچھ ہو گا جو تمھارے جی چاہیں گے، اور جو تم طلب کرو گے، وہ بھی تمھارے لیے ہو گا۔‘‘(حٰم السجدہ 41: 31)
اسی بات کو سورۂ زخرف میں مزید وضاحت سے فرمایا:
’’اور وہاں وہ سب کچھ ہو گا جس کی خواہشیں نفس کریں گے اور آنکھیں جس سے لذت پائیں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔‘‘( 43: 71)
ان آیات سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جنت کی نعمتیں ہر فرد کی فطری خواہشات اور انفرادی مزاج کے مطابق ہوں گی۔
چنانچہ اگر کسی کے ذہن میں ’’حور‘‘ کا کوئی مخصوص تصور ہو تو اس کی تسکین کے لیے بھی وہاں گنجایش ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ بات قطعی ہے کہ قرآن نے ’’حور‘‘ کو کسی مستقل یا مافوق الفطرت مخلوق کے طور پر نہیں پیش کیا، بلکہ اسے ایک صفاتی اور تشبیہی نعمت کے طور پر بیان کیا ہے، جو جنت میں بندے کی پاکیزہ خواہشات اور روحانی میلانات کی تسکین کے لیے ہوگی، نہ کہ کسی اجنبی مخلوق کی صورت میں۔
قرآن کا اصل زور ’’حور‘‘ کی نوعیت پر نہیں، بلکہ اس حقیقت پر ہے کہ جنت کی نعمتیں ہر فرد کی فطرت، مزاج اور روحانی توازن کے عین مطابق ہوں گی اور یہی وہ پیمانہ ہے جس پر اہلِ جنت کو ابدی سکون اور اطمینان عطا کیا جائے گا۔