مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(10)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

ماہنامہ ’’الاصلاح‘‘ اگر چہ عام ڈگر سے ہٹ کر بالکل علمی جریدہ تھا اور یہ عوام الناس کے ہاں کوئی زیادہ مقبولیت حاصل نہ کر سکا۔ اس لیے بعض احباب نے مولانا اصلاحی کو مشورہ دیا کہ وہ عام دل چسپی کی حامل تحریریں بھی اس میں شامل کریں، لیکن انھوں نے رسالے کے مقاصد پر کوئی تصفیہ نہ کیا۔ ایسے ہی کسی مطالبے کا ذکر انھوں نے ایک شذرے میں کیا اور اس کا جواب یہ دیا :

’’عام طور پر لوگ ’’الاصلاح‘‘ کی اہمیت اور مذہبیت سے شاکی ہیں اور ناولوں اور افسانوں کی چاشنی ڈھونڈتے ہیں اور چونکہ یہ چیزیں اس میں نہیں پاتے، اس لیے اس میں اپنا روپیہ ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ اگر عام خواہش کی پیروی کی جائے تو ممکن ہے کہ اس کا حلقۂ اشاعت کچھ وسیع ہو جائے، لیکن یہ بات کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ ہم اس کے نتائج سے بے خبر نہیں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد پر بھروسا ہے۔‘‘ ( مئی 1937 ء)

البتہ عوامی سطح کے بجاے اس وقت کے علمی حلقوں میں جریدے کی بہت وقعت اور پذیرائی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس میں امام حمیدالدین فراہی کی تحریر شدہ تمام اردو تحریریں شائع ہوئیں۔پھر ان کی تفسیر ’’نظام القرآن ‘‘ کا اردو ترجمہ مولانا اصلاحی کے قلم سے شائع ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاصر علمی شخصیات کے مضامین بھی شائع ہوتے۔ ان شخصیات کی علمی راے سے اگرچہ مدیر کو اختلاف ہوتا، لیکن اگر بھیجی گئی تحریر میں زیر بحث مضمون کے مشمولات معیار پر پورا اترتے تو اسے شامل اشاعت کیا جاتا۔ مثلاً غلام احمد پرویز اور اسلم جیراج پوری کے مضامین بھی شائع ہوئے۔ بعض مستشرقین کی تحریروں کو بھی شامل اشاعت کیا گیا۔ پیش نظر یہ رہا کہ ہر وہ تحریر قابل اشاعت ہے، جو تقلیدی ذہن سے ہٹ کر خالص قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر لکھی گئی ہے اور اس میں کوئی قابل توجہ علمی نکتہ پیش کیا گیا ہے۔

جریدے کی اس آزاد پالیسی کو دیکھتے ہوئے ایسی نگارشات بھی اشاعت کے لیے بھیج دی جاتیں، جو کسی طور پر بھی علمی معیار پر نہ ہوتیں۔ اسی طرح ایسی کتب بھی تبصرے کے لیے پیش کی جاتیں ، جن کی کوئی علمی بنیاد نہ ہوتی۔ آزادی ِفکر کے نام سے ایسی نام نہاد علمی کاوشوں کو مولانا آڑے ہاتھوں لیتے۔ ہم یہاں مثال کے طور پر ایک تفسیر پر مولانا کا تبصرہ درج کرتے ہیں۔

خواجہ احمد الدین امرتسری نے ’’بیان للناس‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں ایک عربی تفسیر لکھی۔ یہ صاحب اس وقت کے معروف مصنف اسلم جیراج پوری اور مشہور شاعر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے استاد تھے۔ صرف قرآن ہی کو ماخذ اسلام سمجھتے اور سنت وحدیث کو اسلام کا ماخذ ماننے سے انکاری تھے۔ ان کی تفسیر پر مولانا اصلاحی نے بہ طور مدیر ’’الاصلاح‘‘ یہ تبصرہ کیا :

’’باقی رہی خواجہ صاحب(احمد الدین امرتسری) کی تفسیر(بیان للناس) تو اس کے متعلق ایک بزرگ کی بیان کی ہوئی ایک حکایت بار بار یاد آتی ہے اور آج با دل نخواستہ ہم اپنے ان دوستوں کو بھی سنا دینا چاہتے ہیں۔

ایک بزرگ کسی باورچی کی دکان سے کھانا کھایا کرتے تھے۔باورچی بد سلیقہ اور پھوہڑ تھا۔ روزانہ سالن میں دو چار مری ہوئی مکھیاں نکلتیں۔ وہ بیچارے خفا ہوتے اور سالن واپس کر دیتے۔ آئے روز کا یہی قصہ تھا۔ ایک دن انھوں نے دیکھا کہ سالن کا پورا پیالہ مری ہوئی مکھیوں سے بھرا ہوا ہے۔ انھوں نے صبر و شکر کر کے رکھ لیا۔ باورچی نے عرض کی، حضور جب سالن میں دو چار مکھیاں ہوتیں تب تو آپ خفا ہو جاتے اور پیالہ واپس کر دیتے اور آج کہ پورا پیالہ مکھیوں سے بھرا ہوا ہے، آپ کچھ نہیں بولے۔ آخر کیا بات ہے؟ فرمایا: جب دو چار مکھیاں ہوتی تھیں، اس توقع پر خفا ہوتا تھا کہ ممکن ہے تم کو کچھ دھیان ہو اور احتیاط کرو، لیکن اب جب کہ تم مکھیوں ہی کا قورمہ پکا لائے ہو تو تم سے کیا توقع اور کیا شکایت!

ہمارے محترم عرشی صاحب اور شفیع صاحب یقین کریں کہ بعینہٖ یہی صورت حال ہم کو پیش آئی۔ دو چار غلطیاں ہوں تو اس پر ٹوکیے اور اعتراض کیجیے۔ نہ تو غلطیوں کا ہونا مُستَعبد اور نہ اعتراض و نکتہ چینی کوئی گناہ، لیکن کوئی شخص غلطیوں ہی کو کیش و مشرب قرار دے لے تو اس سے کیا لڑیے، پس خواجہ صاحب کی تفسیر معتبر نہیں ہے۔ یہ ’’مکھیوں کا قورمہ‘‘ ہے،جو پڑھے لکھے کے پاس پہنچ گئی ہے، وہ سر پکڑ کے بیٹھ گیا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خواجہ صاحب کو معاف فرمائے اور آپ لوگوں کو توفیق دے کہ تفسیر نگاری کا مشغلہ چھوڑ کر کوئی اور دھندہ اختیار کریں۔‘‘(ماہنامہ الاصلاح، فروری 1938ء)

’’الاصلاح‘‘ کی اشاعت کے دوران میں بعض نام ور علمی اور ادبی شخصیات کا انتقال ہوا تو جریدے میں ان پر شان دار مقالات شائع ہوئے۔ ان شخصیات میں علامہ محمد اقبال اور مولانا شوکت علی سب سے نمایاں ہیں۔ علامہ اقبال پر ان کی لکھی گئی پوری تحریر انتہائی شان دار ہے، لیکن ہم اس کا اختتامی پیرا گراف یہاں نقل کر رہے ہیں :

’’جب مایوسیاں گھیر لیتی تھیں،ہم اقبال کے شعروں میں ایک نشانیِ امید دیکھتے تھے،جب تاریکیاں چھا جاتی تھیں، اقبال ہمارے لیے شعاع ہدایت بن کر چمکتے تھے۔ وہ روحوں کو گرما دیتے تھے، دلوں کو تڑپا دیتے تھے۔ ان کی زبان سے ہم مشرق کے ضمیر کی صدائیں سنتے تھے۔ ان کے ہندی نغموں میں حجاز کی لے مضطرب تھی۔ وہ زمین کے تھے، مگر ان کی پرواز آسمان تک تھی۔ وہ شاعر تھے، مگر ان کی شاعری میں علم نبوت کی روح کار فرما تھی۔ وہ دنیا داروں کے بھیس میں قلندر اور دیوانوں کے رنگ میں داناے راز تھے۔ خداوند !ہمارا یہ شاعر کہاں گیا !اس کی روح پر تیری بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔‘‘ (مئی 1938ء)

ایک غلط فہمی کا ازالہ

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ مولانا اصلاحی نے 1936ء میں دائرۂ حمیدیہ کے تحت ماہنامہ ’’الاصلاح‘‘ کا اجرا کیا اورنومبر 1938ء تک یہ جاری رہا، لیکن یہ ادھوری بات ہے۔ مکمل بات یہ ہے کہ انھوں نے سوا برس کے وقفے کے بعد اس کی دوبارہ اشاعت کا بیڑا اٹھایا۔ لیکن اب یہ ماہنامہ نہیں تھا، بلکہ ’’سہ ماہی‘‘ تھا۔ اس کا نام بھی ’’ الاصلاح‘‘ سے بدل کر ’’ اصلاح‘‘ رکھ دیا گیا۔ اس کے پہلے شمارے کےشذرےمیں مولانا لکھتے ہیں :

’’پورے سوا سال کے وقفے کے بعد مرحوم ’’الاصلاح ‘‘ کی جگہ یہ سہ ماہی( مجلہ) مدرسہ کے ہم دردوں اور دائرۂ حمیدیہ کے خیر خواہوں اور ’’الاصلاح‘‘ مرحوم کے قدر دانوں کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہے۔یہ ’’الاصلاح ‘‘ کے بجاے صرف ’’ اصلاح‘‘ ہے، یعنی ’’الاصلاح‘‘ پر علمیت اور عربیت کا جو بوجھ لدا ہوا تھا،( اس پرچے میں) اتار دیا گیا ہے۔ ’’الاصلاح‘‘ ملک کے تعلیم یافتہ طبقے کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس لیے انھی کے مذاق اور دل چسپی کی چیزیں ہوتی تھیں۔ یہ رسالہ عوام الناس کی خدمت کے لیے ہے۔ اس لیے اس میں کوئی چیز ایسی نہ ہوگی، جو کم استعداد دماغوں کے لیے بوجھ ہو۔ سیدھی سادھی باتیں ہوں گی، جن کو ہر شخص پڑھ سکے گا۔ پڑھ کر سمجھ سکے گا اور اگر چاہے گا تو ان سے فائدہ اٹھائے گا۔‘‘

اس سہ ماہی جریدے کی اشاعت سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا اس وقت کے ہنگامی حالات میں مسلمانوں کی علمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ کچھ عملی تجاویز بھی رکھتے تھے ۔ اس کا اظہار انھوں نے ’’اصلاح‘‘ کے پہلے شمارے میں ان الفاظ میں کیا :

’’ہمارا مقصد مسلمانوں کے اندر ایک ایسا انقلاب پیدا کرنا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ قرآنِ مجید ان کے تمام فکر و عمل کا مرکز قرار پائے۔ہم پورے یقین کے ساتھ سمجھ نہیں، بلکہ دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت ذہنی اور فکری جنگ جاری ہے ،اس جنگ میں مسلمان اپنے آپ کو کم زور پا رہے ہیں اور اس کم زوری کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس ہتھیار( قرآن مجید ) سے یہ لڑائی نہیں لڑ رہے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عنایت فرمایا تھا اور جو اس جنگ کے جیتنے کا واحد ہتھیار ہے اور اگر کوئی خدا کا بندہ اس کو ہاتھ میں لینے کی جرأت بھی کرتا ہے تو ایک عرصے کی غفلت اور دوری کے بعد مسلمان اس کے استعمال سے ایسے ناآشنا ہو چکے ہیں کہ بجاے اس کے کہ اس سے دشمن کو کچھ نقصان پہنچائیں، اپنی ہی تباہی میں کچھ اضافہ کر لیتے ہیں اور اس طرح ان لوگوں کا تمسّک بالکتاب دوسروں کے ترکِ کتاب سے بھی کچھ زیادہ مضر ہو جاتا ہے۔پس ہمارے پیشِ نظر یہ مقصد ہے کہ مسلمان قرآنِ کریم کی صحیح قدر و قیمت سے واقف ہو جائیں اور اس کو اپنی فکری اور عملی زندگی کے تمام شعبوں میں اس طرح استعمال کرنے لگیں، جس طرح ایک ماہر کارواں ایک آزمائے ہوئے ہتھیار کو استعمال کرتا ہے۔اس ارادے کو عمل میں لانے کے لیے ایک خاص اسکیم ہے، جس کے چند اجزا اس وقت بروئے کار آچکے ہیں۔

1۔سب سے پہلے مدرستہ الاصلاح ہے …

2۔دوسری طرف دائرۂ حمیدیہ ہے۔اس کے اہتمام میں قرآنی اور اسلامی علوم کے متعلق عربی اور اردو میں کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔

3۔تیسری طرف اس رسالے کے ذریعے سے ہم عام مسلمانوں کو بھی ان چیزوں کے قریب لانا چاہتے ہیں۔

مدرسہ اور دائرۂ حمیدیہ، دونوں کی جدوجہد کا تعلق صحیح اسلامی ذہن پیدا کرنے سے ہے۔اور اس طرح ان کا تعلق عام مسلمانوں سے بالواسطہ ہے۔ (اب )یہ رسالہ براہِ راست عام مسلمانوں کو مخاطب کرے گا اور ان ہی کی بولی میں ان کے سامنے ان کی زندگی کی اصل ضرورتیں اور ذمے داریاں بتائے گا۔‘‘

’’اصلاح‘‘ کی اشاعت کے خاتمے کا اعلان

1941 ء کے اختتام پر ’’اصلاح‘‘ کا آخری پرچہ شائع ہوا۔ اس کے شذرے میں مولانا لکھتے ہیں :

’’رسالہ ’’اصلاح‘‘ چند خاص مقاصد کو سامنے رکھ کر نکالا گیا تھا۔ان مقاصد کی ہماری نگاہ میں اتنی اہمیت تھی کہ ہم اس کو مالی نقصان اٹھا کر بھی قائم رکھنا چاہتے تھے، لیکن گذشتہ چند ماہ میں کاغذ کی قیمت میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے اور ہوتا جا رہا ہے کہ اب مدرسے کے لیے اس بار کا تحمل، بالخصوص موجودہ حالات میں بہت مشکل نظر آ رہا ہے( واضح رہے کہ یہ جنگ عظیم دوم کا زمانہ ہے اور پوری دنیا اس جنگ کے اثرات اپنے اوپر محسوس کر رہی تھی۔ )اور اگر یہ مشکل کسی طرح حل بھی ہو جائے تو کاغذ کی کم یابی، بلکہ نایابی کی شکل کا کوئی حل سمجھ میں نہیں آتا۔ خود اس پرچے کے لیے کاغذ بہت دشواری سے حاصل کیا جا سکا ہے۔ اندریں حالات ہم نہیں کہہ سکتے کہ ’’اصلاح‘‘ کا آیندہ پرچہ شائع ہوگا کہ نہیں۔بہرحال جہاں تک ہمارے بس میں ہے، ہم کاغذ کی فراہمی کے لیے حتی الوسع پوری کوشش کریں گے اور اگر اس میں کامیابی حاصل ہوئی تو آیندہ پرچہ وقت پر شائع ہوگا، ورنہ ناظرین ہمیں مجبور خیال کریں اور آیندہ پرچے کا انتظار نہ فرمائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جن لوگوں کا ’’اصلاح کے ساتھ تعلق ہے، ان کے لیے یہ اطلاع رنجیدہ ثابت ہوگی۔ لیکن کیا کیا جائے،جب حالات بالکل قابو سے باہر ہو جائیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم ناظرین کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ حالات سے مجبور ہو کر ’’اصلاح‘‘ کے بند کیے جانے کا فیصلہ کرنا پڑا تو یہ فیصلہ اسی وقت تک باقی رہے گا جب تک مجبور کن حالات موجود ہیں۔جس وقت بھی حالات میں تبدیلی یا تخفیف نمودار ہو گئی، ان شاءاللہ پرچہ دوبارہ جاری کر دیا جائے گا۔ ‘‘

مولانا نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا، وہی ہوا اور اگلے پرچے کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ اور یوں یہ سلسلہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ نہ صرف ’’اصلاح‘‘ کی اشاعت بند ہوئی، اس کے ساتھ مولانا کی زندگی میں ایک اہم موڑ بھی آگیا۔ یہ موڑ تھا مدرستہ الاصلاح سے رخصتی اور جماعت اسلامی میں شمولیت کا۔ مولانا کے اس فیصلے کو ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی نے ایک دوسرا رنگ دیا ہے، جو حقیقت کے بالکل خلاف ہے ۔ وہ مولانا اصلاحی کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’مولانا اصلاحی کی زندگی میں صحافت کے بعد سیاست در آئی ۔ اس کا عکس ’’الاصلاح‘‘ کے صفحات میں بھی نظر آتا ہے ۔ مولانا فراہی زندہ ہوتے تو فطری میلان کے باوجود انھیں کسی اور طرف جانے سے روکتے ۔ سنۃ اللہ فی الارض کی طرح حالات و واقعات کی اپنی ایک کارفرمائی ہوتی ہے ۔ مولانا مودودی سرائے میر آئے ۔ مولانا اصلاحی جماعت اسلامی کے ابتدائی اجتماع میں شریک ہوئے ۔پھر وہ جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے ۔ کچھ دنوں بعد استاد کی امانتوں کو چھوڑ کر بچوں سمیت پٹھان کوٹ سدھارے ۔ ان کی پہلی بیوی کا بہت پہلے انتقال ہو چکا تھا۔ مولانا مودودی نے پٹھان کوٹ کے ایک رئیس خاندان میں ان کی دوسری شادی کرا دی ۔ برصغیر کی تقسیم کا واقعہ پیش آیا تو وہ پٹھان کوٹ میں تھے ۔ مولانا مودودی کی امارت میں قائم جماعت کے ساتھ وہ بھی پاکستان منتقل ہو گئے ، جس کے بعد وہ اپنے ماضی سے اور بھی دور ہو گئے۔ اور پیچھے چھوڑی ہوئی یاد گاروں سے اس طرح کٹ گئے کہ ان سے دوبارہ ملنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔‘‘ (ذکر فراہی 515)

ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی کا یہ بیان متعدد غلط فہمیوں اور ادھوری معلومات کی وجہ سے بہت گم راہ کن ہے ۔

[باقی]

خیال و خامہ