مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(11)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

مولانا اصلاحی کی جماعت اسلامی میں شمولیت کاواقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

مولانا فرماتے ہیں کہ یہ ایک حادثہ تھا۔ مگر وہ 1941ء سے لے کر 1958ء تک جماعت کا سرگرم حصہ رہے۔ اس دوران میں وہ زیادہ تر جماعت کے نائب امیر کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ جوانی کے سترہ برس انھوں نے جماعت پر نچھاور کردیے۔ بظاہر یہ بہت عجیب معلوم ہوتا ہے۔ ایک حادثے پر ان کی زندگی کے سترہ برس اور وہ بھی جوانی کا زمانہ خرچ ہو گیا۔ مولانا نے اپنی زندگی کے اس حصے پر بہت گفتگو کی ہے۔ اس موضوع پر خاص طور پر اپنا موقف ریکارڈ کرایا۔ اس پر مختلف انٹرویوز میں بھی تبصرے کیے۔ ہم ان کی انھیں یادداشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے، جنھیں انھوں نے اپنی سوانح عمری کے لیے بطور خاص ریکارڈ کرایا تھا، اس واقعے کا تین جہتوں سے مطالعہ کریں گے۔ اس سے یہ بات آشکار ہوگی کہ وہ اسے ’’ حادثہ‘‘ کیوں قرار دیتے ہیں اور اس پر ایک طرح سے معذرت خواہانہ رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔

مولانا مودودی پر تنقید اور ان کااتفاق

یہ ’’الاصلاح‘‘ کے زمانے(39-1938ء) کی بات ہے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اپنے پرچے ’’ ترجمان القرآن‘‘ میں ہندستان میں مسئلۂ قومیت کو موضوع بنایا۔ یاد رہے، یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا جنگ عظیم دوم کی لپیٹ میں آچکی تھی۔ کانگرس ایک ملک گیر سیاسی جماعت کا روپ دھار چکی تھی۔ وہ انگریزوں سے ہندستان کی آزادی کا مطالبہ کر چکی تھی۔ اس مطالبے میں مسلمان بڑی تیزی سے دو حصوں میں تقسیم ہورہے تھے۔ کچھ سمجھتے تھے کہ انھیں کانگرس کا ساتھ دینا چاہیے اور کچھ انھیں سمجھاتے کہ انھیں بطور مسلمان اپنا تشخص علیحدہ رکھنا چاہیے اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر پہلے خود کو متحد کرنا چاہیے۔ اس صورت حال پر مولانا اصلاحی نے تبصرہ کرتے ہوئے جو کچھ کہا، وہ کم و بیش انھی کے الفاظ میں اس طرح ہے :

’’جماعت اسلامی کے قیام سے قبل جب مولانا مودودی صاحب حیدر آباد سے پرچہ نکال رہے تھے، تو انھوں نے اس میں مولانا حسین احمد مدنی کے نظریہ متحدہ قومیت پر تنقید شروع کی۔ میں نے آغاز میں اس تنقید سے اتفاق کیا اور مودودی صاحب کے اسلوب سے بھی متاثر ہوا… اب مودودی صاحب جب لکھتے تھے تو پڑھا لکھا متاثر تو ہوتا ہی تھا۔ لیکن وہ جلد ہی مسلم لیگ کے نقطۂ نظر کی حمایت میں لکھنے لگے۔ یہاں تک کہ ترنگ میں آ کر یہ لکھ گئے کہ ایک طرف وہ حضرات ہیں جو علما کہلاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ متحدہ قومیت کا پر چار کر رہے ہیں اور دوسری طرف اللہ کا ایک بندہ ہے جو ’کونوا عباد اللّٰہ‘ کی دعوت دے رہا ہے۔ یعنی قائد اعظم صاحب ! یہ جب انھوں نے لکھا تو مجھے بہت سخت نا پسند ہوا۔ میں نے اس کے جواب میں ایک مضمون لکھا… واقعہ تو یہ ہے کہ میرے سارے مضامین اس زمانے میں مولانا مودودی ہی کے بارے میں ہوتے تھے، لیکن پبلک میں میرا یہ مضمون زیادہ پڑھا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جو کاو ش آپ متحدہ قومیت کے حوالے سے کر رہے ہیں وہ قابل تعریف ہے اور میں اسے پسند کرتا ہوں، لیکن جو بات آپ ’’قائد اعظم‘‘ کے منہ میں ڈال رہے ہیں وہ ان کے اوپر چست آتی ہے اور نہ آپ کے لیے اسے کہنا موزوں ہے۔ جناح صاحب ہر گز ’ کونو ا عباد اللّٰہ‘(اللہ کے بندے بن جاؤ)کی دعوت نہیں دے رہے۔ وہ دعوت دے رہے ہیں کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ دونوں میں، اگر آپ پڑھے لکھے ہیں تو کتنا فرق ہے، ضرور جانتے ہوں گے… اور لوگوں نے بھی اس فرق کو سمجھا۔

مگر اس سے ’’ ترجمان القرآن‘‘ اور ’’الاصلاح‘‘ میں ایک بحث چھڑ گئی۔بحث میں بات اور نکھر کر سامنے آئی کہ مودودی صاحب کم زور مقام پر کھڑے ہیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ میری تنقیدسے سید سلیمان ندوی اور مولانا منظور نعمانی نے بھی اتفاق کیا… میں نے لکھا کہ متحدہ قومیت کے بارے میں آپ یہ بھی لکھ دیں کہ یہ کفر ہے تو مجھے اعتراض نہیں، لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ جناح صاحب بھی یہی کہتے ہیں تو سراسر غلط کہتے ہیں۔وہ لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلا کر انھیں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف بلانا نہیں،اس کی طرف ان کا کوئی اشارہ بھی نہیں، مراد بھی نہیں، بلکہ وہ صرف عصبیت کی بنیاد پرمسلمانوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دے رہے ہیں، جو غلط بھی ہو سکتی ہے اور درست بھی، لیکن وہ کوئی دینی دعوت نہیں۔ اب یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کی وہ زیادہ دیر تک مخالفت کرتے۔ میری حمایت میں جو لوگ تھے، وہ مولانا مودودی کے بھی احباب میں شامل تھے۔انھوں نے مولانا مودودی کو سمجھایا۔ اس پر انھوں نے اپنی راے بدلی۔ مجھے بہت ہی مہذب لہجے میں ایک خط لکھا۔ ا نھوں نے و اضح کیا کہ وہ وہی کچھ سمجھتے ہیں جو میں سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے وہ مضامین لکھے جو بعد میں ان کی کتاب ’’سیاسی کشمکش ‘‘ کے تیسرے حصے میں شامل ہیں۔اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انھوں نے وہی کچھ لکھا اور لب و لہجہ بدل کر لکھا جومیں انھیں سمجھانا چاہتا تھا۔ ‘‘

مولانا منظور نعمانی کا کردار

اسی بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا اصلاحی مزید فرماتے ہیں:

’’اس کے بعد جب جماعت اسلامی قائم ہونے لگی تو مولانا منظور نعمانی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ دیکھو، اب تو تمھاری اور مودودی صاحب کی صلح ہو گئی ہے۔ اب اگر کوئی اسی لائن پر جو تم نے کہی ہے، کوئی جماعت بنی تو کیا تم اس میں شریک ہو گے ؟ میں نے کہا کہ مولانا ! میں اس مزاج کا آدمی نہیں ہوں کہ جماعتوں میں شریک ہوتا پھروں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لیے پیدا کیا ہے وہ کچھ اور ہے۔ میں وہی کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں مولانا ( حمیدالدین فراہی ) کی کتابوں کو مکمل کرنا اور ان کا ترجمہ کرنا چاہتا ہوں۔ شاید یہاں( مدرستہ الاصلاح ) میں مجھے اس کا موقع مل جائے۔ ہاں البتہ جن خطوط کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان پر اگر کوئی جماعت بنی تو میری دعائیں اور ہمدردیاں اس کے ساتھ ہوں گی۔ بس اس سے زیادہ نہیں۔ شمولیت کا وعدہ نہیں کر سکتا۔ ‘‘

مولانا مزید بتاتے ہیں :

’’ میرے اس موقف کے باوجود مولانا منظور نعمانی مُصر ہوگئے۔ مجھے منانے لگے کہ چلو تم وہی کرو جو کہتے ہو لیکن تمھاری مولانا مودودی سے ایک ملاقات ضرور ہونی چاہیے…سمجھ گئے آپ… یہ کہا انھوں نے مجھے !‘‘

مولانا مودودی سے لاہور میں ملاقات

اس کے بعد مولانا بتاتے ہیں کہ مولانا منظور نعمانی مجھے گھسیٹ کے لاہور لے گئے۔ یعنی مولانا اس ملاقات کے لیے بادل نخواستہ گئے۔ وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ یہ ایک باقاعدہ اجتماع ہے اور خاصے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ یہ اجتماع دو تین دن جاری رہا۔ یہ اگست 1941 ءمیں ہونے والے جماعت کے تاسیسی جلسے سے پہلے منعقد ہوا تھا۔ اجتماع کی اہم تفصیل مولانا اصلاحی کے الفاظ میں کچھ اس طرح ہے :

’’اس میں مولانا مودودی نے اپنی تفسیر کی پہلی قسط سنائی۔ وہ اس تفسیر کا آغاز کر چکے تھے۔ لوگوں نے معلوم نہیں کیا راے دی۔ مجھ سے میری راے لی تو میں نے کہا کہ مولانا آپ یہ کام نہ کریں۔ آپ اشخاص تیار کریں… سن لیا آپ نے ؟ میں نے واضح طور پر کہا کہ آپ یہ کام نہ کریں۔ اشخاص تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تفسیر لکھنے کا کام میں کر لوں گا۔یہ بات ان کو کھٹکی۔ مگر میں نے کہہ دیا کہ آپ تفسیر نہ لکھیں۔ اس کے بعد کسی وقت مجھے وہاں تقریر کرنے کو کہا گیا۔ میں نے برملا کہا کہ جس کام کا آپ منصوبہ بنا رہے ہیں، یہ بہت مبارک کام ہے۔ لیکن اس کی تیاری کے بہت مراحل ہیں اور یہ بہت تیاری مانگتا ہے۔ ‘‘

مولانا کے کہنے کا مطلب تھا کہ آپ لوگوں کو دین کے مطالبات پورے کرنے کے لیے جو جماعت بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، وہ بہت نیک کام ہے، لیکن ان کی نظر میں اس کے لیے جس تیاری کی ضرورت تھی، وہ ابھی مفقود تھی۔یہ مولانا اصلاحی کی مولانا مودودی کے ساتھ پہلی تفصیلی ملاقات تھی۔

اجتماع سے واپس آئے تو مولانا نعمانی نے ان سے راے پوچھی کہ آپ نے مولانا مودودی کو کیسا پایا؟ اس موقع پر مولانا نے اپنی راے دینے سے بہت گریز کیا۔ انھی کے الفاظ ملاحظہ ہوں :

’’ انھوں نے پوچھا تو میں نے اِدھر منہ کر لیا۔ انھوں نے اِدھر سے پوچھا تو میں نے اُدھر منہ کر لیا۔ وہ بہت مُصر ہوئے تو میں نے کہہ دیا۔ میں نے جو فقرہ کہا، وہ انھوں نے اس وقت افشا کیا جب میں نے مولویوں کے مقابلے میں مولانا مودودی کا دفاع کیا تھا۔ اور مولانا نعمانی نے اپنے رسالے میں مجھ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ وہ مولانا مودودی کو یہ کہتا تھا۔اور اب سن لیں کہ میں نے مولانا مودودی کو اگر ( غلام احمد )پرویز جیسا کہا تھا تو اس وقت کے پرویز جیسا کہا تھا نہ کہ بعد کے زمانے کے پرویز جیسا۔اس زمانے میں ان کے مضامین اچھے ہوتے تھے اور بہت اصلاحی ہوتے تھے۔’’معارف‘‘ ( جس کے ایڈیٹر مولانا منظور نعمانی تھے ) میں چھپتے تھے۔ میرے رسالے (الاصلاح ) میں چھپتے تھے۔ اور رسالوں میں چھپتے تھے۔ میرا مطلب تھا کہ بس یونہی (دانش وارانہ ) لکھتے تھے نہ کہ (عالمانہ ) بس اچھا لکھتے تھے۔‘‘

’’ خیر اس کے بعد مولانا نعمانی بریلی چلے گئے اور میں اعظم گڑھ۔ چند دنوں کے بعد جماعت اسلامی قائم کرنے کے لیے باقاعدہ اجتماع منعقد ہونے کا اعلان ہوا۔ مجھے بلایا گیا۔ میں نہیں گیا… سن لیا آپ نے… میں نہیں گیا۔ مگر اجتماع ہوا۔ جماعت قائم ہوگئی۔ اعلان ہوا کہ فلاں فلاں اس میں شریک تھے۔اس میں میرا نام بھی شامل تھا۔ اب یہ اخبار میں چھپا تو سید (سلیمان ندوی) صاحب نے بھی پڑھا۔ اب وہ تو مجھے اپنی جنگ کا سپہ سالار سمجھتے تھے۔ انھوں نے مجھے بلا بھیجا۔ میں گیا تو کہنے لگے کہ تم تو اجتماع میں گئے نہیں، پھر تمھارا نام کیسے آگیا؟میں نے کہا کہ دیکھ لیں، بس آگیا۔ وہ کہنے لگے کہ اس کی تردید کر دیں۔ میں نے کہا جانے دیں، مناسب نہیں لگتا۔ انھوں نے کہا کہ آپ نہیں کرتے تو میں کر دیتا ہوں۔ میں نے کہا: کیوں کرتے ہیں تردید، نیکی کاکام ہی کریں گے نا، جانے دیں۔‘‘

’’ اور میں سچ کہتا ہوں کہ صرف اس خیال سے تردید نہ کی کہ مولانا مودودی اور مولانا نعمانی نے یہ اعتماد کرکے میرا نام لکھاہوگا کہ یہ انکار نہیں کرے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مولانا نعمانی نے ان کو اطمینان دلایا ہو گا کہ وہ تردید نہیں کرے گا۔ دراصل میرے اور مولانا نعمانی کے درمیان ایسے ہی برادرانہ تعلقات تھے۔ سمجھ گئے آپ ! اس طرح میرا نام بانیان میں آگیا اور میں جماعت اسلامی کا رکن رکین بن گیا دراں حالیکہ نہ میں نے کسی سے درخواست کی نہ کوئی فارم بھرا نہ کسی کے ہاتھ پر بیعت کی نہ کسی سے کوئی عہد کیا لیکن یہ سارے مناصب عالیہ مجھ کو حاصل ہوگئے۔‘‘

پچاس ہزار کا معاملہ

جب مولانا اصلاحی جماعت اسلامی کے رکن قرار پاگئے،اس وقت تک ’’الاصلاح‘‘ بند ہو چکا تھا اور ایک وقفے کے بعد ’’اصلاح ‘‘ جاری ہو چکا تھا۔ اور ’’الاصلاح‘‘ کی بندش وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ مدرسے کے معاملات میں اختلافات کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ اختلاف براہ راست مولانا اصلاحی سے تھے۔ مولانا نے اس کی تفصیل نہیں بتائی صرف اشاروں کنایوں میں یہ بات کی :

’’میں نے ہمیشہ ذاتی حیثیت ہی سے کام کیا۔ ان لوگوں نے سازش کی، پرچہ بند کرا دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح کام نہیں ہو گا، لیکن میرے لیے ذاتی وسائل سے پرچہ جاری کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔‘‘

لگتا ہے کہ مولانا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں نے ’’اصلاح ‘‘ ذاتی حیثیت سے جاری کر دیا، لیکن وہ جنگ کے باعث کاغذ کی کم یابی کی وجہ سے بند ہو گیا۔ اس کے بعد کے واقعات کے بارے میں مولانا بتاتے ہیں:

’’ اس کے بعد ڈاکٹر حفیظ اللہ مرحوم نے مجھے خط لکھا کہ میں اعظم گڑھ کے بینک میں تمھارے نام سے پچاس ہزار روپے جمع کرا رہا ہوں۔ بینک سے جو کاغذات آئیں گے اس پر دستخط کر دیجیے گا۔ میں نے انھیں جواب لکھا کہ میں اتنی بھاری ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔ آپ بہت زیادہ بوجھ میرے اوپر ڈال رہے ہیں۔اس کے بجاے آپ ایک ٹرسٹ بنادیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ مناسب نہیں ہے۔میں ٹرسٹ نہیں بناؤں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی تمھیں ذرہ بھر بھی تنگ کرے، لیکن یہ تمھیں بہت تنگ کریں گے۔ اس لیے ٹرسٹ کی ضرورت نہیں ہے تم ان پیسوں سے جو بھی دین کا کام کرنا چاہتے ہو، کر سکتے ہو۔ یوں انھوں نے یہ رقم میرے نام کرا دی۔ اور اب صورت حال یہ تھی کہ میں جماعت اسلامی کا رکن تھا، رسالہ وغیرہ بند ہو چکا تھا۔ مدرسے میں میرے لیے حالات ناخوش گوار تھے، اگرچہ اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میرے ذاتی حیثیت میں کسی سے کوئی اختلاف نہیں تھے۔ ان حالات میں مجھے مولانا مودودی کا پیغام آیا کہ آپ میرے پاس آجائیں۔ ‘‘

[باقی]

خیال و خامہ