(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(12)
]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
مولانا مودودی ان دنوں پٹھان کوٹ میں تھے اور ان کا مذکورہ پیغام پٹھان کوٹ ہی میں آنے کے لیے تھا۔ وہاں دارالسلام کے نام سے جماعت اسلامی کا وسیع و عریض مرکز تھا۔
اس مرکز کی تاریخ یہ ہے کہ یہ زمین ایک مُخَّیر شخص چو د ھری نیاز علی ریٹائرڈ ایس ڈی او انہا ر کی ملکیت تھی۔ وہ علامہ اقبال سے بہت متاثر تھے۔ انھی کے نَہج پر وہ اسلام کی علمی تشکیلِ جدید میں تعاون کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے اپنی ستر ایکڑ زمین اس کے لیے وقف کر دی تھی۔ اس پر ایک مسجد، تعلیم گاہ اور ہاسٹل کی طرز پر رہایشی عمارتیں تعمیر کرادیں۔علامہ اقبال سے کہا کہ وہ یہاں پر علما کو سہولتیں مہیا کریں اور جو چاہتے ہیں، وہ کام کریں۔
چودھری نیاز صاحب سے علامہ اقبال نے کہا کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی اس کام کے لیے بہت موزوں ہیں۔ یوں ان بزرگوں کے درمیان گفت و شنید کے بعد، مارچ1938ء میں مولانا مودودی حیدر آباد سے پٹھان کوٹ آگئے۔ اب یہ جماعت اسلامی کا مرکز تھا اور اسے مولانا مودودی نے ’دارالسلام‘ کا نام دیا۔ یہ بستی نہر کے کنارے درختوں میں گھری ہوئی ایک دل فریب دیہاتی منظر پیش کرتی تھی۔البتہ، یہاں شہری سہولتوں کا نشان تک نہ تھا۔ نہ بجلی، نہ ذرائع آمدورفت۔ اور مولانا مودودی نے مولانا اصلاحی کو یہاں آنے کی دعوت دی تھی۔
یقیناً اس کے لیے دونوں بزرگوں میں خط کتابت رہی ہوگی، لیکن ہمارے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ خود مولانا اصلاحی کے ہاں اس طرح کا کوئی اہتمام نہ تھا کہ وہ لوگوں کے خطوط جمع کرتے۔ اس حوالے سے وہ بہت قلندرانہ مزاج رکھتے تھے۔انھوں نے کم ہی کسی کے خط کا ریکارڈ رکھا تھا، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا مودودی کے خطوط کے متعدد مجموعے چھپ چکے ہیں، لیکن مولانا اصلاحی کے نام خاص اس معاملے میں ان کاکوئی خط دستیاب نہیں ہو سکا۔
پٹھان کوٹ جانے میں تحفظات
مولانا اصلاحی اس دعوت کے حوالے سے فرماتے ہیں :
’’مولانا مودودی صاحب کے لمبے لمبے خطوط آنا شروع ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ یہاں مدرسۃ الاصلاح میں جو کام بھی کریں گے، وہ بہت محدود پیمانے پر ہو گا، جب کہ مسلمانوں کو اس وقت آپ کے پورے کام کی ضرورت ہے۔ آپ کے لیے یہی مناسب ہے کہ یہاں منتقل ہونے کی کوشش کریں۔ اور اس کے بعد انھوں نے دلائل دینے شروع کر دیے۔ اب دلائل دینے کے معاملے میں تو ان کی قوت استدلال کو میں مانتا ہوں۔ ان کے جواب میں،میں مختصر طریقے سے لکھ دیتا کہ یہ مشکل ہے، یہ مشکل ہے۔ مدرسے کے مجھ پر بہت احسانات ہیں۔ میں اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ مگر وہ مجھے احساس دلاتے اور واقعہ ہے کہ میں بھی سوچتا کہ یہاں کے حالات تو کام کے لیے بالکل ساز گار نہیں۔ سمجھ گئے آپ ؟ یہاں جو لوگ کرتا دھرتا تھے مدرسے میں،وہ میرے کسی کام کے نہیں تھے۔ کچھ تو مجھ سے مخلص ہی نہیں تھے۔ ایک اورخیال یہ بھی رہا کہ اگر یہاں مدرسے میں کوئی کام شروع بھی کیا تو دارالمصنفین سے رقابت ہونا لازمی ہے۔ میں سید ( سلیمان ندوی )صاحب سے اس حوالے سے یہ اندیشہ محسوس کرتا تھا۔ ان کی طبیعت میں تھی یہ بات … لیکن اس کے باوجود میں نے مودودی صاحب کو جواب دیا کہ محدود کام ہوگا تو کیا مضائقہ ہے؟ میں یہ محدود کام ہی تو کرنا چاہتا ہوں۔ یعنی مولانا فراہی کی فکر کو مرتب کرنا چاہتا ہوں۔ اور یہ کوئی عوامی کام تو ہے نہیں اور مجھے اس کی کوئی پروا بھی نہیں تھی، لیکن واقعہ یہ ہے کہ میں دل سے مدرسے کی فضا کے باعث خوش نہیں تھا۔ میں نے آخر کہہ دیا کہ مجھے غور کرنے دیں۔ ‘‘
معلوم ہوتا ہے کہ مولانا اصلاحی اصولی طور پر تو پٹھان کوٹ جانے پر راضی ہو چکے تھے، مگر اب اس فیصلے میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کو دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بچوں کے حوالے سے کہا :
’’ میں اگر بہت دور چلا گیا تو بچے اس دوری کو محسوس کریں گے۔ اگر چہ اس وقت وہ اپنی پھوپھیوں کے ساتھ مانوس ہو چکے ہیں، لیکن میرا دور جانا ان کے لیے مناسب نہ ہو گا۔ ‘‘
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ 1944 ءمیں رمضان المبارک کی 18 تاریخ کو مولانا اصلاحی کی پہلی اہلیہ محترمہ رابعہ وفات پاچکی تھیں۔اور اس سانحہ کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ ان کے کم عمر بچوں کو نگہداشت کی ضرورت تھی۔ یاد رہے، مولانا کی پہلی شادی 1923ء میں اپنے عزیزوں ہی کے ہاں ہوئی تھی اور اُن سے ان کے پانچ بچے تھے۔ مولانا مودودی نے اس رکاوٹ کو تسلیم کیا اور مولانا کو مشورہ دیا کہ آپ بچوں سمیت یہاں منتقل ہو جائیں۔ان کے لیے تعلیم و تربیت کا مناسب بندوبست ہو جائے گا۔ آپ ہر گز تَردُد نہ کریں۔ جلد فیصلہ کریں۔ کام بہت پھیل گیا ہے۔ یہ میرے اکیلے کا کام نہیں رہ گیا۔جب مولانا مودودی نے ذاتی طور پر اپنی مدد کے لیے انھیں آنے کی درخواست کی تو مولانا نے ہتھیار ڈال دیے اور فیصلہ مولانا مودودی کے حق میں کر دیا۔ اس سارے واقعے کو ان الفاظ میں سمیٹ دیا:
’’بالآخر یہی ہوا… میں وہاں سے سفر کرنے روانہ ہو گیا…چھوڑ دیا میں نے… پٹھان کوٹ آ گیا۔ ‘‘
پٹھان کوٹ منتقل ہونے کی اصل وجہ
یہاں ہم رک کر جائزہ لیتے ہیں کہ:
٭ کیا یہ فیصلہ محض مروت میں ہوا؟
٭کیا مولانا اصلاحی نظریاتی طور پر مولانا مودودی سے اس قدر متفق ہو چکے تھے کہ یہ ان کی دینی ذمہ داری بن چکی تھی کہ پٹھان کوٹ جا کر غلبۂ دین کی اس تحریک کا دست و بازو بنیں۔ اور ’’مدرسۃ الاصلاح میں ایک لمحہ بھی گزارنا خلاف حکمت تھا۔‘‘؟
٭ مولانا اصلاحی اصلاً ایک عالم دین تھے۔ ان کے پیش نظر پہلے اپنے استاد کے غیر مطبوعہ کام کو اردو اور عربی، دونوں زبانوں میں شائع کرنا تھا۔ انھیں یہ احساس تھا کہ اس کام کو کرنے کی اصل ذمہ داری انھی پر ہے، کیونکہ کوئی دوسرا نہ اس کی اہلیت رکھتا ہے اور اور نہ اس کا داعیہ۔ لیکن مدرسۃ الاصلاح میں ایسا ماحول پیدا ہوچکا تھا کہ وہ یہ کام یہاں رہ کر انجام نہیں دے سکتے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ انھیں پٹھان کوٹ جانے کی جو دعوت ملی ہے، اسے قبول کر لیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں کام کرنے کے بہتر مواقع مل جائیں۔ مولانا مودودی صاحب اگر چہ ان کے معیار کے مطابق عالم دین تو نہیں، لیکن علم ودانش کے حامل ہیں۔ان کی بہت قدرو منزلت کرتے ہیں۔ اور پھر ذاتی طور پر بھی انھیں مدد کے لیے کہہ چکے ہیں۔ اگرچہ انھیں امام فراہی کے فکر سے آگہی ہے اور نہ اسے وہ کچھ زیادہ اہمیت دیتے ہیں، لیکن وہ اس اصول کے ضرور قائل ہیں کہ قرآن کی حکومت تمام علوم پر ہے اور اسے خارج سے نہیں داخل ہی سے سمجھا جائے گا۔ وہ ان کی طرح تقلید سے بھی سخت بے زار ہیں۔ یہ اتفاق اکٹھے کام کرنے میں بہت معاون ہو گا۔
جہاں تک پہلے نکتے کا تعلق ہے، مولانا ایک حد تک ہی مروت کے قائل تھے۔ بس اس حد تک جہاں دین اس کی اجازت دیتا اور اسے مستحب سمجھتا ہے، لیکن جہاں حق باطل ہو جائے اور باطل حق ہو جائے، وہاں وہ اس کے قطعی طور پر قائل نہیں تھے۔مولانا کی پوری زندگی اگر چہ اس اصول کی گواہی دیتی ہے، لیکن یہاں صر ف ایک شہادت پیش کی جاتی ہے۔ ہم ان کےاُس انٹرویوکا ایک اقتباس یہاں نقل کرتے ہیں جو انھوں نے مولانا مودودی کی وفات کے بعد جناب سلیم منصو ر صاحب کو دیا۔ سلیم منصور صاحب جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مولانا اصلاحی سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کے اس قدر ناقد کیوں ہیں؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا:
’’واقعہ یہ ہے کہ ایسی ناز برداری انھوں نے ( یعنی مولانا مودودی )نے فقط میری ہی کی۔ حالات و واقعات کے تمام اُتار چڑھاؤ کے باوجود، آج تک اس چیز کی میرے دل میں بڑی قدر ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ کسی کی ایسی ناز برداری تو اس کی بیوی اور اس کے بچے بھی نہیں کر سکتے۔ پھر یہ بھی ہے کہ میری سخت سے سخت تنقید اور کڑے سے کڑے تبصرے کا، انھوں نے مجلس شوریٰ، اجتماعی یا انفرادی ملاقات تک میں مجھے کبھی دوبدو جواب نہیں دیا، بلکہ کم سے کم الفاظ اور نرم سے نرم لہجے میں جواب دینے کی کوشش کی… میں سو چتا ہوں کہ اگر میں کسی کے ساتھ ایسا حسن ِ سلوک کرتا اور وہ جواب میں میرے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتا تو میرے لیے اس کے ساتھ سلسلۂ کلام تک برقرار رکھنا مشکل اور سماجی تعلق کو نبھانا ناممکن ہو جاتا، لیکن مودودی صاحب نے طویل عرصے تک بڑی ثابت قدمی سے رفاقت اور دوستی کے اس تعلق کو نبھایا، لیکن جب میرے سامنے یہ دوراہا آیا کہ ایسے ناز بردار اور شفیق دوست کا ساتھ دوں یا جس چیز کو درست سمجھتا ہوں اسے منتخب کروں تو لامحالہ میں نے پہلی چیز کی قربانی دی اور دوسری چیز کا انتخاب کیا۔‘‘
اسی انٹرویو میں انھوں یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے اور مولانا مودودی کے درمیان اصل قدر مشترک کیا تھی ؟ چنانچہ انھوں نے سلیم منصور صاحب کو بے لاگ طریقے سے بتایا :
’’مولانامودودی مرحوم اور میرے درمیان ایک قدر مشترک بھی موجود تھی۔ اور وہ یہ کہ تقلید و تقید سے میں بھی آزاد تھا اور تقلید اور تقید سے وہ بھی آزاد تھے۔بعد میں جماعتی مصالح کے تحت انھوں نے نجانے کتنی بیڑیاں پہن لیں اور ان سب مسائل کے ایک ایک کر کے قائل ہو گئے جن کا ہم پٹھان کوٹ میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔ لیکن اس زمانے میں میرے اور ان کے سوچنے کے انداز میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ دینی معاملات پر ہم دونوں ایک ہی طرز پر سوچتے تھے، یعنی قرآن مجید پر اس طرح غور کیا جائے، فقہ پر اس طرح سے غور ہونا چاہیے، علما کو اس راستہ پر لایا جائے اور لوگوں کو یوں تبدیل کیا جائے۔ ان تمام مسائل میں میرے اور ان کے سوچنے کا انداز تقریباً ایک ہی تھا۔تاہم اس قدرِ مشترک کے علاوہ میرے اور ان کے درمیان ایک نہایت گہرا ذوق اور فکر کا اختلاف بھی تھا۔ مولانا حمید الدین کی فکر سے نہ ان کو دل چسپی تھی نہ یہ کام ان کے بس کا تھا۔ تاہم یہ اختلاف ایسا نہیں تھا کہ میں ان سے تعاون نہ کر سکوں۔ چنانچہ جماعت سے میرا جو تعلق قائم ہو گیا تھا، میں نے اسے قائم رکھنا چاہا، اِلّا آں کہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ میرے لیے اس تعلق کو برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے۔‘‘ (سہ ماہی تدبر،اپریل 1998ء، 47- 48)
یہ حالات کب اور کیسے پیدا ہوئے، یقیناً اپنی جگہ پر ہم ان عوامل کا تفصیل سے جائزہ لیں گے، البتہ یہاں ہم ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی کرنا چاہیں گے۔
کیا مولانا اصلاحی جماعت اسلامی کے بنیادی مشن سے متفق تھے ؟
عام طور پر غیر ضروری طور پر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ کسی دینی کام میں شریک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شرکا ایک دوسرے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر عدم رواداری کا بدترین مظہر ہے کہ مل کر کام کرنے کے لیے مکمل فکری ہم آہنگی ضروری ہے۔اسی لیے عام چلن یہی ہے کہ ذرا سا اختلاف بھی گوارا نہیں کیا جاتا اور اختلاف کو مخالفت سمجھ لیا جا تا ہے۔ہمارے ہاں کے اکثر فرقے اسی رویے کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں۔
یہی معاملہ یہاں بھی ہے کہ مولانااصلاحی کے جماعت اسلامی میں شریک ہونے کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ وہ جماعت کے بنیادی مشن اور فلسفے سے مکمل طور پر متفق تھے تو اس میں شامل ہوئے۔ یہ خلاف حقیقت تاثر خود مولانا مودودی کو بھی تھا۔ وہ بھی غالباً پورے اخلاص سے یہ سمجھتے تھے کہ مولانا اصلاحی ان کی راے کے قائل ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہ تدریج یہ واضح ہو گیا کہ ایسا نہیں ہے۔ چنانچہ اول تو خود مولانا اصلاحی کے درج بالا بیان سے اس شدید غلط فہمی کا ازالہ ہو جانا چاہیے، لیکن ہم یہاں ایک اہم دستاویز کا حوالہ دینا چاہیں گے تاکہ ٹھیک جماعت اسلامی کے مشن کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ مولانا اصلاحی اس سے کس حد تک متفق تھے۔
جب مولانا اصلاحی پٹھان کوٹ چلے آئے تو مدرسۃ الاصلاح والوں کو شدید احساس محرومی ہوا کہ انھوں نے کیا کھو دیا ہے۔ مدرسے کے مہتمم جناب حاجی رشید الدین نے مولانا مودودی کو دسمبر 1944ء میں ایک خط لکھ کر التجا کی کہ ہم مولانا اصلاحی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ وہ تو مدرسے کے روح رواں تھے، اس لیے میری تجویز ہے کہ وہ چھ ماہ آپ کے پاس رہیں اور چھ ماہ مدرسۃ الاصلاح میں۔ اس کے جواب میں مولانا مودودی نے لکھا کہ یہ ممکن نہیں۔اور اس کے ساتھ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا اصلاحی ان سے کاملاً اتفاق کرتے ہیں۔ ہم یہاں مولانا مودودی کے خط کے ضروری مندرجات نقل کرتے ہیں :
’’مولانا امین احسن صاحب کا تعلق مدرستہ الاصلاح سے فی الواقع ویسا ہی اُستوار تھا جیسا جناب نے تحریر فرمایا ہے اور فی الحقیقت دو تین سال پہلے تک وہ خود بھی اس بات کا تصور نہ کر سکتے تھے کہ کبھی ان کا اور مدرسے کا یہ تعلق ٹوٹ بھی سکتا ہے، لیکن اپنے مدت العمر کے مطالعۂ کتاب و سنت سے ہم لوگوں پر دین کی جو حقیقت کھلی ہے اور اس کے مطالبات و مُقتَضیات کا جو علم حاصل ہوا ہے، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمیں اپنے عزیز ترین اور مُحکم ترین تعلقات کو بھی دل پر پتھر رکھ کر صرف اس وجہ سے توڑنا پڑا ہے کہ دین کی خدمت کا جو راستہ ہمارے سامنے واضح ہو چکا ہے،اس پر چلنے کے لیے آزاد ہو جائیں۔ہم اب اس چیز سے بالکل مطمئن نہیں ہیں کہ خدا سے پِھری ہوئی اس دنیا میں بس کچھ لوگ خدا اور اس کے دین کا نام لینے والے موجود رہیں اور کفر سے مغلوبیت کی حالت میں جتنی گنجائش دین کے لیے رہ جائے اس کو کچھ اپنے مذہبی اعمال و اقوال سے پُر کرتے رہیں۔
ہمارے نزدیک یہ صورت حال نہ تو دینِ حق کو گوارا ہے اور نہ اس میں سچی دین داری زیادہ مدت تک زندہ رہ سکتی ہے۔مگر ہمارے یہ مذہبی مدرسے جو آج بھی ملک میں قائم ہیں زیادہ سے زیادہ بس یہی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔اس سے آگے کے لیے کچھ کرنے کی ان میں گنجایش نہیں۔ اسی لیے جہاں ہم موجودہ صورت حال سے غیر مطمئن ہیں ان مدارس سے بھی ہمارا اطمینان اٹھ گیا ہے۔اور ان میں کام کرنے کو ہم اپنے وقت اور اپنی قوتوں کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ہمارے سامنے ایک مقصد واضح طور پر آ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کا دین غالب ہو اور کفر و کفار اس سے دب کر رہیں۔’حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ یَّدٍ وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ‘ ( التوبہ 9: 29)اس مقصد کے لیے ہم نے خوب سوچ سمجھ کر جو طریقہ اختیار کیا ہے، اس پر عمل کرنے میں ہم اپنی تمام قوت صرف کر دینا چاہتے ہیں۔اس کے سوا کسی دوسرے کام میں،خواہ وہ بجاے خود کتنا ہی نیک کام ہو۔اپنا ایک لمحہ بھی صرف کرنا ہمیں کَھلتا ہے کیونکہ جس وقت کو اس مقصدِ عظیم کی خدمت میں صرف ہونا چاہیے اسے فروتر کاموں میں صرف کرنا حکمت کے خلاف ہے۔لہٰذا بہ حالاتِ موجودہ مولانا امین احسن صاحب کا آدھا وقت مدرسے کے لیے وقف کرنا، نہ تو میں گوارا کر سکتا ہوں اور نہ مولانا خود گوارا کریں گے البتہ جو چیز ہم چاہتے ہیں اگر مدرستہ الاصلاح وہی ہوتا یا ہو سکتا تو آدھا وقت کیا معنی، پورا وقت دل و جان و مال سب کچھ اس کے لیے وقف ہو سکتا تھا۔‘‘ ( سہ ماہی تدبر، جولائی۔ ستمبر2024، 143)
اس خط میں مولانا محترم نے جس اِدِّعا کا اظہار کیا ہے اور دینی مدرسوں پر جس درجے اور جس نوعیت کا عدم اطمینان کیا ہے، اس پر بہت کچھ کہا سنا جا سکتا ہے، لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ اس وقت ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ مولانا مودودی علیہ الرحمہ کا یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ مولانا اصلاحی اور ان کے درمیان یہ فکری اتفاق ہو گیا کہ پوری دنیا میں غلبۂ اسلام کی جس تحریک کی ابتدا انھوں نے کی ہے، اس کا ناگزیر دینی تقاضا ہے کہ وہ مدرسۃ الاصلاح چھوڑ کر ان کے پاس چلیں جائیں۔ مولانا اصلاحی کے اپنے بیانات میں اس طرح کے فکری اتفاق کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ اس کے بالکل بر عکس سورۂ توبہ کی مُحَولہ بالا آیت سے دنیا پر اسلام کے قبضے کے جس مشن کو وہ اسلام کا بیانیہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، اس کے علی الرغم مولانا اصلاحی اس آیت کا یہ مفہوم لیتے ہیں:
’’ان اہل کتاب سے جو نہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے، نہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے اور نہ دین حق کی پیروی کرتے، جنگ کرو تا آنکہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔‘‘
یعنی ’’ ان اہل کتاب‘‘ پر جن پر اللہ کے رسول نے اتمام حجت کی ہے، نہ کہ قیامت تک کے آنے والے اہل کتاب اور مشرکین پر۔ اسی لیے وہ اسی سورہ کی آیت نمبر 33 کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ :
’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اس کو سارے دین پر غالب کر دے۔‘‘
اس آیت کی تفسیر یہ کرتے ہیں:
’’اس آیت کے مضمون کی وضاحت بقرہ آیت 192 اور انفال آیت 39 کے تحت بھی ہو چکی ہے۔ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ سرزمین حرم کفر و شرک کی ہر آلائش سے پاک ہو جائے اور دین حق کے سوا کوئی اور دین ’’یہاں‘‘ (یعنی جزیرۃ العرب میں )دینِ غالب کی حیثیت سے باقی نہ رہے تاکہ دعوت ابراہیمی کا یہ مرکز، دعاے ابراہیمی کے بہ موجب، تمام عالم کے لیے ہدایت اور روشنی کا سرچشمہ بن جائے۔ وہی بات یہاں فرمائی گئی کہ جس طرح یہ اہل کتاب اپنی پھونکوں سے خدا کے چراغ کو گل نہ کر سکیں گے، اسی طرح مشرکین عرب کی کوششیں بھی اس دین کو مغلوب نہ کر سکیں گی، بلکہ یہ ان کی تمام کوششوں کے علی الرغم اس سرزمین کے ہر دین پر غالب ہو کے رہے گا۔‘‘ (تدبر قرآن 3/ 564)
اس کے بالکل برعکس، مولانا مودودی ان آیات کا ترجمہ ’’تفہیم القرآن‘‘ میں یہ کرتے ہیں :
’’جنگ کرو اہل کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔‘‘
اور آیت 33 کا ترجمہ ان کے نزدیک یہ ہے :
’’ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ ‘‘
مولانا مودودی نے ’’ جنس دین‘‘ لکھ کر واضح کر دیا ہے کہ وہ پوری دنیا پر اسلام کے غلبے کو اللہ کا حکم مانتے ہیں، جیسا کہ انھوں نے اپنے خط میں بھی واضح کیا ہے۔
اس موازنے سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ :
مولانا اصلاحی کے نزدیک یہ حکم اس دور کے مشرکین اور اہل کتاب کے لیے ہے اور سارے ادیان سے مراد جزیرۃ العرب کے ادیان ہیں۔اس کا تعلق موجودہ اہل کتاب اور مشرکین پر ہر گز نہیں کیونکہ ان پر اللہ کے رسول نے براہ ِراست اتمام حجت نہیں کیا۔ چنانچہ رسالت کے قانون کا اطلاق موجودہ غیر مسلمین پر نہیں ہوتا۔ تفصیل کے طالب مولانا اصلاحی کے حوالے کے مطابق سورۃا لبقرہ اور سورۃ الانفال کی متذکرہ آیات ملاحظہ کر سکتے ہیں، جب کہ مولانا مودودی کے نزدیک اس سے مراد قیامت تک کے آنے والے مشرکین اور اہل کتاب ہیں اور اس وقت کے ادیان ہی نہیں، بلکہ دنیا کے جتنے بھی ادیان ہیں، ان پر غلبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد ہے۔ اور ان کی جماعت اسلامی اسی ’’ادھورے ‘‘ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہی مقصد اخوان المسلمون، القاعدہ، داعش سمیت تمام جہادی تنظیموں کا ہے۔ اس میں صرف طریقۂ کار کا اختلاف ہے، لیکن جہاں تک مقصد کا تعلق ہے وہ سو فی صد یہی ہے۔
یہاں ہم ان دو نقطۂ نظر کا علمی تقابل نہیں کر رہے، بلکہ صرف اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی کے درمیان یہ بہت بڑا فکری اختلاف تھا، جس کے ہوتے ہوئے بھی مولانا اصلاحی نے حالات کی نزاکت، ایک اصولی اتفاق اور ایک خیر خواہ دوست کے اصرار پر یہ دعوت قبول کی تھی۔