مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(17)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

جماعت اسلامی کے ساتھ 17 برس کی رفاقت ( اگست 1941ءتا جنوری 1958ء)میں مولانا اصلاحی نے جماعت کا علمی محاذ سنبھالے رکھا۔ اس زمانے میں مولانا کے قلم سے معر کۃ الآرا علمی مقالات اور مضامین سامنے آئے۔ یہ سب جماعت کے ترجمان ماہنامہ ’’ ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہوئے۔ان تحریروں کو ہم تین اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں :

الف: مولانا اصلاحی کی علمی تصانیف کی اقساط ۔

ب: وہ علمی مضامین اور تنقیدی مقالہ جات، جو معاصر اہل علم اور تنقید نگاروں کے جواب میں لکھے گئے ۔

ج: ملکی و ملی حالات و واقعات پر ’’اشارات‘‘ کے عنوان سے ادارتی شذرات۔ یہ شذرات عام طور پر مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی بہ طور مدیر تحریر فرماتے تھے۔ بعض اوقات علالت یا مولانا کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ ذمہ داری مولانااصلاحی نے نبھائی۔

مولانا اصلاحی کی حسب ذیل کتب اس عرصہ میں بالاقساط شائع ہوتی رہیں:

1۔ ’’تزکیۂ نفس‘‘۔ اس کے کچھ حصے ماہنامہ ’’الاصلاح‘‘ میں شائع ہوئے اور باقی حصے ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں۔

2۔ دعوت دین اور اس کا طریقۂ کار

3۔ اسلامی ریاست

علمی موضوعات کی تفصیل

ان مضامین کی مختصر تفصیل اس طرح ہے:

1۔ ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام نیشنلِسْٹ لیڈر تھے یا نبی اور رسول؟‘‘اس مضمون میں اس بات کو زیر بحث لایا گیا کہ مسلم لیگ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ آج ہندستان کے لیے بنیادی مسئلہ آزادیِ ہند اور آزادیِ دنیاے اسلام کا ہے۔ یہ حصولِ آزادی کی کوئی عام سیاسی تحریک نہیں، بلکہ ایک مذہبی فریضہ ہے، جس کے لیے ان کی پوری اجتماعیت کو اپنا تن من دھن صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا اصلاحی نے اس مضمون میں واضح کیا کہ یہ موقف درست نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی قومی لیڈر نہیں تھے، بلکہ وہ ا للہ کے رسول اور نبی تھے۔ ان کا بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلا نے کے بعد فلسطین لے جانے کی جدوجہد کا ہندستان کی موجودہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلم لیگ کی جدوجہد ایک سیاسی جدوجہد ہے اور اس سے اتفاق و اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

2۔ ’’سجدۂ تعظیم‘‘۔ ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں مولا نا امین احسن صلاحی کے نام ایک صاحب نے عربی زبان میں خط لکھ کر دریافت کیا کہ آدم علیہ السلام کو فرشتوں کا سجدہ کرنا کیسا تھا ؟ ان صاحب کے خیال میں یہ سجدۂ تحیہ تھا ۔ صاحب مکتوب نے اس کے حق میں متعدد دلائل دیے۔ مولانا اصلاحی نے اس کا اصولی اور مفصل جواب تحریر کیا۔ مولانا کے موقف کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ بحث اضافی ہے کہ یہ سجدۂ تعظیمی ہے یا عبودی۔ اسے اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کیا گیا۔

3۔ ’’سنتِ خلفاے راشدین‘‘۔اس مضمون میں خلفاے راشدین کے اقدام کے بارے میں بحث کی گئی تھی کہ ان اقدام کی کیا حیثیت ہے ۔ مولانا اصلاحی نے اس موضوع کا احاطہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ خلفاے راشدین کے اجتماعی فیصلے سنت رسول ہی کی طرح ہیں ۔

4۔ ’’حدیث کے متعلق چند سوالات‘‘۔ اس زمانے کے بعض اہل علم نے حدیث کی دین میں حیثیت پر مختلف نکات اٹھائے۔ یہ مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ بعد میں اس موضوع کو مولانا مودودی نے مکمل کیا اور ان کا یہ موقف ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ میں د یکھا جا سکتا ہے۔ مولانا اصلاحی نے ان کے موقف سے اتفاق کیا، لیکن بعد میں انھوں نے حدیث اور سنت کے فرق کو مزید واضح کرنے کے ساتھ ساتھ’’مبادی تدبر حدیث‘‘ کے نام سے باقاعدہ ایک کتاب تصنیف کی۔ یہ کتاب انھوں نے تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ لکھنے کے بعد مرتب کی۔ اس کتاب میں ان کی راے میں ارتقا دیکھا جا سکتا ہے۔

5۔ ’’مسئلۂ تملیک اور زکوٰۃ سےمتعلق بعض دوسرے مسائل‘‘۔ ’’ترجمان القرآن‘‘بابت محرم 1274ھ میں خان محمد صاحب ربانی کا ایک مضمون بہ عنوان ’’حضرات علماے کرام کی خدمت میں چند سوالات‘‘ شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں چند ایسے سوال اٹھائے گئے تھے، جو ادائیگی زکوٰۃ کے لیے تملیک کو رکن یا شرط قرار دینے کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب میں مولانا ظفر احمد صاحب تھانوی کے دو مکتوب ’’ترجمان القرآن‘‘ بابت جمادی الاولیٰ 1374ھ میں شائع ہوئے ہیں۔ مولانا ظفر احمد صاحب نے اپنے مکاتیب میں ان اشکالات کا فقہ حنفی کی روشنی میں جواب دینے کی کوشش کی ہے، جو ربانی صاحب نے پیش کیے تھے۔مولانا اصلاحی کو ان کی پیش کردہ بعض آرا سے اختلاف تھا ۔چنانچہ انھوں نے اس موضوع پر متعدد مضامین لکھے۔ یہ مضامین بعد میں ’’مسئلۂ تملیک‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں بھی شائع ہوئے۔

6۔ ’’الائمۃ من قریش‘‘۔ اس مشہور اور متفق علیہ حدیث کے حوالے سے یہ موقف پیش کیا گیا کہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت قریش ہی کر سکتے ہیں۔ اس پر مولانا اصلاحی نے بہت مسکت دلائل دیے اور اس بحث کو یہ کہہ کر ہمیشہ کے لیے مکمل کر دیا کہ حضور کا یہ فرمان اس قضیے کا فیصلہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا حق دار کون ہو گا۔انھوں نے واضح کر دیا کہ یہ کوئی مستقل حکم نہیں تھا۔

7۔ ’’ہم اس ملک میں کیا تغیُّرات چاہتے ہیں‘‘۔ ان سلسلہ ہاے مضامین میں مولانا اصلاحی نے جماعت اسلامی کے موقف کو پیش کیا کہ پاکستان بننے کے بعد آئین سازی کے لیے کن حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے اور معاشرے میں کون سی تبدیلیاں ان کے نزدیک ضروری ہیں۔

8۔ ’’نئی فرد قرار داد جرم‘‘۔ یہ مضمون اور اس طرح کے دوسرے مضامین مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پر تنقیدات کا جواب ہیں۔ ان کے مندرجات کا ایک تفصیلی تعارف پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔

9۔ ’’عائلی کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ‘‘۔ یہ سلسلہ ہاے مضامین مولانا کی تصنیف ’’جدید اسلامی ریاست میں قانون سازی‘‘ کا ایک حصہ ہے۔ کتاب کا تیسرا حصہ عائلی کمیشن کی رپورٹ پر مولانا کے مفصل تبصرے پر مبنی ہے۔ مولانا نے یہ تبصرہ اس عائلی کمیشن کی رپورٹ پر کیا تھا، جو 1955ء میں پاکستان کی مرکزی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے عائلی مسائل و قوانین کا جائزہ لینے اور اس کے بارے میں تجاویز و سفارشات پیش کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ پر علما اور عوام، دونوں کی طرف سے بہت احتجاج کیا گیا تھا۔ مولانا نے اس رپورٹ پر مفصل بحث کے ساتھ اس میں موجود غلطیوں کی نشان دہی کی ہے۔ اس رپورٹ کو تیار کرنے والے افراد میں سے بعض مغرب کے عائلی اور ازدواجی قانون سے متاثر و مرعوب تھے، مولانا نے ان افراد کے تصورات کی کجی کو نمایاں کیا، ان کی پیش کردہ تجاویز و سفارشات پر کڑی تنقید کی اور عائلی اور ازدواجی قانون کے حوالے سے اسلام کے صحیح نقطۂ نظر کو بیان کیا ہے۔کتاب کا تیسرا حصہ کسی زمانے میں علیحدہ سے بھی شائع ہوا تھا، جو کتابی شکل میں اب نایاب ہے، البتہ مذکورہ کتاب میں اسے دیکھاجا سکتا ہے۔

اشارات

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ اصل میں ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے ادارتی شذرات ہیں۔ ان میں بیان کردہ آرا کی ہمارے نزدیک بہت اہمیت ہے ۔ ان کے تفصیلی ذکر سے ہم جان پائیں گے کہ

الف: مولانا اصلاحی اور جماعت اسلامی کا تقسیم ہند پر کیا موقف تھا۔وہ مسلم لیگ کے تقسیم ہند کے موقف سے کس قدر متفق تھے اور اس سے کس نوعیت کا اختلاف رکھتے تھے ۔

ب : تقسیم ہند کے موقع پر پورا برصغیر فسادات اور خوف ناک قتل و غارت گری کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ ان فسادات میں محتاط اندازے کے مطابق دونوں جانب کے سوا کروڑ لوگ لقمۂ اجل بنے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی نے ایک خاص موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موقف باقی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور گروہوں سے بالکل ممتاز تھا۔ اس بہت منفرد اور صائب نقطۂ نظر کا ذکر تاریخی طور پر محفوظ ہونا چاہیے۔ اس لیے اس کا بہ طور خاص ذکر کیا جارہا ہے۔

ج : پاکستان کے قیام کے بعد مولانا اصلاحی کم و بیش دس برس تک جماعت اسلامی کے رکن رہے۔ اس حیثیت سے ان کے افکار و نظریات کیا ہیں؟ یہ مضامین اس حوالے سے مولانا کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا اجمالی جائزہ بھی مفید ہو گا۔

[باقی]

خیال و خامہ