(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(21)
]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
جیل میں کیا معمول تھا، اس کے بارے میں میاں طفیل محمد صاحب لکھتے ہیں:
’’مولانا مودودی صاحب کے پاس ایک قرآن مجید اور اصلاحی صاحب کے پاس دو انگریزی کی کتابیں تھیں اور بس ۔ کاغذ، قلم دوات یا کوئی لکھنے پڑھنے کا سامان کچھ نہ تھا ۔ کچھ دن گزرے تو پھر کچھ صفحات لگے ہوئے سفید کاغذ اور قلم اور دوات ملنے لگے اور پھر گھر سے کتابیں منگوانے کی بھی اجازت مل گئی، لیکن قرآن مجید اور حدیث شریف تک بھی سنسر کے بغیر نہ آسکتی تھی … اب ہمارا پروگرام معمولاً یہ تھا کہ صبح نماز فجر اور اس کے بعد ٹہلنا اور ورزش ناشتہ اور غسل ۔ اس کے بعد میں مولانا مودودی صاحب سے کم و بیش ایک گھنٹا قرآن مجید پڑھتا اور پھر دوپہر تک قرآن مجید کے حواشی کو نوٹ کرتااور اگلے سبق کی تیاری کرتا اور مولانا مودودی صاحب اور اصلاحی صاحب اپنے علمی کاموں میں مصروف رہتے ۔ دوپہر کے کھانے کے بعد نماز ظہر اور پھر اخبارات اور عام مطالعہ ہوتا جس کا سلسلہ عصر تک جاری رہتا ۔ عصر کے بعد چائے اور پھر ٹہلنا ۔ مغرب کی نماز کے بعد کھانا اور اس کے بعد تبادلہ خیالات اور مسائل حاضر پر گفتگو اور تبصرہ ہوتا ۔ پھر عشا کی نماز پڑھ کر سو جاتے ہیں ۔
پہلی ششماہی کے اندر ہی اللہ تعالیٰ نے وہ بات پوری کر دی جس کے لیے ہم لوگ جیل گئے تھے یعنی پاکستان کی مجلس دستور ساز نے مطالبہ نظام اسلامی کو قبول کرتے ہوئے 12 مارچ 1949ء کو وہ مشہور قرارداد پاس کر دی جسے اب سب لوگ قرارداد ِمقاصد کے نام سے جانتے ہیں۔ بظاہر اب حکومت اور ہمارے درمیان کوئی نزا ع باقی نہ رہی۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ اس قرارداد کے پاس ہوتے ہی جماعت اسلامی نے اس سے پاکستان کے ایک اسلامی ریاست بن جانے کا اعلان کر دیا اور جیل کی چار دیواری میں جو معلومات چھن چھنا کر آ تی تھیں، اس سے ہمارا تاثر ایک حد تک یہی تھا کہ ملک کے حکمرانوں نے اس مطالبے کو بالکل مجبوراً نہیں نگلا ، بلکہ کسی حد تک بات ان کی سمجھ میں آگئی ہے۔ اس لیے ہمیں یقین تو نہیں، لیکن البتہ یہ خیال ضرور پیدا ہو گیا کہ غالباً اب نظربندی میں توسیع نہیں ہوگی۔ لیکن ششماہی کا آخری دن آیا اور گزر گیا، مگر نہ تو ہمیں رہا کیا گیا اور نہ کوئی دوسری اطلاع ملی۔ چند روز بعد گورنر بہادر پنجاب کا ’’پروانہ خوشنودی‘‘مشہور ہوا جس میں لکھا تھا کہ حضور گورنر بہادر پنجاب نظر بندی میں فلاں تاریخ تک ’’بمسرت‘‘ توسیع فرماتے ہیں ۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ قرارداد مقاصد پاس نہیں کی گئی، بلکہ عوام نے ان حضرات کا ناطقہ بند کر کے اسے پاس کرو ایا ہے۔ ‘‘
میاں طفیل محمد طنزاً اس حکم نامے کا ذکر کر رہے ہیں جو ان بے قصور قیدیوں کو جیل میں دکھایا گیا تھا ۔ اس انگریزی حکم نامے میں یہی الفاظ تھے کہ گورنر پنجاب آپ کی نظر بندی میں اگلے چھ ماہ کے اضافے کا’’ بمسرت‘‘ اعلان کرتے ہیں ۔
Whereas…is being detained under order of the Punjab Government under …, Now … the Governor of the Punjab is hereby pleased to renew the said order … for the further period up to ….
میاں صاحب مزید لکھتے ہیں :
’’مولانا امین احسن اصلاحی نے اس عرصے میں جو کام کیا، وہ یہ ہے کہ مجھے پوری موطا امام مالک سبقاً سبقا ًپڑھائی اور اس کے ساتھ عربی بھی پڑھائی۔ ’’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘‘ (مولانا کی ایک اہم کتاب )نظر ثانی کر کے کتابی صورت میں مرتب کی۔ ’’پاکستانی عورت دوراہے پر‘‘ تصنیف کی۔ ’’اسلامی ریاست‘‘ جس کے چار باب الگ سے شائع ہو چکے ہیں، تقریبا ًمکمل تیار کی۔ فقہ، دساتیر عالم، اسلام کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظاموں کا پھر سے وسیع اور عمیق مطالعہ کیا۔ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی مدد سے شاہ ولی اللہ کی شرح مصفیٰ بھی پڑھی۔ اس دوران میں مولانا صلاحی صاحب سے اتنی عربی سیکھ لی کہ ’’کلیلہ و دمنہ‘‘ کے معیار کی کتب معمولی رہنمائی سے سمجھنے کے قابل ہو گیا تھا۔ ‘‘
مولانا اصلاحی کے حوالے سے میاں محمد طفیل یہ دل چسپ احوال بھی بتاتے ہیں :
’’جیل میں سیر اور ورزش ہمارے روزانہ کے معمولات کا لازمی جز تھے۔ مولانا مودودی صاحب بلا ناغہ تین چار میل سیر کرتے اور اس کے لگ بھگ ہی مولانا اصلاحی صاحب اور میں بھی کرتا۔ اصلاحی صاحب اور میں سیر کے علاوہ کچھ ورزش بھی کرتے۔ جیل میں ہمارے وارڈ میں ہمارے ساتھ ایک بہت بڑی تعداد جنگلی کبوتروں کی بھی آباد تھی۔ مولانا اصلاحی صاحب کے تفریح کے مشاغل میں ایک یہ بھی تھا کہ انھوں نے ان کبوتروں کو پالنا شروع کر دیا تھا۔ جتنی دال ہمیں ملتی، اس کا بڑا حصہ مولانا اپنے کبوتروں کو کھلاتے، لیکن ہمارے نزدیک وہ ’’سلویٰ‘‘کے حکم میں تھے۔ اس لیے ہم نے ان کو پکڑ پکڑ کر کھانا شروع کیا ۔ چنانچہ 1950ء کی سردیوں میں کم ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرا ہوگا جس سے ہم کم سے کم ایک مرتبہ کبوتر پلاؤ نہ کھاتے ہوں۔ مولانا اصلاحی صاحب کبوتر پکڑنے میں ہماری کوئی مدد نہ کرتے، البتہ پلاؤ خوب شوق سے کھاتے ۔ جیل میں دوسرے مشاغل پھولوں اور خربوزوں کی کاشت تھی ۔ اس کے علاوہ اپنے وارڈ کے باغیچہ میں اور اس کے باہر ہم نے خود 14 درخت لگائے جو ہماری رہائی تک خاصے پرورش پا چکے تھے۔ ‘‘
مولانا اصلاحی اور قید ِ بے سبب
بیس ماہ کا یہ عرصہ مولانا اصلاحی کی ذاتی زندگی کے لیے بڑا تلخ تھا۔ وہ خود تو جیل میں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ صبر اور استقامت کی قابلِ تقلید مثال بنے، لیکن ان کے اہل خانہ اس سے شدید متاثر ہوئے ۔ خاندان کو نقل مکانی ، بیماری اور شدید مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑا۔اس کا اندازہ ان خطوط سے بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے جو انھوں نے جیل میں لکھے۔ مولانا کے ان خطوط تک رسائی کے لیے ہم ان کے بیٹے جناب ابو سعید صاحب اصلاحی کے بہت ممنون ہیں ۔ ان خطوط کے کچھ اقتباسات ہم یہاں درج کریں گے ۔
پہلا خط حکیم محمد شریف کے نام ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاتھ کے رعشہ کی تکلیف اب بہت بڑھ گئی تھی ۔ اور وہ کچھ بھی لکھنے سے معزور ہو گئے تھے ۔ خط ملاحظہ فرمائیں :
’’بنام حکیم محمد شریف حافظ آباد
اس تکلیف کو دور کرنے کے لیے آپ دعا یا دوا سے جو کوشش بھی فرمائیں گے، میں اس کے لیے دل سے شکر گزار ہوں گا۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ جہاں قلم ہاتھ میں لیا اور چند حرف لکھنے کے لیے انگلیوں میں چُنا جانے لگا، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر انگلیوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی ہے اور اگر قلم کو دبانے کی کوشش کروں اور زبردستی کچھ لکھنا چاہوں تو انگوٹھا مُرتَعِش ہو جاتا ہے۔ اس حالت نے طبیعت کو لکھنے کے کام سے اس قدر بیزار کر دیا ہے کہ کبھی کبھی تو قلم کاغذ ہاتھ میں پکڑنے کے تصور ہی سے وحشت ہونے لگتی ہے۔ مجھے یہ تکلیف تو کچھ عرصہ سے ہے، مگر پہلے میں اس کو صرف اس وقت محسوس کرتا تھا جب تمباکو کھا لیتا تھا، مگر اب تو دس مہینے سے تمباکو کا ایک ذرہ بھی منہ میں نہیں گیا۔
ہمارے خط لکھنے کا کاغذ اتنا مختصر ہوتا ہے کہ اس میں سوالوں کے جواب کی گنجایش نہیں نکل سکتی۔ اس وجہ سے میں ختم کرتا ہوں ۔آپ کے سوالوں کا جواب محض اشارہ میں دے سکوں گا۔
تنقید کے متعلق صحیح رویہ یہ ہے کہ اگر فساد جماعتی ہو تو تنقید بھی بصیغۂ عموم ہونی چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی یہی تھا کہ آپ برائیوں پر تنقید کرتے تھے ۔اشخاص کو زیر بحث نہیں لاتے تھے۔ البتہ اگر فساد شخصی ہو تو اس صورت میں نام لے کر تنقید میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
دائیں ہاتھ کی تکلیف کے سبب یہ خط بائیں ہاتھ سے لکھا ہے۔ (یکم دسمبر 1949ء)‘‘
تمباکو کی حقیقت
اس خط میں مولانا نے تمباکو ’’ کھانے‘‘ کی بات کی ہے ۔ مولانا جوانی میں حقہ، پائپ اور پان کا بھی شوق رکھتے تھے ۔ ان کے بیٹے ابو سعید اصلاحی بیان کرتے ہیں کہ مولانا نے جوانی ہی میں پائپ اور حقہ کا استعمال ترک کر دیا تھا۔ صرف پان کھاتے تھے اور وہ بھی بہت محدود ۔ پان میں تمباکو کا استعمال کرتے تھے ۔ دانت باقاعدہ اس اہتمام سے صاف کرتے تھے کہ ان پر پان کھانے کا کوئی نشان نہ رہے۔یاد رہے کہ پان کھانا ہندستان کی مسلمان اشرافیہ میں بہت مقبول تھا۔ جب مولانا جیل میں قید ہوئے تو انھوں نے اعلان کیا کہ وہ قید میں پان نہیں کھائیں گے تاکہ یہ ان کی کم زوری نہ بنے ۔ اور اسی کا خط میں ذکر ہے کہ انھوں نے دس ماہ سے تمباکو کا استعمال نہیں کیا۔ رہائی کے بعد مولانا نے پان کھایا، لیکن وہ کبھی بھی لوگوں کے سامنے نہیں کھاتے تھے اور دن میں دو دفعہ سے زیادہ نہیں لیتے تھے ۔ میں خود اس بات کا شاہد ہوں کہ ان سے 1982ء سے وفات تک مسلسل رابطے میں رہا، لیکن میں نے کبھی بھی انھیں پان کھاتے نہیں دیکھا۔
حسب ذیل خط مولانا نے اپنے سسر جناب چودھری محمد عبدالرحمان خان کو لکھا ہے ۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط چودھری صاحب کے مراسلے کے جواب میں لکھا گیا ہے ۔خط کا ضروری حصہ درج کیا گیا ہے ۔
’’بنام چوہدری محمد عبدالرحمان خان
انوار کے متعلق میری رائے اب یہ ہے کہ اگر مکان کا بندوبست ہو جائے تو وہ ملتان میں ٹھہر کر اپنا علاج کرائیں۔ میکلوڈ گنج ( راولپنڈی )میں علاج میسر نہیں ہے۔ اس حالت میں بغیر علاج کے رہنا اپنے اوپر ظلم ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ رہنے کے لیے کوئی گھر کا آدمی نہیں ہے۔ ابو صالح کو اپنے اخبار سے چھٹی نہیں ہے۔ اس وجہ سے وہ ملتان نہیں آسکتے اور لاہور میں نہ مکان اب مل سکا اور نہ ملنے کی امید ہے۔ اگر ساتھ رہنے والے کسی آدمی کا انتظام ہو جائے تو امید ہے کہ ملتان میں مکان کوئی برا بھلا مل جائے گا۔(11۔ جون 1949ء )‘‘
درج ذیل خط مولانا نے اپنی ساس محترمہ کو لکھا ہے ۔ اس کے القاب اور اسلوب سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا اپنی ساس محترمہ سے کس قدر احترم اور محبت کا تعلق رکھتے تھے۔ خط مکمل ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :
’’مخدومہ امی جان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گذشتہ ہفتے میں انوار ، سعید اور مسعود کے ساتھ ملنے آئی تھی ۔اور اسی دن( 11اپریل ) آپ کا یہ والا نامہ مجھے موصول ہوا۔آپ نے اپنے خط میں ہماری مدت قید کی توسیع پر پریشانی کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن انوار بالکل مطمئن تھی۔ اس بات کو خوب یاد رکھیے کہ کوئی شخص خدا کا وفادار بندہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس کی آزمایشوں میں اپنے آپ کو مستقل مزاج اور ثابت قدم نہ رکھا کرے ۔ مجھے یہ دعویٰ تو کسی چیز کا نہیں ہے، لیکن دعا برابر کرتا رہتا ہوں کہ قیامت کے دن خدا مجھے منافقین کے ساتھ نہ اٹھائے، بلکہ سچے اہل ایمان کے ساتھ اٹھائے۔ اس کے لیے کم سے کم شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے خدا کے ساتھ چال بازی کرنے والا نہ ہو۔ مجھے خدا کے راستے سے ہٹ کر جینے کے تصور سے بھی گھن آ تی ہے۔ اس لیے ہر آزمایش کے لیے تیار ہوں اور میری کم زوریوں کے باوجود میرے ساتھ میرے پروردگار کا معاملہ ایسا حوصلہ بڑھانے والا ہے کہ اس کو میں ہی جانتا ہوں ۔ وہ لوگ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے جو خدا کی باتوں سے واقف نہیں ہیں۔ پس آپ لوگ میرے لیے پریشان نہ ہوں … میں جس جگہ ہوں ، اپنے پروردگار سے بالکل راضی ہوں ۔ اور ایک لمحے کے لیے بھی مجھے خیال نہیں ہوتا کہ اس کا معاملہ میرے ساتھ غیر منصفانہ ہے ۔ میرا جینا اور مرنا اللہ کے لیے ہے۔ اور جس طرح دین کی خدمت کے لیے آزادی چاہتا ہوں، اس طرح اس کے راستے میں قید وبند کو بھی پسند کرتا ہوں ۔ ( اپریل 1950ء) ‘‘
مولانا اصلاحی کے اپنی اہلیہ محترمہ کو متعدد خطوط کا ریکارڈ ملتا ہے ۔ ان میں سے یہ خط بہت اہم ہے ۔ دوسرے تمام خطوط کی طرح یہ بھی حکام کی نظروں سے ہو کر ارسال کیا جاتا تھا۔ خط مکمل ہے۔ ملاحظہ فرمائیں :
’’بنام اہلیہ محترمہ
انوار اختر ، اللہ تم کو اور بچوں کو سلامت رکھے ۔ تمھارا 30 جنوری کا لکھا ہوا رجسٹرڈ خط مجھے کل 17 فروری کو ملا ۔ تم نے خط کو رجسٹر بھیجنے کا اہتمام ناحق کیا۔ یہ اہتمام اس وقت مفید ہوتا ہے جب ڈاک ،ڈاک خانے سے ضائع ہوتی ہے۔ یہاں یہ صورت نہیں ہے، بلکہ حکومت کا محکمہ احتساب جس خط کو اپنی صواب دید میں نامناسب خیال کرتا ہے اس کو روک لیتا ہے۔ ایسی صورت میں رجسٹرڈ اور معمولی خط میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اور آخر تم اس کی بلا وجہ اس قدر فکر ہی کیوں کرو، بس ہفتے میں ایک خط اپنی اور بچوں اور گھر والوں کی خیریت پر مشتمل ڈال دیا کرو۔پہنچ گیا تو پہنچ گیا ورنہ اللہ اللہ خیر صلا۔ الحمدللہ ، مجھے اب اس طرح کی باتوں سے خاص پریشانی نہیں ہوتی اور امید ہے کہ تمھیں بھی کوئی پریشانی نہیں ہوتی ۔ اس بات پر اکثر غور کیا کرو کہ ایک مسلمان کی زندگی اور موت اللہ کے لیے ہے۔ میری زندگی کا طُغریٰ تو ’اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‘ہے۔ میری آرزو ہے کسی کو تم اپنی زندگی کا طغریٰ بناؤ اور اسی چیز کو بچوں کے دل پر نقش کرو ۔ تم پر حیرت ہے کہ اس علم و فضل کے باوجود تم کو میری جدائی سے پریشانی ہے اور میرا حال یہ ہے کہ مجھے اپنی سب سے زیادہ محبوب اولاد ’’بٹو‘‘ (مولانا کی سب سے چھوٹی صاحب زادی مریم صاحبہ جو وفات پا چکی ہیں ) کی صورت بھی یاد نہیں رہی اور اگر تم لوگ خطوط میں اس کی باتیں مجھے لکھ نہ دیا کرو تو ان شاءاللہ مجھے اس کی محبت بھی کبھی نہیں ستائے گی۔
تمھارے قیام کے معاملے میں میرا یہاں سے کوئی مشورہ دینا بالکل نامناسب تھا۔ اگر لاہور میں مکان مل جاتا ہے تو شوق سے وہاں چلی جاؤ۔ راولپنڈی جانا چاہو تو وہاں مکان کا فوراً انتظام ہو سکے گا۔ اور اگر بہاول پور جانا چاہو تو میں اجمل صاحب کو لکھوں گا۔ بہرحال جب تک میں جیل میں ہوں ،اس امر کا فیصلہ تم ہی کو کرنا ہے کہ تمھارا قیام کہاں مناسب ہوگا اور جہاں مناسب ہوگا ان شاءاللہ وہاں انتظام ہو جائے گا ۔تم زیادہ فکر نہ کرو اور یہاں آنے کا تو دل میں خیال بھی نہ لاؤ۔ اگر اللہ کو منظور ہے تو بچوں کی صورت یہاں سے نکل کر ہی دیکھوں گا۔ اگر اللہ کو منظور نہیں ہے تو مجھے بھی منظور نہیں ہے۔اماں زینب کو سلام مسنون ۔ بی بی نثار کو دعا اور پیار ۔ سعید کو دعا۔ اور جان پدر بٹو کو پیار کے ساتھ یہ خط۔ والد صاحب قبلہ کی خدمت میں بھی سلام مسنون ۔ تمھارے اور نثار کے خطوط یہ نہیں ہے کہ مجھے بالکل نہ ملتے ہوں ، ملتے ہیں مگر کم۔‘‘
خط میں مذکور شخصیات کا تعارف
اس خط میں ’’ زینب‘‘ سے مراد مولانا اصلاحی کی دوسری ساس محترمہ ہیں ۔ یاد رہے کہ ان کے سسر چودھری عبدالرحمان کی تین ازواج تھیں۔ محترمہ زینب بی بی چودھری صاحب کی دوسری بیوی تھیں ۔
نثار سے مراد ’’ آپا نثار فاطمہ‘‘ ہیں ۔ مولانا کی خواہر نسبتی ۔ وہ عمر میں بہت چھوٹی تھیں اور گھر میں مولانا کے ساتھ ان کی اولاد کی طرح رہتی تھیں ۔ ان کی تربیت میں مولانا کا بہت کردار تھا۔ وہ جماعت اسلامی ، خواتین ونگ لاہور کی صدر رہیں ۔ معروف سیاست دان اور موجودہ وفاقی وزیر احسن اقبال کی والدہ محترمہ تھیں ۔ وفات پا چکی ہیں ۔
سعید ، مولانا کے بیٹے ابو سعید اصلاحی ہیں ۔ حیات ہیں اور جب 1985ء میں وہ پاکستان واپس آئے تو مولانا اپنی وفات تک انھی کے ساتھ رہے ۔اور انھی کے گھر درس و تدریس ہوتی ۔
والد صاحب قبلہ سے مراد مولانا کے سسر چودھری عبدالرحمان ہیں ۔