(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(22)
]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
مولانا امین احسن اصلاحی کی پہلی اسیری 28 ؍مئی 1950ء کو ختم ہوئی ۔ وہ اپنے باقی ساتھیوں کے ہم راہ ملتان سنٹرل جیل سے رہا ہونے کے بعد لاہور میں قیام پذیر ہوئے اور وارث روڈ لاہور پر جماعت اسلامی کے مقامی حلقے سے درس قرآن کا سلسلہ جاری کیا۔ ان کے بیٹے ابو سعید اصلاحی بتاتے ہیں کہ اس درس قرآن میں حاضرین کی خاصی تعداد ہوتی تھی ۔
مولانا اس وقت نائب امیر جماعت اسلامی تھے۔ اور جماعت ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی فکری تربیت میں مصروف ہوگئی، یہاں تک کہ 1951 ء میں ایک اور سنگ میل سامنے آیا ۔ یہ تھا 1951ء کے صوبائی انتخابات ۔
صوبائی انتخابات: جماعت اسلامی اور مولانا اصلاحی کا موقف
یاد رہے کہ پاکستان کا پہلا آئین 1958ء میں تشکیل پایا ۔ اور اس وقت ملک 1935ء کے انگریزی قانون کے عارضی بندو بست کے تحت چل رہا تھا۔ مرکزی اسمبلی موجود تھی اور ملک کا آئین اسی نے بنانا تھا ، لیکن صوبائی اسمبلیاں عارضی اور نام زدگی کی بنیاد پر چل رہی تھیں۔ بلوچستان کو ابھی صوبے کی حیثیت نہیں ملی تھی۔ سرحد ( خیبر پختونخوا ) میں تقسیم سے پہلے کانگرس کی حکومت تھی، جو اب ختم ہو چکی تھی ۔ چنانچہ حکومت نے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ پاکستان میں ہونے والے کسی بھی سطح کے پہلے انتخابات تھے۔
مولانا اصلاحی کا اس مو قع پر یہ موقف تھا کہ جماعت اسلامی کو عوام میں فکری اصلاح کا کام جاری رکھنا چاہیے اور انتخابی اکھاڑے میں کودنے سے احتراز کرنا چاہیے، لیکن امیر جماعت مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی انتخابات میں شرکت کرنے کی راے رکھتے تھے۔ جماعت کی اکثریت ان کی راے کے موافق تھی۔ چنانچہ جماعت نے محدود پیمانے پر انتخابات میں حصہ لیا اور کسی بھی سیٹ پر کوئی کامیابی حاصل نہ کی ۔
مولانا اصلاحی کا انتخابی معرکہ
اگرچہ مولانا اصلاحی انتخابات میں شرکت کے ہر گز قائل نہیں تھے،لیکن جماعت کے نظم کی پابندی کرتے ہوئے انھیں لاہور کے ایک حلقے سے الیکشن بھی لڑنا پڑا۔
مولانا اصلاحی نے ہمارے ایک سوال کے جواب میں جو کچھ بتایا، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا کے منع کرنے کے باوجود ایک تقریب رکھی گئی ۔ مولانا نے اس پر جب ناراضی کا اظہار کیا تو انھیں بتایا گیا کہ آپ کا محض تعارف درکار ہے ۔ آپ ووٹ مانگنے کے لیے تقریر نہیں کریں گے، بلکہ حلقے کے لوگوں کو نصیحت کرنے اسٹیج پر آئیں گے ۔ چنانچہ وہ اس مجمع میں تشریف لے گئے ۔
مولانا بتاتے ہیں کہ میں نے اس مجمعے میں جا کر کہا کہ اگر میں آپ سے ووٹ مانگنے آیا ہوں تو مجھ پر خدا اور اس کے رسول کی لعنت ہو ۔ میں تو آپ کو محض یہ بتانے آیا ہو ں کہ اگر کسی عوامی نمایندے کو آپ نے منتخب کرنا ہو تو اس کے اندر کن کن اوصاف کو ملحوظ رکھنا چاہیے ۔ اور اس کے بعد میں نے مختصر طریقے سے انھیں بتا دیا اور سب سے پہلے یہ بتایا کہ اس نمایندے کو خود سے کسی عہدے کا حریص نہیں ہونا چاہیے ۔
یہ واحد تقریر تھی جو مولانا نے اپنے ووٹروں کے سامنے کی۔ ظاہر ہے کہ جب خود امیدوار اپنے ووٹروں سے یہ کہے کہ وہ ان سے ووٹ مانگنے ہی نہیں آیا اور اس کا میدان سیاست نہیں ، بلکہ وہ دین کا طالب علم ہے تو لوگ انھیں کیوں ووٹ دیتے ۔ مولانا کو بہت کم ووٹ ملے اور ان کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی اور صرف انھی کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوا، بلکہ جماعت اسلامی کے کم و بیش تمام امیدوار بری طرح شکست کھا گئے ۔
اس کی وجہ بہت واضح تھی ۔ جماعت کے پاس سواے نظری بیانیے کے اور کوئی عملی پروگرام نہ تھا، جب کہ ایک بالکل نوزائیدہ ملک اس وقت زندگی کے ہر شعبے میں شدید مسائل کا شکار تھا۔ مہاجرین کی آباد کاری ، خوراک اور صحت کے مسائل ، انفرا سٹرکچر کی تعمیر ، تعلیم کا اسٹرکچر وغیرہ، اور اس پر مطلوب مالی اور افرادی وسائل کی شدید کمی ۔ لیکن جماعت اسلامی کے پاس صرف ایک حل تھا، جو ایک نکتے پر مشتمل تھا : اسلامی نظام کا نفاذ ۔اور اس کی کوئی شکل سامنے موجود نہ تھی ۔ چنانچہ لوگ حیران تھے کہ یہ ’’غیر مرئی نظام‘‘ عوام کے مسائل کیسے حل کر سکے گا ۔ اس کا کوئی عملی نقشہ پاکستان ہی میں نہیں ، دنیا میں بھی کہیں موجود نہیں تھا، اس لیے جماعت عوام کو ماضی کے دھندلکوں کے سوا کچھ مہیا نہ کر سکی ۔ جماعت تو اصل میں موجود ہ مسلمانوں کو صحیح مسلمان بنانے کے لیے قائم ہو ئی تھی، اور جب یہ انتہائی بنیادی کام ہو جاتا تو اسے عوام کو اس کے عملی مسائل کا حل بتانا تھا ، مگر جماعت خالی پیٹ مسلمانوں کو محض نظریات کا ’’پلاؤ‘‘ کھلانے کی مہم جوئی کر رہی تھی ۔ اس کا یہ بیانیہ خوف ناک مسائل کی گونج میں لوگوں کے لیے نا قابلِ التفات تھا۔ یوں وہ عوام تک اپنی آواز پہنچانے میں بری طرح ناکام رہی۔ اس موقع پر مولانا اصلاحی کی راے بہت صائب تھی کہ جماعت کو وہی کام کرنا چاہیے جس کے لیے وہ قائم ہوئی ہے اور وہ ہے: فکری اصلاح اور دین پر عمل کرنے کی دعوت ۔ اس کے لیے انتخابات میں شرکت قطعی غیر ضروری ہے۔
قادیانی مسئلہ: جماعت اسلامی اور مولانا اصلاحی
1953ء میں قادیانی مسئلہ ایک منظم عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گیا ۔ یہ مسئلہ اگرچہ قیام پاکستان سے پہلے بھی موجود تھا، لیکن جب وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے 1952ء میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمایندے کی حیثیت سے اجلاس میں شرکت کی تو ان پر اعتراض کیا گیا کہ وہ بہ طور مسلمان اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمایندگی نہیں کر سکتے ۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ یہ سر ظفراللہ ہی تھے جنھوں نے 1947ء میں فلسطین کے حق میں پاکستان کی نمایندگی کرتے ہوئے ایک زبر دست تقریر کی تھی اورا ن کی تقریر کو بانی پاکستان سمیت سب نے بہت سراہا تھا۔ یہ سرظفراللہ ہی تھے جو قیام پاکستان سے پہلے 1931ء تا 1932ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر رہے اور یہ سرظفراللہ ہی تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے کہنے پر 1940ء کی قرارداد ِلاہور کا ڈرافٹ تیا ر کیا تھا، لیکن پاکستان بننے کے بعد مذہبی اور سیاسی تنگ نظری اتنی بڑھی کہ احمدی جماعت کو غیر مسلم قرار دینے اور سر ظفراللہ خان کے احمدی ہونے کی وجہ سے انھیں وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اسی سلسلے میں فروری 1953ء میں لاہور میں ایک جلوس نکالا گیا۔
یہ جلوس حکومتی اجازت کے بغیر نکالا جا رہا تھا، اس لیے گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی نے اسے روکنے کا حکم دیا۔ جلوس نہ رکا تو جلیانوالہ باغ کی تاریخ دہرائی گئی اور اس پر فائرنگ کر دی گئی۔ کئی افراد موقع ہی پر دم توڑ گئے اور متعدد زخمی ہو گئے ۔ یاد رہے کہ اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ تھے ۔مرکز میں لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم اور غلام محمد گورنر جنرل تھے ۔
یہ واقعہ عوامی غصے کو غیر معمولی حد تک بھڑکانے کا ذریعہ بنا۔ پہلے ہی سے مذہبی جماعتوں کی متفقہ تنظیم ’’ مجلسِ عمل تحفظ ِختم نبوت‘‘ کے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کیے جا چکے تھے، لیکن ان کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ جیسے ہی یہ فائرنگ اور شہادتیں ہوئیں، پورے لاہور میں ہڑتالیں اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ حالات قابو سے باہر نکل گئے، جس کے نتیجے میں لاہور میں مارچ 1953ء میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔اس موقع پر تحریک ختمِ نبوت کی طرف سے یہ تین مطالبات پیش کیے گئے :
1۔قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
2۔سر ظفر اللہ خان کو وزارتِ خارجہ سے برطرف کیا جائے۔
3۔ احمدیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔
تحریک کے روحِ رواں علماے کرام، مشائخ، طلبہ اور عوام تھے، مگر اس تحریک میں جماعت اسلامی کا کردار ایک الگ نوعیت کا تھا؛ علمی، نظری اور قانونی۔ وہ نہ تو مظاہروں میں شریک ہوئی اور نہ ہی امن و امان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کیا۔ اس موقع پر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ’’قادیانی مسئلہ‘‘ کے نام سے ایک مضمون تحریر کیا ، جو ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع ہو کر خاص و عام میں مقبول ہو گیا۔اس میں احمدیوں کے عقائد، عقیدۂ ختم نبوت اور ریاست کی آئینی ذمہ داریوں کو انتہائی سنجیدہ علمی انداز میں بیان کیا گیا۔ ان کے تمام دلائل کا نتیجۂ فکر اس ایک جملے میں دیکھا جا سکتا ہے :
’’ریاست اگر اسلامی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ ختمِ نبوت کے منکر کو مسلم کہلانے کی اجازت نہ دے۔‘‘ (قادیانی مسئلہ 23)
یہ تحریر حکومت کی نظر میں ایک ’’اشتعال انگیز‘‘ اور ’’فتنہ انگیز‘‘ دستاویز بن گئی۔ حکومت کا موقف تھا کہ اس نے خاص و عام کو حکومت کے خلاف ایک طاقت ور بیانیہ فراہم کیا ہے، کیونکہ اس میں پہلی دفعہ علمی طریقے سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے دلائل فراہم کیے گئے تھے۔
مارشل لاء نافذ ہونے کے بعد ہزاروں افراد گرفتار کیے گئے۔ جماعت اسلامی ، جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ اس طرح کے ہنگاموں میں شریک نہیں ہوئی، لیکن پھر بھی مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی سمیت جماعت اسلامی کے پچپن یا چھپن لیڈروں کو 29؍ مارچ 1953ء کو گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا مودودی پر چونکہ ’’اسٹیٹ‘‘ کے خلاف بغاوت کا الزام تھا ، اس لیے ان کےخلاف مقدمہ ایک فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔
پھانسی کی سزا اور مولانا امین احسن اصلاحی
11؍مئی 1953ء کو فوجی عدالت نے مولانا مودودی کو ’’ریاست کے خلاف بغاوت‘‘ کا جرم ثابت ہونے پر سزاے موت سنا دی۔ اس فیصلے نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی۔ عوام، دینی جماعتیں، صحافی، بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اور متعدد اسلامی ممالک میں اس فیصلے کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا۔یہ سزا ایک خالص علمی راے کے خلاف دی گئی تھی ۔ اس سے اختلاف سو فی صد ممکن تھا، لیکن اس پر کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کا کوئی جواز نہ تھا، جب کہ حکومت نے اسے غداری کے مترادف قرار دیا ۔ بلاشبہ، یہ ریاستی جبر کی بدترین مثال تھی ۔
اس واقعے پر میاں طفیل محمد نے ’’جیل سے پھانسی کی سزا تک ‘‘ کے نام سے بہت خوب صورت تحریر لکھی ۔یہ تحریر روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ سمیت متعدد جرائد ورسائل میں مارشل لاء اٹھنے کے بعد شائع ہوئی ۔ ہم اس کا وہ حصہ نقل کرتے ہیں جب جیل میں مولانا مودودی، مولانا اصلاحی اور دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے اور ان کو پھانسی کی سزا دینے کی اطلاع دی گئی :
’’شہر لاہور میں، مارچ 1953ء میں ہم لوگوں کو گرفتار کر کے لاہور سینٹرل جیل میں لے جایا گیا۔ ہم لوگ دیوانی گھر وارڈ کے صحن میں مولانا مودودی صاحب کی اقتدا میں مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے کہ دیوانی گھر وارڈ کا باہر کا دروازہ کھٹ سے کھلا اورچودہ پندرہ فوجی اور جیل افسر اور وارڈر احاطے میں داخل ہوئے۔ اور جہاں ہم نما ز پڑھ رہے تھے وہاں قریب آکر کھڑے ہو گئے۔
ہم نے باقی نماز مکمل کر لی تو ان میں سے بڑ ے فوجی افسر نے جو مارشل لاء کورٹ کا صدر تھا ، آگے بڑھا اور بولا :
تم میں مولانا مودودی کون ہیں؟
مولانا نے عرض کیا: میں ابوالاعلیٰ مودودی ہوں۔
’’آپ کو ’’قادیانی مسئلہ‘‘ کتاب تصنیف کرنے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی ہے۔البتہ آپ گورنرجنرل سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں“۔
مولانا نے بلا توقف کہا: ’’مجھے کسی سے کوئی رحم کی اپیل نہیں کرنی ہے۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں پر میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔“
اس کے بعد اسی افسر نے کہا : ’’آپ نے مارشل لاء کے بارے میں روزنامہ ’’تسنیم‘‘ میں جو بیان دیا ہے اس پر آپ کو سات سال قید بامشقت کی سزا دی جاتی ہے۔‘‘
…کوئی آدھ گھنٹے کے بعد ہیڈ وارڈن اور ان کے ساتھ کچھ دوسرے وارڈر آئے اور انھوں نے کہا:’’مولانا مودودی صاحب تیار ہوجائیں ۔ وہ پھانسی گھر جائیں گے ۔‘‘
اس پر مولانا مودودی صاحب نے اطمینان سے اپنا کھلا پا جامہ، تنگ پاجامے سے بدلا، جو وہ گھر سے باہر جاتے وقت پہنا کرتے تھے۔ سر پر اپنی سیاہ قراقلی ٹوپی پہنی اور چپلی اتارکر سیاہ گر گابی جوتا پہنا اور اپنا قرآن مجید لے کر اور ہم سب سے گلے مل کر نہا یت اطمینان سے پھانسی گھر روانہ ہو گئے۔
اب مولانا امین احسن اصلاحی صاحب ، مولانا مودودی صاحب کی قمیص، پاجامہ اور ٹوپی کبھی سینے سے لگاتے اور کبھی اپنے سر پر رکھتے، کبھی آنکھوں پر لگاتے اور بے تحاشا روتے ہوئے کہتے جاتے کہ:”مجھے یہ تو معلوم تھا کہ مولانا مودودی صاحب بہت بڑے آدمی ہیں، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ خد ا کے ہاں مودودی صاحب کا اتنا بڑا مرتبہ اور مقام ہے۔‘‘
چودھری محمد اکبر صاحب بھی روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل کر صحن میں چلے گئے اور میں بھی روتا ہوا صحن میں ایک طرف نکل گیا اور ساری رات اسی طرح سے گزرگئی۔
اگلی صبح ایک وارڈر نے آ کر بتایا کہ ’’مولانا مودودی صاحب تو عجیب آدمی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔وہ پھانسی گھر گئے، وہاں کا لباس پہنا، جنگلے سے باہر پانی کے گھڑے سے وضو کیا اور عشاء کی نماز پڑھی اور ٹاٹ پر لیٹ کر تھوڑی دیر بعد خراٹے مارنے لگے۔ حالانکہ ان کے آس پاس پھانسی گھرکے د وسر ے قیدی چیخ و پکار میں مصروف تھے۔‘‘
مولانا مودودی صاحب کو پھا نسی کی سزا کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔
انڈونیشیا کی اسلامی پارٹی کے وزیر اعظم ڈاکٹر ناصر صاحب نے حکومت پاکستان سے کہا کہ ’’پاکستان کو مودودی صاحب کی ضرورت نہیں تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہے ۔ پاکستان ان کو انڈو نیشیا بھجوا دے“۔
سعودی عرب نے اس سزا کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ علیٰ ھذا القیاس بہت سے دوسرے ممالک کے مسلمانوں نے بھی اور پاکستان میں تو ہرجگہ سے احتجاج ہوا ۔ اس احتجاج کا نتیجہ یہ ہوا کہ تیسرے ہی روز حکومت پاکستان نے اعلان کر دیا کہ مولانا مودودی صاحب اور مولانا عبد الستار خاں نیازی صاحب کی سزاے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی ہے ۔ چنانچہ مولانا مودودی صاحب کو پھانسی گھر سے جیل کے بی کلاس وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کی یہ عمر قید عملاً 14 سال قید با مشقت کی تھی ۔ اگر چہ یہ مارشل لاء کورٹ کے تحت دی گئی تھی اور مارشل لاء ختم ہو جانے کے بعد اسے ختم ہو جانا چاہیے تھا، لیکن مارشل لاء کے تحت سارے احکام اور سزاؤں کو انڈمنٹی ایکٹ کے تحت بر قرار رکھا گیاتھا ۔ اس لیے یہ سزائیں مارشل لاء اٹھ جانے کے باوجود بھی قائم اور جاری تھیں۔
جماعت اسلامی نے مولانا مودودی صاحب کی سزا کو کالعدم کرانے کے سلسلے میں لا ہور ہائی کورٹ میں میاں منظور قادر ایڈوو کیٹ کے ذریعے سے رٹ دائر کردی اور ہائی کورٹ نے رٹ منظور کرتے ہوئے سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کو رہا کرنے کا حکم دے دیا، چنانچہ مولانا مودودی صاحب28؍مئی1955 ء کو ڈسٹرکٹ جیل ملتان سے رہا ہو کر گھرآ گئے۔‘‘
مولانا اصلاحی اس دفعہ ڈیڑھ برس تک قید رہے اور انھیں اگست1954ء کو رہائی ملی ۔ اس دوران میں انھوں نے اپنی تفسیر ’’ تدبر قرآن‘‘ لکھنے کا ایک نقشہ بنایا اور اس کا ایک خاکہ مرتب کیا۔