(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(23)
]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
مولانا امین احسن اصلاحی ابھی جیل ہی میں تھے کہ جسٹس منیر احمد اور جسٹس محمد رستم کیانی پر مشتمل ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا۔ اس کمیشن نے جولائی 1953ء سے جنوری 1954ء تک تحقیق وتفتیش کی ۔ ایک سو سترہ سماعتوں کے بعد 10؍ اپریل 1954ء کو یہ رپورٹ منظر عام پر آئی ۔ اسے عام طور پر منیر کمیشن رپورٹ یا منیر کیانی رپورٹ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے مذہبی تشخص کے پس منظر میں یہ رپورٹ بہت اہم ہے ۔ اس رپورٹ میں مولانا امین احسن اصلاحی کا بھی ایک مفصل بیان شامل ہے ۔ اس لیے ہم اس پر ایک اجمالی تبصرہ ناگزیر سمجھتے ہیں ۔
رپورٹ میں اگرچہ حکومتی انتظامیہ کی ناکامی کے ساتھ ساتھ حکومتی جماعت مسلم لیگ سمیت مختلف لوگوں اور مذہبی جتھوں کو ان فسادات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، مگر مجلس احرار کو ان فسادات کا سب سے بڑا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اس حوالے سے رپورٹ کے بعض ضروری حصے ملاحظہ فرمائیں :
مجلس احرار کا وجود اور مقصد
’’مجلس احرار کا قیام ہی دراصل اس مقصد کے تحت ہوا تھا کہ وہ احمدیوں (قادیانیوں) کے مسئلے کو استعمال کرتے ہوئے عوام میں مذہبی جوش و جذبہ ابھارے اور اس بنیاد پر سیاسی مقاصد حاصل کیے جائیں۔‘‘( جسٹس منیر رپورٹ، باب دوم — پس منظر)
یاد رہے کہ مجلس احرار کے تمام بانی ارکان آل انڈیا کانگرس کے رکن تھے اور وہ کانگرس سے علیحدہ ہو کر مجلس احرار کی شکل میں منظم ہوئے تھے اور تقسیم ہند تک مسلم لیگ ، محمد علی جناح اور قیام پاکستان کے سخت مخالف رہے تھے ۔
مذہبی جذبات کا استعمال
’’احرار نے اس مسئلے کو ایک سیاسی تحریک کی صورت دے کر عوامی جذبات کو استعمال کیا اور حکومت کے خلاف ایک مذہبی بنیاد پر عوام کو مشتعل کیا۔‘‘(حوالہ: رپورٹ کے خلاصے میں)
ریاستی رِٹ کو چیلنج
’’یہ ثابت ہوتا ہے کہ مجلس احرار نے مذہبی مقاصد کے پردے میں ریاستی نظم و نسق کو چیلنج کیا اور عوامی اجتماع اور تقاریر کے ذریعے سے لوگوں کو حکومت کے خلاف ابھارا۔‘‘
(حوالہ: رپورٹ میں احرار کی سرگرمیوں پر تبصرہ)
قیادت اور جماعت کی ذہنیت
’’احرار کی قیادت جان بوجھ کر ایسا ماحول بناتی رہی جس سے عوام کی توجہ معاشرتی اور معاشی مسائل سے ہٹ کر صرف مذہبی جذبات پر مرکوز رہے۔‘‘(حوالہ: رپورٹ میں سماجی تجزیہ)
نتیجہ
’’احرار اور اسی نوع کی جماعتوں کی سرگرمیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر مذہب کو سیاست سے الگ نہ رکھا جائے تو اس سے ریاستی ڈھانچے اور امن و امان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘‘(حوالہ: رپورٹ کا آخری باب)
رپورٹ کے اس حصے کی روشنی میں ہم اس بات کا آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ حالات کی صورت گری میں کن کن عوامل نے اہم کردار ادا کیا۔
مولانا اصلاحی کا بیان
ان فسادات کے دوران میں مجلس ختم نبوت نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ اس حوالے سے کمیشن نے مولانا اصلاحی سے احمدیوں کے مسلم اور غیر مسلم ہونے کے بارے میں دریافت کیا ۔ مولانا کے جوابات اور کمیشن کے سوالات یہاں درج کیے جاتے ہیں :
سوال :مسلمان کون ہے؟
جو اب: مسلمانوں کی دو قسمیں ہیں: ایک سیاسی مسلمان دوسرے حقیقی مسلمان۔ سیاسی مسلمان کہلانے کی غرض سے ایک شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ توحید الہٰی پر ایمان رکھتا۔ ہمارے رسول پاک کو خاتم النبیین مانتا ہو، یعنی اپنی زندگی کے متعلق تمام معاملات میں ان کو آخری سند تسلیم کرتا ہو، ایمان رکھتا ہو کہ ہر خیر و شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ،روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو،قرآن مجید کو آخری الہام الہٰی ہونے کا یقین رکھتا ہو،مکہ معظمہ کا حج کرتا ہو، زکٰوۃ ادا کرتا ہو،مسلمانوں کی طرح نماز پڑھتا ہو ،اسلامی معاشرے کے ظاہر قواعد کی تعمیل کرتا ہو،روزہ رکھتا ہو۔جو شخص ان تمام شرائط کو پورا کرتا ہو، وہ ایک اسلامی مملکت کے پورے شہری کے حقوق کا مستحق ہے۔ اگر وہ ان میں سے کوئی ایک شرط پوری نہ کرے تو وہ سیاسی مسلمان نہ ہوگا۔
پھر کہا: اگر کوئی شخص ان دس امور پر ایمان کا محض اقرار کرتا ہو، گویا ان پر عمل کرتا ہو یا نہ کرتا ہو تو یہ اس کے مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے، جب کہ حقیقی مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام پر عین اس طرح ایمان رکھتا ہو اور عمل کرتا ہو، جس طرح وہ احکام و ہدایات اس پر عائد کیے گئے ہیں ۔
سوال: کیا آپ یہ کہیں گے کہ صرف حقیقی مسلمان ہی مرد صالح ہے ؟
جواب: جی ہاں ۔
سوال: اگر ہم آپ کے ارشاد سے یہ سمجھیں کہ آپ کے نزدیک سیاسی مسلمان کہلانے کے لیے صرف عقیدہ کافی ہے اور حقیقی مسلمان بننے کے لیے عقیدے کے علاوہ عمل بھی ضروری ہے تو کیا آپ کے نزدیک ہم نے آپ کا مفہوم صحیح طور پر سمجھا ہے؟
جواب: جی نہیں۔آپ میرا مطلب صحیح طور پر نہیں سمجھے۔ سیاسی مسلمان کے معاملے میں بھی عمل ضروری ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان عقائد کے مطابق عمل نہیں کرتا جو ایک سیاسی مسلمان کے لیے ضروری ہیں تو وہ سیاسی مسلمانوں کے دائرے سے خارج ہو جائے گا۔
سوال: اگر کوئی سیاسی مسلمان ان باتوں پر ایمان نہ رکھتا ہو جن کو آ پ نے ضروری بتایا ہے تو اپ اس شخص کو بے دین کہیں گے ؟
جواب :جی نہیں۔ میں اسے محض بے عمل کہوں گا۔
جماعت اسلامی سے علیحدگی کا پس منظر
یہ ایک حقیقت ہے کہ مولانا اصلاحی کی جماعت اسلامی میں شمولیت ایک حادثے کے طور پر ہوئی تھی ۔ اس کی تفصیلات ان صفحات میں بیان ہو چکی ہیں ۔ یہ بات بھی ہم جان چکے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے بعد جب مولانا مودودی نے عملی سیاست میں باقاعدہ فعال ہونے کا فیصلہ کیا تو اسے مولانا اصلاحی نے پسند نہیں کیا۔مولانا کے مطابق وہ کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے ۔ وہ ایک ایسی جماعت میں شامل ہوئے تھے جس کا کام معاشرے کی فکری اور علمی تطہیر تھا اور مسلم و غیر مسلم کو اسلام کی مکمل دعوت دیناتھا، مگر تقسیم ہند کے بعد وہ جماعت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان منتقل ہو گئے ۔ یہاں آ کر مولانا مودودی اور جماعت کے ساتھ حکمت ِعملی کے اختلافات کے باوجود وہ جماعت کے نظم کے ساتھ پورے جوش و خروش سے چلتے رہے۔ جماعت اور مولانا مودودی پر ہونے والی تنقیدات کا ڈٹ کر جواب دیا۔ قیدو بند کی مشکلات بھی جھیلیں اور انتخابات میں حصہ لینے کے انتہائی ناگوار فیصلے کی بھی پابندی کی، لیکن پھر ایسے کیا حالات پیدا ہوئے کہ انھیں جماعت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ مولانا اس حوالے سے اپنے احباب اور شاگردوں سے اپنے موقف کا برملا اظہار کرتے ۔ ان کی یہ گفتگو اس وقت ریکارڈ کا حصہ بن گئی جب انھوں نے برادرم ڈاکٹر منصورالحمید کو ایک تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے اس واقعے کی مکمل تفصیلات بیان کیں :
’’مولانا مودودی صاحب اورمیر ے درمیان ایک ذوق و فکر کا اختلاف شروع ہی سے رہا ہے، لیکن یہ کوئی ایسا اختلاف نہیں تھا کہ میں ان کے ساتھ تعاون نہ کر سکوں۔ جماعت کی مجلس شوریٰ میں میری رائے بہت موثر تھی۔ اس بنا پر میں، صحیح یا غلط، یہ محسوس کرتا تھا کہ میں جماعت کی پالیسی کو بحیثیت مجموعی کسی غلط راہ پر جانے سے روک سکتا ہوں۔ اس لیے اس ذوق و فکر کے اختلاف کے باوجود جماعت سے میرا جو تعلق قائم ہو گیا تھا میں نے اسے برقرار رکھنا چاہا۔
قیام پاکستان کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ مولانا مودودی صاحب میں کچھ ایسی تبدیلیاں ہو گئی ہیں جو بالآخر گم راہ کن نتائج تک منتہیٰ ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے یہ محسوس کیا کہ وہ جوجتھہ بندی قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اب جلد سے جلد اس جتھہ بندی کی قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری چیز یہ تھی کہ ان کے بعض معتقدین نے انھیں یہ باور کرا دیا کہ اب اس ملک کے عوام مسلم لیگی قیادت کو آپ کی قیادت سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ خیال واقعی مولانا کے اندر جڑ پکڑ گیا ہے اور وہ ایسا سمجھنے لگے ہیں۔ تیسری چیز یہ تھی کہ ان کے بعض غالی عقیدت مندوں نے انھیں یہ باور کرا دیا کہ تحریکیں صرف اصول اور نظریات پر نہیں چلا کرتیں، بلکہ اس کے لیے شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے، اور شخصیت آپ سے آپ نہیں بنتی، بنائی جاتی ہے۔ اس لیے جب تک ہم آپ کے لیے وہ تمام لوازم اختیار نہیں کریں گے جو شخصیت بنانے کے لیے ضروری ہیں تب تک یہ کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا مودودی صاحب پر ان کے ساتھیوں کا یہ جادو بھی کارگر ہو گیا تھا۔
میرے علم میں جب یہ باتیں آئیں تو مولانا سے مختلف ملاقاتوں میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ یہ محض ایک وسوسہ ہے کہ اس ملک کے عوام آپ کی قیادت سے مسلم لیگ کی قیادت کو بدلنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت دور کی چیز ہے، اس کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔ میں نے یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ تحریکیں شخصیت سے چلتی ہیں، لیکن شخصیت مصنوعی طور پر نہیں بنائی جاتی، بلکہ خدمت سے آپ سے آپ بنتی ہے۔ آپ جو خدمت کر رہے ہیں یہی خدمت آپ کو بنائے گی اور اگر اس مقصد کے لیے مصنوعی طریقے اختیار کیے گئے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کے لیے وہ تمام چیزیں اختیار کی جائیں گی جو موجودہ زمانے میں لیڈری کے لوازم و خصوصیات میں سمجھی جاتی ہیں اور جنھیں آپ حرام سمجھتے ہیں۔
مولانا مودودی صاحب میری یہ باتیں حسب عادت نہایت توجہ سے سنتے اور مجھے اطمینان دلاتے کہ میں ایسی غلط فہمی میں نہیں ہوں، مگر حقیقت میں وہی سب کچھ ہونے لگا جس کی طرف میں ان کو توجہ دلاتا رہا تھا۔ چنانچہ لیڈروں والے سارے لوازم اختیار کیے گئے، ہر قدم پر تصویریں لی جانے لگیں۔ جہاں جاتے وہاں پہلے سے اطلاع پہنچ جاتی کہ استقبال کیا جائے، اسٹیشن پر لوگ آئیں اور خیر مقدم کے نعرے لگیں۔ ان چیزوں سے میرا یہ احساس قوی ہو گیا کہ گاڑی اب اسی راستے پر چل نکلی ہے۔ تاہم کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جو مجھے مجبور کردیتی کہ میں جماعت سے الگ ہو جاتا۔ میں اپنے آپ کو شوریٰ میں ایک موثر وجود سمجھتا تھا اور میرا خیال تھا کہ میں ان شاء اللہ جماعت کو بحیثیت مجموعی کسی غلط راستے پر جانے نہیں دوں گا۔ بالآخر پنجاب کے پہلے الیکشن کا مرحلہ پیش آ گیا۔
اس وقت میری اور میرے بعض ہم خیال دوستوں کی رائے یہ تھی کہ فی الوقت الیکشن میں حصہ لینا جماعت کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گا۔ لیکن چونکہ مولانا مودودی صاحب کا ذہن الیکشن لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہو چکا تھا، اس لیے ہم شدت کے ساتھ اس کی مخالفت بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ الیکشن میں مولانا مودودی صاحب ایک سیاسی پارٹی کی حیثیت سے میدان میں اتر گئے اور ان کے وہ ساتھی جو ایسے ہی کسی موقع کے انتظار میں تھے، الیکشن میں پوری طرح سرگرم عمل ہو گئے۔لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ الیکشن میں شریک ہوکر جماعت نے ان تمام اخلاقی و مذہبی اصولوں کو پامال کر دیا جن کا وہ اب تک اعلان کرتی رہی تھی۔ بحیثیت ایک سیاسی جماعت وہ کوئی کامیابی نہ حاصل کر سکی۔ بلکہ جتنے لوگ جماعت کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے تھے ان میں سے شاید کوئی صاحب بھی اپنی ضمانت واپس نہیں لے سکے۔
اخلاقی حیثیت سے جماعت نے جن سنگین غلطیوں کا ارتکاب کیا ان کی وجہ سے جماعت میں ایک شدید قسم کا بحران پیدا ہو گیا کہ ہم کس لیے اٹھے تھے، ہمارے دعوے کیا تھے، آج تک کیا اعلان کرتے رہے اور کس طرح ایک ہی آزمایش میں سب کچھ کھو کر رکھ دیا۔ اس بحران کے نتیجہ میں جب ایک بددلی سی پیدا ہوئی تو مجلس شوریٰ نے غالباً 1956 ء کے اوائل میں چند ارکان پر مشتمل ایک جائزہ کمیٹی مقرر کی تھی جس کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا کہ وہ تمام حالات کا جائزہ لے کر مفصل رپورٹ شوریٰ میں پیش کرےلیکن امیر جماعت مولانا مودودی صاحب اس جائزہ کمیٹی کی تشکیل پر بہت برہم ہوئے اور انھوں نے دوسرے اعتراضات کے علاوہ یہ اعتراض بھی کیا کہ اس کمیٹی کو مرکزی تنظیم کے محتسب کی حیثیت دی گئی ہے، حالاں کہ اس میں بعض ارکان بہت ناپسندیدہ ہیں۔ چنانچہ یہ کمیٹی مولانا مودودی صاحب کے مسلسل مطالبے کی بنا پر توڑ دی گئی۔ پھر مجلس شوریٰ نے چار سینئر ارکان غازی عبد الجبار، شیخ سلطان احمد، حکیم عبد الرحیم اشرف اور مولانا عبد الغفار حسن صاحب پر مشتمل ایک اور کمیٹی مقرر کی جس کے سپرد بھی یہی کام کیا گیا۔
اس جائزہ کمیٹی نے پورے ملک کا دورہ کیا، ہر جگہ ارکان جماعت کے بیانات لیے اور کئی مہینوں کی محنت شاقہ کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی۔ جب یہ رپورٹ مرتب ہو کر امیر جماعت کو ملی تو بدقسمتی سے امیر جماعت نے اسے اپنے خلاف ایک چارج شیٹ سمجھ لیا۔ تاہم جب شوریٰ میں یہ رپورٹ پیش ہوئی تو شوریٰ نے، جس کے صدر مولانا مودودی صاحب تھے، متفقہ طور پر جائزہ کمیٹی کے ارکان کی خدمات کو سراہا، ان کا شکریہ ادا کیا اور چار شقو ں پر مشتمل ایک قرار داد منظور کی جس میں یہ اعتراف کیا گیاکہ کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن وہ ایسی غلطیاں نہیں ہیں جن پر قابو نہ پایا جا سکے، آیندہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔اس قرار داد کی ایک نہایت اہم شق یہ تھی کہ عام انتخابات کی سرگرمیوں سے فی الحال صرف نظر کر کے معاشرے کی اصلاح پر زیادہ زور دیا جائے، کیونکہ اسلامی خطوط پر معاشرے کی اصلاح ہی بالآخر ملک میں صحیح سیاسی تبدیلی کا ذریعہ بن سکے گی۔ اس قرار داد کو متفقہ طورپر منظور کر لینے کے بعد مجلس شوریٰ کا اجلاس دعا و درود پڑھ کر ختم کر دیا گیا۔
اس قرار داد کو منظور کر لینے کے بعد میرے نزدیک مجلس شوریٰ نے اس بحران پر جو انتخابات میں حصہ لینے سے پیدا ہو گیا تھا، قابو پا لیا تھا۔ لیکن مولانا مودودی صاحب نے اس قرار داد کو دل سے نہیں مانا۔ نیز یہ خلش بھی ان کے دل سے نہیں نکلی کہ جائزہ کمیٹی کی رپورٹ ان کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے۔ چنانچہ شوریٰ کے اجلاس کے ختم ہونے کے کچھ ہی دن بعد انھوں نے جائزہ کمیٹی کے چاروں ارکان کو ایک نوٹس بھیج دیا کہ چونکہ آپ حضرات ایک نادانستہ سازش کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے شوریٰ سے استعفا دیں، ورنہ میں آپ کے حلقے کے ارکان کو لکھوں گا کہ وہ آپ کو واپس بلا لیں۔
میں گذشتہ کئی برسوں سے محسوس کر رہا تھا کہ مولانا مودودی صاحب شورائیت کو، جو اسلامی نظام کی بنیادی خصوصت ہے، جماعتی معاملات میں اہمیت نہیں دیتے، لیکن اس واقعہ نے میرے اعتماد کو بالکل ہی متزلزل کر دیا۔ کیونکہ مولانا مودودی صاحب کا یہ اقدام دستور جماعت ہی نہیں، عدل و انصاف کے ابتدائی تقاضوں کے احترام سے بھی خالی تھا۔ چنانچہ میں نے اس صریح ناانصافی اور جماعتی مصالح کے لحاظ سے مہلک فیصلہ پر ان کی توجہ دلانے کی کوشش کی اور ان کے سامنے یہ واضح کیا کہ آپ کا یہ فیصلہ ہر پہلو سے غلط ہے۔ اس لیے جن کو آپ کے احکام پہنچ گئے ہیں انھیں واپس لیجیے اور جن تک نہیں پہنچے انھیں روک دیجیے، ورنہ یہ چیز بڑے حادثے پر منتہیٰ ہو گی۔ مولانا مودودی صاحب مجھے تسلی دیتے رہے کہ اس پر غور کیا جائے گا، لیکن عملاً وہ اسی پر مصر رہے۔ تب میں نے ان کو ایک مفصل خط لکھا جس میں میں نے ان کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرائی کہ امیر جماعت کی حیثیت سے ان کا یہ اقدام دستور ہی کے نہیں عدل و انصاف کے بھی خلاف ہے۔
میرا یہ خط ایک تاریخی خط ہے جو اس زمانے میں پریس میں بھی آ گیا تھا اور جسے پڑھ کر(شام کے) عمر بہاء الامیری نے، جو اس زمانے میں پاکستان کے سفیر ہوا کرتے تھے، کہا تھا ’قد کتبت ھذا الكتاب کما یکتب القاضي قضاء ولکن فیه بعض الخشونة‘(آپ نے خط ایسے لکھا ہے جیسے قاضی اپنا فیصلہ لکھتا ہے، لیکن ذرا تلخ ہے) مولانا مودودی صاحب نے مجھے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ اگلے روز نہایت عجیب و غریب انداز سے جماعت کی امارت سے مستعفی ہو گئے۔
کچھ عرصہ سے، مولانا مودودی صاحب نے شوریٰ کے اجلاسوں میں یہ طرز عمل اختیار کر رکھا تھا کہ جب کبھی وہ اپنے موقف کو دلائل کے ذریعے منوانے میں ناکام رہتے تو فوراً استعفے کی دھمکی دے دیتے۔‘‘(سہ ماہی تدبر، اپریل 1998ء)
مولانا اس واقعے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’وہ اس سے پہلے شوریٰ کے اجلاسوں میں کئی بار استعفے کی دھمکی دے چکے تھے اور اس کا مقصد شوریٰ کو مرعوب کرنا اور دیگر ارکان کو یہ تاثر دینا ہوتا تھا کہ اختلاف کرنے والے حضرات امیر جماعت کی دل شکنی کا باعث بن رہے ہیں۔ چنانچہ اس دفعہ جب انھوں نے استعفا دیا تو جماعت کی مجلس شوریٰ نے بالاتفاق یہ طے کیا کہ استعفے کو نہایت خفیہ رکھا جائے، لیکن مرکزی اسٹاف نے اسے نہایت دھوم دھام سے اخبارات میں شائع کرا دیا اور جگہ جگہ عام ارکان کو یہ تاثر بھی دیا گیا کہ درحقیقت میری کوئی گستاخی ہے جو جماعت کے لیے اس حادثے کا باعث بنی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ جماعت کے بیشتر حلقوں میں جائزہ کمیٹی کے ارکان اور ان سے ہمدردی رکھنے والے دیگر حضرات کے خلاف بہتان طرازیوں کی ایک مکروہ مہم شروع ہو گئی۔
اس استعفا پر غور کرنے کے لیے مجلس شوریٰ کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں چند ایسے ارکان جن کی رکنیتیں اس عرصہ میں معطل کر دی گئی تھیں،وہ بھی شریک ہو گئے ۔ اس شوریٰ نے امیر جماعت پر غیرمشروط اعتماد کا اظہار بھی کیا اور امیر جماعت کو خوش کرنے کے لیے پالیسی میں بھی مداخلت کر دی جس کا اسے کوئی اختیار نہیں تھا۔ میں اس شوریٰ میں شریک نہیں تھا چونکہ میں امیر جماعت پر شوریٰ کے غیر مشروط اظہار اعتماد کو، امیر جماعت کے ان تمام فیصلوں کی توثیق سمجھتا تھا، جو انھوں نے جائزہ کمیٹی کے ارکان کے خلاف کیے۔ اس لیے میں نے اس دوران میں جماعت سے استعفادے دیا۔ میرے استعفے کے بعد چودھری غلام محمد صاحب جو اس وقت قائم مقام امیر بنائے گئے تھے، مولانا باقر خان صاحب کے ساتھ مجھے ملے اور مجھے یہ یقین دلایا کہ اس شوریٰ کے اظہار ِاعتماد کا مطلب ہرگز ہرگز امیر جماعت کے جائزہ کمیٹی کے ارکان کے خلاف اقدامات کی توثیق نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دسمبر کی شوریٰ کی قرارداد اپنی جگہ قائم ہے۔ نیز یہ کہ امیرجماعت جائزہ کمیٹی کے ارکان کو بھیجے گئے نوٹس کو نہ صرف واپس لیں گے، بلکہ ان سے معافی بھی مانگیں گے۔ ان حضرات کی ان یقین دہانیوں کے بعد میں نے اپنا استعفا واپس لے لیا۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ حضرات ان وعدوں میں سے کسی بھی وعدے میں سچے ثابت نہیں ہوئے۔
شوریٰ کی اس قرار داد کے بعد مولانا مودودی صاحب نے اپنے اس استعفے کو جس میں کہا گیا تھا کہ یہ کسی بھی صورت میں واپس نہیں ہو گا، صرف تین ہی دن کے بعد واپس لے لیا۔ لیکن جائزہ کمیٹی کے ارکان کے بارے میں وہ اپنے اسی فیصلے پر جمے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چاروں اراکین شوریٰ الگ کیے گئے اور ان کے ساتھ ہی کئی دوسرے حضرات نے بھی بد دل ہو کر جماعت سے استعفا دے دیا۔ وہ شوریٰ ختم ہو گئی جو مولانا مودودی صاحب کے نقطۂ نظر سے اختلاف کر سکتی تھی۔ صرف وہ لوگ رہ گئے جن کا خیال یہ تھا کہ دین لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، لیکن اس زمانے میں اسے مولانا مودودی صاحب ہی نے سمجھا ہے۔
اگرچہ ایسی خوشامدی اور جی حضوری قسم کی شوریٰ سے کسی اختلاف کی توقع رکھنا عبث تھا پھر بھی مولانا مودودی صاحب نے کسی متوقع سرکشی سے بچنے کے لیے جماعت میں اسلامی شورائیت کے نظام کو بدل کر ایک آمرانہ اور ڈکٹیٹرانہ نظام نافذ کر دیا۔ چنانچہ ماچھی گوٹھ کے اجتماع ارکان میں انھوں نے مختلف طریقوں سے دستور میں ایسی ترامیم کرائیں جن کی رو سے شوریٰ کو عاملہ کی بجائے ایک مشاورتی کونسل کی حیثیت دے دی گئی۔ چند ماہ بعد اس نئی شوریٰ کا اجلاس کوٹ شیر سنگھ میں ہوا اور اس میں مولانا مودودی صاحب نے اپنے لیے ان اختیارات کا مطالبہ کیا جو حالت جنگ میں کسی فوج کے سپہ سالار کو حاصل ہوتے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انھیں یہ اختیارات نہ دیے گئے تو وہ جماعت کی امارت سے استعفا دے دیں گے۔ میں نے ان کی اس رائے پر تنقید کی تھی، لیکن شوریٰ نے ان کے استعفا کی دھمکی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ میں شوریٰ کے اس اجلاس سے اُٹھ کر چلا آیا اور بعد میں دستور میں وہ تمام ترامیم کر دی گئیں جن کے بعد جماعت کا جمہوری او ر شورائی نظام ایک آمرانہ اور ڈکٹیٹرانہ نظام میں بدل گیا۔ ترمیم شدہ دستور کے مطابق چند ارکان پر مشتمل عاملہ بنائی گئی جسے بظاہر وسیع اختیارات دیے گئے، لیکن عملاً یہ تمام اختیارات امیر جماعت کی ذات میں مرتکز کردیے گئے، کیونکہ اس دستور کے مطابق اب امیر جماعت عاملہ کی اکثریت کی رائے کے پابند نہیں تھے اور وہ ساری عاملہ یا عاملہ کے چندارکان کو جب چاہیں معزول کر سکتے تھے۔
جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا تو مجھ پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی کہ اب جماعت کا دستور، نظام، پالیسی ہر چیز بدل چکی ہے۔ یہ جماعت اقامت دین کے لیے اٹھی تھی اور اس کے لیڈروں نے اسے اٹھا کر غلط راستے پر ڈال دیا۔ ان کی انتہائی آرزو بس یہی تھی کہ کسی طرح اسمبلی کی چند سیٹوں پر قبضہ کر لیں۔ شہادت حق اور اقامت دین کے نعرے کھوکھلے ہو چکے تھے۔ میں نے اس کے اندر رہ کر اصلاح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ میرے لیے یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ میں امیر جماعت کے ان اقدامات کو جو انھوں نے جائزہ کمیٹی کے ارکان کے خلاف کیے، خاموشی سے برداشت کر لیتا۔ اگر میں اس ظلم اور ناانصافی پر خاموش رہتا تو میرا ضمیر مردہ ہو جاتا اور میری روح خدا سے شرمندہ ہوتی۔ اس دوران میں کچھ لوگوں نے مصالحت کی کوششیں کیں، لیکن جب وہ بھی مایوس ہو گئے تو میں نے استعفا دے دیا۔ اور آخر میں یہ بھی لکھ دیا کہ یہ استعفا واپس لینے کے لیے نہیں ہے۔ مولانا مودودی صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنا استعفا واپس لیں۔ میں نے کہا : مولانا میں نے تو عرض کر دیا ہے کہ یہ استعفا واپس لینے کے لیے نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں نے آپ کو اچھی طرح جان لیا اور آپ نے مجھے اچھی طرح جان لیا۔ اب ہم شاید کبھی بھی مجتمع نہیں ہو سکیں گے۔ ’ھذا فراق بیني و بینك ‘۔ ( میرے اور آپ کے درمیان اب علیحدگی ہے ) مولانا مودودی صاحب اٹھ کر چلے گئے اور جماعت سے میری علیحدگی ہو گئی۔‘‘ (سہ ماہی تدبر، اپریل1998ء، 48-53)
یہاں ہم ان تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہیں جو کوٹ شیر سنگھ کے اجلاس میں منظور ہوئیں ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ مولانا کا یہ جملہ کس قدر مبنی بر حقیقت ہے کہ ’’مولانا مودودی صاحب نے اپنے لیے ان اختیارات کا مطالبہ کیا جو حالت جنگ میں کسی فوج کے سپہ سالار کو حاصل ہوتے ہیں۔‘‘
جماعت اسلامی کے دستور میں اہم تبدیلیاں
1۔ نظم جماعت اور تحریک اسلامی کو چلانے کی آخری ذمہ داری امیر جماعت پر ہوگی اور وہ مجلسِ شوریٰ اور ارکان جماعت کے سامنے جواب دہ ہوگا۔
2۔ جماعت کی پالیسی کی تشکیل اور اہم مسائل کے فیصلے امیر جماعت مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا،( جب کہ مجلس شوریٰ عملاً امیر جماعت کی مکمل ’’مرید‘‘ ہو چکی تھی )۔
3۔ مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے امیر جماعت کو اپنی مجلسِ عاملہ خود منتخب کر لینے کا اختیار ہو گا اور مجلسِ عاملہ کو وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو آیندہ دستور جماعت میں اسے دیے جائیں گے۔
4۔ اہم معاملات میں اگر کوئی فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہو اور مجلس عاملہ یا مجلسِ شوریٰ کا اجلاس منعقد کرنے کا امکان نہ ہو تو امیر جماعت، مجلسِ عاملہ یا مجلسِ شوریٰ کے جن ارکان سے بھی مشورہ لے سکتا ہو، ان کے مشورے سے وہ قدم اٹھا سکتا ہے۔
5۔ امیر جماعت اپنی مدد کے لیے نائب امرا مقرر کرسکے گا اور وہ تفویض کردہ فرائض ادا کرنے اور اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔
6۔ مجلسِ شوریٰ کے ارکان کی تعداد کم از کم پچاس ہوگی۔ ہر انتخاب سے پہلے اس تعداد کو مختلف تنظیمی حلقوں کے ارکان کی تعداد کے تناسب سے ان حلقوں پر تقسیم کیا جاتا رہے گا، مگر کوئی حلقہ کم از کم ایک نشست سے محروم نہ رہے گا۔
7۔ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں ارکان جماعت، سامع کی حیثیت سے حاضر ہوسکیں گے، البتہ کسی خاص اجلاس کے لیے امیر جماعت مصالح جماعت کی خاطر اس اجازت کو منسوخ کرسکے گا۔
8۔ مجلسِ شوریٰ کے کل منتخب ارکان کی دو تہائی اکثریت سے اگر امیر جماعت کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد منظور ہو جائے تو امیر جماعت معزول ہو جائے گا۔
9۔ مجلسِ شوریٰ کو تعبیر دستور اور ترمیم دستور کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
جو ارکان جماعت، دستور جماعت کی پابندی کے عہد پر قائم ہوں، مگر نصبُ العین کے حصول کے عملی طریقوں میں جن کا نقطۂ نظر جماعتی فیصلوں سے مختلف ہو، انھیں جماعت کے اندر حسب ذیل حدود کو ملحوظ رکھنا ہو گا:
1۔ انھیں جماعت کے اجتماعات میں اختلاف خیال کے اظہار کا پورا حق حاصل ہوگا، مگر اس غرض کے لیے پریس اور پبلک پلیٹ فارم کو ذریعہ بنانے کا حق نہ ہوگا۔ اور یہ حق بھی نہ ہوگا کہ وہ فرداً فرداً ارکان جماعت میں نجویٰ کرتے پھریں۔
2۔ جماعت میں کثرتِ راے سے جو فیصلے ہو جائیں، ان کو وہ جماعتی فیصلوں کی حیثیت سے تسلیم کریں گے اور ان کے پابند ہوں گے، البتہ انھیں یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ مقررہ حدود کے اندر ان فیصلوں کو متعلقہ اجتماعات میں بدلوانے کی کوشش کریں۔
3۔ اگر کوئی رکنِ جماعت، جماعت کی طے کردہ پالیسی سے اختلاف کا اظہار کر دے تو وہ جماعت میں کسی ایسے منصب پر نہ رہ سکے گا جس کا فریضہ جماعتی پالیسی کو نافذ کرنا ہو۔
جماعت اسلامی پاکستان کا یہ کل پاکستان اجتماع ارکان قرار دیتا ہے کہ:
1۔ دستوری قرار داد نمبر1 اور نمبر2 (مذکورہ بالا) کی بنیاد پر آیندہ منتخب ہونے والی مجلسِ شوریٰ کو جماعت کے دستور کی نئے سرے سے تدوین کرنی ہوگی۔
2۔ 1955ء کے اجتماع ارکان میں جو مجلس ترمیم دستور منتخب کی گئی تھی، اس کے غور کے لیے جو ترامیم آئی تھیں، وہ نئی مجلسِ شوریٰ کے سپرد کر دی جائیں۔
3۔ آیندہ مجلس ِ شوریٰ کا انتخاب 31؍ مارچ 1957ء سے پہلے ہو جانا چاہیے۔
4۔ نئی مجلسِ شوریٰ کے انتخاب تک موجودہ مجلسِ شوریٰ قائم رہے گی۔
کل پاکستان اجتماع ارکان کے مذکورہ بالا فیصلوں کے مطابق مجلسِ شوریٰ کا انتخاب 31 ؍مارچ 1957ء سے پہلے کرا لیا گیا۔ اس مجلس کا پہلا اجلاس کوٹ شیر سنگھ، ضلع لاہور میں جناب سردار محمد خان صاحب کے مکان پر 19 تا 26 مئی 1957ء منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مجلس کے پچاس میں سے پینتالیس ارکان شریک ہوئے اور اس میں دستور کی دفعہ 34 کی شق 6 کے سوا پورا دستور بالاتفاق منظور ہوا۔ صرف مذکورہ شق پر ہی راے شماری کی ضرورت پیش آئی۔ اس میں چار ارکان نے خلاف راے دی، دو ارکان غیر جانب دار رہے اور انھوں نے راے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ یہ دستور 25؍ شوال 1376ھ مطابق 26؍ مئی 1957ء کو منظور ہوا۔ اور 2؍ذیقعدہ 1376ھ مطابق یکم جون 1957ء بروز ہفتہ سے نافذ العمل ہوا۔
(بحوالہ دستور جماعتِ اسلامی کے ارتقائی مراحل: ضمیمہ 5 )