مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(27)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

’’ میثاق‘‘ کی اشاعت سے مولانا اصلاحی کو ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا ہو گیا، جس کے ذریعے سے وہ مثبت تنقید بھی کرتے اور قوم کی بہتری کے لیے تجاویز بھی دیتے۔ ’’میثاق‘‘ کےاداریوں میں انھوں نے اپنا نقطۂ نظر واضح کیا۔ اس ضمن میں انھوں نے بہت سے معر کہ آرا مضامین لکھے۔ ان میں یہ مضامین خاص طور پر قابل ذکر ہیں :

معاشرے کی اصلاح،

اہل سیاست کے طور طریقے،

انقلابی طریقۂ کار،

تحریک اور پروپیگنڈا،

دین کے کام کے لیے التزامِ جماعت،

دینی تعلیم و تربیت کے اداروں کا قیام،

تحفظ دین کا ایک منصوبہ۔

ان مضامین میں مولانا اصلاحی کے بیان کردہ نقطۂ نظر کا خلاصہ ہم ان نکات کی صورت میں بیان کر سکتے ہیں :

* پاکستان کے موجودہ معروضی حالات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو۔

* موجودہ سیاسی جماعتوں میں ایسی کوئی جماعت نہیں جو ایسی حکومت بنا سکے جس سے سیاسی استحکام حاصل ہو۔

* دینی جماعتوں اور دین کا کام کرنے والے گروہوں اور شخصیتوں کے لیے سیاست بازی ایک بے فائدہ اور نقصان دہ کام ہے۔ انھیں چاہیے کہ مثبت طور پر لوگوں میں دینی شعور پیدا کریں۔ اس کے لیے ایسے ادارے بنائیں جہاں گروہی تعصبات سے پاک ہو کر اسلام کی تعلیم دی جا سکے۔ یہ جماعتیں کبھی بھی ایسی سیاسی عصبیت حاصل نہیں کر سکتیں جو ان کو اقتدار کی منزل تک لے جائیں۔ وہ اس بے فائدہ انتخابی سرگرمیوں میں طرح طرح کے تحفظات، غیر اخلاقی ہتھکنڈوں اور شرم ناک مصالحتی اقدام پر مجبور ہو جائیں گی جس سے وہ اپنی آخرت بھی کھوٹی کریں گی اور معاشرے میں بے وقار اور بےنام بھی ہو کر رہ جائیں گی۔

* نہ صرف پاکستان کے مختلف شہروں میں، بلکہ بیرونِ ملک مسلمانوں میں جدید پڑھے لکھے نوجوانوں کو اسلام کی ایسی تعلیم دی جائے جو ان کے کام آسکے تاکہ وہ اپنے اپنے میدان اور شعبۂ زندگی میں مثالی رہنمائی سے معاشرے کے ہر طبقے میں تعمیر کا کام کر سکیں۔

اس حوالے سے ہم ان کے مضمون ’’ تحفظ ِ دین کا ایک منصوبہ‘‘ کا ایک اقتباس یہاں نقل کرتے ہیں :

’’ہم اس ملک میں اسلام کے مستقبل سے دل چسپی رکھنے والے ہر مسلمان سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر تمام گروہی اور جماعتی تعصبات سے بالاتر ہو کر غور کرے اور اس مقصد کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے اس سے دریغ نہ کرے … اس وقت یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ایسی تعلیمی اور تربیتی مجلس قائم کی جائے جو فی الحال مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کرے :

1۔ ایک ایسے کالج یا تربیتی ادارے کا قیام جو عربی اور انگریزی، دونوں زبانوں کا جامع ہو اور جس کا اسٹاف جدید اور قدیم، دونوں علوم کے ماہرین اور دینی اہمیت رکھنے والے فاضلین پر مشتمل ہو۔

2۔ ایک دارالتصنیف کا قیام جو ان تمام مسائل پر جو اس وقت جدید فکر و فلسفہ اور اسلام کے تصادم سے پیدا ہو رہے ہیں،اعلیٰ پائے کی کتب تیار کرے۔ ان کی نشر و اشاعت کا اہتمام کرے۔

3۔ ایک مرکز اصلاحِ معاشرہ کا قیام جو معاشرے کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت کو سنبھالنے اور اس کی اصلاح کے لیے وہ تمام مناسب تدبیریں اختیار کرے جو اس وقت اختیار کی جا سکتی ہیں۔

ان کاموں کے لیے تین قسم کے لوگوں کا تعاون مطلوب ہے۔ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ان لوگوں کا جو اس مقصد کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اس کو بروے کار لانے کے لیے اپنی پوری محنت اور کوشش صرف کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسرے درجے پر ایسے اصحاب علم کا جو مذکورہ بالا کاموں میں سے جس کام کے لیے ذہنی اور دماغی صلاحیتیں رکھتے ہیں، ان کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ عام اس کے کہ وہ قدیم تعلیم پائے ہوں یا جدید۔

تیسرے مرتبے میں ان لوگوں کا، جو ان مقاصد کے لیے سرمایہ اور وسائل فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور ان پر اپنا سرمایہ خرچ کرنے اور ان کے لیے اپنے وسائل للہ و فی اللہ استعمال کرنے پر آمادہ ہیں۔

اگرچہ یہ بہ ظاہر تین مختلف قسم کے کام ہوں گے اور ان کے لیے افراد و اشخاص بھی تین مختلف قسم کے مطلوب ہوں گے، لیکن تمام کاموں کی روح اور ان تمام افراد کا نصب العین ایک ہوگا اور وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے عہد بندگی کو خود بھی ازسر نو استوار کریں اور دوسرے اللہ کے بندوں کو بھی اس کے استوار کرنے کی دعوت دیں۔ تعلیم و تربیت ہو یا تصنیف و تالیف، دعوت و تبلیغ ہو یا اصلاح معاشرہ کی جدوجہد، ہر کام میں یہی روح جاری و ساری ہونی چاہیے۔‘‘(مقالات ِاصلاحی1/ 313)

مولانا اصلاحی کی ان تجاویز کو ان کے ہم خیال علما اور صاحب بصیرت دوستوں نے بڑی اہمیت دی اور ان کو دعوت دی کہ وہ ان بنیادوں پر ایک ملک گیر تنظیم کی بنیاد رکھیں۔ مولانا نے جماعت اسلامی کے پچھلے تلخ تجربے کی روشنی میں اس سے معذرت کی اور کہا کہ وہ اس طرح کی کسی سرگرمی کو اپنے لیے اختیار کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔چنانچہ ’’ایک نئی دینی تنظیم کی ضرورت ‘‘ کے عنوان کے تحت انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا :

’’ بہ ہرحال ہم اس طرح کی کسی تنظیم کی ضرورت کو وقت کی ایک فطری ضرورت سمجھتے ہیں۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں نے اس کے لیے قدم اٹھایا تو ہم ان کا خیر مقدم کریں گے۔ ان سے تعاون کریں گے اور اپنے پاس جو قوتیں اور صلاحیتیں ہیں ان سے ان کے ساتھ شرکت عمل کریں گے، لیکن یہ امر بھی ہم بے تکلف ظاہر کر دینا چاہتے ہیں کہ اس وقت ہمارے پیش ِنظر علم دین کی خدمت کے جو کام ہیں وہ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم شرکت و تعاون سے آگے بڑھ کر اس طرح کی تنظیم کی ذمہ داری براہ راست اٹھائیں۔ ہم نے اپنے ذمے جو کام لے رکھے ہیں، ہماری طاقت نچوڑ لینے کے لیے وہی کافی ہیں۔ یہ کام کم از کم اپنی نگاہوں میں ایسے نہیں ہیں جن کو ہم نظر انداز کر سکیں۔ ہم تفسیر’’ تدبر ِقران‘‘ کی تکمیل اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کےذی صلاحیت نوجوانوں کو علم دین سے آراستہ کرنے کی جدوجہد کو اس وقت نہایت ضروری کام سمجھتے ہیں۔ ہمارا گمان یہ ہے کہ ان کاموں کے لیے تھوڑی بہت صلاحیت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔

جو آدمی اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرتا ہے، نیک نیت ہو تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیتا ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ آ دمی انبیا کے طریقے پر پورے دین کو لے کر نہیں اٹھ سکتا، بلکہ سچ پوچھیے تو ہم تو اس کو ایک خبط سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک تو ہما شما کے لیے اتنا ہی بس ہے کہ اپنی صلاحیت کے مطابق دین و ملت کی کوئی چھوٹی موٹی خدمت کر جائے۔ اگر اس کے ساتھ بنیاد ِ ملت کی ایک اکھڑی ہوئی اینٹ بھی اپنے ہاتھوں سے اس کی جگہ پر جم گئی تو شاید نجات کے لیے وہی کافی ہو جائے۔ اس کو حوصلے کی تنگی سمجھیے یا تجربے کی تلخی، سب کچھ پانے کے ادعا کے التزام میں سب کچھ کھو دینے کے بجاے، سلامتی اسی میں نظر آتی ہے کہ ملت اسلامیہ کی خدمت کے بے شمار گوشوں میں سے، جس خدمت کی صلاحیت اپنے اندر محسوس ہوئی ہے، اس کو لے کر بیٹھ گئے ہیں۔‘‘ ( مقالات اصلاحی 1/ 96- 97)

یہاں ہم یہ الفاظ لکھنے سے اپنے آپ کو باز نہیں رکھ پا رہے کہ کاش! مولانا اصلاحی اس وقت بھی یہی سوچتے جب انھوں نے مدرسۃ الاصلاح چھوڑ کر مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کی دعوت پر پٹھان کوٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ بے شک، وہ جماعت میں شمولیت اختیار کر لیتے، لیکن اسی طرح تعاون و شرکت فرماتے، جس طرح انھوں نے 1962ء میں یہ فیصلہ کیا تھا۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ تلخ حقیقت ہے کہ مدرسہ کی فضا ان کے لیے سازگار نہیں رہی تھی اور مولانا مودودی رحمہ اللہ کا اصرار اس قدر زیاد ہ تھا کہ وہ نیم دلی ہی سے سہی، لیکن مدرستہ الاصلاح چھوڑنے پر تیار ہو گئے تھے۔

مولانا اصلاحی اس وقت تک، یعنی 1961ء میں جناب خالد مسعود اور ان کے سا تھیوں کو اپنے خاص نقشے اور نصاب کے مطابق تدریس کا آغاز کر چکے تھے۔ اس حوالے سے انھوں نے ’’میثاق‘‘ میں ’’حلقۂ تدبر قرآن ‘‘ کے نام سے ایک پورا مضمون لکھا۔ اس کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’حلقۂ تدبر قرآن ہمارے ایک دیرینہ خواب کی تعبیر ہے۔ ہمارا عرصے سے یہ خیال ہے کہ اب ہمارے ملک میں مذہب کو نئے خطرات سے بچانے کی اگر کوئی تدبیر ہے تو یہ ہے کہ ہماری قوم میں دین ودنیا، دونوں میں بصیرت رکھنے والے ایسے علما پیدا ہوں جو جدید (علمی)ہتھیاروں سے مسلح ہو کر ہر محاذ پر مذہب کی خدمت کر سکیں۔ہماری قوم میں جو پرانے علما اپنے علم و فضل کے لحاظ سے قابل اعتماد تھے،ایک ایک کر کے اٹھتے جا رہے ہیں جو چند ایک باقی ہیں وہ اب چراغ سحری کے حکم میں داخل ہیں۔ جن پرانی درس گاہوں سے یہ علما پیدا ہوئے تھے، ان کی کسمپرسی یوں تو ہمیشہ ہی سے قابل ِ رحم رہی ہے، لیکن اب تو یہ بے بسی اور بے وقعتی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ان کا عدم اور وجود، دونوں تقریباً برابر ہیں۔ ہماری ساری قوم کی توجہ جدید تعلیم اور اس کے ذریعے سے سرکاری ملازمت کی طرف ہو چکی ہے۔ اب یہ دینی مدارس صرف یتیموں اور بے کسوں کی پناہ گاہیں بن کر رہ گئے ہیں جن کے لیے کہیں اور پناہ نہیں ہے۔ان مدارس کے منتظمین بھی اول تو اتنے جامد ہیں کہ آسانی سے کسی تبدیلی اور اصلاح کے لیے آمادہ ہی نہیں ہوتے۔ اگر ان میں سے بعض آمادہ ہو بھی جاتے ہیں تو ان کے وسائل و ذرائع اس قدر محدود ہیں کہ اصلاح و ترقی کی کسی معمولی سے معمولی اسکیم کو بھی وہ عملی جامہ نہیں پہنا سکتے…

میں اپنی مصروفیتوں کی وجہ سے ایک عرصہ تک اس قسم کے کام کی ذمہ داری براہ راست اپنے سر لینے سے گریز کرتا رہا، لیکن اس ضرورت کی اہمیت نے مجھے بھی مجبور کر دیا کہ میں اس کام پر کچھ وقت صرف کروں۔ چنانچہ علم دین کے جو قدردان مجھ سے ملتے رہتے تھے، میں نے ان پر مشتمل ایک حلقہ قائم کر دیا۔ اس حلقہ میں میری طرف سے کسی دعوت کے بغیر طلبہ کی ایک اچھی خاصی تعداد شامل ہو گئی جن کی اکثریت اعلیٰ تعلیم پائے ہوئے ہے۔ اس حلقہ کے قیام پر ابھی ایک شش ماہی سے زیادہ مدت نہیں گزری اور میں بھی اس پر ابھی روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ وقت صرف نہیں کرتا، تا ہم اس کے جو نتائج میرے سامنے ہیں، ان سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر تین سال بھی یہ طلبہ میرے ساتھ وابستہ رہ سکے تو اتنے ہی وقت کے اندر جو میں ان پر صرف کرتا ہوں، ان کو کم از کم اس قابل تو کر ہی دوں گا کہ وہ غور و فکر اور تحقیق و تنقید کے ان مصادر اور ان مسائل سے براہ راست استفادہ کر سکیں، جن سے میں استفادہ کر سکتا ہوں۔

میں نے ان کو اس دوران میں سادہ طریقے پر عربی زبان کی تعلیم دی ہے اور ساتھ ہی قرآن مجید کی چند سورتوں اور حدیث کی کتابوں میں مسلم شریف کے درس دیے ہیں۔ قرآن مجید کے درس میں ان تمام مباحث سے تعارض کیا ہے جو ابتدائی مرحلے میں ضروری ہے۔ مثلاً تحقیقِ الفاظ، نحو،زبان، اسلوب، نظم، تاویل آیات اور استنباط احکام۔ حجج اور حکمت کی زیادہ نازک بحثیں ابھی نہیں اٹھائی ہیں۔ زندگی ہے تو بالترتیب دوسرے اور تیسرے سال میں بہ قدر ضرورت ان کو بھی شامل کر لوں گا تاکہ یہ قرآن کے فلسفہ، اس کے علم کلام اور اس کی حکمت سے بھی آشنا ہو جائیں۔ حدیث کی کتابوں میں مسلم شریف کا انتخاب میں نے اس خیال سے کیا ہے کہ تفہیم مطالب کے لیے اس کی ترتیب نہایت حکیمانہ ہے۔ اس کے دروس میں وہ تمام مباحث میں نے اٹھائے ہیں جو طلبۂ حدیث کے لیے ضروری ہیں۔مصطلحات اور اصول فن سے بھی بہ قدر ضرورت بحث کی ہے۔ عقائد اور فقہی مسائل میں فقہا اور متکلمین کے نقطۂ نظر اور ان کے دلائل سے بھی آشنا کیا ہے۔ اِس زمانے میں حدیث کے خلاف جو شبہات و اعتراضات پیش کیے جاتے ہیں، وہ خاص طور پر دوران دروس میں پیش نظر رہے اور ان کو بھی صاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان طلبہ کے ذہن چونکہ آزاد ہیں، اس وجہ سے یہ اپنے ہر قسم کے شبہات اور شکوک آزادی کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور میں ان کی اس آزادی کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔

یہ اللہ کا فضل ہے کہ اتنے عرصے میں ہر قسم کے سوالات زیر بحث آئے، لیکن کسی مسئلے میں بھی وہ غیر مطمئن نہیں رہے۔ میں اپنی اس کوشش کے نتائج کا اندازہ کرنے کے لیے خود بھی ان سے وقتاً فوقتا ً سوالات کرتا رہا ہوں اور بہ طور تحدیث ِنعمت اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ ان کے جوابات میری توقعات سے کہیں زیادہ امید افزا ہوتے ہیں۔ میں نے کم و بیش چودہ سال عربی اور علوم دینیہ کے منتہی طالب کو قرآن،ادب اور فلسفۂ تاریخ کی تعلیم دی ہے، لیکن میں اس کے نتائج سے اتنا مطمئن کبھی نہیں ہوا جتنا مطمئن میں اس حقیر کوشش کے نتائج سے ہوا ہوں۔‘‘

(مقالات اصلاحی 1/ 317-318)

[باقی]