(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(3)
]صاحب تدبر قرآن کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
]’’سیر و سوانح‘‘ کے زیرعنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین
کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
مولانا اصلاحی کی تعلیم کا سلسلہ جب سرکاری اسکول سے منقطع ہوا تو انھیں دوسرے مدرسے میں داخل کرا یا گیا۔ اس مدرسے کا کیا نام تھا، اور یہ داخلہ کب ہوا، یہ ماضی کے دھندھلکوں میں اوجھل ہے۔ مولانا کو بس اتنا یاد ہے کہ یہاں ان کے استاد مولوی فصیح احمد تھے اور وہ انھیں دینیات کی تعلیم دیتے تھے۔ گمان غالب ہے کہ یہ گاؤں ہی کی مسجد کا مدرسہ رہا ہو گا۔
مولانا کی باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہوئے۔ امین احسن اس میں 9جنوری 1915 میں متعلم ہوئے۔ ریکارڈ کے مطابق ان کا اس مدرسے میں داخلے کا نمبر 328 ہے۔ وہ یہاں درجہ سوم اردو میں طالب علم بنے۔ اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے سرکاری اسکول اور مسجد کے مدرسے میں جو تعلیم حاصل کی، اسے ابتدائی دو جماعتیں تصور کیا گیا۔ مولانا اندازے سے فرماتے ہیں کہ ان کی عمر اس وقت دس برس سے کچھ زیادہ تھی۔
امین احسن کے مدرسہ آ نے سے ایک برس قبل ہی وہ سال تھا جب مولانا شبلی نعمانی مدرسے کی اصلاح کا بیڑہ اٹھا چکے تھے۔ اور مولانا مسعود علی ندوی اور مولانا شبلی متکلم کچھ نئے اساتذہ کے ذریعے سے اسے شبلی کے خوابوں کی تعبیر دینے کے لیے عزم بالجزم کر چکے تھے۔
امین احسن بتاتے ہیں:
’’ ایک دن شبلی متکلم ہمارے گھر آئے۔ یہ میرے چچا تھے، حقیقی نہیں،گاؤں کے رشتے سے۔ ان کا خاندان دوسرا تھا اور میرا کوئی اور۔ لیکن گاؤں کا یہ رشتہ بڑا مضبوط ہوتا تھا۔ وہ آئے اور انھوں نے مجھے دیکھا۔ والد سے کہا کہ میں اسے مدرسے میں لے جارہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔‘‘
امین احسن کی اس بات سے واضح ہو رہا ہے کہ شبلی متکلم ذہین طلبہ کی تلاش میں رہتے تھے اور گاؤں میں یہ مدرسہ معلوم و معروف تھا۔ اس مدرسے کی نیک شہرت کی ایک دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ کسی فرقے یا خاص مذہبی گروہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا، بلکہ حیرت انگیز طور پر اسے جن صاحب ثروت لوگوں نے جگہ دی اور ابتدائی تعمیر کے لیے سرمایہ فراہم کیا، ان میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں طرح کے لوگ شامل تھے۔ (حیات شبلی682)
تعلیم کی ابتدائی مشکلات
امین احسن اپنی کلاس میں سب سے کم عمر طالب علم تھے اور ان کے ہم جماعت کس عمر کے تھے، اس کا تذکرہ انھی کے الفاظ میں سنتے ہیں :
’’میری کلاس میں کالی ڈاڑھی والے لوگ تھے۔ یعنی میری عمر سے بہت بڑے۔ مولوی فصیح احمد بھی تھے پہلے سال تک۔ میں انھیں دیکھ کر بہت حیران ہوتا تھا۔ کیونکہ وہ تو پچھلے مدرسے میں میرے استاد رہ چکے تھے۔ مجھ سے بڑے مولوی اختر تھے۔ وہ بھی مجھ سے چار برس بڑے تھے۔ لیکن بظاہر ہم ایک جیسے ہی لگتے تھے یہ نہیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ کوئی’’ اسلاف‘‘ کے زمانے کے ہیں۔ وہاں کئی استاد تھے، مولوی عبداللہ، مولوی برکات، مولوی شبلی متکلم۔ یہ سب استاد بڑے نامی گرامی تھے۔ وہ جو کچھ بھی تھے، ضرور بڑے مرتبے کے ہوں گے، مگر مجھے اپنی مظلومیت پر،اپنے آپ پر بہت ترس آتا تھا۔ ‘‘
اس کی مولانا متعدد وجوہات بتاتے ہیں۔ مثلاًاپنے ہم جماعتوں کے اتنا بڑے ہونے کا امین احسن کو خاصا نقصان ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ استاد ان مولویوں کی طرح میرے بارے میں یہی سمجھتے کہ مجھے بھی ابتدائی اسباق ازبر ہیں۔اورمیں بھی ان کی طرح بنیادی قواعد سے اچھی طرح واقف ہوں۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس سے میری بنیادی تعلیم میں کمی رہ گئی۔ اسے انھوں نے بعد میں ایک دوسرے شفیق استاد کی مدد سے دور کیا۔ اور اس کی نوبت اس وقت آئی جب مدرسہ میں مولانا حمیدالد ین فراہی کی اصلاحات نافذ ہوئیں۔ اس کی داستان آگے آرہی ہے۔
دوسرا نقصان یہ ہوا کہ طلبہ کو اکثریت کے لحاظ سے بعض مضامین ایسے بھی پڑھائے گئے جو گیارہ بارہ برس کے امین احسن کے لیے سخت بے زاری اور غیر دل چسپی کا باعث تھے۔ یہ علم الکلام کا مضمون تھا۔ یہ مضمون مدرسے کے سب سے خاص استاد مولوی شبلی متکلم پڑھاتے تھے۔ اور انھیں اپنے اس مضمون میں مہارت ہی کی وجہ سے ’’ شبلی متکلم ‘‘ کا نام ملا تھا۔ شبلی نعمانی کو اپنے اس شاگرد پر بہت فخر تھا اور وہ انھیں بطور خاص مدرسۃ الاصلاح کے لیے لائے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ نوآموز طالب علم امین احسن کو عمر کے اس حصے میں علم الکلام سے کوئی دل چسپی ہوئی اور نہ بعد میں۔ وہ اپنے مخصوص اسلوب میں اس کلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں :
’’مجھے علم الکلام اور منطق وغیرہ سے بھی وحشت تھی۔ مجھے یہ پڑھائی گئی، لیکن میں نے ایک حرف نہ پڑھ کر دیا۔ اسی طرح مجھے یونانی فلسفے سے بھی پیدایشی نفرت تھی۔ اب مجھے اس سے کیا غرض کہ میں یہ سوچوں کہ بھینس کی دم ہے اور انسان کی نہیں۔ اس حوالے سے بھینس دل میں کیا سوچتی ہو گی؟ اور یہ فلسفہ پڑھانے والے میرے چچا شبلی متکلم ہی ہوتے۔ انھیں فلسفے اور علم الکلام میں مہارت کی وجہ سے متکلم کہا جاتا تھا۔ وہ پڑھاتے ہوئے میرا منہ تکتے اور میں ان کا۔ میں سوچتا کہ بھئی یہ کیا فضول چیز پڑھا رہے ہیں۔ اور وہ خیال کرتے کہ کس قدر بد ذوق اور غَبی ہے۔‘‘
تیسری مشکل امین احسن کی یہ تھی کہ وہ چیزوں کو سمجھ کر ذہن کا حصہ بناتے تھے، اس کا فہم حاصل کرتے تھے۔ محض زبانی یاد کرنے سے انھیں بڑی وحشت ہوتی تھی۔ سبق کو رٹنے کے بارے میں مولانا فرماتے ہیں :
’’ مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کہتا کہ یاد میں بھی کر سکتا ہوں، لیکن جب میں کسی چیز کو سمجھتا ہی نہیں تو اسے یاد کیوں کروں ؟ یہ تو ایک بے کار کام ہے اور بد دیانتی بھی کہ انسان یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ جو بول رہا ہے اسے سمجھتا بھی ہے۔ یہ معلوم رہے کہ میں ہمیشہ سے عاقل انسان رہا ہوں۔ مدرسہ میں میرے ساتھ باقاعدہ ڈاڑھیوں والے لوگ تھے، جو لگتا تھا کہ کئی کئی برس سے وہاں پر پڑے ہوئے تھے۔اور سمجھنے کے بجاے اسی طرح یاد کرنے ہی کو سیکھنا سمجھتے تھے۔ اور مجھ سے بھی یہ توقع تھی کہ میں بھی گردانیں یاد کروں … اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ شعر یاد کرنا اور بات ہے، لیکن یہ گردانیں !اس سے مجھے وحشت ہوتی ہے۔ میں باقاعدہ گھبرا جاتا۔ اس چیز کا مجھ پر بہت برا اثر ہوا۔ ‘‘
مدرسۃ الاصلاح کا نصاب اور نظام تعلیم و تربیت
امین احسن جب تیسرے درجے میں داخل ہوئے تو مدرسے کا نصاب پرانی طرز ہی کاتھا۔ اس لیے وہ کہتے ہیں :
’’شروع میں یہ ایک روایتی مولویوں کا مدرسہ تھا۔ وہی قدوری وغیرہ پڑھائی اور رٹائی جاتی تھی۔ مولانا فراہی اس وقت تک مدرسے کے ساتھ باقاعدہ متعلق نہیں ہوئے تھے۔ ہم جب مدرسے میں آئے تو وہ سرائے میر آچکے تھےاور اپنے گاؤں میں رہتے تھے جو چار میل دور تھا۔ مولانا فراہی روزانہ وہاں آتے تھے۔ پھر انھوں نے مدرسے کو روایتی مولویوں کے چنگل سے نکالا اور نئی شاہ راہ پر ڈالا۔‘‘
نئی شاہ راہ پر ڈالنے کا مطلب اس وقت واضح ہوتا ہے جب ہم ان اصلاحات سے واقف ہوتے ہیں، جو مولانا فراہی نے مدرسے میں کی ہیں۔ ’’ ذکر فراہی‘‘ میں شرف الدین اصلاحی لکھتے ہیں کہ آغاز میں تو مولانا مسعود احمد ندوی ہی صدر ِ مدرسہ تھے، مگر 1916ء میں مولانا فراہی اس کے ناظم بنے۔ اور پھر بلا انقطاع وہ 1930 ء، اپنی وفات تک مدرسے کی خدمت کرتے رہے۔ اس دوران میں انھوں نے کیا نصاب نافذ کیا، مدرسے کے اغراض و مقاصد کیا متعین کیے، تعلیم و تربیت کا کیا نظام تھا، مدرسے کے مالی معاملات کیسے چلتے تھے، اس پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ یہ تفصیل بیان کرتے ہوئے واضح رہے کہ ہم ان ضروری نکات تک ہی محدود رہیں گے جس سے بالاجمال یہ اندازہ ہو جائے کہ مدرستہ الا صلاح میں روایت کے خلاف وہ کیا اصلاحات نافذ کی گئیں جن کی طرف مولانا اصلا حی نے بطور خاص اشارہ کیا ہے۔
ان تفصیلات کے لیے بجاے اس کے کہ ہم خود کچھ کہیں، مدرسے کی مطبوعہ روداد سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں اور یہ وہ تحریر ہے جو خود مولانا فراہی کی فرمایش سے لکھی گئی اور ان کی نظر سے گزر کر اصلاح پا چکی تھی۔اور مولانا اصلاحی نے تصدیق کی ہے کہ یہ تحریر خود ان کے قلم سے نکلی تھی۔
مدرستہ الاصلاح کا منہج
مسلمانوں کی موجودہ پستی جو ان کی زندگی کے ہر شعبہ میں طاری ہے، زیادہ تر نتیجہ ہے اس خرابی کا جو ان کی مذہبی تعلیم میں صدیوں سے پیدا ہو گئی ہے۔ جب تک مسلمانوں کی یہ مذہبی تعلیم اپنے صحیح منہج پر قا ئم رہی وہ برابر دین و دنیا کے تمام شعبوں میں ترقی کرتے رہے۔ لیکن جب سے یہ شاہ راہ کج ہوئی، دینی مدارس اور مذہبی پیشواؤں کی کثرت کے باوجود مسلمانوں کا زوال شروع ہوااوربرابر بڑھتا گیا۔ ان حالات میں خدا نے ایک جماعت کو اپنی توفیق بخشی سے سرفراز کیا اور اس نے یہ طے کر لیا کہ جس اسلوب پر علوم دینیہ کی تعلیم ہو رہی ہے وہ قطعی ناقص اورغیر منتج ہے۔ جب اسلام ہماری دینی اور دنیوی فلاح کا جامع ہے تو اسلامی تعلیم کے یہی معنی ہوں گے کہ وہ نہ صرف ہماری عبادات کا دستورالعمل ہو، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہمارے لیے مشعل ہدایت ہو۔ اب ہمارے درد کا اگر کوئی علاج ہے تو وہ محض رسمی تعلیم اور نصاب مروج کو ختم کرنا نہیں، بلکہ مذہبی تعلیم کو اس کے صحیح معنوں میں جاری کرنا ہے۔ یعنی وہ وسعت و جامعیت جو اسلام کا مفہوم ہے اور تفقہ فی الدین اسی سے عبارت ہے۔ اس جماعت نے اس بلند معیارِ تعلیم کو پیش نظر رکھ کر ایک مدرسے کی بنیاد رکھی جس کا نام مدرسۃ الاصلاح ہے۔
مدرسۃ الاصلاح کا دعویٰ ہے کہ اس نے مذہبی تعلیم کی صراطِ مستقیم کو پا لیا ہے، اس نے اسے اپنا مقصدِ اَساسی قرار دیا ہے۔وہ مقصدِ اساسی اور صراطِ مستقیم کیا ہے، وہ وہی ہے جس پر آنحضرت نے اپنی امت کو چھوڑا تھا۔اور جس کی آخری خطبے میں وصیت فرمائی تھی کہ میں تمھارے لیے کتاب اللہ چھوڑے جاتا ہوں، جب تک اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے ہرگز گم راہ نہ ہوگے۔مدرستہ الاصلاح کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں کے انحطاط وتنزل کا اصلی سبب یہی ہے کہ وہ قرآن مجید کی تعلیم کو آہستہ آہستہ کم کرتے گئے اور وہ علوم جو قرآن مجید کے لیے آلہ اور وسیلہ ہو سکتے تھے، ان کی تحصیل میں اس قدر مصروف ہو گئے کہ وہ خود مقصود بالذات بن گئے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے قرآن مجید کے درس و تدریس کے لیے انھوں نے بالکل جگہ نہ چھوڑی اور اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ محض تلاوت و حفظِ الفاظ پر اکتفا کر لیا گیا اور ہم پر رسولِ خدا کی یہ شکایت منطبق ہونے لگی:
یارَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا .
یعنی اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو ایک چھوڑی ہوئی چیز سمجھ لیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مدرستہ الاصلاح نے یہ راز پالیا اور قرآن مجید کو ہدایت و ترقی تسلیم کرکے جملہ علوم کی تعلیم کو اس کی تعلیم کے ماتحت کر دیا۔وہ ادب،فقہ،حدیث،تاریخ،سیر، منطق و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، لیکن اس طور پر کہ جس علم کی طرف قدم بڑھے قرآن مجید کی روشنی میں اور جو دروازہ کھلے قرآن ہی کے اندر سے کھلے۔‘‘ ( ماہنامہ اصلاح اگست 1936، شذرات،ص 7 )
اس مدرسے سے متعلق جو باتیں اصول کی حیثیت سے ان کے بانیان و منتظمین کے سامنے تھیں اور جن کو وہ معاشرے کے سامنے پیش کر چکے تھے۔ وہ بارہا چھپ کر شایع ہو چکی ہیں۔ مدرسے کی مطبوعہ تحریروں سے ذیل میں سے ہم ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سارے الفاظ مولانا اصلاحی کے ہیں اور ماضی میں اس کی توثیق خود مولانا فراہی کر چکے ہیں۔
1۔مدرسہ کے اساتذہ و طلبہ غریبانہ اور مذہبی زندگی بسر کریں۔ اساتذہ تنخواہ کے متوقع نہ ہوں۔ کفاف پر قناعت کریں چنانچہ یہاں صدرمدرس، مہتمم 35 روپے ماہوار پاتے ہیں۔ (یاد رہے کہ مولانا فراہی اس زمانے میں دارالعلوم عثمانیہ کے صدر کے طور پر 550 روپے کی خطیر تنخواہ لیتے تھے اور اس کو چھوڑ کر مدرسہ سے 35 روپے کی تنخواہ لے رہے تھے )اور بقیہ اساتذہ بیس بیس، پچیس پچیس روپے ماہوار پاتے تھے۔یہ بھی اس طرح کہ بعض مرتبہ سال سال بھر ان کی تنخواہوں کا سامان نہیں ہوتا تھا۔
2۔ قرآن مجید کی محققانہ تعلیم اس مدرسے کا نصب العین ہو۔ اس کے بعد حدیث و فقہ پر زور دیا جائے۔منطق و فلسفہ اور کلام کی غیر ضروری کتابیں نکا ل دی جائیں۔ ان کی جگہ پر ادب عربی کی تعلیم دی جائے۔ حدیث شریف کی تعلیم جماعتی عصبیت سے آزاد ہو۔فقہ میں فقہ اسلامی کی تعلیم دی جائے تاکہ طلبہ میں وسعت نظر اور رواداری پیدا ہو۔ تکفیر و تَفسیق کا ولولہ نہ ابھرے۔ صرف و نحو کی تعلیم عملی ہو۔ ( یعنی رٹائی نہ جائے ) فنون کی تعلیم میں امہات ( کتب )پیش نظر رہیں اور لیکچرز کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ بقدر ضرورت انگریزی کی تعلیم دی جائے۔ حصول معاش کے لیے صنعت کی تعلیم دی جائے،مدت تعلیم کم سے کم ہو اور نرخ تعلیم انتہائی حد تک ارزاں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدرستہ الاصلاح میں تعلیم مفت نہ تھی۔
3۔یہ مدرسہ اہل سنت والجماعت کے مختلف مذاہبِ کا سنگم ہو۔ یہاں حنفی اور اہل حدیث، دونوں ملیں۔ ندوی، دیوبندی، اصلاحی سب تعلیم دیں۔ جزیات کے اختلاف کے باوجود سلف کے طریق پر آپس میں شیر و شَکر رہیں۔ اور مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو مٹا دیں۔
(شذرات امین احسن اصلاحی، ماہنامہ الاصلاح اگست 1936،ص7-8)
مدرسے کے تعلیمی مقاصد
خود مولانا امین احسن اصلاحی نے مدرسے کے تعلیمی اہداف کو واضح کرتے ہوئے شرف الدین اصلاحی سے فرمایا:
’’ یہ مدرسہ ایک عظیم فکری انقلاب کا تعلیمی اور دعوتی مرکز تھا۔اس فکری انقلاب کی روح ہے کہ قرآن کی حکمت اس کے طلبہ کے اندر اس طرح رچ بس جائے کہ وہ جو کچھ بھی سوچیں قرآن کی روشنی میں سو چیں اور جس چیز کو بھی ردو قبول کریں قرآن کی کسوٹی پر رکھ کر قبول یا رد کریں۔ یہ چیز ان کو اس قابل بنائے گی کہ وہ مسلمانوں کی اس پرا گندہ بھیڑ کو ایک بنیان مرصوص بنا کر امت مسلمہ کی صورت میں کھڑا کر سکیں۔‘‘ (ذکر فراہی 381)
مدرسے کے لیے مالی وسائل کا حصول
مدرسۃ الاصلاح کی ایک انقلابی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں اس وقت کے مذہبی مدرسوں کے بالکل برعکس اپنا ایک خاص مالی نظام تھا۔ زیادہ تر مذہبی مدرسے اپنے مالی وسائل کے لیے محض چندوں اور صدقات و خیرات کے مرہون منت ہوتے تھے۔ اس مہم میں ان کے اساتذہ اور طلبہ بھی شامل ہوتے ، جو ان کی عزت نفس کو بری طرح مجروح کرتی۔ یہ چیزاحقاق حق میں بھی بڑی رکاوٹ بنتی۔اس زمانے میں عربی مدرسوں کا عام چلن یہی تھا کہ طلبہ بدھ مت کے بھکشووں کی طرح گھروں سے کھانا مانگتے۔
یہاں اس امر کا بیان غیر مناسب نہ ہوگا کہ برصغیر میں بھکاری کلچر کو فروغ دینے میں بدھ مت کے بھکشووں کا بہت ہاتھ ہے۔ اسی چیز کو بعض مسلمان صوفیوں نے بھی اختیار کر لیا اور یہی روایت مذہبی مدرسوں میں آئی۔ شرف الدین اصلاحی ’’ ذکر فراہی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مدرسۃ الاصلاح میں اسے شریعت کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ بھیک مانگنے کی اس طرح کی کوئی روایت مدرسہ سے وابستہ نہیں تھی۔ سرائے میر میں یہ رواج تھا کہ مدرسوں کے طلبہ بڑے بڑے تھیلے لے کر نکلتے اور لوگ اس میں کچھ نہ کچھ ڈال دیتے۔ اسے چٹکی بھرنا کہتے۔ یہ واضح طور پر گداگری ہی کی ایک شکل تھی جس سے مدرسۃ الاصلاح بالکل پاک تھا۔ یہ طریقہ ان مدرسوں میں عام طور پر روا رکھا جاتا جہاں غریبوں کے بچو ں کو مفت پڑھانے اور رہایش کی پیش کش کی جاتی۔اور والدین سے اپیل کی جاتی کہ اپنے سات آٹھ بچوں میں سے ایک آدھ کو ’’ دین کے لیے وقف ‘‘ کیا جائے۔ جب کہ مدرسۃ الاصلاح کے اس طرح کے کوئی مقاصد نہیں تھے کہ غربا اور مساکین کے بچوں کی دینی تعلیم کا بندوست کرکے اخروی نجات کا سامان کیا جائے۔ اس لیے عام مدرسوں کے بالکل برعکس یہاں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت کھاتے پیتے گھرانوں سے آ تی تھی۔ ضلع کے جن شرفا نے مدرسے کے قیام میں حصہ لیا تھا، ان کے اپنے بچے بھی ضرور داخل ہوتے۔ مدرسۃ الاصلاح کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے لیے فنڈز مہیا کرنے والوں میں مولانا شبلی نعمانی اور مولانا حمیدالدین فراہی کے صاحب ثروت رشتے داروں کی ایک کثیر تعداد تھی۔
طالب علموں کی اکثریت تعلیم کی فیس اور جملہ اخراجات خود اٹھاتی۔ البتہ جو غریب طلبہ یہ اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہ رکھتے ان طلبہ کی مدد کی جاتی، لیکن انھیں اس بات کی بالکل خبر نہ ہوتی کہ وہ مفت یا مدد سے پڑھ رہے ہیں تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ اس لیے مدرسۃ الاصلاح کا ماحول عام مدرسوں سے سو فی صد مختلف تھا۔ (ذکر فراہی 395-396)
اس سب اقدام کے ساتھ ساتھ مولانا حمید الدین فراہی نے مدرسۃ الاصلاح میں مالی وسائل پیدا کرنے کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا۔ مولانا سلیمان ندوی لکھتے ہیں :
’’مولانا فراہی علما کی گداگرانہ خصلت سے سخت نفرت رکھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مولویوں کے مدرسوں سے بھی گداگری کی لعنت ختم ہو جائے۔ چنانچہ مدرسے کے لیے انھوں نے ایک جائیداد خریدی، جس کا سالانہ منافع آ تا ہے۔ اور صرف اپنی کوششوں سے اکثر عربی مدارس کے برخلاف اس مدرسے میں تجارتی اور صنعتی آمدنیوں کے ذرائع پیدا کیے۔ خود اپنی طرف سے اور مدرسہ کے بعض مخلص ہمدردوں کی طرف سے کچھ سرمایہ لگا کر مدرسے میں آٹا پیسنے والی مشین مع انجن لگائی اور اس سے مدرسے کو روزانہ کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ مدرسے کے اندر جوتا بنانے کا ایک شعبہ قائم کیا جہاں اچھے جوتے پمپ اور شو وغیرہ بنتے۔ وہ ( مولانا فراہی) حیدر آباد میں ایک اچھے منصب پر تھے۔ وہاں کے عمائد سے اچھی راہ و رسم تھی۔ مگر اپنے مدرسے کے لیے کبھی ریاست سے امداد کی تحریک نہیں کی۔ فرماتے ہیں کہ بے اطمینانی ہی میں توکل کی دولت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق خاطر کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔‘‘
( یاد رفتگاں، سلمان ندوی 151)
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ بتا دیا جائے کہ ریاست حیدر آباد کی ہندستان میں مالی حیثیت کیا تھی۔ یہ تاریخی اعتبار سے مسلمہ بات ہے کہ حیدر آباد دکن اپنے وقت کی برصغیر میں سب سے امیر ترین ریاست تھی۔ اور مولانا حمید الدین ریاست کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے جامعۂ عثمانیہ کے صدر مدرس (پرنسپل) تھے۔ اور ریاست کے اہم لوگ ان کی علمی وجاہت اور بے مثال کردار سے بہت متاثر تھے۔ علامہ اقبال سے لے کر علامہ شبلی نعمانی تک ہندستان کے تمام بڑے لوگ، چاہے ان کا تعلق مذہب سے ہو یا سیاست سے یا ادب سے، ریاست ان کی دل کھول کر مدد کرتی تھی۔ لیکن مولانا حمید الدین نے یہ اصول بنایا کہ وہ مدرسۃ الاصلاح کے لیے کسی بھی قسم کی سرکاری مدد قبول نہیں کریں گے۔ اسی لیے مدرسۃ الاصلاح کی یہ ایک طےشدہ پالیسی تھی کہ وہ سرکار سے کوئی گرانٹ نہیں لے گا۔
واضح رہے کہ مولانا شبلی نعمانی سرکاری چندہ لینے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے اور انھوں نے مدرسۃ الاصلاح کے لیے کوشش بھی کی تھی جوکامیاب نہیں ہوئی تھی۔ البتہ مولانا فراہی اس کے سخت خلاف تھے اور اسی لیے انھوں نے جب مدرسے کا نظم سنبھالا تو اسے پالیسی کا حصہ بنایا کہ مدرسۃ الاصلاح کسی بھی سرکار سے کوئی مدد نہیں لے گا۔ یہ بات خود مولانا امین احسن نے بیان کی اور اس پر ان کا ’’الاصلاح‘‘ کے جولائی 1939 کے شمارے میں لکھا ہوا نوٹ بھی موجود ہے۔
تربیت کا نظام
عام طور پر مذہبی مدارس ہوں یا عام اسکول،تربیت کے حوالے سے بچوں پر تشدد اور مارپیٹ ایک عام چلن ہے۔ لیکن مدرسۃ الاصلاح اس حوالے سے بھی ایک منفرد تعلیمی ادارہ تھا۔( ’’ تھا ‘‘ اس لیے کہ ہم اُس دور کا ذکر کر رہے ہیں اور اسی دور کی خبر ہم تک پہنچی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آج بھی یہ عظیم ادارہ اسی شان دار روایات کا امین ہو گا جس کا ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں۔ مدرسے کا اگر کوئی طالب علم ہم سے رابطہ کرتا ہے اور آج کے حالات بیان کرتا ہے تو ہم خوشی سے اس کا تذکرہ کریں گے) ’’ذکر فراہی‘‘ کے مصنف اور خود مدرسۃ الاصلاح کے طالب علم شرف الدین اصلاحی بیان کرتے ہیں :
’’مدرسے میں حکم اور ڈنڈے کے زور سے طلبہ کو کسی بات پر مجبور کرنے کے بجاے نصیحت اور تلقین سے کام لیا جاتا ہے اور نصیحت بھی ڈائریکٹ، جس سے ذلت اور انا مجروح ہو، کبھی نہیں کی جاتی۔ بلکہ ان ڈائریکٹ طریقے سے انھیں سمجھایا جاتا ہے۔ جس میں انسان کی عقل سلیم اور فطرت صالحہ سے پہل کی جاتی ہے۔ اس لیے وقفے وقفے سے یا ہفتے میں ایک بار جمع کرکے بالکل غیر رسمی انداز میں ان کو سمجھایا جاتا ہے۔ غلطی اور کوتاہی کسی ایک ہی کی ہوتی ہے، لیکن اس کا نام ظاہر کیے بغیر سب کو مخاطب کرکے سب کو نصیحت کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ سوائے اس طالب علم کے کسی دوسرے طالب علم کو معلوم نہیں ہوتا کہ روے سخن کس کی طرف ہے۔‘‘ ( ذکر فراہی 394-395)
منفرد ترین تعلیمی نصب العین
ہم یہاں طوالت کے خوف سے مدرسے کا نصاب بیان نہیں کر رہے جو آٹھ برسوں پر محیط ہے، لیکن اس کی وہ خصوصیت ضرور بیان کر دیتے ہیں جو مدرسۃ الاصلاح کا خاص طُرۂ امتیاز ہے۔
یہ مدرسہ کم از کم اپنے اس دور کی وہ پہلی اور واحد درس گاہ تھی جہاں قرآن مجید ’’الحمد‘‘ سے ’’والناس‘‘ تک مکمل پڑھا یا جاتا تھا۔ اور اس کے نصاب میں کوئی تفسیر داخل نہیں۔ حتٰی کہ مولانا فراہی کی تفسیر ’’ نظام القرآن‘‘ کا کوئی جز بھی شامل نہیں۔
اس بات کی تصدیق خود مولانا امین احسن اصلاحی،مولانا بدرالدین اصلاحی اور ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی کی تحریروں اور دوسری دستاویزات سے ہوتی ہے۔ اس حوالے سے اسے ایک مسلمہ حقیقت کا درجہ حاصل ہے۔
ذاتی تاثرات
میں یہاں اپنے کچھ تاثرات کو بیان کرنے پر مجبور ہوں۔
جو اغراض و مقاصد ’’المورد‘‘ کی تاسیس (1983 ء)میں استاد محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے پیش نظر تھے۔ اس کا نصاب اور نظام ِتعلیم کم و بیش وہی تھا جو مدرسۃ الاصلاح کا تھا۔ اگرنصاب کی بات کریں تو ہمیں بھی اسباق النحو، کلیلہ و دمنہ، قراۃ الرشیدہ، زمخشری کی المفصل، سبع معلقات وغیرہ کی تعلیم دی گئی اور ’’المورد‘‘ کے مقاصد میں یہ شامل ہے کہ قرآن کو مرکز بنا کر علمی و تحقیقی کام اور صحیح الفکر علما و محققین کو تیار کرنا وغیرہ ۔
میرے ذہن میں مولانا امین احسن اصلاحی کا وہ صدارتی خطاب گونج رہا ہے جو انھوں نے لاہور کے جناح حال میں دیا تھا۔ اس میں ارباب علم و دانش کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا اصلاحی بہت برسوں کے بعد کسی پبلک پلیٹ فارم پر خطاب کر رہے تھے۔ (اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔ ) یہ 1983ء کا سال ہو گا۔ میں اس وقت بالکل مبتدی طالب علم تھا۔اور ایک تاریخ کو رقم ہوتے دیکھ رہا تھا۔ مولانا کے سوانح کے لیے جب میری رسائی مدرسۃ الاصلاح کے مجلے ’’الاصلاح‘‘ کے شماروں تک ہوئی تو یہ عقدہ کھلاکہ ’’المورد‘‘ تو اصل میں مدرسۃ الاصلاح کی تاسیس نو تھا۔ یہ وہی قافلہ تھا جس کا آغاز شبلی نے کیا تھا۔اور یہ وہی داستان ہے جس کی منزلیں استاد محترم نے اپنی کتاب ’’مقامات‘‘ کے ایک مضمون ’’ قافلہ در قافلہ ‘‘ میں بیان کیں۔
امین احسن کیا بننا چاہتے تھے ؟
اس ساری تفصیل سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ مولانا اصلاحی کی اس بات کا کیا مطلب تھا کہ مولانا فراہی نے مدرسے کو روایتی فکر سے کیسے آزاد کرا یا اور اس کو پٹری پر کیسے چڑھا دیا۔لیکن مدرسے میں اس قدر منفرد اصلاحات کے باوجود یہ چیز تو موجود تھی کہ یہاں طلبہ والدین ہی کی مرضی سے اپنا مستقبل طے کر کے آتے تھے۔ بلا شبہ اس دور میں ابھی بچوں کی تعلیم کے حوالے سے اتنا شعور عام نہیں ہوا تھا کہ والدین ان کی صلاحیت اور فطری میلان کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے۔ لیکن امین احسن کی حد تک یہ ضرور تھا کہ وہ جو بننا چاہتے تھے، قدرت نے انھیں اسی جگہ پہنچا دیا۔
وہ بتاتے ہیں :
’’جب میں مدرسے میں تیسرے برس میں تھا تو ایک مرتبہ مولانا عبدالرحمان نگرامی نے ذہین لڑکوں کو بلا کر پوچھا : تم کیا بننا چاہتے ہو ؟ کسی نے کچھ جواب دیا، کسی نے کچھ۔ مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ میں ادیب الہند بننا چاہتا ہوں۔ وہ اس جواب سے بہت خوش ہوئے۔ معلوم ہے کہ ادیب الہند سے کون مراد تھے ؟ یہ مولوی فیض الحسن تھے۔ اور اس کے بعد مولانا نگرامی مجھے ادیب الہند کہتے۔‘‘
مولانا فیض الحسن سہارن پوری
امین احسن نے اگر مولانا فیض الحسن سہارن پوری(1887ء-1816ء) کو اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی شخصیت میں ایسا کیا تھا۔ یہ سوال جب ہم نے مولانا سے کیا تو انھوں نے ایک جملے میں اس کا جواب دیا :
’’ جب ’’ا دیب الہند ‘‘ کہا جاتا تھا تو اس سے صرف ایک ہی شخصیت مراد ہوتی تھی : مولوی فیض الحسن سہارن پوری۔ وہ استاد اتنے بڑے تھے کہ شبلی اور فراہی، دونوں نے ان کی شاگردی اختیار کی اور کیسے کی، یہ معلوم ہونا چاہیے آپ کو ! ‘‘
یہ اجمال قدرے تفصیل کا تقاضا کرتا ہے۔ فیض الحسن ایک ہمہ گیر شخصیت تھے۔بڑے پہلوان، ماہر جنگجو، طبیب، شاعر،استاد اور ادیب۔ پہلے پہل طبیعت پہلوانی کی طرف مائل تھی۔ پتنگ بازی کا بھی شوق رہا۔ پھر علم سے ایسی محبت ہوئی کہ عربی اور فارسی میں مہارت حاصل کی اور رام پور، دہلی اور لکھنؤ کے مختلف مدارس اور اساتذہ سے تعلیم پائی۔ 1848ء میں محض تیس برس کی عمر میں سر سید احمد خاں کو مناجات حریری کے کچھ حصے پڑھائے۔ شاعری میں مولوی امام بخش صہبائی سے استفادہ کیا۔ شیفتہ، غالب، مومن اور ذوق کی صحبت پائی۔ شاہی طبیب حکیم امام دین سے طب سیکھی۔
۱سی دوران میں 1857ء کی جنگ ہوئی تو آبائی علاقے سہارن پور روانہ ہوگئے۔ ان کے ساتھ ایک پورا قافلہ تھا۔ یہ سب لوگ ان کے زور ِبازو کے بھروسے ان کے ساتھ تھے۔ وہ اتنے طاقت ور تھے کہ ہاتھ سے لوہے کی زنجیر توڑ دیتے تھے۔ تلوار اس مہارت سے چلاتے کہ صرف نیام ہی سے نکالنے کی نوبت آتی اور مخالف مرعوب ہو جاتا۔ سہارن پور میں مطب کھولا، مگر مطمئن نہ ہوئے اور علی گڑھ چلے گئے۔ یہاں عربی کے استاد مقرر ہوئے۔ تراجم بھی کیے، مگر ابھی منزل نہیں آئی تھی۔ انگریز ڈاکٹر لائیٹنز ان کی مہارت سے بہت متاثر ہوئے۔ اور انھیں لاہور آنے کی دعوت دی۔ پھر اکتوبر 1870 میں اورینٹل کالج لاہور کے آغاز ہی میں عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اپنی لیاقت کی وجہ سے ترقی کرکے صدر مدرس ہوگئے۔ باقی زندگی وہیں گزاری۔یہاں ایک زمانہ ان کا معترف ہو گیا۔ متعدد کتب لکھیں۔ سبع معلقات کی اردو، فارسی اور عربی میں شرح ’’ریاض الفیض‘‘ کے نام سے لکھی۔ حماسہ کی بھی شرح لکھی۔ دیوان فیض عربی اور دیوان نسیم فیض فارسی میں مجموعۂ کلام ہے۔ ان کی سترہ سے زیادہ انتہائی وقیع علمی تصانیف ہیں۔ مشہور ہے کہ برصغیر میں حماسہ کا سب سے پہلے درس انھوں نے ہی دیا۔
ان کی غیر معمولی شہرت ہی کی وجہ سے پہلے مولانا شبلی نعمانی اور پھر امام حمید الدین فراہی ان کے شاگرد ہوئے۔ شبلی کی شاگردی کا قصہ ان کے شاگرد مولانا سلیمان ندوی نے بیان کیا اور امام فراہی کا ان کے شاگرد مولانا اصلاحی نے۔
سید سلیمان ندوی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ شبلی نے ہاتھ تنگ ہونے کے باوجود لاہور کاسفر کیا۔ مولانا فیض الحسن کی رہایش بھاٹی دروازے کے آس پاس تھی۔ انھوں نے وہیں ایک روپیہ کرائے پر ایک کمرے میں ڈیرے ڈالے، آٹھ آنے مہینا بھر کے کھانے کے لیے ایک نان بائی کی خدمات لیں اور مولانا فیض الحسن کا جا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ بھاٹی گیٹ میں بازار حکیماں میں فروکش تھے۔ وہ اس وقت صدر مدرس نہیں ہوئے تھے، اس لیے کہا کہ کالج کے اوقات میں تو کچھ نہیں پڑھا سکتا اور بعد کا وقت بھی دوسروں کے لیے مختص ہے۔ آپ کاشوق بھی قابل التفات ہے، اس لیے گھر سے کالج جانے اور واپسی کے دوران میں سواری میں بیٹھے بیٹھے جو وقت ہے، اس میں درس ہو سکتا ہے۔ شبلی کو علم سے غرض تھی اور بس، فوراً مان گئے۔ اسی دوران میں جب کالج سے چھٹیاں ہوئیں اور مولانا فیض الحسن گھر لوٹے تو شبلی بھی ساتھ ہو لیے۔ اس ساری تفصیل کو ا نھوں نے اس خط میں تحریر فرمایا ہے جو انھوں نے اپنی والدہ ماجدہ کو فارسی میں لکھا ہے۔ مولانا سلیمان ندوی کے مطابق عربی شاعری کا صحیح مذاق اور قرآن کی زبان کی نزاکتیں شبلی پر مولانا فیض الحسن ہی کی شاگردی میں آشکار ہوئیں۔( حیات شبلی 84)
مولانا فراہی نے ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی کے مطابق 1883ء کے آس پاس لاہور کا سفر کیا۔ (ذکر فراہی 91) اور مولانا اصلاحی خود فرماتے ہیں کہ یہ سفر مولانا فراہی نے مولانا فیض الحسن سے عربی ادب ہی کے لیے کیا تھا۔ انھوں اس علم کے رموز انھی سے سیکھے۔ مولانا اصلاحی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا فیض الحسن نے انھیں بھی اسی طرح وقت دیا جس طرح شبلی کو گھر سے کالج اور کالج سے گھر تک سواری میں دیا تھا۔ لیکن ان کا شوق اور لیاقت دیکھ کر جلد ہی ان کو اس کے علاوہ بھی باقاعدہ وقت دیا۔ اور مولانا فراہی نے علوم ادب کی ان سے باقاعدہ تکمیل کی۔(مجموعۂ تفسیر فراہی 24،نیز مولانا کی زبانی روایت )
ایک اہم نکتہ
یہاں ایک اور حقیقت سامنے رہنی چاہیے۔ امین احسن چودہ یا پندرہ برس کی عمر میں فیض الحسن سہارن پوری کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک خالص علمی شخصیت ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی سیاسی، فوجی یا فنون لطیفہ کی شخصیت اس قابل نہیں تھی کہ ان کا آدرش بن سکے۔ پھر فیض الحسن سہارن پوری کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ انھیں انگریزی حکومت یا ہندو مسلم مناقشے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ حالانکہ ان کے اساتذہ اس خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جنھوں نے انگریز کے خلاف جدوجہد کرنے کی پاداش میں جزائر انڈمان میں کالے پانی کی سزا ئیں کاٹی تھیں۔
مولانا فیض الحسن کو ہم عوام کا نمایندہ بھی قرار نہیں دے سکتے۔ البتہ وہ اپنے زمانے کے انتہائی باشعور انسان تھے، لیکن انھیں معاشرے میں کوئی ایسی خرابی نظر نہیں آئی کہ ان کا علم وعرفان یا دینی ذمہ داری یا حمیت نے انھیں مجبور کیا ہو کہ وہ 1857ء کے ملک گیر ہنگامے کے بعد کوئی اور سرگرمی اختیار کریں۔ ان کے نزدیک ہندستان میں انگریزی حکومت سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اورنٹیل کالج انگریز سرکار کے تحت چلتا تھا اور اس کی ملازمت کرنے کے باوجود ان کے ایمان و اخلاص کو گزند پہنچنے کا کوئی خطرہ نہ تھا۔ ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مولانا فیض الحسن سہارن پوری امین احسن کے آئیڈیل تھے۔
سب سے پسندیدہ استاد
امین احسن کو مدرسے میں مولانا عبدالرحمان نگرامی سے زیادہ کسی نے متاثر نہیں کیا۔ اپنے اس پسندیدہ استاد کے بارے میں کہتے ہیں :
’’مولانا شبلی نعمانی اچھے مدرسین کی تلاش میں رہتے۔ انھیں ایسا استاد درکار تھا جو صلاحیت کے اعتبار سے بے مثل ہو، لیکن دستیاب محدود وسائل کی بنا پر قوت لایموت کی طرح زندگی گزارنے پر راضی ہو جائے اور وہ انھیں آخر مل گیا۔ یہ تھے مولانا عبدالرحمان نگرامی۔ ندوے کے فارغ التحصیل۔ نوجوان، خوش شکل۔ مولانا شبلی نے انھیں لا بٹھایا۔ وہ آئے تو سارے مدرسے میں ہلچل مچ گئی۔وہ واقعی عبقری آدمی تھے۔ ذہین، خطیب، ادیب، شاعر، متکلم، فلسفی سب کچھ۔ طلبہ نے ان کا نام ہرفن مولا رکھ دیا۔ ان کی ذہانت کی گواہی مولانا فراہی نے بھی دی۔ انھوں نے کبھی کسی کی تعریف نہیں کی، لیکن ان کے بارے میں بھرے مجمعے میں کہا کہ مولوی عبدالرحمان بہت ذہین آدمی ہیں۔ ‘‘
’’میں جو مدرسے سے مایوس ہو چکا تھا کہ یہ گردان یاد کر کے اور مختلف چیزوں کی الٹی سیدھی تاویلات کرکے کیا حاصل ہو گا۔ ان کے آنے سے ایک لہر پیدا ہوئی کہ نہیں دین کی تعلیم بھی حاصل کرکے باوقار زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ علمی چیزوں کو یاد کرنے کے بجاے سمجھا جا سکتا ہے۔ قوم کی خدمت کی جا سکتی ہے، مولانا نگرامی اردو، عربی اور فارسی، تینوں زبانوں کے خطیب تھے۔ ‘‘
’’ میں ان کا لطیفہ آپ کو سناتا ہوں ؛ یہ اس دور کی بات ہے جب میں ابھی مدرسے میں داخل نہیں ہو اتھا اور مولانا نگرامی کے حوالے سے یہ واقعہ زبان زد عام تھا۔ ایک مباحثے کا مقابلہ ہوا۔ اور یہ مقابلہ مدرسۃ الاصلاح کے طلبہ کے درمیان نہیں، بلکہ کوئی جلسہ تھا جس میں یہ مقابلہ منعقد ہوا تھا۔ شرط تھی کہ اردو ہی میں نہیں، بلکہ یہ تقریر عربی اور فارسی میں بھی ہو گی۔ اس مجلس میں وہ بھی آکر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے بھی تقریر کرنی ہے۔ صدر مجلس نے اجازت دے دی۔ انھوں اردو میں تقریر شروع کی، پھر فارسی میں، پھر عربی میں، پھر انگلش میں شروع کر دی۔ اس مجلس میں مولانا شبلی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: جناب صدر، مولوی عبدالرحمان کو تقریر سے روک دیا جائے۔ ورنہ وہ فرانسیسی میں بھی تقریر کرنے والے ہیں اور اس کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔‘‘
’’ان کی مجھ پر خاص نظر تھی۔ میں نے ایک موقع پر کہا کہ میری نحو وغیرہ کم زور ہے۔ پہلے تو انھوں نے باور نہیں کیاکہ میری کوئی چیز خراب بھی ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کچھ گفتگو کرنے کے بعد مجھے تسلی دی اور غور کرنے لگے کہ میری کیا مدد کر سکتے ہیں۔ ایک روز وہ میرے لیے ایک کتاب لائے۔ یہ کتاب فارسی میں تھی۔ مجھے اس کا نام یاد نہیں۔ اس میں عربی زبان کی نحو کے تمام مسائل کا حل تھا۔ انھوں نے مجھے اس کتاب کو اچھی طرح پڑھنے کے لیے کہا۔ میں نے بھی اس پر خوب محنت کی۔ اس نے میرے تمام مسائل حل کر دیے۔ میرا اعتماد بحال کر دیا۔ اب میں بڑے سے بڑے نحوی سے مقابلہ کر سکتا تھا، بلکہ اس کے چھکے چھڑا سکتا تھا۔ اس سے سب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ وہ جس چیز کو میری کمی کہتے تھے اور جس کی وجہ سے مجھ پر رعب جماتے تھے، وہ کمی دور ہو گئی ہے۔ اب یوں میں مولانا نگرامی کی نگرانی میں’’ علامہ ‘‘بن گیا۔میں واقعی ایک اچھا طالب علم بن گیا۔‘‘