مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(32)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

مولانا کی اس شدید نا پسندیدگی اور دل گرفتگی کے باوجود ’’میثاق‘‘ میں ان کے مضامین اور ’’انجمن خدام القرآن‘‘ سے تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ سمیت مولانا کی دیگر کتب کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا، مگر جس واقعے نے اس سلسلے کو منقطع کر دیا، اس کا صدور بھی خود ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی طرف سے ہوا۔

مارچ 1976ء میں ’’تنظیم اسلامی‘‘ کی طرف سے ’’قرآن کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں مولانا اصلاحی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی، لیکن مولانا کے تحفظات سے ان کے تمام شاگرد اور قریبی احباب اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے نزدیک کسی سیاسی اور انقلابی پلیٹ فارم پر اس طرح کے علمی اجتماعات تعلقات بڑھانے اور اپنی سیاسی جتھا بندی کی مضبوطی کے سوا کوئی افادیت نہیں رکھتے تھے۔ مولانا اپنی اس راے کو اپنے خاص انداز میں بیان کرتے کہ ڈاکٹر صاحب نے جب فرمایا کہ میں تمام مذہبی گروہوں کے اہل علم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا چاہتا ہوں تو میں نے کہا: عزیزم، یہ خدمت تو پاکستان ریلوے ایک عرصے سے کر رہی ہے۔

مزید یہ کہ مولانا، ڈاکٹر صاحب کے تنظیمی تصور اور نصرت ِدین کے لیے اجتماعی حکمت عملی سے سخت اختلاف ہی نہیں، شدید بےزاری کا زبانی اور تحریری اظہار بھی کر چکے تھے۔ اس ضمن میں پچھلے صفحات میں چند خطوط نقل کیے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد تفسیر ’’ تدبر قرآن‘‘ کی ماہنامہ ’’میثاق‘‘ میں اقساط کی اشاعت بھی بند ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ سب کچھ جاننے کے باوجود شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس موقع پر ڈاکٹر صاحب اور مولانا کے درمیان کیا بات ہوئی، اس کی تفصیلات میں اختلافات ہیں۔ بہر حال مولانا اس اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ اس کے بارے میں ڈاکٹر اسرار صاحب نے برسر اجلاس پبلک میں جو کچھ فرمایا،وہ ماہنامہ ’’میثاق‘‘ کے جولائی 1976ء کے شمارے میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا :

’’مولانا اصلاحی صاحب کے آج تشریف نہ لانے کی وجہ سے جو سوالیہ نشان بہت سے ذہنوں میں ابھر آیا تھا، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب اجمالی وضاحت فرما رہے ہیں کہ کانفرنس کے انعقاد سے بہت پہلے میں نے انھیں اس اجلاس کی صدارت کی دعوت دی جسے انھوں نے قبول فرما لیا اور شرکت کا وعدہ کیا، لیکن افسوس کہ بعد میں کچھ لوگ، جنھیں ہمارے ساتھ ان کا کسی قسم کا تعلق پسند نہیں، ان پر اثر انداز ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب فرما رہے ہیں کہ مولانا محترم سے بعض مسائل پر اختلاف تو رکھتا ہوں، لیکن انھوں نے قرآن حکیم کی جو علمی خدمت کی ہے اور مولانا فراہی کے فکر کو جس طرح آگے بڑھایا ہے، اس کا پہلے بھی معترف تھا اور اب بھی معترف ہوں۔ مولانا کی تفسیر یا کتابوں کی اشاعت کسی ذاتی تعلق کی بنا پر نہیں کی، بلکہ اس وجہ سے کی گئی ہے کہ ان کے مطالعہ سے قاری کو قرآن حکیم کے ساتھ ذہنی مناسبت بھی حاصل ہو جاتی ہے اور قلبی موانست بھی۔ بنا بریں، ان کے فکر کی اشاعت کو میں خدمتِ قرآن مجید کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔ یہ بات پہلے بھی تھی اور ا ن شاءاللہ آیندہ بھی قائم رہے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے نہایت دل سوزی کے ساتھ فرمایا کہ ’’کسی جزوی معاملے میں اگر اختلاف واقع ہو جائے تو ہمارے ہاں عام طور پر اتنی وسعت ِقلبی نہیں پائی جاتی کہ اسے اپنے مقام پر رکھتے ہوئے وسیع تر معاملات میں تعاون جاری رکھا جائے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ میرے بعض نظریات اور ’’انجمن خدام القرآن‘‘ اور تنظیم اسلامی کے قیام اور ان کی ہیئت تنظیمی سے مولانا محترم کو اختلاف تھا۔ با ایں ہمہ مولانا کمال مروت کے ساتھ میرے ساتھ تعاون فرماتے رہے، لیکن اب کچھ لوگوں نے اثر انداز ہو کر اس میں شدت پیدا کر دی ہے جس کا مجھے شدید قلق ہے۔ میرے نزدیک مولانا نے شرکت کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے وعدہ نہیں کیا تھا، بلکہ بعد میں جواب دینے کو فرمایا تھا۔ بہرحال میں نے ان کا اور اپنا موقف سامنے رکھ دیا ہے۔ حقیقت کا علم اللہ ہی کو ہے، اس لیے کہ کھلی اور چھپی ہر بات کا جاننے والا صرف وہی ہے۔‘‘‘‘(رپوتاژ، تیسری سالانہ کانفرنس، میثاق، مارچ-جولائی 1976ء)

اس بیان کی مزید وضاحت ڈاکٹر اسرار احمد کے قریبی ساتھی اور ’’میثاق‘‘ کے مرتب شیخ خلیل الرحمان نے اپنے مضمون میں بیان کی۔ وہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے اس واقعے کے راوی ہیں۔ ’’قطع تعلق کی اصل حقیقت‘‘ کے عنوان سے وہ لکھتے ہیں:

’’…جن لوگوں کو ان دونوں کے مابین یہ خوش گوار تعلقات ناپسند تھے، وہ مسلسل مولانا کے کان بھرتے رہے اور با لآخر وہ اس کوشش میں اوائل مارچ 76ء میں کامیاب ہو گئے، جس کی تفصیل بہ روایت ڈاکٹر صاحب یہ ہے کہ ’’جب 21 تا 23 مارچ 76ء کے لیے تیسری سالانہ قرآن کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ ہوا تو انھوں نے مولانا کی خدمت میں حاضر ہو کر حسب معمول ایک نشست کی صدارت کی مولانا سے درخواست کی۔ مولانا نے پہلے تو عذر فرمایا کہ ان کی صحت اجازت نہیں دیتی اور یہ کہ ان کے حلقے کے قریبی رفقا بھی اس کو پسند نہیں کریں گے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے جب اصرار کے ساتھ درخواست کی اور مولانا کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ ان کی عدم شرکت بہت سی غلط فہمیوں کا باعث ہوگی۔ نیز یہ نشست خاص طور پر ’’حلقۂ تدبر قرآن‘‘ کے رفقا کے لیے مخصوص کر دی جائے گی تو مولانا نے از راہ کمال مروت و شفقت ڈاکٹر صاحب کی درخواست منظور فرما لی۔ چنانچہ جب کانفرنس کی نشستوں کے پروگرام کے مطبوعہ دعوت نامے جاری کیے گئے تو ’’علوم القرآن‘‘ اور ’’اصولِ تفسیر‘‘ کے موضوع پر مختص اجلاس کی صدارت کے لیے مولانا موصوف کے اسم گرامی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد حلقے کے چند احباب ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں تشریف لائے اور ڈاکٹر صاحب سے اصرار کیا کہ وہ مولانا کو وعدے کی پابندی سے آزاد کر دیں۔ جب وعدہ ہی نہیں کیا تھا تو یہ حضرات کس وعدے کی پابندی سے آزادی چاہتے تھے؟ ڈاکٹر صاحب نے ایسا کرنے سے معذوری ظاہر کی۔ بعد ہٗ کانفرنس کے انعقاد سے چند روز قبل ڈاکٹر صاحب مولانا کی خدمت میں پھر حاضر ہوئے تاکہ یاددہانی بھی ہو جائے اور حلقے کے ان احباب کے اسماے گرامی اور مقالات کے عنوانات بھی معلوم ہو جائیں تو اس میں شرکت کے لیے آمادہ ہوں۔ تو مولانا نے اس موقع پر فرمایا کہ انھوں نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا، بلکہ بعد میں جو اب دینے کو فرمایا تھا!‘‘‘‘ (اظہار حقیقت 90)

اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہی وہ موقع تھا جب مولانا اور ان کے قریبی شاگردوں نے قطعی فیصلہ کیا کہ وہ کسی بدمزگی کے بغیر ڈاکٹر صاحب کی تنظیم اسلامی سے فاصلے کا اظہار کریں گے۔ ڈاکٹر صاحب کو اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے تھا، لیکن انھوں نے خلاف ِ حقیقت یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ ان کے اور مولانا کے درمیان کوئی خاص اختلافات نہیں۔ اگر ہیں بھی تو اس کے باوجود انھیں مولانا کی حمایت اور تعاون حاصل ہے۔

صرف یہی نہیں، ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے ’’میثاق‘‘ کے مارچ – جولائی کے شمارے میں ’’تذکرہ و تبصرہ‘‘کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون لکھا۔ اس میں تنظیم اسلامی کی تاسیس اور ماہنامہ ’’میثاق‘‘ کو اس کا ترجمان بنانے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا :

’’’’میثاق‘‘ کے اجرا کی اصل غرض و غایت نہ تو یہ تھی کہ دین کی محض علمی خدمت کی جائے، نہ یہ کہ دینی صحافت کے حلقے میں ایک ماہنامے کا اضافہ ہو جائے، بلکہ اس کی اشاعت سے مقصود ایک نئی دینی دعوت کا آغاز تھا…جون 1959ء میں ’’میثاق‘‘ کا پہلا شمارہ مولانا اصلاحی صاحب کی زیر ادارت شائع ہوا جس میں مولانا نے اس کے مقصد اشاعت کی وضاحت کے لیے ایک مفصل تحریر سپردِقرطاس کی…لیکن بعد میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا وجہ ہوئی۔ آیا مولانا نے اس دعوتی کام کو اپنی علمی وجاہت کے منافی جانا یا ’’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘‘ ایسی معرکہ آرا کتاب کے مولف و مصنف نے خود اپنے آپ کو دعوت کے میدان کا مرد نہ پاکر اس بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ دینے ہی میں عافیت سمجھی یا کوئی خارجی سبب (مثلاً ایوب خان کا لایا ہوا فوجی انقلاب) آڑے آ گیا۔ بہرحال ہوا یہ کہ ’’میثاق‘‘ کے اجر ا کا مقصد اصلی تو پس منظر میں غائب ہوتا چلا گیا اور اس نے رفتہ رفتہ ایک خالص علمی ماہ نامے کی صورت اختیار کر لی۔…

…67-1966ء- کے دوران میں اصل زور اس پر رہا کہ جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونے والے لوگ ایک نظم میں منسلک ہو کراسی مقصد کے لیے کام کریں جس کے لیے وہ جماعت میں شامل ہوئے تھے۔ اس لیے کہ جماعت سے علیحدگی صرف پالیسی سے اختلاف کی بنا پر ہوئی تھی۔ اس زوردار للکار کے نتیجے میں اس حلقے کی باسی کڑھی میں واقعتاً ابال کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ چنانچہ اواخر 1967ء میں ’’قرارداد رحیم آباد‘‘ اور ’’اجتماع رحیم یار خان‘‘ کا نتیجہ ’’ایک نئی اسلامی تنظیم کے قیام کا فیصلہ‘‘ کی صورت میں برآمد ہوا، جس کا نام مولانا امین احسن اصلاحی نے با اصرار ’’تنظیم اسلامی‘‘ رکھوایا، لیکن ایک بار پھر محسوس ہوا کہ محض کسی سابق تعلق کی بنیاد پر جمع ہونے کی کوشش بے سود ہے۔ چنانچہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا، یعنی :

اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

اِس ناکامی کے بعد جب راقم الحروف نے طے کیا کہ اب اپنی ہی حقیر سی صلاحیت اور استعداد کے بَل پر ایک نئی دینی دعوت کا اجرا کرنا ہوگاتو چونکہ اسے راقم نے ابتداءً ’’دعوت رجوع الی القرآن‘‘ کی شکل دی اور اپنی ساری قوتوں اور توانائیوں کو مجالس درس ِقرآن مجید اور حلقہ ہاے مطالعۂ قرآن حکیم کے قیام و تنظیم پر مرتکز کر دیا، لہٰذا69- 1968ء کے دوران میں ’’میثاق‘‘ میں ایک خلا سا رہا اور وہ بس : ’’خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو!‘‘ کے سے انداز میں ایک نیم دینی، نیم علمی اور نیم سیاسی ماہنامے کی حیثیت سے شائع ہوتا رہا۔ بعد ازاں، جب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس ’’دعوت رجوع الی القرآن‘‘ نے ایک چھوٹی سی تحریک کی صورت اختیار کر لی تو ’’میثاق‘‘ بھی اس کا آرگن بن گیا اور اگرچہ پہلے تین سال یعنی 1970ء سے 1972ء تک یہ راقم کے ذاتی ادارے’’دارالاشاعت الاسلامیہ‘‘ کے تحت شائع ہوا اور بعد کے تین سال، یعنی از جنوری 73ء تا امروز باقاعدہ ’’مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور‘‘ کے تحت۔ تاہم ان پورے چھ سالوں کے دوران میں اس کی اصل حیثیت اسی ’’دعوت رجوع الی القرآن‘‘ کے نقیب و ترجمان کی رہی۔ جیسا کہ ’’میثاق‘‘ کے اکثر قارئین کے علم میں ہے کہ راقم نے ماہ جولائی 1974ء ہی میں ’’دعوت رجوع الی القرآن‘‘ سے بڑھ کر ایک ہمہ گیر دینی دعوت کے آغاز اور اس کے لیے ایک باقاعدہ دینی جماعت کے قیام کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ راقم نے جلد بازی سے کام نہیں لیا، بلکہ ’’سہج پکے سو میٹھا ہو‘‘کے اصول کے تحت دھیمی رفتار اختیار کی۔ چنانچہ 21/ جولائی 1974ء کو 20 روزہ قرآنی تربیت گاہ کے اختتام پر اپنے متذکرہ بالا عزم کا اظہار کر کے راقم نے احباب و رفقا کو بھی مزید غور کر لینے کی مہلت دی اور خود بھی دو قریبی رفقا کے ساتھ حج بیت اللہ کے لیے روانہ ہو گیا… اور دعا کے لیے ظاہر ہے کہ روے ارض پر حرمین شریفین اور میدانِ عرفات سے زیادہ موزوں مقام اور کوئی نہیں۔ بہرحال 27، 28/ مارچ 1975ء کو لاہور میں تنظیم اسلامی کا قیام عمل میں آ گیا یا صحیح تر الفاظ میں تنظیم اسلامی کا احیا ہو گیا۔ اس لیے کہ راقم نے نہ صرف یہ کہ مولانا اصلاحی کے تجویز کردہ نام اور اجتماع رحیم یار خان کی منظور شدہ قراردادِ تاسیس کو مع توضیحات جوں کا توں برقرار رکھا، بلکہ تنظیم اسلامی کی دعوت کی تعبیر کے لیے جو الفاظ اختیار کیے، وہ بھی گویا ’’میثاق‘‘ کے پہلے اداریے ہی سے ماخوذ ہیں، یعنی تجدید ایمان، توبہ اور تجدید عہد۔ تنظیم کے قیام کے بعد سابقہ تجربات کی بنا پر پہلے سال کے لیے راقم کا فیصلہ یہ تھا کہ نہ اس کا زیادہ چرچا کیا جائے اور نہ ہی کوئی بہت لمبی چوڑی امیدیں وابستہ کی جائیں، بلکہ اگر وہ چند ساتھی جو اس عظیم مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں،فوراًمنتشر نہ ہو جائیں، بلکہ باہم جڑے رہ جائیں تو اسی کو بڑی کامیابی سمجھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہماری جملہ خامیوں اور نا تجربہ کاریوں اور تقصیروں اور کوتاہیوں کے باوجود نہ صرف یہ کہ اس ’’ہدفِ کم ترین‘‘(Minimum Target) تک رسائی ہو گئی، بلکہ ’نافلۃً لَک‘ کے درجے میں تنظیمِ اسلامی کے تحت ایک نہایت کامیاب تربیتی پروگرام گذشتہ سال ماہ جولائی میں کوئٹہ میں منعقد ہوا اور پھر مارچ 1976ء میں ’’مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور‘‘ کی تیسری سالانہ قرآن کانفرنس کے متصلاً بعد تنظیمِ اسلامی کا پہلا سالانہ اجتماع منعقد ہوا اور اس میں ’’ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا‘‘ کے سے انداز میں ایک عزمِ نو کے ساتھ آگے قدم بڑھانے کا فیصلہ ہو گیا…تو جس طرح آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا کہ ’نسئی‘کے ہیر پھیر سے قمری کیلنڈر میں جو گڑبڑ واقع ہو گئی تھی، وہ اللہ تعالیٰ کی حکمتِ بالغہ اور قدرت ِکاملہ سے آج رفع ہو گئی اور زمانہ گردش کر کے دوبارہ اسی حساب پر آگیا جس پر اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی تھی۔ اسی طرح پورے سترہ سال تک اِدھر اُدھر کی خاک چھاننے کے بعد اللہ کے فضل و کرم سے اب ’’میثاق‘‘ پھر اسی مقصد ِ اصلی کی جانب رجوع کر رہا ہے جس کے پیش ِنظر اس کا اجر عمل میں آیا تھا۔‘‘

( میثاق، مارچ-جولائی 1976 ء )

اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ تنظیم اسلامی کے قیام کے موقع پر ڈاکٹر صاحب نے خلاف واقعہ یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ وہ وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو خود مولانا اصلاحی ماضی میں کرنا چاہتے تھے۔ مولانا کے ردعمل سے انھیں اس کوشش میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عملی طور پر ناکامی کے بعد وہ ان کی خاموش حمایت کے متمنی ہوئے، لیکن جب اس میں بھی مولانا نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تو انھوں نے حیرت انگیز طور پر صورت حال کی وہ تصویر پیش کی جس کا ذکر اوپر ہوچکاہے۔

ڈاکٹر صاحب مولانا اصلاحی سے کبھی شاگردی کی خواہش اور کبھی ان سے علمی خوشہ چینی کا دعویٰ کرتے تھے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ انھوں ایک دن بھی طالب علمانہ رویہ اختیار نہ کیا۔ ایسا ہوتا تو وہ مولانا کے اختلاف اور پھر ناراضی پر ان کے پاس جا بیٹھتے اور ان پر اپنا موقف بہ دلائل واضح کرتے۔ اپنی بات پر انھیں قائل کرتے یا اپنی غلطیوں کا ازالہ کرتے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ مولانا جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعد کسی انقلابی اور سیاسی جماعت کے قیام کے قائل نہیں رہے۔ اسے وہ قوم و ملت کے لیے شدید نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ اس کے بجاے وہ معاشرے میں دین کی صحیح تعلیم کو عام کرنے کے لیے اداروں کو تشکیل دینا چاہتے ہیں تاکہ اس کے نتیجے میں ایسے اذہان وجود میں آئیں جو اجتماعی تبدیلی کا ڈول ڈال سکیں۔ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح واقف تھے کہ مولانا ان کے خدمت ِ اسلام کے جذبے کے تو معترف ہیں، لیکن دینی علم اور تنظیمی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مثبت تاثر نہیں رکھتے۔ لیکن واقفِ حال جانتے ہیں کہ انھوں نے ایک دفعہ بھی ان سے علمی مکالمہ نہ کیا۔ ناراضی پر معذرت کے خواست گار ضرور ہوئے، لیکن عملی طور پر اصلاح پر مائل نہ ہوئے، بلکہ اپنے موقف پر عملی طور پر اصرار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان کی طبعی شرافت اور خاموشی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ان کے اس رویے نے مولانا کو مجبور کیا کہ وہ خاموشی سے علیحدہ ہونے کے بجاے علی الاعلان ان سے قطع تعلق اور بے زاری کا اظہار کریں۔

مولانا نے اس موقع پر ایک دفعہ پھر کسی اخبار یا جریدے کو انٹرویو دینے سے تو اجتناب کیا، لیکن ایک جاننے والے کے استفسار کے جواب میں اپنی پوزیشن واضح کی۔ اس جواب کو حلقۂ تدبر قرآن نے ایک پمفلٹ کی شکل دی اور ان اجتماعات کے سامعین میں جہاں ڈاکٹر صاحب نے خلاف ِ حقیقت باتیں بیان کی تھیں، اسے پہنچانے کا بندوبست کیا۔ یقیناً مولانا کے علم میں ہو گا کہ ایسا کیاجا رہا ہے۔

اس میں مولانا نے ڈاکٹر صاحب سے اظہار ِ براءت سے آگے بڑھ کر ان کی شخصیت کے بارے میں ایسے خدشات ظاہر کیے جو شدتِ تاثر اور سابقہ تجربات کی بنا پر تھے، لیکن مبالغہ آمیز تھے اور وقت نے ان میں بعض کی تردید کی اور بعض کی تصدیق۔

اس خط کے حوالے سے اس وقت کے ایک جید عالم مولانا وصی مظہر ندوی مرحوم نے مولانا کو ایک خط لکھ کر اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ ایک طویل خط تھا۔ اسے ’’میثاق‘‘ کے جولائی 1978ءکے شمارے میں شائع بھی کیا گیا۔ تفصیل کے طالب اسے وہاں دیکھ سکتے ہیں۔ اس خط میں مولانا کے اس عمل پر افسوس کیا گیا تھا کہ کاش! وہ ایسا نہ کرتے، کیونکہ اس کی وجہ سے دین کا کام کرنے والے لوگوں سے بے زاری پیدا ہو گی اور اس کے مثبت نتائج نہیں نکلیں گے۔ مولانا کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کے بارے میں ظاہر کیے گئے خدشات پربھی بے زاری ظاہر کی گئی اور پوچھا گیا کہ وہ یہ راے کیوں رکھتے ہیں، جب کہ ماضی میں وہ ان کے بارے میں بہت سی نیک توقعات کا ا ظہار کر چکے ہیں۔ اس کے جواب میں مولانا اصلاحی نے ایک مختصر خط مولانا وصی مظہر ندوی صاحب کو لکھا۔ مولانا اس خط میں لکھتے ہیں:

’’ رحمان آباد

6/ جون 78ء

مکرمی و محبی زاد لطفہٗ-السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

عنایت نامہ موصول ہوا۔ یاد آوری کا شکریہ، یاد فرمائیے کتنا زمانہ گزرا جب آپ اور ڈاکٹر اسرار میرے پاس گاؤں میں مجھ سے ملنے آئے تھے۔ اس وقت ڈاکٹر اسرار کو الگ کر کے مجھ سے تنہائی میں آپ نے کہا کہ مجھے ڈاکٹر اسرار کے متعلق کچھ بتاؤ کہ میں فیصلہ کر سکوں کہ ان سے تعاون کرنا چاہیے یا نہیں، اور کرنا چاہیے تو کس حد تک ؟ میں نے فوراً آپ کو جواب دیا کہ جب ڈاکٹر صاحب یہاں موجود ہیں تو انھیں بھی بلا لیجیے۔ میں ان کے منہ پر آپ کو ان کا سارا احوال بتا دوں گا تاکہ آ پ ان سے آگاہ بھی ہو جائیں اور غیبت بھی نہ ہو۔ لیکن آپ اس کے بعد خاموش ہو گئے۔ نہ ان کو اندر بلایا اور نہ پھر مجھ سے سوال کیا۔ مجھے آپ کے اس رویے پر بڑا تعجب ہوا، لیکن میں اس وجہ سے خاموش رہا کہ آپ اپنے مصالح کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں۔ اگر آپ اس وقت اپنے سوال کا جواب سن لیتے تو آج ان سوالوں کی نوبت نہ آتی جو آپ نے کیے ہیں۔ میرا اور ڈاکٹر صاحب کا جھگڑا بہت پرانا ہے۔ آپ کو نہ معلوم ہو تو نہ ہو، لیکن بہتوں کو معلوم ہے۔ اس کے پبلک میں نہ آنے کی وجہ یہ تھی کہ بیچ کے کچھ لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کی طرف سے معافی اور اصلاح کے وعدے کی بنا پر مجھ سے خواہش کی تھی کہ میں اخباروں میں کوئی اعلان براءت نہ کروں، لیکن ڈاکٹر صاحب نے خود اس کو بالکل غلط رنگ میں پبلک میں پیش کیا، جس کے سبب سے لوگوں کے سوالات میرے پاس آ رہے ہیں اور میں مجبور ہوں کہ ان کو جواب دوں، جس طرح آپ کو جواب دے رہا ہوں۔ خط میں پوری داستان نہیں لکھی جا سکتی۔ اس وجہ سے اگر آپ تفصیل چاہتے ہوں تو زحمت ِسفر اٹھائیے اور ( حیدر آباد سے) یہاں آ کر سنیے۔ میں آپ کو بتا دوں گا کہ ڈاکٹر صاحب کے متعلق میں نے جو راے قائم کی ہے، اس کے وجوہ کیا ہیں اور اگر سفر نہیں کر سکتے تو صبر کیجیے، میں ضروری مواد جمع کرا رہا ہوں، ان شاءاللہ جلد آپ کے سامنے سارا ماجرہ آ جائے گا۔ میرے خط سے متعلق آپ نے جن اندیشوں کا اظہار کیا ہے، آپ ان سے فکر مند نہ ہوں۔ ان شاءاللہ اس سے نہایت عمدہ نتائج نکلیں گے اور اگر کچھ کسر رہ گئی تو میرے آیندہ مضمون سے خدا نے چاہا تو پوری ہو جائے گی۔ اس عاجز کے متعلق آپ نے جس حسنِ ظن کا اظہار کیا ہے،اس کے لیے دل سے شکر گزار ہوں۔ والسلام

امین احسن اصلاحی‘‘ (میثاق، جولائی 1978ء)

یاد رہے کہ بعد میں مولانا وصی مظہر ندوی تنظیم اسلامی میں باقاعدہ شمولیت اور ڈاکٹر صاحب کی بیعت کیے بغیر ہی تنظیم سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

مولانا کے اس خط کو عوامی اجتماعات میں تقسیم کرنے کے ردعمل میں ڈاکٹر صاحب اور ’’میثاق‘‘ کے مرتب شیخ جمیل الرحمان نے تفصیلی مضامین لکھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈاکٹر صاحب خود ہی واضح فرمادیتے کہ مجھے ان اور ان معاملات میں مولانا اصلاحی کی راے سے اختلاف ہے اور میرا ان سے تعلق صرف اورصرف علمی نوعیت کا ہے، تنظیمی معاملات میں نہ وہ میرے کسی عمل کے ذمہ دار ہیں اور نہ مجھے ان کی کسی حمایت کی خواہش ہے، لیکن انھوں نے ناقابل ِ فہم رویہ اختیار کیا۔ ان واقعات کی وضاحت میں انھوں نے جو کچھ لکھا، وہ خلطِ مبحث کا کلاسیکی نمونہ ہے۔ ان میں ماضی میں ڈاکٹر صاحب کے متعلق مولانا کی طرف سے کی گئی نیک توقعات کے اظہار کے اقتباسات تھے اور ڈاکٹر صاحب کے مولانا پر نام نہاد احسانات کا بیان اور اس کے جواب میں ان کی تنقیدات کو سوے ظن قرار دیا گیا۔اسے ’’رجوع الی القرآن، تجدید ایمان اور توبہ‘‘ کی تحریک کے خلاف ایک مہم قرار دیا، جب کہ ان مضامین میں ڈاکٹر صاحب اور ان کے معاون نے اصل اعتراضات، یعنی ڈاکٹر صاحب کے تصور ِبیعت، تصور ِ شوریٰ، تصور ِ انقلاب، تصور ِتوحید اور تنظیمی معاملے میں حد درجہ آمریت پر ایک لفظ نہ لکھا۔

مولانا نے حقائق کو یوں توڑ مروڑ کر بیان کرنے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ اس پر خود ایک تفصیلی وضاحت لکھنے کا فیصلہ کیا، جسے ان کے تلامذہ نے ان کے وقت اور توانائیوں کا زیاں سمجھا۔ اس کے بجاے جناب خالد مسعود نے ایک تفصیلی پمفلٹ ’’اسرار نامہ‘‘ لکھا۔ خالد مسعود صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے مولانا کے ان سارے اختلافی امور کا ذکر کیا جو مولانا اصلاحی کے تحفظات کا باعث تھے۔ بتایا کہ ان کی طرف سے بار بار توجہ کے باوجود ڈاکٹر صاحب نے کوئی وضاحت یا علمی جواب نہ دیا، البتہ معافیوں اور اصلاح احوال کا ضرور وعدہ کیا، جو منتظرِ وفا رہا۔ اس کا بھی مختصر تذکرہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب سے حسن ِظن اور نیک توقعات کی کیا نوعیت اور اس کی کیا تاریخ تھی۔

انھوں نے ڈاکٹر صاحب کی ایسی متعددتحریروں کا بھی حوالہ دیا، جس میں انھوں نے انتہائی غیر محتاط رویہ اختیار کیا۔ اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ’’امی‘‘ قرار دیا، اپنے علمی اطمینان ِقلب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’شرح صدر‘‘سے تشبیہ دی، رسالت کے اختیارات کو اپنے اختیارات سمجھا۔یہ بھی لکھا کہ عجیب اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی چالیس برس کی عمر میں نبوت ملی اور میں نے اسی عمر میں انقلاب ِ اسلامی کی تحریک کا آغاز کیا وغیرہ۔ انھوں نے لکھا کہ اس طرح کی باتوں کی طرف مولانا کئی مرتبہ ڈاکٹر صاحب کو توجہ دلا چکے تھے، لیکن وہ معذرت کرنے کے بعد بھی اپنی روش پر قائم رہتے تھے۔ اور جب کچھ لوگ ڈاکٹر صاحب کی ایسی باتیں انھیں پہنچاتے تو بہت بدمزہ ہوتے اور بعض اوقات سخت تبصرہ بھی کر دیتے۔

[باقی]

عربی ادب قبل از اسلام 8