مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(34)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

نسیان کی بیماری

1971ء کے آخر میں مولانا اصلاحی نسیان کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ جناب خالد مسعود کی روایت کے مطابق بیماری کی شدت ایسی تھی کہ وہ اشیا اورافراد کے نام بھی بھول گئے۔ یادداشت پر بھی سخت اثر پڑا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کے نتیجے میں درس و تدریس اور لکھنے لکھانے کا کام معطل ہو گیا۔

ان کی تفسیر کی اہمیت سمجھنے والے اہل علم اور حلقۂ تدبر قرآن سے وابستہ لوگ بالخصوص سخت پریشان تھے۔ انھیں یہ تشویش لاحق ہو گئی تھی کہ امام فراہی کے فکر کے مطابق قرآن کی تفسیر کا کام کیسے مکمل ہو گا؟ مولانا سے محبت کرنے والے اور ان کے علم کے قدردان ان کی صحت کے لیے دن رات دعائیں مانگنے لگے۔

مولانا کے لیے یہ بہت مشکل زمانہ تھا۔بھولنے کا عارضہ اس قدر شدید صورت اختیار کر چکا تھا کہ یہ بھی بھول جاتے تھے کہ یہ جو صاحب ملنے آئے ہیں، یہ کون ہیں۔ اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں ان کی ساری یاد داشت ہی نہ ختم ہو جائے اور انھوں نے برسوں کی ریاضت اور اساتذہ کی تربیت سے جو علم حاصل کیا ہے، وہ اس سے محروم ہی نہ ہو جائیں۔خالد مسعود بیان کرتے ہیں کہ انھیں بیسیوں خطوط موصول ہوتے جن میں لوگ لکھتے کہ ان کی تکلیف اللہ تعالیٰ ہمیں منتقل کر دے، تاکہ مولانا صحت مند ہو کر دین اسلام کی علمی خدمت پہلے کی طرح جاری رکھ سکیں۔ ایک مقام یہ بھی آ یا کہ مولانا نے بیان کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو میرا مزید کام کرنا منظور نہیں تو ہمیں اللہ کی مشیت پر راضی ہونا چاہیے۔ ان کے بعد اسی منہج پر کام کو مکمل کیا جا سکتا ہے۔

لاہور کے تمام اہم ڈاکٹروں سے علاج کرایا، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ احباب کے توجہ دلانے پر کراچی کے نام ور دماغی معالج ڈاکٹر جمعہ خاں سے علاج کرانے کا فیصلہ ہوا۔ کراچی میں مولانا کا قیام ان کے ہم زلف چودھر ی اقبا ل صاحب کے گھر تھا۔

ڈاکٹر جمعہ خاں کی تشخیص کے مطابق یہ ویسکولر میموری ڈس آرڈر تھا۔ اس کی وجہ دماغ کی شریانوں میں خون کی روانی میں رکاوٹ تھی۔ ایسا بلند فشارِ خون اور فالج کے معمولی اثرات سے بھی ہو جاتا ہے۔ مکمل آرام، بہتر غذا اور جسمانی دیکھ بھال سے جب خون کی روانی نارمل ہو جائے تو بیماری سے افاقہ ہو جاتا ہے۔ اس سے یاد داشت کے خلیے متاثر تو ضرور ہوتے ہیں، لیکن ان میں مستقل قسم کی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ یاد رہے کہ یہ وہی دور ہے جب مولانا کے بیٹے ابو صالح کی وفات کے بعد مولانا کو مالی مشکلات درپیش تھیں۔

ڈاکٹر جمعہ خاں کی درست تشخیص اور موثر علاج سے چند ہفتوں میں افاقہ ہو نا شروع ہو گیا۔ الفاظ کی یادداشت بحال ہو گئی، جملوں میں ربط پیدا ہوگیا اورافراد کی پہچان لو ٹ آئی۔ صحت پاتے ہی مولانا نے اپنے شاگرد خالد مسعود صاحب کو یاد کیا اور انھیں خط لکھوا کر صورت حا ل سے مطلع کیا۔

احباب کو اندیشہ تھا کہ بیماری سے علمی سرمایہ ضائع نہ ہو گیا ہو۔ چنانچہ ان کی ذہنی صحت جانچنے کے لیے درس قرآن کی محفل کا فیصلہ کیا گیا۔ کراچی میں مقیم مولانا کے دیرینہ دوست حکیم سلطان احمدصاحب کی رہایش پر درس کی یہ نشست رکھی گئی۔ مولانا نے سورۂ حدید کی منتخب آیات کا درس دیا۔ سامعین درس سن کر خوشی سے نہا ل ہو گئے۔ خالد مسعود صاحب بتاتے ہیں کہ انھیں زندگی کی خوشیوں میں سب سے زیادہ خوشی حکیم سلطان صاحب کے خط سے ہوئی۔ جناب خالد مسعود صاحب کی روایت کے مطابق خط میں تحریر تھا کہ بیماری نے ان کے علم کو بالکل کوئی نقصان نہیں پہنچایا،درس حسبِ سابق بہت مدلل اور موثر تھا۔

مئی 1972ء میں مولانا لاہورواپس آئے۔خالدمسعود صاحب ملنے گئے تو انھوں نے کہاکہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت عقل ہے۔ اسی کے باعث انسان اس دنیا کی تمام مخلوقات کا سرخیل ہے اور اسی کی وجہ سے وہ خدا کے ہاں اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔ مولانا اس بیماری کا سبق بیان کرتے ہوئے فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیماری کے ذریعے سے مجھ پر یہ حقیقت واضح کی کہ انسان اپنی جس صلاحیت پر ناز کرسکتا ہے، اللہ تعالیٰ پلک جھپکنے میں اس کوسلب کر سکتا ہے۔ میری بیماری نے میرے اوپر بعض حقائق منکشف کیے ہیں۔ اگرمیں اس تجربے سے نہ گزرتا تو ان پر میرا یقین اتنا پختہ نہیں ہوسکتا تھا۔مثلاً یہ عُقدہ کھلا کہ قرآن پر گہری نظر سے وہ صحیح ایمان پیدا ہوتا ہے، جو مصائب میں سہارا بنتا اور مشکلات میں پریشانی سے بچاتا ہے۔ اگر ایک آزمایش سے گزر کر آدمی کچھ ایسی باتیں سمجھ لے جوبڑھاپے میں سہارا دینے والی ہوں تو یہ قیمت کچھ زیادہ نہیں ہے۔

9؍جون 1972 ء کو مولانا نے کئی ماہ بعد نماز جمعہ ادا کی۔وہ اس پر بہت خوش تھے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سراپا شکر گزار تھے۔ انھوں نے فرمایا :

’’اگرچہ مجھے یہ تسلی تھی کہ میں بیماری کے باعث نماز جمعہ کی حاضری سے محروم ہوں، لیکن مجھے اس حدیث کی وجہ سے وحشت ہوتی تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص لگا تا ر جمعہ کی تین نمازوں میں حاضر نہ ہوتو اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ وہ یہودی ہو کر مرتا ہے یانصرانی ہوکر۔مجھے پریشانی یہ تھی کہ میں کئی ماہ گزر جانے کے باوجوداس پر قادر نہیں ہورہاہوں۔‘‘( زبانی روایت )

جون میں مولانا کام کرنے کے قابل ہو گئے۔کہنے لگے کہ اب میری صحت اچھی ہورہی ہے، لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کام کی کیا شکل ہو گی اور تفسیر کیسے لکھی جائے گی۔ خالد مسعود صاحب نے مشورہ دیا کہ آپ سورۂ کہف اوراس کے بعد کی سورتوں پر غورو فکر کا کام جاری رکھیں۔ حلقۂ تدبر قرآن کے ساتھی بھی انھیں پڑھتے رہا کریں اور ان کی مشکلات کے بارے میں آپ سے سوالات کریں۔انھوں نے اس مشورے پر عمل کیااورعلمی مجالس منعقد ہونے لگیں۔ 3جولائی سے مولانا نے سورۂ کہف کادرس باقاعدہ دینا شروع کیا اور اس کے لیے ہفتے میں دو دن مخصوص کیے۔ چندہفتوں کےبعد انھوں نے محسوس کیاکہ اب وہ تفسیر لکھنے کا کام دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ انھوں نے حلقے کے رفقا کو بھی اس کام میں شریک کیا۔چنانچہ خالد مسعود، غلام احمد اور محمود احمد لودھی صاحبان کی معاونت سے تفسیر لکھنے کاکا م پھر سے شروع ہوگیا۔

لاہور سے گاؤں منتقلی

مولانا کے بڑے بیٹے ابوصالح کی وفات کے بعدان کے بچے بھی مولانا کی زیر کفالت تھے۔ اس سے مولانا کے مالی حالات بری طرح متاثر ہوئے۔ مولانا لاہو ر میں ایک کرایے کے مکان میں رہتے تھے۔ مولانا کی ایک سماجی حیثیت بھی تھی۔ چنانچہ شہری زندگی کے رکھ رکھاؤ پر بھی بہت زیادہ خرچ اٹھ رہے تھے۔ پھر 1971ء میں نسیان کی بیماری پر اٹھنے والے اخراجات نے انھیں خاصا مقروض کردیا تھا۔ ان کی معاشی حالت ایسی نہیں تھی کہ ان کے پاس کوئی جمع شدہ پونجی تھی۔ مولانا کوئی کاروبار یا باقاعدہ ملازمت بھی نہیں کرتے تھے۔ گھر کے سارے اخراجات جو میسر تھا، اس کے سہارے چل رہے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ آدمی کوفکر صرف اپنا فرض ادا کرنے کی ہونی چاہیے۔ اگر وہ اخلاص کے ساتھ اس میں منہمک ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس کی کفالت کی ایسی راہیں خود کھول دے گا، جواس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں گی۔اگر اس راہ میں کچھ آزمایشیں پیش آتی ہیں تو ان کا مقصد انسان کی تربیت کرنا ہوتا ہے۔

اس موقع پر آکر مولانا کو صاف نظر آرہا تھا کہ انھیں ’’ جو کچھ میسر ہے‘‘ کی بہتر منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ اس کا رستہ انھیں اپنی سسرالی زمین کی طرف سے نظر آیا۔

مولانا کی دوسری اہلیہ محترمہ کے والدچودھر ی عبدالرحمٰن جالندھر کے قریب ایک گاؤں ’’راہوں‘‘ کے ایک بڑے زمین دار تھے۔تقسیم ہندکے بعد چو دھری صاحب کوبدلے میں مختلف مقامات پر زمین الاٹ کی گئی۔ مولانا کے اخراجات کا ایک بڑا حصہ اسی زمین کی پیداوار سے پورا ہوتا تھا۔ یہ زرعی رقبہ بکھرا ہوا تھا۔ مولانا کو اس کا احساس تھا کہ اس کی بہتری کی سبیل کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ مولانا کے عزیز دوست اور دیرینہ ساتھی سردار محمد اجمل خان لغاری نے یہ زمین اشتمال اراضی کے ذریعے سے یکجا کرادی۔ اب اس کا انتظام آسان ہو گیا۔ پہلے زمین پر کاشت اور پیداوار پرذاتی توجہ نہ ہوتی۔ یہ معاملات منشی کی زیر نگرانی ہوتے، جس کی وجہ سے منافع کم ہوتا۔ اب جب یہ زمین اکٹھی ہو گئی تو مولانا کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ وہ اپنی زمینوں پر منتقل ہو جائیں۔ مگر اس میں مشکل یہ تھی کہ اس منتقلی سے ایک تو لاہور میں قرآن کی تدریس کا کام بالکل معطل ہوجائے گا اور دوسرے یہ کہ وہ اہلیہ کی زمین پر انحصار کرکے اپنی معاشی ذمہ داری بیگم صاحبہ کو منتقل کرنے والے کہلائیں گے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرپارہے تھے۔چنانچہ انھوں نے حکیم سلطان احمد سے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ آپ کا ذاتی اور خانگی معاملہ ہے، اس کا فیصلہ حالات کے لحاظ سے ہونا چاہیے۔ مولانا کا خیال تھا کہ اس طرح میں نان و نفقہ کی ذمہ داری اپنی اہلیہ کے اوپرڈالنے والابن جاؤں گا۔حکیم سلطان صاحب نے اس کے خلاف دلیل دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہاں فارغ تونہیں بیٹھیں گے۔ آپ زمین داری کے تمام معاملات خود سنبھالیں گے۔ اس طرح منشیوں کے تقرر کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کاشت کی منصوبہ بندی اور نگرانی آپ خود کریں گے۔ اس میں آپ کا وقت اور محنت صرف ہو گی۔ آپ اس کا معاوضہ پانے کے حق دار ہوں گے۔ پھر زمین سے جو پیدا وار ہوگی، اس میں آپ کا ذاتی حصہ اچھا خاصا ہو گا۔یوں آپ اہلیہ سے نان و نفقہ پانے کے الزام سے بری ہوں گے۔یہ دلائل سننے کے بعد مولانا مطمئن ہو گئے۔

اصل میں مولانا اپنی بیماری اور بیٹے کی وفات سے بہت پہلے ہی اس منصوبے پر سوچتے رہے اور قابل عمل صورت حال پر احباب سے مشورے کرتے رہے تھے۔ انھوں نے 23؍ دسمبر60 19ء کو سردار محمد اجمل خان لغاری صاحب کو جو خط لکھا، وہ ملاحظہ ہو:

’’عنا یت نا مہ مو صو ل ہو ا۔میں نے یہ فیصلہ تو اس وجہ سے کیا ہے کہ اب اس کے سوا کو ئی شکل با عزت گزارے کی نظر نہیں آئی۔ اور یہ بھی ابھی اس شر ط کے ساتھ مشرو ط ہے کہ زمین پر سر چھپا نے کے لیے کو ئی جھو نپڑا بن جا ئے۔ آج کل میں اسی چکر میں ہوں۔ دعا کیجیے کہ میرا یہ ارادہ پورا ہو۔ مجھے تو قع ہے کہ محمود صاحب (مو لا نا کے برادر نسبتی فضل الرحمٰن محمود صا حب مراد ہیں۔اس وقت تک مو لا نا کی اہلیہ کی زمین ان کے ساتھ مشترک تھی) نے زمین اگر بغیر کسی جھگڑے کے علیحدہ کر دی تو میں دوسر ی مشکلات پر قا بو پالوں گا۔ مجھے اپنی زندگی کے اس مو ڑ پر جو میں بڑھا پے میں کر نے پر مجبور ہوا ہوں، اللہ تعا لیٰ کے بعد سب سے زیا دہ سہا را پانے کی جس سے توقع ہے، وہ آپ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنے مشوروں سے میرا حو صلہ بڑھا تے رہیں گے۔‘‘(سہ ماہی تدبر، جولائی 1998ء، ص 78)

لاہو ر سے 20؍جون1963 ء کو سردار محمد اجمل خان لغاری کے نام لکھتے ہیں:

’’آپ مجھے دیہا ت اور دیہا تی زندگی سے نہ ڈرائیے، میں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ خا لص دیہات میں بسر کیا ہے اور بڑی غریبا نہ زندگی گزاری ہے۔ اب بھی گو میں لا ہور میں رہتا ہوں، لیکن ایک با لکل طا لب علما نہ زندگی رکھتا ہوں۔ بس مشکل یہ ہے کہ میر ی علمی زندگی کے تقاضے مجھے لاہور کے قیا م پر مجبور کر تے ہیں اور معا شی ضروریا ت ’’ٹبی بھیکو‘‘ (مو لا نا کے گاؤں رحما ن آباد کا پرا نا نام) سے باندھے ہو ئے ہیں۔ کشمکش یہ ہے کہ نہ پیٹ کو لپیٹ سکتا، نہ روح کو کچل سکتا۔ اب دیکھیے، رب کر یم میر ے لیے اس کشمکش سے عہد ہ بر ا ہو نے کی کیا را ہ نکالتے ہیں۔‘‘ (سہ ماہی تدبر، جولائی 1998ء، ص 81)

لاہورسے22؍اگست 1967 ء کو محمود احمد لودھی صاحب کو یہ خط لکھا:

’’اب میں اکتوبرتک لا ہور چھوڑ کر رقبے پر منتقل ہو نے کی اسکیم بنا ر ہا ہوں۔ پیش نظر مصارف کی تخفیف ہے۔ ابھی یہ ارادہ چند دو ستوں تک راز ہے اور وہ بھی اس پر مطمئن نہیں ہیں۔ لیکن میں اس کو ذا تی پہلو سے مفید، بلکہ ضرور ی سمجھتا ہوں۔ توقع ہے کہ اس سے مصارف میں تخفیف ہوگی۔ قر ض میں اضا فے کا سلسلہ رک جائے گا اور اداے قرض کے لیے کچھ پس انداز ہو سکے گا۔ علمی اور تعلیمی مقاصد ضرور متا ثر ہو ں گے، لیکن تفسیر کا کام امید ہے کہ جا ری رہ سکے گا۔ اب اس عمر میں ذہنی سکو ن ضرور ی ہے جو بہ حالت ِمو جو دہ میسر نہیں۔ لاہور اچھی جگہ ہے، مگر میر ے جیسے شخص کے لیے اس کا رکھ رکھا ؤگراں، بلکہ نا قابل برداشت ہے۔‘‘(سہ ماہی تدبر، جولائی 1998ء، ص 13)

چنانچہ بیماری سے شفا پانے کے بعد انھوں نے جب گاؤں منتقل ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا تو اپنے ارادے سے ڈاکٹر عبداللطیف کو 23؍ جنوری 1973ء میں لکھے خط سے مطلع کیا:

’’اب میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ لا ہور چھوڑ کر ایک دیہا ت میں چلا جاؤں۔ وہاں میری بیوی کا ایک مختصر رقبہ زمین ہے۔اس پر ایک جھونپڑا بنا کر بقیہ زندگی وہیں گزارنے اورجب تک قو ت سا تھ دے تفسیر لکھنے کا ارادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور میں اب میر ی دل چسپی کی کو ئی چیز نہیں رہی۔ ڈا کٹر اسرار صا حب کی معیت میں جوکا م شروع کیا تھا اس کو انھوں نے بالکل تلپٹ کر کے اپنا ذاتی کا م بنا لیا ہے اور نہ میں ان کو سمجھا نے میں کامیاب ہو سکا اور نہ میرے دوسرے ثقہ اور ذی علم احبا ب اس میں کا میا ب ہو سکے۔ اس وجہ سے ہم سب نے اس سے علیحدگی اختیا رکر لی۔

میں لا ہور میں اسی کا م کی خا طر اٹکا ہو ا تھا، ورنہ یہاں کی کثیر المصا رف زندگی میرے تحمل سے با ہر تھی۔ چنانچہ میں قر ض دار بھی ہو گیا۔ یہاں میر ی کو ئی ذا تی آمدنی نہیں ہے۔ میر ی کتابیں بھی میرے لیے کسی دنیوی منفعت کا ذریعہ نہیں بنیں اور اب توڈا کٹر صاحب ان پر اس طر ح مسلط ہو نے کی کو شش کر رہے ہیں کہ مستقبل میں بھی ان سے مجھے کسی فائدے کی امید نہیں۔ میرا گزارہ یا تو زمین کی آمدنی سے ہو رہا تھا یا آپ مدد فرماتے تھے۔ زمین کی آمدنی بس اتنی ہے کہ زمین پر رہ کر تو اس سے روٹی کھا سکتا ہوں، لیکن لا ہور شہر کے مصارف اس سے پورے نہیں ہو سکتے۔ اس وجہ سے اب میر ے لیے واحد راستہ یہی ہے کہ وہیں چلا جا ؤں۔ وہاں امید ہے کہ تفسیر کا کا م زیا دہ اطمینا ن سے کر سکو ں گا۔ یہاں بہت سا وقت لو گوں سے ملنے جلنے میں بھی صرف ہو جا تا ہے۔

میر ی کتا بوں کے چھپنے کا معا ملہ اب با لکل مجہول ہو گیا ہے۔ میرے پاس ایسے ذرائع نہیں کہ میں ان کو چھپوا سکوں اور ڈا کٹر صا حب پر مجھے اعتما د نہیں رہا۔ اس وجہ سے اب اس معا ملے کو خدا کے حوالے کر تا ہوں۔ اگر اس کی مر ضی ہو گی تو ان کے چھپنے کی کو ئی صورت پیدا ہو جا ئے گی، ورنہ اپنے رب کے فیصلہ پر را ضی ہو ں۔ البتہ لکھنا میر ی ذمہ داری ہے اور یہ کا م میں آخر دم تک ان شا ء اللہ کر تا رہوں گا چو نکہ آپ اس کا م کے سب سے بڑے معا ون اور قدردا ن ہیں، اس وجہ سے آپ کو آگا ہ کر نا ضروری ہوا۔‘‘(سہ ماہی تدبر، جولائی 1998ء، ص 80)

[باقی]