(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(4)
]صاحب تدبر قرآن کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
دوران تعلیم کے واقعات کے ضمن میں امین احسن بیان کرتے ہیں کہ ہم جماعت طلبہ میں وہ سب سے چھوٹی عمر کے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ اساتذہ کی توجہ سب طالب علموں سے زیادہ حاصل کر لیتے۔ ان کی اس کامیابی نے بعض بڑی عمر کے طلبہ میں حسد و رشک کے جذبات پیدا کر دیے۔ فطری طور پر ایسے طلبہ ان کی کم زوریوں کی ٹوہ میں رہتے اور جو اساتذہ امین احسن کی ذہانت و مہارت کے زیادہ قائل تھے، ان کے پاس جا کر منفی راے پھیلاتے۔ بقول مولانا امین احسن : ’’ وہ میرے خلاف اساتذہ کے کان بھرتے رہتے۔ ‘‘
اس حوالے سے انھوں نے امین احسن کے بارے میں یہ بات پھیلائی کہ ان کی نحو کم زور ہے۔ اس بات کی بنیاد بھی موجود تھی کیونکہ ابتدائی درجوں میں ان کی قواعد پر گرفت کم زور تھی۔
اس کی ایک وجہ مولانا یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اگرچہ مولانا فراہی کی صرف و نحو پر کتابیں نصاب کا حصہ بن چکی تھیں، لیکن بعض اساتذہ کے لیے ان کتب کا اسلوب بالکل اجنبی تھا۔ ان کو یہ مولوی لوگ ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ یوں میرے دو سال برباد ہوئے، جو مولوی اساتذہ مجھے پڑھاتے تھے وہ مجھے آتا نہیں تھا۔ اس طرح کی چیزوں میں مولوی لوگ مجھ سے آگے تھے، لیکن جب عربی عبارت پڑھنے کی بات آتی تو میں ان سب سے آگے ہوتا۔ لیکن عبدالرحمان نگرامی کے آنے کے بعد مدرسے میں ایک انقلا ب آ چکا تھا۔ نصابی کتب میں بھی تبدیلی آگئی اور جب امام فراہی پوری طرح مدرسے کے امور کے نگران ہو گئے تو مزید اصلاحات ہوئیں، جن کا امین احسن کو بہت فائدہ ہوا۔
ان کے یہ ہم جماعت شاید اس بات سے پوری طرح آشنا نہ تھے کہ امین احسن اپنی اس کم زوری کو دور کر چکے ہیں اور ان کے پسندیدہ استاد مولانا عبدالرحمان نگرامی کی رہنمائی میں اب ان کے اندر اس طرح کی کوئی کمی کجی باقی نہیں رہ گئی۔ ( اس سلسلے میں ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ ایک فارسی کتاب کے ذریعے سے امین احسن سارے قواعد سیکھ اور سمجھ چکے تھے۔ )
امین احسن بتاتے ہیں کہ یہ بات ان کے حاسدین نے اس شدو مد سے پھیلائی کہ اس کی بِھنک امام فراہی تک جا پہنچی۔ امام فراہی اگرچہ اس وقت امین احسن کے براہ راست استاد نہیں تھے ، لیکن ان کی نظر اس لائق شاگرد پر ضرور تھی۔
یاد رہے کہ ابتدائی درجوں میں مولانا فراہی طلبہ کو خود نہیں پڑھاتے تھے۔ ان کی تدریس اساتذہ کے لیے خاص تھی۔ البتہ امین احسن ان کے لیے پہلے دن ہی سے کوئی اجنبی طالب علم نہیں تھے۔ وہ تو اس دن سے انھیں جانتے تھے جب ان کے والد ہاتھی پر بیٹھ کر مدرسۃالاصلاح میں ان سے ملنے بطور خاص آئے تھے اور انھوں نے اپنے بیٹے کا مولانا فراہی سے تعارف کرایا تھا اور یقیناً ان کا خاص خیال رکھنے کو کہا ہو گا۔ کیونکہ امین احسن علاقے کے معلوم و معروف اور مُتْمَوَّل زمین دار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اور اس زمانے میں ہاتھی پر سوار ہو کر کسی خاص جگہ پر جانا ایسے ہی تھا جیسے آج کے زمانے میں کسی قیمتی اور بڑی گاڑی پر سوار ہو کر جانا۔
امین احسن جیسے ہونہار طالب علم کے بارے میں یہ اطلاع ان کے لیے یقیناً تشویش کا باعث تھی کہ انھیں نَحو جیسی بنیادی اور بہت ضروری مہارت میں مسائل ہیں۔ اس کے بعد جو واقعہ ہوا اس سے متَبادِر ہے کہ امین احسن اس سے واقف نہیں تھے کہ ان کے بارے میں اس طرح کی کوئی بات صدر مدرسہ اور سب کی نظروں کے محور استاذ الاساتذہ امام حمید الدین فراہی تک پہنچ چکی ہے۔ اور وہ اس سے بھی ناواقف تھے کہ امام فراہی ان کا ایک بے رحم امتحان لینے والے ہیں۔ دراصل امام فراہی کو یہ بالکل گوارا نہیں تھا کہ ان کے مدرسے کا کوئی طالب علم فنی طور پر کم زور ہو۔ اوریہ طالب علم تو ویسے بھی خاص طالب علم تھا۔ اس لیے انھوں نے اس خبر کومتحقق کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
امین احسن کا کڑا امتحان
اس واقعے کا زمانہ تو مولانا امین احسن نے نہیں بتایا، لیکن قرائن سے لگتا ہے کہ کم از کم یہ پانچویں یا چھٹے درجے کے بعد کی بات ہو گی۔اور یہ وہ دور تھا جب امام فراہی مدرسے کے تمام اساتذہ اور طلبہ کے لیے درس قرآن دیتے تھے۔اسی لیے یہ درس بہت اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔ اس میں امام فراہی اس طریقے سے قرآن کی تدریس کرتے تھے جو ان کا خاص میدان تحقیق تھا۔ درس کی اس اہمیت کے باوصف اس میں حاضرین کی تعداد یقیناً زیادہ سے زیادہ رہتی ہو گی۔
امین احسن بتاتے ہیں کہ ایک دن جیسے ہی درس کی مجلس تیار ہوئی، میں بھی آکر بیٹھ گیا۔ مگر درس کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی انھوں نے ایک دم مجھے مخاطب کیا اور پوچھا : ’’امین، ’’ لِ ‘‘ کیا صیغہ ہے ؟ ‘‘
ظاہر ہے امین احسن کے لیے یہ ایک غیر متوقع صورت حال تھی۔ اس لیے پہلے تو انھوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔ اپنے اس تاثر کو بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں :
’’میں سمجھا کہ’’ لا ‘‘کی جگہ ’’لِ‘‘ کہہ دیا ہے، شاید مذاق میں ہیں۔ لیکن غور کیا کہ وہ تو ’’ل ِ‘‘ کہہ رہے ہیں۔ میں نے توقف کیا اور (لمحوں میں) اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ یہ ’’ وَلِیَ ‘‘ میں ’’ع ‘‘ کلمہ ہے، اور امر کی وجہ سے ’’لِ ‘‘ رہ گیا ہے۔ یہ نتیجہ نکال کر میں نے کہا: ’’یہ امر کا صیغہ ہے۔‘‘
مگر امام فراہی آج امین احسن کی قابلیت واضح کرنے کا ارادہ کر چکے تھے۔ انھوں نے تُرت پوچھا: ’’کس وزن پر ؟‘‘
میں نے کہا : ’’ ق ِ ‘‘ کے وزن پر۔
امین احسن کا مطلب تھا جیسے ’’ وَقِیَ ‘‘ میں ’’ قِ‘‘ ہے۔ ( وَقِنَا عَذَا بَ النَّار میں )
امتحان جاری رہا اور امام نے اگلا سوال داغا: ’’ کیا معنی ہیں ؟ ‘‘
امین احسن نے لفظ کے معروف معنی بتائے کہ ’’ والی ہونا ‘‘۔
استاذ الاساتذہ نے مزید پوچھا :’’ کیا یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں ؟‘‘
انھوں نے دوسرے معنی ’’ مدد کرنا ‘‘ کے بارے میں پوچھا۔
امین احسن نے کہا: ’’ ہاں یہ بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘
تب انھوں نے پورے حاضرین کو متوجہ کیا اور قدرے سپاٹ لہجے میں کہا :’’کون کہتا ہے کہ تمھیں نحو نہیں آتی ؟‘‘
مولانا بتاتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ یہ کہہ دوں کہ یہ لوگ، اور یہ لوگ۔ لیکن پھر سوچا کہ اب تو میں نے فتح حاصل کر لی ہے۔اب اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
یہ واقعہ مولانا نے کئی دفعہ بیان کیا۔ لیکن ایک دفعہ بھی، حتیٰ کہ پوچھنے کے باوجود انھوں نے کسی بھی ہم جماعت کا نام نہیں لیا۔ اس سے ان کے علم اور تربیت، دونوں کا ادراک ہوتا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس امتحان میں کامیابی ان کے لیے بہت معنی رکھتی تھی۔
عربی زبان کے طالب علم ذرا غور کریں کہ ان کو یکا یک ایک مشکل فعل ، جس میں دو حروف عِلَّت ہوں، کے حوالے سے یہ سوال کیا جائے تو کیا وہ ان سارے سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں جن کا جواب امین احسن نے بھر پور اعتماد اور پوری کامیابی سے دیا ؟
اس امتحان میں سرخروئی بلا شبہ نوجوان طالب علم امین احسن کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ مولانا بتاتے ہیں کہ اس کے بعد کسی میں جرأت نہ ہوئی کہ مجھے اس حوالے سے مُتَّہَم کرے۔
قصہ عربی شاعری کا
امین احسن کے انھی ’’ کرم فرماؤں ‘‘ نے مولانا فراہی تک یہ خبر بھی پہنچائی کہ امین احسن عربی شاعری کے بارے میں عجیب عجیب تبصرے کرتے ہیں۔ کہتے ہیں عربی شاعری بھی کوئی شاعری ہے ! کچھ پتا نہیں چلتا کہ شاعر محبوبہ کی تعریف کر رہا ہے کہ اونٹنی کی !
مولانا بتاتے ہیں کہ اس ’’ شکایت ‘‘ کا شان نزول یہ تھا کہ استاد نے سبع معلقات کا پہلا قصیدہ پڑھایا۔ اور میں نے اس پر متذکرہ تبصرہ کر دیا۔
یاد رہے کہ سَبَع مُعَلَّقات یعنی سات لٹکائے گئے قصیدے، عربی زبان کے سات عظیم شعرا کا کلام ہے۔ زمانۂ جہالت میں عرب میں رواج تھا کہ مختلف میلوں یا تقاریب میں شعرا اپنا کلام سناتے۔ ان میں جو کلام بہت زیادہ پسند کیا جاتا ، اس کی عزت افزائی کے لیے اسے لکھا جاتا اور پھر کعبہ کی دیواروں پر لٹکا دیا جاتا۔ یہ مجموعۂ کلام ان سات کلاسیکی شعرا کا کلام ہے جنھیں کعبہ کی دیواروں پر لٹکایا گیا تھا۔ کلاسیکی عربی کی مہارت کے لیے اسے عام طور پر نصاب میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ مجموعہ مدرسۃ الاصلاح کے نصاب کا بھی حصہ ہے۔اس کا پہلا قصیدہ مشہور جاہلی شاعر اِمرَؤ الْقَیس کا ہے ۔ اور اس قصیدے کا پہلا شعر یہ ہے :
قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ ومَنْزِلِ
بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ
اس شعر کا اردو ترجمہ ہے :
’’اے دو دوستو، ذرا ٹھہرو تاکہ ہم محبوبہ اور (اُس کے اِس) گھر کی یاد تازہ کر کے رو لیں جو ریت کے ٹیلے کے آخر پر مقامات دخول اور حومل… ‘‘
اس قصیدے کے لفظی اردو ترجمے کی وجہ سے امین احسن نے مذکورہ تبصرہ کر دیا۔
یہ بات امام فراہی تک پہنچی تو انھوں نے فرمایا کہ انھیں شاعری پڑھائی ہی نہیں گئی۔ چنانچہ جب امین احسن سے ان کی ملاقات ہوئی تو انھوں نے بڑی محبت سے انھیں بلایا اور پوچھا کہ بھئی آپ نے عربی شاعری کے بارے میں کیا کہا ہے ؟
امین احسن نے وہی بات دہرائی۔ تب استاذ نے کہا کہ کوئی شعر پڑھو۔ انھوں نے وہی پہلا شعر پڑھا اور وہی ترجمہ کیا جو ہم نے اوپر درج کیا ہے۔ امام فراہی بولے :
’’ نہیں، اس کاترجمہ یوں کریں : ٹھیرو، ٹھیرو، دوستو، جاناں اور منزل جاناں پر دو آنسو بہانے دو…‘‘
مولانا بتاتے ہیں کہ میں نے انھیں شعر کا پورا ترجمہ بھی نہیں کرنے دیا اور پکار اٹھا:’’ لاریب، شعر ہو گیا۔ اب یہ شعر ہو گیا ہے۔‘‘
اس کے بعد انھیں کبھی یہ شکایت نہ ہوئی، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ مجھے اردو اور فارسی کے مقابلے میں عربی شاعری زیادہ پسند آنے لگی۔
اردو کے پیدایشی عالم
اردو کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ میرا داخلہ اگرچہ اردو میڈیم میں ہوا تھا اور نصاب میں اردو کی کچھ چیزیں شامل تھیں، لیکن اساتذہ نے فرمان جاری کیا کہ امین احسن کو اردو پڑھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔یہ پہلے ہی پڑھے پڑھائے ہیں۔
مولا نا ابتدائی درجوں کے بعد اپنی تیز رفتار تعلیمی ترقی اور بہتر استعداد ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے ہیں:
’’ میں نے شعور آنے کے بعد سیکھا ہے۔ آدمی جو چیزیں بڑے ہو کر سیکھتا ہے، وہ بہت تیزی سے سیکھتا ہے اور زیادہ توجہ اور گہرائی سے سیکھتا ہے۔ اس سے وہ برسوں کی جست لگاتا ہے۔ اور میں نے بھی یہ جست لگائی۔ ‘‘
چنانچہ مولانا بچوں کو بہت چھوٹی عمر میں مدرسے داخل کرانے کے خلاف تھے۔ ان کی راے کے مطابق جب تک بچے کا شعور پختہ نہ ہو جائے، ا سے باقاعدہ تعلیم کے لیے سے مدرسے میں بھیجنا درست حکمت عملی نہیں ہے۔
فارسی کے سخت استاد
اردو کی تدریس سے امین احسن کو مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔ بقول مولانا : انھوں نے مجھے اردو کا پیدایشی عالم قرار دے دیا۔ لیکن فارسی انھیں پڑھنا پڑی اور اس کا قصہ بھی دل چسپ ہے۔اس کا بیان ہم انھی کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں :
’’فارسی کا ایک گھنٹا رکھا گیا۔ اس سے مجھے فائدہ پہنچا۔ اس کے استاد بڑے ’عَبُوساً قَمْطَرِیْرا‘ قسم کے تھے۔ الامان الحفیظ۔ لیکن بہر حال فارسی میں نے ان سے پڑھی۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ انھوں نے حساب کتاب بھی سکھایا۔ جمع، تفریق، ضرب، تقسیم۔ مگر یہ چیز نہ مجھے آئی، نہ اب آتی ہے اور نہ کبھی آسکتی ہے۔ یہ میری فطرت کے خلاف ہے۔ اس کے علا وہ انھوں نے ہمیں خوش نویسی اور خطاطی بھی سکھائی۔ لیکن اس میں بھی ہم ان کو چکمہ دے دیتے۔ مجال ہے جو کبھی ایک صفحہ بھی لکھ کر دیا ہو … بالکل نہیں۔ لیکن فارسی ان سے ضرور پڑھی اور خوب پڑھی۔ ‘‘
اصل میں مولانا کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے فارسی کے استاد بہت سخت مزاج کے تھے۔ انھوں نے ان کی سخت مزاجی کے لیے قرآن کی سورہ ’اَلْدَھْر ‘ کی آیت دس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ آیت اور اس کا ترجمہ یہ ہے :
اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِیۡرًا .
’’ہم اپنے پروردگار کی طرف سے اُس دن کا اندیشہ رکھتے ہیں جو نہایت روکھا ہے، بڑا ہی ترش رو ہے۔‘‘
بیان کیا جاتا ہے کہ ان سے کوئی طالب علم جسمانی سزا سے نہیں بچا، لیکن امین احسن واحد طالب علم تھے جو ان سے محفوظ رہے۔ نہ صرف محفوظ، بلکہ انھوں نے کوئی ایسی ترکیب لڑائی کہ سوائے فارسی کے ان سے باقی چیزیں پڑھی ہی نہیں۔ اب یہ ترکیب کیا تھی، اس کا انھوں نے کوئی ذکر نہیں کیا۔ ہمارا خیال ہے کہ اس سے بھی انھوں نے اردو کی طرح استثنا لے لیا ہو گا، کیونکہ مولانا کا خط اچھا تھا۔مگر مولانا بتاتے ہیں کہ اس تعلیم کے لیے بھی علیحدہ سے ایک گھنٹا مقرر تھا ۔ اب ایک سخت گیر استاد کے سامنے یہ وقت وہ کس سر گرمی میں گزارتے، یہ یقیناً ایک دل چسپ راز ہے۔
امین احسن کی پہلی تقریر
زمانۂ طالب علمی کا ایک اہم واقعہ امین احسن کی پہلی پبلک تقریر ہے۔ یہ تقریر انھوں نے مدرسۃ الاصلاح کے پہلے سالانہ جلسے میں کی تھی۔ اس وقت وہ چھٹے درجے کے طالب علم تھے۔ اور جلسے میں مدرسے میں آٹھ برس مکمل کرنے والے پہلے بیج کو اسناد دی جانی تھیں۔جلسے کی صدارت کے لیے مولانا محمد علی جوہر کو خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ مولانا نے اس تقریب کا ذکر ماہنامہ ’’میثاق‘‘ جولائی 1964 کے شمارے میں کیا ہے۔ اس میں مولانا نے’’مولانا محمد علی مدرستہ الاصلاح میں ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں انھوں نے محمد علی جوہر، امام حمید الدین فراہی اور مولانا محمد قاسم کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے :
’’اگرچہ بڑوں کے اس ذکر کے درمیان اپنا بیان کچھ مناسب نہیں، لیکن جن کا کل سرمایۂ زندگی صرف وہ چند چھوٹی بڑی نسبتیں ہی ہوں جو بڑوں سے ان کو حاصل ہوئیں، وہ اگر ان کو بیان نہ کریں تو آخر اپنے طرۂ افتخار کی آرایش کے لیے سامان کہاں سے لائیں گے! اس وجہ سے مجھے یہ واقعہ ذکر کرنے کی اجازت دیجیے کہ یہی جلسہ، جس کا ا وپر ذکر ہوا، اول اول مجھے پبلک میں روشناس کرانے کا ذریعہ بنا۔ وہ اس طرح کہ مجھے مدرسہ کی تعلیم و تربیت کا نمونہ دکھانے کے لیے مدرسہ کے ذمہ داروں کی طرف سے اس جلسہ میں ایک تقریر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ چنانچہ میں نے اس میں ایک تقریر کی۔ یہ تقریر میری اپنی ہی تیار کردہ تھی اور اگرچہ کسی پبلک جلسہ میں یہ میری بالکل پہلی تقریر تھی، لیکن میری عمر اور علم کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہی۔ مولانا محمد علی رحمۃ اللہ علیہ اور اسٹیج پر بیٹھے ہوئے دوسرے اکابر نے اس کی بڑی تحسین فرمائی۔ یہاں تک کہ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے بَصِلۂ حُسن ِ تقریر پر اپنے تفسیری رسائل کا ایک سیٹ اپنے دستخط سے مزین فرما کر مجھے بطور انعام عنایت فرمایا۔ اس کے بعد مجھے دور دور سے جلسوں کی شرکت کے لیے دعوت نامے ملنے لگے۔ اور میں کبھی کبھی جلسوں میں شریک بھی ہونے لگا۔ لیکن میں نے یہ’لَے‘بڑھنے نہیں دی، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے استاذ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ زیادہ تقریریں کرنے کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ تو انھو ں نے مجھ سے یہاں تک فرمایا کہ زیادہ تقریریں کرنے سے آدمی کا دل سیاہ ہو جایا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس چیز کو وہ اس درجہ ناپسند فرماتے ہوں، اس کی طرف زیادہ راغب ہونا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔‘‘(46)
اس واقعے کو مولانا بہت زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں؟ اس کا اندازہ اس تفصیل سے ہوتا ہے جو انھوں نے زبانی روایت میں بیان کی :
’’ میری پہلی تقریر پر مولانا (فراہی) نے بطور خاص تبصرہ کیا۔ (جلسے کے بعد ) لوگ کھڑے ہوئے تبصرے کر رہے تھے تو مولانا ( فراہی ) نے کہا کہ اس طالب علم کی تقریر بھی بہت اچھی تھی۔ انھوں نے مولانا محمد علی کی تقریر کا ذکر نہیں کیا، سید سلیمان ندوی کی تقریر کا ذکر نہیں کیا، مولانا عبدالرحمان نگرامی، جو وقت کے عبقری تھے، کیا کہنے ان کی تقریر کے، اس تقریر کا بھی ذکر نہیں کیا۔ انھوں نے میری تقریر پسند کی۔ مولانا نگرامی نے آگے بڑھ کر کہا کہ مولانا، اس طالب علم کے پاس آپ کی کوئی یاد گار ہونی چاہیے۔ انھوں نے پوچھا : کیا؟ پھر کچھ سوچ کر اپنے تفسیری مجموعے جو کہ عربی میں تھا،اس کا سیٹ عنایت کیا اور اس پر میرا نام لکھا اور دستخط کیے۔ ‘‘
جیسا کہ مولانا نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ انھوں نے استاد کی تَنْبِیہ پر زیادہ تقریریں نہیں کیں، لیکن امام فراہی کو ان کی اتنی تقریریں بھی زیادہ لگیں۔ چنانچہ کسی اور موقع پر امین احسن کی کی گئی تقریر کی انھوں نے جہاں تحسین کی، وہاں یہ بھی فرمادیا : ’’ہاں بھئی، یہ بڑے ابو الکلام آزاد ہیں۔ ‘‘
اس جملے کو امین احسن نے کن معنوں میں لیا، اس کی روایت استاد محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی نے ان الفاظ میں کی :
’’ انھوں نے لفظ ’آزاد‘ اس طرح ادا کیا کہ ان کی یہ تعریف میرے لیے تعریف کم اور تنبیہ زیادہ ہو گئی۔ میرے استاد کی تربیت کا یہی انداز تھا۔‘‘ (اشراق جنوری /فروری 1998، 15)
یہاں اس امر کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوگا کہ امین احسن نے یہ تقریریں کس موضوع پر کی تھیں ؟
مولانا نے خود تو اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی، لیکن یہ یقینی بات ہے کہ انھوں نے یہ تقریریں تحریک خلافت ( 1919-1922)کے درمیان میں کسی وقت کی ہوں گی۔
تحریک خلافت برصغیر کی سب سے مقبول اور ہندو مسلم اتحاد میں چلنے والی سب سے بڑی تحریک تھی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب جنگ عظیم اوّل (1914-1918) میں جرمنی کی اتحادی فوجوں کو برطانوی اتحاد نے شکست دے دی ۔ جرمنی کا سب سے طاقت ور اور بڑا اتحادی ترکی تھا۔ یہ ترکی اس وقت خلافت عثمانیہ Ottoman Empire (1517-1924)کہلاتا تھا اور اس میں تین براعظموں کے علاقے شامل رہے تھے اور اس وقت بھی جنوب مشرقی یورپ ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا زیادہ تر حصہ شامل تھا۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق تقریباً 47 ممالک اس میں شامل رہے۔ یہ مسلمانوں کی سیاسی سطوت کی علامت تھی ۔ یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے خلافت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، یہ اسی کا تسلسل سمجھا جاتا تھا اور مسلمانوں کو اس سے بڑی مذہبی وابستگی تھی۔ جب اس جنگ میں ترکی کو شکست ہو گئی تو برصغیر کے مسلمانوں کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کیا خلافت کا یہ تسلسل ختم ہو جائے گا؟ اور اس کے زیر تسلط عرب اور بالخصوص مکہ و مدینہ کا مستقبل کیا ہوگا؟ چنانچہ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے تئیں خلافت کے ادارے کو بچانے اور حجاز کے علاقے کو محفوظ کرنے کے لیے اس تحریک کا آغاز کیا۔ اب ہندستان میں تو انگریزوں یعنی برطانیہ کی حکومت تھی۔ اس لیے یہاں کے مسلمانوں نے اپنی حکومت ہند سے یہ مطالبہ کر دیا کہ اتحادی خلافت کے خاتمے اور حجاز پر قبضہ کرنے سے باز رہیں۔
اس وقت ساری مسلم قیادت اس تحریک کے ساتھ تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد، شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مفتی کفایت اللہ، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا احمد حسین مدنی، مولانا محمد سجاد بہاری، مولانا عبدالباری فرنگی محلی،مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا سلامت اللہ فرنگی محلی، مولانا عبدالماجد بدایونی، مولانا سید محمد ناصر الہٰ بادی، مولانا سید داؤد غزنوی،مولانا آزاد سبحانی، مولانا عبد الرحمان لدھیانوی، ڈاکٹر مختار انصاری، مولانا حسرت موہانی، مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، مسٹر مظہر الحق ، عطا اللہ شاہ بخاری اور ظفر علی خاں وغیرہ۔ یعنی مذہبی و سیاسی قیادت کے چند ناموں (مثلاً بانی پاکستان محمد علی جناح) کو چھوڑ کر سبھی لوگ۔ نہ صرف مسلمان، بلکہ مہاتما گاندھی سمیت تمام ہندو اور سکھ رہنما بھی پورے جوش و جذبے سے اس میں شامل تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ نمایاں مسلم قیادت کی گرفتاری کے بعد اس تحریک کی قیادت مہاتما گاندھی نے کی ۔
یہ تحریک اس وقت ختم ہوگئی جب 1922 ء میں خود ترکوں نے مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں خلافت کا خاتمہ کر دیا اور ہندستان میں چوری چورا کے حادثے میں متعدد ہلاکتوں کے بعد گاندھی نے بھی با ضابطہ طور پر تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی معلوم ہے کہ دبستان شبلی کے سارے بزرگ تحریک خلافت کے پر زور حامی تھے۔ اس کی تصدیق مولانا محمد علی جوہر کی اس جلسے میں آمد سے بھی ہوتی ہے جس میں امین احسن نے پہلی تقریر کی تھی ۔ اس لیے درایتا ًیہی معلوم ہوتا ہے کہ امین احسن اسی موضوع پر تقریر کرتے ہوں گے ۔ چنانچہ ہم بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ امین احسن کی یہ تقریریں ترکوں اور خلافت کی حمایت میں ہوں گی۔
مدرسۃ الاصلاح کا ماحول
تعلیمی ماحول کے بعد ضروری ہے کہ ہم مدرسۃ الاصلاح کی بودو باش کی بھی ایک تصویر پیش کریں۔ اس سے معلوم ہو گا کہ مدرسے کا ماحول کیا تھا۔ اس نے مولانا کی کیا معاشرتی تربیت کی؟
یاد رہے کہ مدرسۃ الاصلاح ایک اقامتی مدرسہ تھا۔ مدرسے کا ایک یونیفارم تھا اور ایک ہی طرح کا سب کا کھا نا پینا اور بودو باش تھی۔ اساتذہ بھی وہیں رہایش پذیر ہوتے تھے۔ کھانے پینے کی بات کی جائے تو یہ اس وقت کے عام آدمی کی طرح کا تھا۔ مدرسے کے ایک طالب علم اور امام فراہی کے سوانح نگار ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی، جو خود بھی مدرسۃ الاصلاح ہی کے فارغ التحصیل ہیں، لکھتے ہیں :
’’غذا کی سادگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ شروع کے تیس چالیس سال فی کس خوراک تین سے چار روپے ماہانہ رہی۔ 1979 ء میں کھانے کا خرچ ساٹھ روپے فی کس ماہوار تھا۔کھانے کا معیار ہمیشہ ایک رہا۔بقول مولانا امین احسن اصلاحی، دال روٹی غریبوں کا کھانا ہے۔ یہی دال روٹی یہاں کے طلبہ کی اصل خوراک ہے۔اس فرق کے ساتھ کہ ہفتے میں دو بار چٹنی کی جگہ گوشت سے منہ کا مزا بدل لیتے ہیں۔‘‘
’’قمیض یا کرتے کے ساتھ پاجامہ ہر موسم کا لباس ہے۔کھپریل کے مکانوں میں رہتے ہیں،اپنے کمروں کی صفائی خود کرتے ہیں،کپڑے اپنے ہاتھ سے دھوتے ہیں، لیکن استری کیے بغیر نہیں پہنتے اور استری بھی اپنے ہاتھ سے کرتے ہیں۔مشہور صحافی اور مصنف نصراللہ خان عزیز نے ایک بار مدرسے کو دیکھا تو انھوں نے طلبہ میں صفائی کی کمی کی شکایت کی۔مجھے ان کی یہ نکتہ چینی پڑھ کر حیرت ہوئی۔سادگی کے ساتھ صفائی مدرسے کے طلبہ کا ایک نمایاں وصفِ امتیازی ہے۔نصراللہ خان عزیز میرے زمانۂ طالب علمی میں گئے تھے اور میں اس وقت کے حالات کا عینی شاہد اور شریکِ واقعہ ہوں۔انھوں نے شاید یہ خیال نہ رکھا ہو کہ یہ ایک غریب ضلع کے دیہات سے آئے ہوئے طالب علم ہیں جو ایک دینی مدرسے میں پڑھتے ہیں…‘‘
’’ نصراللہ خان عزیز کی اس راے کی تردید انھی کے رفیقِ سفر مولانا مسعود عالم ندوی کے اظہار سے ہو جاتی ہے جس میں انھوں نے مدرسے کے طلبہ میں صفائی پسندی کا ذکر کیا ہے۔میں یہاں ان کے الفاظ نقل کرتا ہوں:
’’سادگی اور ستھرا پن کے متعلق سنا کرتے تھے۔ حرف بحرف صحیح پایا۔‘‘
’’دونوں ساتھ مدرسے گئے اور ایک ہی تاریخ میں اپنی راے لکھی ہے۔ ‘‘
لباس کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
’’سر پر کپڑے کی ٹوپی اور پاؤں میں آج کل کے ہوائی چپل اور میرے زمانے میں کھٹ پٹی پہنتے تھے۔کھٹ پٹی کا رواج ختم ہو گیا۔یہ لکڑی اور موٹے نواڑ کی پٹی کا مرکب آج کل کے ہوائی چپل کا سستا بدل تھی۔یہ کھڑاؤں سے مختلف تھی۔نصراللہ خان عزیز جب مدرسے گئے تو نماز میں ایک جگہ اکٹھی سینکڑوں کھٹ پٹیاں دیکھ کر کچھ متعجب ہوئے۔ان کے ذہن میں یہ الجھن پیدا ہوئی کہ رات میں نمازوں میں تاریکی کے اندر ایک جیسی کھٹ پٹیوں میں لڑکے اپنی کھٹ پٹی کس طرح پہچانتے ہیں ؟ غالباً انھوں نے کسی سے اس کا اظہار بھی کیا اور اس نے وضاحت بھی کی، جس پر خان صاحب کی رگِ ظرافت پھڑکی اور انھوں نے مزاحاً کہا کہ یہاں کے لڑکوں کے پاؤں میں عقل ہوتی ہے؟ اس پر مولانا اصلاحی نے کہا نہیں، بلکہ ان کے پاؤں میں ’بھی‘ عقل ہوتی ہے۔‘‘ (ذکر فراہی403-404)
عام طور پر دینی مدرسوں میں سونے کے لیے زمینی بسترہی کا رواج ہے۔ اور مدرسۃ الاصلاح کے دور میں شاید ہی کسی ایسے دینی مدرسے کی نشان دہی کی جاسکتی ہو جہاں پر طلبہ کو چارپائی پر سونے کی سہولت دستیاب ہو۔ البتہ مدرسۃ الاصلاح میں اساتذہ اور طلبہ، دونوں کے لیے چارپائیوں کا انتظام ہو تا تھا۔ اگرچہ علامہ شبلی نعمانی اسی بات کو پسند کرتے تھے کہ طلبہ زمین پر سوئیں، لیکن ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی بیان کرتے ہیں کہ مدرسۃ الاصلاح میں طلبہ زمین کے بجاے چارپائیوں پر سوتے تھے۔(ذکر فراہی404)
ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی(1934-2011)سے میری ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ مولانا اصلاحی سے ملنے لاہور آئے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ بہت سادہ لباس میں تھے۔ صاف نظر آرہا تھا کہ مدرسۃ الاصلاح میں سیکھی گئی سادگی ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے۔اور بودو باش میں یہی سادگی ہمیں مولانا امین احسن میں بھی نظر آتی تھی۔ اس موضوع پر حالات زندگی مکمل کرنے کے بعد ہم علیحدہ سے ایک باب قائم کریں گے۔