مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(6)

]صاحب تدبر قرآن کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

مولانا امین احسن اصلاحی 1925ء میں دوبارہ مدرسۃ الاصلاح سے وابستہ ہوگئے۔ اب وہ مدرسے کے طلبہ کے استاذ تھے اور اپنے جید استاذامام حمیدالدین فراہی کے شاگرد خاص۔ وہ اپنی مادر علمی سے 1944 ءتک وابستہ رہے۔ اس وابستگی کو ہم دو ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں :

اول : امام فراہی کی زندگی تک کا دور،جو 11 نومبر 1930 ءتک ہے۔ اس دن ان کے استاذ کا سانحۂ ارتحال ہوا تھا۔

دوم : 1944ء تک، مدرسہ سے وابستگی کا دور۔ دائرۂ حمیدیہ کے تحت ماہنامہ الاصلاح کا اجرا اور امام فراہی کی تصانیف کا اردو ترجمہ۔ اس دوران میں وہ اس جریدے کے ایڈیٹر بھی رہے اور صدر مدرسہ بھی۔

امام فراہی سے براہِ راست تلمذ

مولانا امین احسن نے ہمیں بتایا کہ اصل میں امام فراہی کا پروگرام یہ تھا کہ وہ اپنے گاؤ ں پھریہہ میں مجھے بطور خاص قرآن کی تدریس کریں گے۔ اور اس مقصد کے لیے انھوں نے مجھے اپنی رہایش گاہ پر قیام کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس رہایش گاہ کے بارے میں ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی بیان کرتے ہیں کہ امین احسن کو اُس شان دار بنگلے میں قیام کے لیے کہا گیا تھا جو امام فراہی نے اپنے رہایش گاہ کے قریب بطور خاص تحقیق و مطالعے کے لیے بنوایا تھا۔ اس بنگلے کا نقشہ انھوں نے خود بنایا تھا۔

جب اس کی خبر مدرسہ میں دوسرے اساتذہ اور سینئر شاگردوں تک پہنچی تو انھیں شدید احساس محرومی ہوا۔ وہ ایک وفد بن کر امام فراہی کے پاس آئے۔ اس وفد میں استاذمولوی سعید احمد اور استاذ اختر احسن اصلاحی بھی شامل تھے۔ پہلے تو امام فراہی نے آمادگی ظاہر نہ کی، مگر جب ان کا اصرار بڑھا تو وہ رضامند ہو گئے۔ متعدد واقعات میں سے یہ واقعہ بھی امام فراہی کی امین احسن کے بارے میں شان دار توقعات کا مظہر ہے۔

اس طرح مدرسے میں یہ خصوصی درس شروع ہو گیا، لیکن امین احسن کو ان کے استاد نے ایک خصوصی مہم پر ’ملایا‘ ( موجودہ ملائیشیا) میں بھیج دیا۔ یہ مدرسے کے لیے مالی وسائل اکٹھا کرنے کے لیے ایک سفر تھا۔ امین احسن کو اس سفر کے لیے بطور خا ص منتخب کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی جب وہ ’’مدینہ‘‘ اخبار میں کام کرتے تھے تو اس وقت امام فراہی نے انھیں اپنے ساتھ ’برما‘ لے جانے کے لیے بطور خاص بلایا ۔ اس کا تذکرہ ہو چکا ہے کہ کیسے خواہش کے باوجود امین احسن استاذ کے ساتھ نہ جا سکے۔ اب جب دوبارہ اسی قسم کے دورے کی ضرورت پڑی تو امام فراہی کو ان سے زیادہ قابل اعتماد شاگرد نہ ملا اور انھوں نے امین احسن ہی کو اس سفر کا ’امین ‘ بنانا زیادہ مناسب خیال کیا۔ اس انتخاب کی متعدد وجوہات میں یہ بات یقیناً ہو سکتی ہے کہ وہ بہت اچھی تقریر کر سکتے تھے اور ابلاغ کا بھی خصوصی ملکہ رکھتے تھے۔ گویا :

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

اس وفد میں امین احسن کے ساتھ ان کے دوسرے استاد شبلی متکلم اور عبدالاحد صاحب اصلاحی بھی تھے۔ یہ دورہ چھے ماہ تک طویل ہوا۔ گمان غالب ہے کہ اصلاً یہ دورہ اس قدر طویل نہیں تھا۔ جب یہ زیادہ طویل ہوا تو امین احسن کے دوست اور رفیق کار اختر احسن نے انھیں خط لکھا اور اس میں خیریت دریافت کی۔ اس کے جواب میں امین احسن نے لکھا:

’’ سمندر کی سر جوشی کے ایام بہار ہیں،آج کل سفر ممکن نہیں۔ ‘‘

یہ سفر چونکہ سمندر کے راستے ہونا تھا، اس لیے امین احسن نے واضح کیا کہ سمندری طوفان کی وجہ سے فی الحال سفر ممکن نہیں۔ لیکن اس ادبی جملے پر امام فراہی اَش اَش کر اٹھے اور فرمایا :

’’امین میاں توادیب ہیں۔‘‘

ادھر اس قدر طویل مدت تک درس قرآن کی تدریس ملتوی کرنا مناسب نہ تھا۔ ویسے بھی استاد کو اپنے ذہین و فطین اور لائق شاگرد پر مکمل اعتماد تھا کہ وہ اس کمی کو باآسانی پورا کر لیں گے۔ جو طالب علم اردو پڑھے بغیر اس کا اعلیٰ ادیب ثابت ہو گیا تھا اور جو تین برس دیر سے تعلیم شروع کرکے بھی سب سے آگے نکل گیا تھا، اس کے بارے میں ان کی توقع کیسے غلط ہو سکتی تھی !

واپسی پر امین احسن نے دیکھا کہ درس شروع ہو چکا ہے۔

پہلے والوں پر سبقت لے جانے والا

اعظم گڑھ کے ایک قریبی گاؤں ہی میں اگر چہ امین احسن کا سسرال تھا، لیکن راج پوتوں کی روایت کے مطابق ان کا وہاں قیام مناسب نہیں تھا۔ اسی لیے انھوں نے مدرسے ہی میں قیام کا فیصلہ کیا۔ ان کا کمرہ استاذ کے کمرے سے جنوب کی طرف تھا۔ اس کمرے کا انتخاب امام فراہی نے بطور خاص کیا تھا۔ قرائن سے واضح ہے کہ یہ حکم اس لیے تھا کہ امین احسن زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں۔

ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی، مولانا اصلاحی کے بارے میں بعض وجوہات کی بنا پر خاص رویہ رکھتے تھے اور انھوں نے ’’ ذکر فراہی ‘‘ میں بعض مقامات پر اپنے غیر حقیقی تاثرات شامل کرکے خواہ مخواہ کی کج بحثیاں کی ہیں ۔ اس کی تفصیل یقیناً کوئی خوش گوار عمل نہیں، مگر ضروری ہوا تو اس پر بھی قلم اٹھایا جا سکتاہے۔ امین احسن نے اس درس میں دیر سے شامل ہونے کے باوجود جس دل جمعی کا مظاہرہ کیا ، وہ ایک شائع ذائع امر ہے، لیکن وہ ا س کا ذکر کرتے ہوئے اپنی افتاد طبع کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں اور اسے روایت بالمعنٰی قرار دیتے ہوئے یہ لکھنے پر بھی مجبور ہیں کہ :

’’باوجودیکہ وہ درس میں بعد میں شریک ہوئے مگر اپنی ذہانت،محنت، طبعی مناسبت اور دل چسپی کی وجہ سے بہت جلد وہ سب کو پیچھے چھوڑ گئے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر مولانا فراہی اکثر حضرت مسیح کا یہ قول دہراتے تھے کہ کتنے ہی بعد میں آنے والے ایسے ہیں جو پہلے آنے والوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ ‘‘ ( ذکر فراہی 510)

شب وروز کے مشاغل

استاذامین احسن مدرسہ میں عر بی ادب اور تفسیر قرآن کے مضامین پڑھاتے تھے۔ وہ اس زمانے میں اپنے شب وروز کے معمولات کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میرے معمولا ت با لکل متعین تھے اور میں ہر قیمت پر ان کی پیر وی کرتا۔ صبح تین بجے بیدار ہو تا، نما ز تہجد سے فارغ ہو کر پڑھنے میں مشغول ہو جا تا۔ مدرسہ میں روزانہ تین سے چار گھنٹے کی تدریس کی مصروفیت رہتی۔ ظہر کی نما ز کے بعد کچھ دیر کے لیے مو لا نا فراہی کے کمرے میں جا تا اور قرآن کے مختلف مقا ما ت کے بارے میں ان سے سوالا ت کر تا۔ مو لا نا شبلی نعما نی کے بھائی اسحاق نعما نی کے بیٹے فاروق نعمانی سے میر ی بڑی دوستی تھی۔ ان کے ساتھ شا م کے وقت فٹ بال اور والی بال کھیلنے جا تا۔ جس دن کھیل کا موقع نہ ملتا، اس دن گھنٹا بھر عصر کے بعد سیر ضرور کرتا۔ رات کو پا بند ی سے نو بجے سو جاتا۔ اس کے علا وہ دن میں نہ سوتا۔

امین احسن بہت سنجیدہ قسم کے طالب علم تھے۔ دوست احباب کے ساتھ مل کر گپ شپ کرنے کی انھیں کوئی عادت نہ تھی۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ میں ملنے ملا نے میں بہت بخیل تھا۔کسی نے ایک دن آکرامام فراہی سے شکا یت کی تو انھوں نے فرمایا:

’’یہ اپنے سے مشغول رہنے والے آدمی ہیں۔‘‘( مولانا کی زبانی روایت )

استاد کی خدمت

امین احسن نے امام فراہی سے بھر پور علمی فیض حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمت کو بھی اپنے لیے سعادت سمجھا۔ ٍ امام فراہی کے کمرے میں جب موقع ملتا خود جھاڑ پونچھ کا کام کرتے۔ مولانا بیان کرتے ہیں کہ مولوی اختر احسن کی بھی کوشش ہوتی کہ وہ بھی یہ خدمت کریں۔ اس لیے دونوں ہی اس سعادت کو حاصل کرنے کی سعی کرتے۔ ادھر امام فراہی اسے بالکل بھی پسند نہیں کرتے تھے ۔ وہ تبصرہ کرتے کہ بھئی آپ تو خود خدمت کیے جانے کے قابل ہیں۔ اصل میں صفائی کے لیےباقاعدہ خدمت گار موجود تھا، لیکن یہ محض استاد سے تعلق خاطر اور محبت کا اظہار ہوتا۔

مولانا بتاتے ہیں کہ امام فراہی کی عادت تھی کہ وہ پنسل سے اپنے مسودات پر حواشی لکھتے۔ اس پنسل کو وہ خود تراشتے اور اس نفاست سے تراشتے کہ اس کا سکہ بہت باریک ہوتا۔ ہمیں بھی شوق ہوتا کہ ہم بھی اسی طرح تراشیں یا کم ازکم استاد کے لیے یہ خدمت سر انجام دیں۔ بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ کوشش کی تو سکہ ٹوٹ گیا۔

یہ قصہ سناتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ امام فراہی کی نفاست اور خوش ذوقی ان کی عمومی عادات سے بھی جھلکتی تھی۔ بتاتے کہ کسی شخص کے با سلیقہ ہونے کا سب سے بڑا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ آم کھا رہا ہو۔ اور امام فراہی جب آم کھاتے تو صرف تین انگلیوں سے سلیقے سے کھاتے کہ حیرت ہوتی کہ آم جیسا پھل بھی اس قدر نفاست سے کھایا جا سکتا ہے !

علمی امین

اس بات کا امین احسن کو بھی احساس تھا کہ ان کے استاد ان پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ میں ان کے مسودات کو یک جا کرکے متعلقہ عنوان کے تحت مرتب کرتا تھا۔ اور ایسا خاص انھی کے حکم سے تھا۔ اسی لیے جب میرے ہاتھ میں رعشہ کی وجہ سے خفیف سی لرزش آئی تو اس سے خط متاثر ہوا۔ میں نے اپنی ہی نگرانی میں یہ کام کسی اور سے لینا شروع کیا۔ اب جب استاد امام نے نظر ثانی کے لیے یہ مرتب شدہ مسودہ دیکھا تو کسی اور کا خط دیکھ کر پہچان گئے۔ فرمایا: مجھے تمھارا خط بہت پسند تھا، کسی اور سے یہ کام کیوں کرایا؟ تب انھوں نے اس کی وجہ بتائی تو وہ مطمئن ہوئے۔ ظاہر ہے کہ یہ سوال محض رسم الخط کی خوب صورتی کی وجہ سے نہ تھا۔ معاملہ یقیناً اس امانت و دیانت اور اہلیت و ذکاوت کا تھا جس میں امین احسن کا ان کے نزدیک کوئی مقابلہ نہ تھا۔یاد رہے کہ بعد میں مولانا کا ہاتھ رعشہ کی وجہ سے بہت زیادہ کانپنے لگا اور وہ لکھنے سے بالکل معذور ہو گئے تھے۔ اس سلسلے میں بعض دل چسپ واقعات کا ذکر بعد میں ہو گا۔ ( ان شاءاللہ )

تلمذ کی وسعت

سوال یہ ہے کہ امین احسن نے اپنے استاد سے کس حد تک اکتساب کیا؟ خود مولانا اس حوالے سے تحریر فرماتے ہیں :

’’میں پورے چھ سال ان کی صحبت میں شب و روز رہا۔ اس چھ سال کی صحبت میں شاید ہی کوئی صبح و شام ایسی گزری ہو جس میں مجھے علمی ، مذہبی، ادبی اور سیاسی مسائل پر ان سے کھل کر بحث کرنے اور ان کے خیالات معلوم کرنے اور اپنے شبہات ان کے سامنے پیش کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔‘‘ ( مجموعہ تفسیر فراہی 31)

مولانا سے زبانی روایت ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی نے اس طرح بیان کی ہے :

’’یہ اللہ کا ایک انعام تھا کہ انھوں نے خود مجھے دعوت دی کہ میں ان سے قرآن پڑھوں۔ پانچ سال پورے ان کے ساتھ گزارے۔ اس کے بعد ان کی وفات ہوئی تو مجھ پر قرآن کے فہم کی راہ کھل چکی تھی۔ اس کے بعد سے قرآن ہی میری دل چسپی کا مرکز و محور رہا۔ ساتھ ہی ادب عربی اور فلسفے کے وہ مباحث بھی پڑھے جن کا تعلق قران مجید سے ہے۔ الحمدللّٰہ سے لے کر والناس تک پوراقرآن پڑھا۔میری ہی وجہ سے مدرسے میں انھوں نے درس شروع کیا۔‘‘

(ذکر فراہی 570)

ان دو بیانات میں استفادے کی مدت میں ایک برس کا فرق ہے۔ لگتا ہے کہ ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی یہ خیال کرتے ہیں کہ مولانا نے چھ ماہ ملایا ( ملائیشیا) میں بسر کیے تھے، اس لیے یہ پورے چھ برس نہیں بنتے ۔ چنانچہ انھوں نے اس مدت میں خود ہی ایک برس کی کمی کر دی۔ جب کہ 1925ء اور 1930 ءکے دونوں برسوں کو شمار کر یں تو اتنے ہی برس بنتے ہیں۔ مولانا نے اسی لیے اسے چھ برس لکھا۔ ویسے بھی اعلیٰ نسبت میں کمی کرنا بے ادبی اور بد ذوقی ہے، اس لیے مولانا نے پونے چھ یا ساڑھے پانچ کے بجائے پورے چھ برس بیان کیا۔

مولانا کا یہ بیان کہ انھوں نے ہر موضوع پر اپنے استاد سے تبادلۂ خیال کیا، بہت واضح ہے۔ لیکن اسے ایک واقعے کی مثال سے سمجھا جائے تو صورت حال مجسم ہو جاتی ہے:

مولانا بتاتے ہیں: عربی کا ایک قصیدہ پڑھ رہا تھا۔ ایک جگہ ’لا‘سمجھ میں نہیں آیا۔ سب شارحین کو دیکھا، ادیب الہند مولوی فیض الحسن سہارن پوری کی شرح بھی دیکھی، لیکن کسی راے پر اطمینان نہیں ہوا۔ کتاب لے کر امام فراہی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اپنے دارالمطالعہ کے باہر کھڑے تھے۔ میں نے مشکل بیان کی، لمحے بھر کو رکے، جیب سے پنسل نکالی اور میری کتاب پر لکھا:

’’’لَا ھِیَ نَادِرَۃ‘۔ میاں، جس طرح تم لوگ نہیں کہتے کہ جس گھڑی میری موت ’’نہ ‘‘آ جائے، یہ اِسی طرح کا ’لاَ‘ ہے۔ ‘‘

یہ روایت ہم نے استاذ محترم جاوید احمد صاحب غامدی کے الفاظ میں نقل کی ہے۔ ان کے بیان کا مطلب ہے کہ عربی کی کلاسیکی شاعری کے مجموعے کو پڑھتے ہوئے مولانا کو ایک شعر میں لفظ ’لا‘ کا درست مفہوم سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ وہ یہاں ’لا‘ کا وہی مفہوم سمجھ رہے تھے جو کہ اس کا عمومی طور پر ہوتا ہے یعنی ’’ نہیں ‘‘۔ لیکن امام فراہی نے انھیں سمجھایا کہ یہاں اس کا معنی ’’نفی ‘‘ میں نہیں، بلکہ یہ محض تفخیم شان کے لیے ہے۔

اردو میں ہم اس کی مثال غالب کے اس شعر سے سمجھ سکتے ہیں :

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ ِطُور کی

اس شعر میں ’’نہ ‘‘وہی ہے جس کی طرف امام فراہی نے اشارہ کیا۔

اس سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ :

امین احسن کو استاد سے سوال پوچھنے میں کوئی حجاب نہ تھا، علمی قسم کا اور نہ مقام و مرتبے کے دبدبے کا۔

بے تکلفی اور تعلق خاطر ملاحظہ کیجیے کہ خود شاگرد کی کتاب پر اس کی مشکل کا حل ثبت کر دیا۔

مثال ملاحظہ فرمائیں، اُسی ادبی اسلوب میں اورطالب علم کو اسی کی زبان میں دی کہ فہم گویا ’’قطعی الدلالہ‘‘ ہو گیا۔

اور یہ روایت بیان کرتے ہوئے مولانا نے یہ تبصرہ کیا :

’’زبان کے غوامض تک پہنچنے کا یہ انداز صرف استاد ہی کا حصہ تھا۔‘‘

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انھوں نے یہ واقعہ کئی مرتبہ سنایا اور بہت سے احباب کو سنایا۔ وہ جب یہ بیان کرتے تھے تو لگتا تھا کہ وہ استاذ کے پہلو میں کھڑے ہیں اور ان لمحات کو چشم تصور سے دیکھ رہے ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امین احسن کی علمی، ادبی اور اخلاقی تربیت کا معیار کتنا بلند ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :

’’اواخر عمر میں مرحوم (امام فراہی) کی سب سے بڑی کوشش یہ تھی کہ وہ چند مستعد طلبہ کو اپنے مذاق کے مطابق تیار کریں۔ چنانچہ کم از کم دو طالب علموں کی خاص طور پر انھوں نے ذہنی تربیت کی۔‘‘ (معارف : شمارہ جنوری 1998، مولانا ضیاء الدین اصلاحی )

ان دو شاگردوں سے مراد مولانا امین احسن اور مولانا اختر احسن ہیں۔ دوسری جگہ مولانا ضیاء الدین اصلاحی نے ’’معارف‘‘ کے اسی مضمون میں آگے جا کر واضح کر دیا ہے کہ:

’’ مولانا امین احسن اصلاحی کے فخر و امتیاز کے لیے یہی کافی ہے کہ انھیں مولانا فراہی کی جانشینی کا شرف حاصل ہوا۔ اور وہی ان کے سب سے ممتاز شاگرد کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ جس کا حق بھی انھوں نے خاطر خواہ طور پر ادا کیا۔ مولانا سید سلیمان ندوی کا بیان ہے کہ بعض مستعد طلبہ نے مولانا فراہی کے اس درس کا پورا فائدہ اٹھایا جن میں قابل ذکر مولوی امین احسن صاحب اصلاحی ہیں۔ ہماری آیندہ توقعات ان سے بہت کچھ وابستہ ہیں۔ ‘‘

سیاسیات اور فلسفے کی تعلیم

علوم دین اور عربی زبان ہی نہیں، امین احسن نے انگریزی زبان کی کچھ کتب اورسیاسیات کے مضامین بھی امام فراہی سے پڑھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے جرمن مصنف بلینچلی کی کتاب ’’تھیوری آف اسٹیٹ‘‘ سبقاً سبقاً پڑھی۔

یہ کتاب جرمن اسکالر Johann Kaspar Bluntschli (جون کیسپر بلینچلی ) کی تصنیف ہے جو پہلی دفعہ 1875 ءمیں جرمن زبان میں اور پھر 1895 ءمیں انگریزی زبان میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئی۔ اس میں ریاست کے تصور اور اس کے عہد بعہد ارتقا پر عالمانہ بحث کی گئی ہے۔ قریباً پانچ سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کو لفظ بلفظ پڑھنے کا مطلب یہی ہے کہ اس میں موجود مضامین کے فہم کے ساتھ ساتھ اس کی زبان کو بھی زیر بحث لا یا گیا ہوگا۔ مولانا اصلاحی بتا تے ہیں کہ اس کتاب کی تدریس سے انھیں اپنی کتاب ’’ اسلامی ریاست ‘‘لکھنے میں بڑی مدد ملی۔

فلسفے کے حوالے سے مولانا اصلاحی نے بتایا کہ انھوں نے متعدد کتب کے مباحث امام فراہی کی مدد سے پڑھے ۔ ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی کی گواہی ہے کہ:

’’ اسی زمانے میں اصلاحی صاحب نے قرآن مجید کے علاوہ عربی ادب اور فلسفے کی بعض وہ شاخیں بھی پڑھیں جن کا تعلق قرآن اور قرآن فہمی سے تھا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ استفادہ حلقۂ درس قرآن سے باہر الگ کیا ہو گا۔ ‘‘( صفحہ 510)

حدیث کا درس

معلوم ہوتا ہے کہ امین احسن نے قرآن مجید، فلسفہ اور علم سیاسیات کے علاوہ حدیث کی تفہیم میں بھی امام فراہی سے استفادہ کیا تھا۔ اس حوالے سے اپنا ایک قصہ انھوں نے کئی مرتبہ سنایا ۔ بتاتے تھے کہ جامع ترمذی کی عبارت پڑھتے ہوئے میں نے ایک جگہ پورے اعتماد سے ’عَرَفَ‘کو ’ر‘کی زیر کے ساتھ پڑھا۔ استاد امام نے ٹوکا:

’أنا لا أعْرِفُ عرِف‘ ( یعنی میں اِسے ’ر‘ کی زیر کے ساتھ نہیں جانتا)۔

امین احسن نے اصرار کیا اور اِسی اعتماد کے ساتھ جواب دیا: ’أما أنا فَلَا أعْرِفُ عرَف‘(اور میں اِسے ’ر‘کی زبر کے ساتھ نہیں جانتا)۔

امام فراہی نے فرمایا: ’رَاجِع اللُغَۃ‘ (لغت دیکھیے)۔

لغت کی کتاب، جوہری کی ’’صحاح‘‘ کھولی تو استاد ہی کی بات لکھی ہوئی تھی۔ میں کچھ ہلکا پڑا تو مسکرائے، اور فرمایا: ’استَأنِف، ولِلْجَوادِ زِلَّۃ‘ (آگے چلو، اصیل گھوڑا بھی پھسل جاتا ہے)۔

یقیناً استفادے کی یہ نوعیت وہ نہیں رہی تھی جو قرآن کے ساتھ تھی۔ ہو سکتا ہے کہ بطور ریڈر ترمذی پڑھ رہے ہوں یا اس سے کوئی اقتباس دیکھنا ہو۔

مسئلۂ جبر و قدر کی الجھن

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہر اس طالب علم کو پیش آسکتا ہے جو اپنے سوال کو دبانے کے بجاے اس کا تسلی بخش جواب چاہتا ہے۔ مولانا بتاتے ہیں کہ ان کے ذہن میں بھی یہ الجھن پیدا ہوئی کہ جب اللہ تعالیٰ کو ہر انسان کےعمل کے مستقبل کا علم ہے تو اسے جواب دہ کیوں ٹھہرایا جا سکتا ہے ؟جب کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ ہے کہ وہ بدی اور جرم کرے گا۔ اب اللہ تعالیٰ کا علم تو ناقص نہیں ہو سکتا۔ وہ شخص لازمی طور پر یہ کام کرے گا۔ یوں وہ شخص اس فعل کا ذمہ دار کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے ؟

یہ سوال انھیں مدرسے کے زمانۂ طالب علمی میں پیش آیا یا امام فراہی کے زمانۂ تلمذ میں، یہ نہ ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی کی روایت سے واضح ہوتا ہے اور نہ ہم سے بیان کی گئی روایت سے۔ البتہ ڈاکٹر شرف الدین کے مطابق جب مولانا یہ بیان کرتے ہیں کہ میں استاذ امام کے کمرے میں جا کر ان کی چار پائی کی پائینتی میں بیٹھ گیا تو وہ سمجھ گئے کہ کوئی الجھن درپیش ہے، تو گمان غالب ہے کہ یہ ان کے دوسرے دور کا سوال ہے۔

مولانا بیان کرتے ہیں کہ استاذنے صرف یہی بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ ہوتا ہے کہ بندہ اس کام کو اپنے اختیار سے کرے گا، اسی لیے وہ جواب دہ ہو گا۔ مولانا بتاتے ہیں کہ یوں محض چند لفظوں یعنی ’’ اپنے اختیار سے‘‘ کہنے سے ان کا ذہن اس حوالے سے ہمیشہ کے لیے واضح ہو گیا۔

مولانا نے اس موقع پر اپنے استاذ کی یہ خوبی بھی بتائی کہ وہ اتنے حکیم تھے کہ مخاطب کی سطح پر آکر ٹھیک اس الجھن کو دور کرتے جو مخاطب کے ذہن میں ہوتی۔

الحاد کا مسئلہ

شاید یہی موقع تھا یا کوئی اور کہ ہم نے الحاد کے بارے میں ان سے پوچھا کہ کیا اس حوالے سے ان کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں کوئی الجھن کبھی پیش ہوئی ؟ فرمانے لگے کہ اس میں بھی میرا حال اپنے استاذ امام جیسا ہے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ بس زندگی میں ایک دفعہ اس پر سرسری سا شبہ ہوا۔جس لمحے میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا تومیں نےغور کیا: کیا یہ کائنات بے خدا ہو سکتی ہے؟ جواب ملا کہ اگر یہ دنیا پابند نہ ہوتی تو اس پر سوچا جا سکتا تھا۔ بس اس دلیل نے میرے لیے الحاد کو ناقابل غور امربنا دیا۔ اور مجھے بھی زندگی میں بس ایک لمحہ کے لیے اس سوال کا سامنا ہوا۔ اور عقل نے یہی جواب دیا کہ الحاد غیر عقلی چیز ہے۔ ایسے ہی کئی مواقع پر مولانا اپنا وہ شاہکار جملہ بولتے کہ یہ علت و معلول وجود باری تعالیٰ کے حوالے سے کوئی دلیل نہیں۔ یہ معلول تو کوئی’ بھتنا ‘بھی ہو سکتا ہے۔ مگر میں تو ایک حیُّ القیوم اور قادر ِ مطلق کو مانتا ہوں جس کی صفات کا تعارف خود اس نے ہمیں اپنی کتاب میں کرایا۔ اور جو ہمیں کائنات میں صاف نظر آتا ہے۔

استاد سے تعلق خاطر

اس باب میں ہم استاذ محترم جاوید احمد صاحب غامدی کا ایک اقتباس نقل کرنا ہی کافی سمجھتے ہیں:

’’بتاتے تھے: … فراہی کے آخری زمانے میں ہندوستان کے ایک بڑے عالم نے اُن کی کسی تحریر پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔ اِس سے پورے علاقے میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مدرستہ الاصلاح کے طلبہ اور اساتذہ، سب پریشان تھے۔ میرے لیے بھی یہ ایک بڑا سانحہ تھا۔ اِسی اضطراب اور پریشانی کے عالم میں فراہی کو ڈھونڈتا ہوا اُن کے دارالمطالعہ کی طرف بھاگا۔ میں نے دیکھا، استاذ امام سیڑھیوں پر کھڑے تھے۔ دوڑ کر وہیں اُنھیں بتایا۔ میں خود جس پریشانی میں تھا، اُن سے بھی اِسی کے لحاظ سے کسی رد عمل کی توقع کر رہا تھا ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے زینے پر رکے، پھر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے: اچھا، یہ جن کا تم ذکر کر رہے ہو، وہ تو مجھے نہیں جانتے۔ میں ہکا بکا اُنھیں دیکھتا کھڑا رہ گیا۔ اِس فتوے پر اِس سے زیادہ بلیغ کوئی تبصرہ شاید کبھی نہ ہو سکے۔ وہ بڑے والہانہ انداز میں کہتے: فراہی یہ تھے، اِس شان کا کوئی شخص اب تم کہاں سے پیدا کرو گے؟‘‘

(مقامات 83-84)

واضح رہے کہ مولانا فراہی پر کفر کے معروف فتوے دو دفعہ لگائے گئے۔ ایک خود ان کی زندگی میں اور دوسرا ان کی وفات کے بعد۔ اس فتوے کا تذکرہ اپنے مقام پر آئے گا۔

[باقی]

خیال و خامہ