(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(7)
]صاحب تدبر قرآن کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
مولانا امین احسن اصلاحی کی زندگی کے جس دور کا تعلق امام حمید الدین فراہی کے تلمذ سے ہے، اس میں سب سے زیادہ اہم واقعہ ان کے استاد محترم کے سانحۂ ارتحال کا ہے۔ انھوں نے 11 نومبر 1930کو متھرا میں وفات پائی۔
ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی نے اس موضوع پر بہت سی روایات کو جمع کردیا ہے۔ اس میں کئی روایات باہم متصادم ہیں اور سارا واقعہ بہت مبہم طریقے سے بیان ہوا ہے، جسے انھوں نے تسلیم بھی کیا ہے۔ ہم ان روایات اور مولانا اصلاحی کی ہم سے بیان کردہ یادداشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس واقعے کو اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
امام فراہی کے سانحۂ ارتحال پر مولانا اصلاحی کے تاثرات
امام فراہی کی عمومی صحت بہت اچھی تھی۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے تھے۔ اس لیے عام طور پر وہ معمولات زندگی میں بڑے ہشاش بشاش رہتے تھے، مگر ان کو دو عارضے لاحق ہو جاتے تھے۔ ایک سر درد اور دوسرا گردے میں پتھری کا بن جانا۔ سردرد کی شدت انھیں کام نہ کرنے دیتی اور گردے میں پتھری سے انھیں پیشاب کے رک جانے کی تکلیف ہوتی۔
گردے میں تکلیف کا سب سے پہلے اس وقت علم ہوا جب وہ حیدرآباد میں تھے۔ امام فراہی اپنی تکلیف پر بہت صبر کرنے والے تھے۔ حتی المقدور برداشت کرتے۔
لیکن نومبر 1930 کو ہونے والی تکلیف برداشت سے باہر تھی۔ وہ متھرا میں سرکاری اسپتال میں داخل ہو گئے۔ وہاں ان کے بھروسے کے معالج ڈاکٹر حفیظ اللہ سرجن تھے۔ وہ امام فراہی کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور ان سے ان کے ذاتی مراسم بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحب حافظ قرآن بھی تھے اور عمر میں امام فراہی سے خاصے چھوٹے تھے۔ وہ امام کی علمی عظمت اور بلندئ کردار کے بہت مداح تھے۔
امام فراہی کے لیے دعاے صحت اور شرابی کی پیشن گوئی
امام فراہی اپنے علاقے کے ایک معروف صاحب علم تھے اور پھر مدرسۃ الاصلاح کے صدر مدرس بھی۔ ان کے اسپتال میں داخلے کے بعد مدرسے میں روز عصر کے وقت دعا کی جاتی۔ لوگ کنکریوں پر آیت کریمہ لا الٰہ الاّ انت سبحانک پڑھتے اور پھر دعا کی جاتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عام لوگ بھی شریک ہو جاتے تھے۔ ایک مجذوب قسم کے شخص جن کا نام محسن تھا، وہ بھی اس دعا میں شریک ہوتے۔ انھیں شراب کی بھی لت تھی۔ عام طور پر لوگ ان سے نفرت اور حقارت کا سلوک کرتے، لیکن امام فراہی ان سے بہت شفقت فرماتے۔ ان کو اپنا دوست قرار دیتے اور ان سے گفتگو فرماتے اور ان کی محرومیوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ان سے ہم دردی کرتے اور اصلاح احوال کی بھی کوشش کرتے تھے۔ اس نے ترنگ میں آ کر ایک دفعہ کہا کہ آپ کی وفات کفرستان میں ہو گی۔
ان کی دوستی کی وجہ سے لوگوں نے اسے امام کی بیماری کی خبر دی۔ اور وہ بھی نہا دھو کر دعا کی محفل میں شریک ہو جاتا۔ امام فراہی کے انتقال کی خبر پہنچنے سے ایک دن پہلے وہ وہاں مجلس میں بیٹھا بیٹھا اٹھ گیا اور کنکریاں پھینک کر کہنے لگا کہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ تو اب اناروں کے باغ میں ٹہل رہے ہیں۔ اس کے بعد اگلے ہی دن امام کی وفات کی خبر آ گئی۔
عجیب خواب
امام فراہی کی وفات کے حوالے سے دو خواب خود امام فراہی سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلے خواب کی روایت ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی نے کی ہے۔ یہ ہم انھی کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
مولوی پرواز اصلاحی راوی ہیں کہ ان کے والد مولوی محمد شفیع صاحب نے ان سے بیان کیا کہ مولانا فراہی نے موت سے کچھ عرصہ قبل مولوی شفیع صاحب سے اپنا ایک خواب بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ شری کرشن جی مجھے ہار پیش کر رہے ہیں اور میں نے یہ ہار قبول کر لیا ہے۔ مولوی شفیع صاحب نے اس وقت تو اس خواب کی طرف کوئی توجہ نہ دی، مگر کچھ دنوں بعد جب مولانا علاج کے لیے متھرا گئے اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا تو مولوی شفیع صاحب نے لوگوں سے مولانا فراہی کے اس خواب کو نقل کیا۔
یاد رہے کہ متھرا ہندو روایت کے مطابق دیوتا شری کرشن جی کی جنم بھومی ہے اور وہاں ان کے تین بڑے مندر ہیں۔ شری کرشن ہندووں کے نزدیک رحم، محبت اور مغفرت کا خدائی اوتار ہیں۔ خواب کا مطلب یہ ہے کہ امام فراہی کا انتقال متھرا میں ہو گا۔ لیکن دل چسپ امر یہ ہے کہ اس خواب کے باوجود امام فراہی نے متھرا کے اسپتال میں داخل ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
امام فراہی نے اپنے انتقال کے عین کچھ دن قبل ایک اور خواب دیکھا۔ انھوں نے یہ خواب اپنے ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحب سے بیان کیا۔ بتایا کہ میں نے دیکھا کہ ملک الموت آئے ہیں۔ مجھ سے کہا کہ السلام علیکم۔ میں آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں۔ مولانا نے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ اس کے بعد وہ چلے گئے۔ انھوں نے ملک الموت کا حلیہ بیان کیا۔اسے سن کر ڈاکٹر صاحب بولے کہ یہ تو گویا میں ہی ہوں۔
یہ بھی بڑا حیرت انگیز خواب ہے۔ اسے دیکھنے اور ڈاکٹر حفیظ اللہ کے کہنے کے باوجود کہ ملک الموت کی شکل میں آپ نے مجھے ہی دیکھا تھا، انھوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ اس خواب کے بعد ہی کسی دن ان کا وہ آپریشن ہوا جو ناکام ہوا۔
میں نے اس موقع پر مولانا اصلاحی سے پوچھا تھا کہ امام فراہی نے حلیہ تو ڈاکٹر حفیظ اللہ کا دیکھا، لیکن اسے ملک الموت قرار دیا۔ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ مولانا نے جواب دیا کہ یہ تعارف تو انھوں نے خود اپنا کرا یا تھا۔
اسی موقع پر مولانا نے ہمارے سوالوں کے جواب میں سمجھایا کہ جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے ہیں کہ انھوں نے خواب میں حضور کو دیکھا تو وہ کچھ بھی یقینی نہیں ہوتا۔ صرف صحابۂ کرام جنھوں نے حضور کو پہلے سے دیکھ رکھا ہوتا ہے، اور جو حضور کو اچھی طرح پہچانتے ہیں، انھی کے کہنے پر یقین کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے حضور نے صحابہ کو فرمایا تھا کہ اگر تم نے مجھے خواب میں دیکھا تو یقیناً مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ اسی سے ہمیں متنبہ رہنا چاہیے کہ جس نے حضور کو نہیں دیکھا اور جو انھیں نہیں پہچانتا، اسے شیطان خواب میں کسی اور کی شکل میں دکھائی دے سکتا ہے کیونکہ وہ حضور کی شکل تو اختیار نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ یہ جھوٹ بولتا ہے کہ میں محمد رسول اللہ ہوں یا خواب دیکھنے والا خود ہی یہ فرض کر لیتا ہے کہ میں حضور کو دیکھ رہا ہوں ۔ اس لیے شیطان کے اس بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور صحابہ کے بعد حضور کو خواب میں دیکھنے کے دعوے محل نظر ہیں۔
ان خوابوں کے علاوہ کچھ خواب دوسرےلوگوں نے بھی دیکھے۔
امام فراہی کے دوسرے اہم ترین شاگر مولانا اختر احسن اصلاحی نے خواب میں دیکھا کہ ان کے کمرے میں خون ہی خون بکھرا ہوا ہے۔ انھوں نے یہ خواب متعدد لوگوں کو سنایا۔ اس خواب کے دیکھنے کے دوسرے دن امام فراہی کے انتقال کی خبر مدرسے پہنچ گئی۔
مولانا اصلاحی کی متھرا آمد
اس حوالے سے مولانا کی اپنی روایت ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی کے الفاظ میں یہ ہے :
’’آپریشن ہوا تو مجھے ڈاکٹر حفیظ اللہ صاحب کا تار ملا کہ میں متھرا پہنچوں۔ میں گیا۔ مولانا کی بیگم اور امام کے بیٹے عباد صاحب میرے ساتھ گئے۔ حاجی رشید صاحب( امام فراہی کے بھائی) پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ میں نے سامان برآمد ے میں رکھا ہی تھا کہ ڈاکٹر صاحب آئے اور کہا کہ تم کو مولانا بلا رہے ہیں۔ میں گیا تو دیکھا کہ مولانا فراہی کے چہرے پر کوئی خاص اثر نہیں تھا جو تشویش کا باعث ہوتا۔ آ نکھوں میں ویسے ہی سرخ ڈورے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئے،لیکن ڈاکٹر نے انھیں اٹھنے سے روکا نہیں۔ حالانکہ اس حالت میں اٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ بیٹھے بیٹھے مجھے سینے سے لگایا اور بڑی دیر تک سینے سے لگائے رکھا، پھر چھوڑ دیا۔ یہ عادت کے خلاف تھا۔ وہ چھوٹے بڑے، کسی سے معانقہ نہیں کرتے تھے اور اس سے پہلے کبھی میرے ساتھ اس طرح پیش نہیں آئے تھے۔ اس میں اچنبھے کی بات یہ تھی کہ میں اترا ہی تھا کہ کہا کہ امین آ گیا، اس کو بلائیے۔ جب کہ میرے پہنچنے کی اطلاع ان کو نہیں ملی تھی۔ وہ مجھے زیادہ تر امین میاں کہتے تھے۔ میرے اوپر اس وقت کچھ ایسی کیفیت طاری تھی کہ میں نے اس پر غور نہیں کیا، لیکن بعد میں اس کی توجیہ کر لی۔ اپنے ہی ذہن میں رکھا اور کسی کو بتایا نہیں کہ انھوں نے امین ان معنوں میں لیا کہ میرے فکر کا وارث آگیا۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میرا تاثر ہے کہ میں نے محسوس کیا کہ وہ آپ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں، اس لیے میں نے آپ کو تار دیا،لیکن انھوں نے بات کوئی نہیں کی۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے اشارہ کیا اور میں وہاں سے اٹھ آ یا۔ اس کے دوسرے دن ہی ان کا انتقال ہوا۔ تعجب ہوا کیونکہ ظاہری آثار سے اس کا گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ مولانا بس ایک دن کے مہمان ہیں۔‘‘( ذکر فراہی456-457)
اصل میں مولانا اصلاحی جب متھرا پہنچے تو اس وقت تاثر یہی تھا کہ آپریشن کامیاب ہوا ہے اور مولانا کی طبیعت بھی بظاہر اچھی معلوم ہوتی تھی۔
مولانا ابو اللیث کی روایت ہے کہ مولانا اصلاحی کو اگلے دن جب امام فراہی کی وفات کی خبر پہنچی تو وہ ان کے کمرے میں گئے۔ بستر خون سے لت پت تھا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ آپریشن کے ٹانکے نکل گئے ہیں اور خون بہت زیادہ بہ گیا ہے۔ اور یہی جان لیوا ثابت ہوا ہے۔ مولانا اصلاحی اس منظر کی تاب نہ لا سکے۔ شاید غصے میں آئے۔ کہنے لگے کہ میرا قضا و قدر پر ایمان نہ ہوتا تو میں ڈاکٹر حفیظ اللہ کو شوٹ کر دیتا۔ ان کا واضح خیال یہی تھا کہ آپریشن میں غلطی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر حفیظ اللہ کے ایک دوسرے بیان سے مولانا اصلاحی کے ان خدشات کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک سرجری تو گردے کی پتھری نکا لنے کے لیے کی تھی، مگر اس کے ساتھ ہی آنت کی بھی سرجری کر دی۔ اس طرح ایک ساتھ دو آپریشن ہونے سے معاملہ ہاتھ سے نکل گیا۔ اور آپریشن کے دوسرے دن ٹانکے کسی وجہ سے کھل گئے اور مولانا کی موت واقع ہو گئی۔
مولانا اصلاحی نے بیان کیا کہ لوگوں کا اصرار تھا کہ امام فراہی کی تدفین ان کے علاقے میں کی جائے، لیکن امام فراہی متعدد دفعہ بیان کر چکے تھے کہ جو جہاں فوت ہو، وہیں اسے دفنانا چاہیے۔ اسی لیے آخر کار متفق فیصلہ ہوا اور وہ متھرا ہی میں مدفون ہوئے۔