مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(8)

]صاحب تدبر قرآن کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

امام حمید الدین فراہی کی وفات کے بعد مدرسے کا نظم ان کے چھوٹے بھائی حاجی رشید الدین صاحب کے سپرد ہوا۔ 14 دسمبر 1930 کو یہ عہدہ اعزازی طور پران کے سپرد ہوا۔

علم حدیث کی تحصیل

استاد کی وفات کے بعد مدرستہ الاصلاح سے تعلق برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے قرآن مجید کے بعد حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی اول اول تحریک انھیں اپنے والد ماجد کے توجہ دلانے پر ہوئی تھی۔ لیکن درست بات یہ ہے کہ خود مولانا اس بات کا فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ قرآن مجید کے بعد اب حدیث کا علم کسی جید محدث سے حاصل کریں گے۔ تب انھوں نے والد محترم کے مشورے سے ایسا کیا۔ انھوں نےجامع ترمذی کے شارح مولانا محمد عبدالرحمان بن عبد الرحیم مبارک پوری کے سامنے زانوے تلمذ تہَ کیا۔ ( بحوالہ مبادی تدبر ِ حدیث)

مولانا عبدالرحمان مبارک پوری اپنے زمانے میں حدیث کی جید سند رکھتے تھے۔ وہ محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے شاگرد تھے۔ ان کا سلسلۂ سند مولانا اسحاق دہلوی اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے واسطے سے شاہ ولی اللہ تک پہنچتا ہے۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ کو مکہ میں ابو طاہر محمد بن ابراہیم نے اپنی سند سے حدیث روایت کرنے کی اجازت دی تھی۔

محدث دوراں مولانا مبارک پوری کو جب معلوم ہوا کہ ان سے شرف تلمذکے خواہش مند نوجوان مدرستہ الاصلاح کے فارغ التحصیل ہیں تو انھوں نے تبرکاً ایک روایت پڑھا کر انھیں اجازت دے دی کہ وہ حدیث کی سند بیان کر سکتے ہیں۔ لیکن نوجوان عالم نے عرض کی کہ وہ محض اجازت کے حصول کے لیے حاضر نہیں ہوا۔ وہ سبقاً سبقاً حدیث پڑھنا چاہتے ہیں۔ مولانا اصلاحی بتاتے ہیں کہ میں نے درخواست کی کہ چونکہ آپ جامع ترمذی میں اختصاص رکھتے ہیں، اس لیے یہی پڑھا دیں۔ چنانچہ محدث مبارک پوری نے پوری جامع ترمذی کا درس دیا۔ اور اصول میں شرح نخبۃ الفکر پڑھائی۔ اس کے ساتھ انھوں نے رجال کی تحقیق کا ہنر بھی سکھایا۔

واضح رہے کہ نخبۃ الفکر حافظ ابن حجر عسقلانی کی فن حدیث پر لکھی گئی کتاب ہے جو کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اور رجال سے مراد وہ راوی ہیں جن سے حدیث روایت ہوئی ہے۔

مولانا مبارک پوری نے علم حدیث کی تکمیل پر بہ طور سند جامع ترمذی کا ایک نسخہ اپنے دستخط ثبت کرکے نوجون امین احسن اصلاحی کو عطا کیا۔

مولانا بیان کرتے ہیں کہ اس تلمذ کے بعد میرے اندر یہ شوق پیدا ہوا کہ میں صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں سے کسی ایک کتاب کی شرح تمام صحاح کو سامنے رکھ کر لکھوں جس سے اعتماد کے ساتھ احادیث پر غور وفکر اور ان پر تحقیقی و تنقید کی راہ ہموار ہو۔ یہ اسی عزم و شوق کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے تدبر قرآن لکھنے کے بعد موطا امام مالک کا مکمل اور صحیح بخاری کے منتخب حصوں کا درس عمر کے آخری حصے میں دیا۔ اس کا تفصیلی ذکر آگے اپنے مقام پر آئے گا۔

زندگیاں بدلنے والے استاد

مولانا اصلاحی جس دور میں مدرستہ الاصلاح کے صدر مدرس تھے، یہ مدرسے کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں جن طلبہ نے مدرسے سے علم حاصل کیا، ان میں ممتاز عالم دین اور مصنف مولانا وحیدالدین خاں بھی شامل تھے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ مدرسے کی تعلیم نے ان کی زندگی بدلنے میں بہت بنیادی کردار ادا کیا۔ انھوں نے اپنے متعدد اساتذہ کا ذکر کیا ہے۔ ہم مولانا امین احسن کے ساتھ ان کی بعض یاد داشتوں کا ذکر کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مولانا امین احسن اصلاحی ان کے تفسیر کے استاد تھے اور صدر مدرس بھی تھے۔ ایک روز درس قرآن کے دوران سورۂ غاشیہ کی آیت 17 ’اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ‘ ( کیا وہ اونٹوں پر نگاہ نہیں کرتے، وہ کیسے بنائے گئے ؟ ) کا درس ہو رہا تھا۔

اس حوالے سے انھوں نے طلبہ سے سوال کیا کہ اونٹ کے سُم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوتے ہیں یعنی بیل کی مانند ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند؟

مولانا وحید الدین خان کہتے ہیں کہ اس وقت کلاس میں بیس طالب علم تھے، مگر کوئی بھی شخص نہیں جانتا تھا کہ اونٹ کے سُم پھٹے ہوتے ہیں یا نہیں۔ ہر ایک شاید یا غالبًا کر کے جواب دے رہا تھا۔

اس کے بعد استاد محترم نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سُم کی نوعیت کے بارے میں نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے عربی زبان کا ایک مقولہ سنایا کہ ’لا ادری نصف علم‘۔ یعنی نہ جاننے کا شعور آدھا علم ہے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سُم کے بارے میں بے خبر ہو تو اس معاملے میں تمھارے پاس آدھا علم موجود ہوتا کیونکہ اپنی لاعلمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لیے یہ معلوم کرو کہ اس کے سُم کیسے ہوتے ہیں۔

مولانا وحیدالدین خاں کہتے ہیں کہ مدرسے کا یہ واقعہ ان کے لیے اس قدر موثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملے میں اپنی ناواقفیت کو جانوں تاکہ میں اس کو واقفیت میں تبدیل کر سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتدا ہی سے مدرسے سے ملا تھا اور بعد میں میں نے اس موضوع پر مغربی مفسرین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً ’’سپرٹ آف انکوائری‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔اس کی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں نے سیب کو درخت سے گرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر اس معاملے میں وہ اپنے’ لا ادری‘ کو نہیں جانتے تھے۔اس لیے وہ اس کی حقیقت سے بے خبر رہے۔ نیوٹن پہلا شخص ہے جس نے اس معاملے میں اپنی شعوری عدم واقفیت( لا ادری) کو جانا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس معاملے میں وہ نہ جاننے سے جاننے کے مقام پر جا پہنچے۔ مولانا وحیدالدین اپنی سوانح عمری ’’ایام زندگی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ یہ ایک نہایت اہم سبق تھا جو مجھے مدرسے کی زندگی سے ملا۔(194)

اسی کتاب میں وہ آگے جا کر بیان کرتے ہیں کہ میں مکمل طور پر مدرسہ کی پیداوار ہوں۔ اگر کوئی شخص مجھ کو ایک کامیاب انسان سمجھتا ہے تو وہ جان لے کہ میری کامیابی تمام تر مدرسہ کی دین ہے۔ یہاں مجھے وہ شعور اور اقدار ملیں جو میرے لیے جدوجہد حیات میں ہر قدم پر رہنما بن گئیں۔( الرسالہ، ستمبر 2000، 61-60)

ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں :

’’میں جس زمانے میں مدرسہ میں پڑھتا تھا، وہاں باجماعت نماز کی نگرانی مدرسے کے ایک سینئر استاد مولانا اختر احسن اصلاحی مرحوم کرتے تھے۔ وہ صبح کو فجر کی اذان کے فوراً بعد ہاسٹل میں آکر طلبہ کو جگاتے تھے۔ اس وقت میں نوجوانی کی عمر میں تھا۔ میری نیند مشکل سے کھلتی تھی۔ چنانچہ مولانا مرحوم میرے بارے میں کہتے : یہ بہت سخت سوتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ مسجد کے وسیع اور کھلے صحن میں نماز کی صفیں کھڑی ہوئی تھیں۔ غالباً عشا کی نماز ہو رہی تھی۔ اچانک ایک سانپ مسجد کے اندر داخل ہوا۔ وہ صفوں سے گزرتا ہوا پیچھے کی طرف سے جارہا تھا۔ جہاں جوتے اتارے جاتے تھے۔ سانپ اگر چہ زیادہ بڑا نہ تھا، مگر سانپ تو سانپ ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ پوری جماعت میں بھگدڑ نہیں ہوئی۔ لوگ بدستور اپنی جگہ پر کھڑے رہے اور سانپ لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا باہر چلا گیا۔ اس واقعہ کی صورت میں میں نے گویا مشاہداتی تجربہ کیا کہ نماز آدمی کے اندر کتنا نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔‘‘

(اوراق حیات 194)

یہ خوبی کیسے پیدا ہوئی، اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :

’’ ایک مرتبہ صدر مدرس مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم نماز کے بعد مسجد میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ نماز میں آپ کو مل جل کر عمل کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کا تعلق صرف مسجد تک ہی نہیں ہے، مسجد کے باہر کی زندگی بھی آپ کو اسی نظم و اتحاد سے گزارنی ہے۔ وہ زبر دست مقرر تھے۔ تقریر کرتے ہوئے انھوں نے باب ’’تفاعل ‘‘ کے چند الفاط استعمال کیے۔ یہ باب اپنے اندر ’’مشارکت‘‘ کا مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً توافق، تشارک، تعامل وغیرہ۔ اس کے بعد انھوں خطیبانہ انداز میں کہا ؛

’’ باب تفاعل کے سارے صیغے گردان کر ڈالو۔ ‘‘

جو لوگ میرے مزاج سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میرے اندر حد درجہ نظم اور ڈسپلن ہے۔ ڈسپلن میری طبیعت ثانیہ بن گئی ہے۔ میرا یہ مزاج غالباً اس مسلسل تربیت کا نتیجہ ہے جو مدرسہ کے دور حیات میں مجھے حاصل ہوئی۔ ‘‘ (اوراق حیات 199 )

[باقی]

خیال و خامہ