(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(1)
]’’سیر و سوانح‘‘ کے زیرعنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین
کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[
]برادرم محمد احسن تہامی اور مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ ہم 1982ء سے 1984ء تک باقاعدگی سے اور 1985ء میں بھی موقع ملنے پر مولانا اصلاحی کے گھر علمی و فکری استفادے کے لیے حاضر ہوتےرہے۔یہ اصل میں سوال وجواب کی ایک مجلس ہوتی جس میں علمی سوالات کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر بھی ان کا فکری تجزیہ شامل ہوتا تھا۔ ثِقل سماعت کے باعث مولانا کو ہم سوالات لکھ کر دیتے جنھیں پڑھ کر وہ کلام فرماتے۔ مولانا اس وقت اپنی بیٹی محترمہ مریم انور کے گھر کینٹ میں رہایش پذیر تھے۔ ہم دونوں پیر اور کبھی منگل کو صبح دس بجے کے بعد ان کے گھر جاتے۔ مولانا کی طرف سے اس کی اجازت بلاشبہ ہمارے لیے بہت اعزاز کی بات تھی۔ انھی ملاقاتوں کے درمیان ہی کسی وقت ہمارے ذہنوں میں یہ بات آئی کہ اس نشست میں مولانا کی سوانح کے لیے بہت سے تاریخی حقائق مل سکتے ہیں ۔ پھر ایک ہفتے میں کسی وجہ سے نہ جا سکا تو احسن تہامی صاحب اکیلے چلےگئے ۔ تب مولانا نے میرے بارے میں فرمایا کہ’’ بلوچ صاحب چاہیں تو یہ کام کرسکتے ہیں ۔‘‘ برادرم احسن صاحب نے بتایا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔ اللہ کا شکر ہے کہ زندگی نے مہلت دی اور میں اپنا دیرینہ عزم پورا کرنے میں کامیاب ہو رہا ہوں۔ جی سی آئی ایل کا بہت شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اس کا موقع اور وسائل فراہم کیے ۔
مولانا کی سوانح میں مجھے ذاتی ملاقاتوں کے علاوہ ان ذرائع سے بھی معلومات حاصل ہوئیں:
1۔ مولانا کی زندگی میں ان سے خاص اس مقصد کے لیے سوالات کے جوابات کی آڈیو ریکارڈنگ کرائی گئی۔ یہ تمام آڈیو کیسٹس جناب عبید اللہ عابد (اُس وقت روزنامہ ”ایکسپریس“ میں معاون ایڈیٹر اور اِس وقت ”وی نیوز“ میں شفٹ انچارج) نے کاغذ پر منتقل کی تھیں۔
2۔ مولانا کے پوتے جناب ابو صہیب اصلاحی۔
3۔ استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی۔
4۔ مولانا کے شاگرد رشید جناب خالد مسعود کے صاحب زادے جناب حسان عارف۔
5۔ جناب محمد احسن تہامی۔
دیگر ذرائع جن کا تذکرہ بعد میں کیا جائے گا۔[
ابتدائی زندگی
پیدایش
صاحب تدبر قرآن،تلمیذ خاص امام حمید الدین فراہی’’ مولانا امین احسن اصلاحی‘‘ 1904ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی جاے پیدایش ضلع اعظم گڑھ کے قریب ایک گاؤں ”بمبور“ ہے، اس وقت یہ گاؤں اعظم گڑھ سے چار میل کے فاصلے پر تھا۔
اعظم گڑھ ہندستان کے صوبے اتر پردیش (UP) کا ایک مردم خیز علاقہ ہے۔ نامور اہل علم میں سے امام حمید الدین فراہی (1930-1802)، علامہ شبلی نعمانی (1914-1857)، سبط حسن (1986- 1916)، کیفی اعظمی (2002-1925)، اشتیاق احمد ظلی (حیات) کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔
اعظم گڑھ کی تاریخ
اعظم گڑھ کا قیام 1665ء میں عمل میں آیا۔ دریاے ٹونس کے کنارے اس علاقے کو ایک نومسلم جاگیر دار اعظم خاں نے قائم کیا۔
اعظم خاں کے مورث اعلیٰ کے بارے میں روایت ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر کے دور (1627-1605) میں ایک ہندو راجپوت آگرہ گیا۔ آگرہ اس وقت دارالسلطنت تھا۔ وہاں اس نے اسلام قبول کر کے جہانگیر کے دربار میں حاضری دی۔ جہانگیر نے قدر افزائی کی اور اسے ”دولت خاں“ کے خطاب سے نوازا۔ ساتھ ہی اسے 24 پرگنوں کی ریاست عطا کی۔ (ایک پرگنہ کم و بیش دس گاؤں پر مشتمل ہوتا تھا)یہ پرگنے زیادہ تر موجودہ اعظم گڑھ کے علاقوں پر مشتمل تھے۔ راجہ دولت خاں لا ولد فوت ہوئے۔ اس نے اپنے ہندو بھتیجے ”ہربنس“ کو ریاست کا ولی عہد مقرر کیا۔ ہربنس اپنے آبائی مذہب ہی پر رہا، لیکن آگے چل کر اسی خاندان کے ایک شخص ”بکر ماجیت“ نے اسلام قبول کر لیا۔ بکر ماجیت کے دو بیٹے تھے۔ ایک اعظم خاں اور دوسرا عظمت خاں۔ بڑے بیٹے نے اعظم گڑھ کے نام سے آبادی قائم کی اور عظمت خاں نے عظمت گڑھ کی بنیاد رکھی۔1
”گڑھ“ کے متعلق معلوم ہے کہ یہ ہندی لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے ”قلعہ“۔ یہ عموماً ایسی آبادی کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی فوجی چھاؤنی سے وجود میں آئی ہو۔ یوں اعظم خاں کی بنائی گئی جاگیر بتدریج ایک شہر کی شکل اختیار کر کے اعظم گڑھ بن گیا۔
امین احسن اصلاحی کی پیدایش کے وقت اعظم گڑھ کے دو واضح حصے تھے۔ ایک حصہ مسلم اعظم گڑھ اور اس کے مضافات پر مشتمل تھا اور دوسرا حصہ ہندوؤں سے آباد تھا جو کہ واضح اکثریت میں تھے۔ آبادی کی اکثریت راجپوت تھی۔ یہ برادری مذہب کی تبدیلی کے باوجود بڑے امن اور اتحاد کے ساتھ رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے ہاں جاتے، تقریبات میں شریک ہوتے اور سماجی سطح طور پر ”راجپوت“ برادری کی شناخت رکھتے تھے۔ مسلم آبادی کے اندر مقامی راجپوتوں کے علاوہ مہاجرین بھی شامل ہو چکے تھے جو کہ انصاری، شیخ، خان، مرزا اور مغل کہلاتے تھے۔2
امین احسن اصلاحی کا گاؤں ”بمبور“ زیادہ تر مسلم آبادی پر مشتمل تھا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گاؤں کے کچھ لوگ پڑھے لکھے اور باشعور اور اپنے زمانے کے حالات سے پوری آگہی رکھتے تھے۔ امین احسن اصلاحی بیان کرتے ہیں کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں گاؤں کے ایک شخص سرفراز خان نے بڑا فعال حصہ لیا۔ چنانچہ جنگ کے خاتمے کے بعد جب انگریزوں نے دارو گیر شروع کی تو سرفراز خان کا گھر جلا دیا گیا۔ گھر کے کھنڈرات کی یاد امین احسن کے حافظے میں ہمیشہ محفوظ رہی۔
خاندان
امین احسن کے دادا کا نام وزیر علی تھا۔ یہ نو مسلم راجپوت خاندان تھا۔ گاؤں کے صاحب حیثیت زمین دار تھے۔ ہندی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ گاؤں کے معززین میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ امین احسن کے والد ماجد کا نام حافظ محمد مرتضیٰ تھا۔ وہ قرآن مجید کے باقاعدہ حافظ تھے۔ حج کی سعادت بھی حاصل کر لی تھی۔ اگرچہ کسی مدرسے سے باقاعدہ پڑھے ہوئے نہیں تھے، لیکن فارسی اور اردو اچھی طرح پڑھ لکھ لیتے تھے۔ قرآن مجید کی بہت خوش الحانی سے تلاوت کرتے۔ گاؤں کی مسجد کے اگرچہ امام نہیں تھے، لیکن رمضان المبارک میں باقاعدگی سے تراویح پڑھاتے۔ امین احسن اس حوالے سے بتاتے ہیں:
”گاؤں کے لوگ قرآن شریف صرف انھی سے سننا پسند کرتے تھے اوروہ زندگی بھر مسجد میں برابر قرآن سناتے رہے۔“3
جناب حافظ محمدمرتضیٰ اس لحاظ سے اپنے خاندان کے پہلے فرد تھے کہ انھوں نے اپنی اولاد کو آبائی پیشہ زمین داری اختیار کرنے کے بجاے علم دین کی طرف متوجہ کیا۔ یہ ان کی علم دوستی کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ 1930ء میں امام حمید الدین فراہی کی وفات کے بعد انھوں نے امین احسن کو مولانا عبد الرحمان محدث مبارک پوری (1935 – م) کے پاس علم حدیث سیکھنے کے لیے بھیجا۔
اپنے والد محترم سے متعلق مولانا اصلاحی یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مدرسۃ الاصلاح میں باقاعدہ طالب علم تھے تو ان کے والد مولانا فراہی سے ملنے مدرسے آئے۔ ان کے والد صاحب نے یہ دورہ ان کی غیر موجودگی میں کیا۔ مولانا اصلاحی کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ گھبرائے کہ معلوم نہیں مولانا فراہی ان کے والد کے متعلق کیا تاثر قائم کریں، لیکن جب ان کا استاد محترم سے سامنا ہوا تو انھوں نے تعریف کرتے ہوئے اس ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ امین! تمھارے والد گرامی تو مولوی صاحب نکلے۔
یہ تحسین کا ایک کلمہ تھا کیونکہ اس زمانے میں پڑھے لکھے شخص کو مولوی ہی کہا جاتا تھا۔ مولانا اصلاحی بتاتے ہیں کہ زندگی میں مجھے جو خوشیاں ملیں، استاد محترم کے اس جملے کو ان خوشیوں میں سے ایک خوشی سمجھتا ہوں۔
امین احسن اصلاحی اپنے والد کی شخصیت اور گاؤں میں ان کے لیے بے حد ادب و احترام سے بہت متاثر تھے۔ چنانچہ ایک محترم، باوقار اور بارعب باپ کے بیٹے ہونے کے احساس نے ان کے اندر بچپن میں احساس تشکر اور اعتماد پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ مولانا کا خاندان ایک نومسلم راجپوت خاندان تھا اور اس خاندان کے اسلام لانے کے متعلق مولانا اصلاحی خود بتاتے ہیں کہ ”سورج سنگھ“4 نامی ایک شخص کھیتوں میں کام کرنے کے بعد شام کو گھر واپس لوٹا۔ اسے شدید بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سیدھا باورچی خانے کے طور پر مخصوص جگہ پر پہنچا۔ یہ جگہ ایک چبوترے کی شکل میں بنی ہوئی تھی۔ ہندو راجپوتوں کی یہ مذہبی روایت رہی ہے کہ وہ ہر دن اس چبوترے کی لپائی کرتے ہیں۔ لپائی کیے بغیر اس پر نہ کھانا پکتا تھا اور نہ کھایا جاتا تھا۔ مزید یہ کہ اس جگہ پر جوتوں سمیت جانا حرام کے درجے میں غیر مناسب سمجھا جاتا تھا۔
سورج سنگھ نے جب اس روایت کی خلاف ورزی کی اور جوتوں سمیت چبوترے پر جا کھڑے ہوئے تو اس کی بیوی نے سخت سست کہتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ تم تو اب بالکل ہی ”مورکھ“ (بے دین) ہو گئے ہو۔
بیوی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ تم مسلمانوں والی حرکتیں کرنے لگ گئے ہو۔ اس کے طنز میں یہ اشارہ چھپا ہوا تھا کہ سورج سنگھ پر پہلے بھی اسلام کا اثر تھا۔ چنانچہ وہ بات سن کر بھڑک اٹھے اور کہا کہ تم یہی سمجھو کہ اب میں مورکھ ہی ہو گیا ہوں۔ وہ وہاں سے اٹھے اور سیدھے گاؤں میں واقع ایک صوفی بزرگ کی خانقاہ پر پہنچے اور باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔
مولانا امین احسن اصلاحی کے مطابق سورج سنگھ مولوی شبلی متکلم کے دادا تھے۔ مولوی شبلی متکلم کو مولانا امین احسن رشتے میں اپنا چچا کہتے تھے۔
بہن بھائی
امین احسن بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ وہ تین بھائی اور تین بہنیں تھیں۔ دوسرے بھائیوں کے نام سلطان احسن اور مشیر احسن تھے۔
گھریلو ماحول
زمانے کے دستور کے مطابق امین احسن کے ہاں ایک مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family System) تھا۔ مولانا اصلاحی اس کے متعلق فرماتے ہیں:
”ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم کی روایت ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم ظاہر ہے کہ ہندوؤں کی یادگار ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام نے اس کی کوئی تعلیم نہیں دی۔ یہ سراسر ایک علاقائی روایت ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کی کچھ برکات بھی ہیں اور کچھ مصیبتیں بھی۔ برکات یہ ہیں کہ سب افراد کا تشخص ایک خاندان کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ فرد کے بجاے خاندان پہچان ہوتی ہے اور خاندان شخص کی کمیوں کجیوں پر پردہ ڈالے رہتا ہے جب کہ خرابی یہ ہے کہ خاندان کے سربراہ کی حیثیت ایک خداوند کی سی ہوتی ہے۔ باقی تمام لوگ اس کے تابع فرماں اور غلام ہوتے ہیں۔ مردوں کی زندگی تو جیسے تیسے گزر ہی جاتی ہے، لیکن عورتوں کی زندگی جنگ و جدل میں گزرتی ہے یا وہ ایک بے زبان قیدی کی طرح رہتی ہیں۔ ہمارے گھر میں والدہ، والد، ان کے بھائی، ان کے چچا زاد … سب اکٹھے رہتے تھے۔“
امین احسن اپنی والدہ کے بجاے اپنی دادی اور والد کے بجاے چچا سے بہت زیادہ مانوس تھے۔ وہ اپنی دادی کو ”میّا جی“ کہتے۔ وہ انھیں ہی اپنا سب کچھ سمجھتے تھے۔ وہ اپنی والدہ سے ڈرتے اور والد کے رعب کے پیش نظر ایک خاص فاصلے پر رہتے۔ میّا جی کے لاڈ پیار پر ان کی والدہ ناراض ہوتیں اور ساس سے شکوہ کرتیں کہ بچہ ان کے لاڈ پیار سے بگڑ جائے گا، لیکن دادی اس تنقید کی کوئی پروا نہ کرتیں۔ اسی طرح پڑھائی کے حوالے سے جب ان کے والد اُن پر سختی کرتے تو چچا درمیان میں آتے اور امین احسن کی طرف داری کرتے ہوئے کہتے کہ بچے، بچے ہی ہوتے ہیں، حافظ نہیں ہوتے کہ ہر وقت سنجیدہ اور پڑھائی میں منہمک رہیں۔
امین احسن بتاتے ہیں کہ ایک دن وہ گھر کی خواتین کے ساتھ دو میل کے فاصلے پر اپنے ننھیالی عزیزوں کے ہاں گئے ہوئے تھے۔ان کے دادا جب گھر آئے تو انھوں نے معمول کے مطابق اپنے لاڈلے پوتے کے متعلق پوچھا۔ انھیں بتایا گیا تو وہ بیل گاڑی لے کر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ وہاں پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ امین سو چکے ہیں ۔ لیکن ان کا ارادہ اٹل تھا ، اپنے پوتے کو سوتے ہوئے بیل گاڑی پر لاد لائے۔ وہ پیار پیار میں اپنی چائے بھی انھیں پلا دیتے۔ امین احسن کو یہ چائے اگرچہ بڑی کڑوی لگتی، لیکن مروت میں انھیں پینی پڑتی۔
ابتدائی تعلیم
امین احسن جب دس برس کے ہوئے تو انھیں گاؤں میں موجود مکتب میں داخل کرا دیا گیا۔ گاؤں کے اس اسکول میں کل ایک استاد تھے یعنی مولوی بشیر احمد۔ ان سے انھوں نے ابتدائی حساب سیکھا۔ فارسی اور اردو بھی پڑھی۔ فارسی میں انھیں سعدی کا کریما اور دوسری کتابیں پڑھائی گئیں۔ امین احسن کو کریما کے شعر جلد ازبر ہو گئے اور وہ انھیں اونچی آواز میں ترانے کی طرح گاتے۔ ریاضی کے پہاڑوں اور ضرب تقسیم سے انھیں سخت وحشت تھی۔ امین احسن تسلیم کرتے ہیں کہ انھیں مکتب جانا سخت برا لگتا تھا اور نہ ہی ان کی اپنے استاد مولوی بشیر صاحب سے کوئی مناسبت تھی۔ البتہ ایک دوسرے استاد مولوی فصیح الدین سے انھوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور اس استاد کی وہ دل سے عزت کرتے تھے۔ مولوی فصیح الدین کا مکتب اس سرکاری اسکول کے علاوہ تھا۔
سرکاری اسکول میں وہ تین برس تک زیر تعلیم رہے کہ ایک دن سرکاری افسر نے اسکول کا اچانک معاینہ کیا۔ اسکول میں چند بچوں کو زیر تعلیم دیکھ کر اس نے اعلان کیا کہ اس مدرسے کو بند کیا جاتا ہے۔
یہ اعلان سننا تھا کہ تمام طلبا خوشی کے نعرے لگاتے گھروں کو لوٹ گئے۔ خود امین احسن بھی دوسرے بچوں کی طرح یہ ”خوش خبری“ سنانے اپنے گھر کی طرف بھاگے۔ انھوں نے یہ خبر سب سے پہلے اپنی دادی جان ”میّا جی“ کو سنائی جو ان کے جذبات پر حیران رہ گئیں کہ بچہ اسکول سے کس قدر بے زار تھا۔
سرکاری اسکول کی تعلیم کا سلسلہ تو منقطع ہو گیا، البتہ مولوی فصیح الدین کے دینی مدرسے میں تعلیم جاری رہی۔
بچپن کے کھیل
گاؤں کی زندگی میں گِلی ڈنڈا اور کبڈی عام کھیل تھے، لیکن ان کی طرف امین احسن کی طبیعت راغب نہیں ہوئی البتہ گھڑ سواری اور تیراکی ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ دس برس کی عمر میں وہ تیراکی اور گھڑ سواری، دونوں میں طاق ہو گئے۔ گھوڑا مناسب رفتار سے دوڑا لیتے جب کہ تیراکی اس قدر بھائی کہ گھر والوں کی اجازت کے بغیر گاؤں میں موجود تالاب اور گاؤں سے باہر ندی میں چلے جاتے۔ جب تیراکی میں ان کی دل چسپی زیادہ بڑھی تو گھر کے بزرگوں نے ان کی نگرانی شروع کر دی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایک دفعہ وہ ڈوبتے ڈوبتے بچے، جس پر ان کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی اور یوں ان کے اس خطرناک مشغلے میں خاصی کمی واقع ہو گئی۔
بچپن کے خوف
امین احسن اصلاحی بتاتے ہیں کہ انھیں بچپن میں جن بھوتوں سے نہ ڈرایا گیا اور نہ ان کا خوف انھیں کبھی رہا، لیکن وہ پاگلوں سے بہت خوف زدہ ہو جاتے۔ وہ تخیل میں دیکھتے کہ ان کا واسطہ کسی پاگل شخص سے پڑ گیا ہے اور گھر کے لوگوں نے اس سے جان بچائی ہے۔
ان کے بچپن کا ایک واقعہ ہے کہ وہ ننھیال میں رہنے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ وہاں ایک لڑکا اپنے گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر گھر سے باہر ایک ویرانے میں چلا گیا اور درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گیا۔ امین احسن نے اسے دیکھا تو اسے پاگل سمجھ کر بہت خوف زدہ ہوئے۔ اس منظر کی دہشت انھیں ایک عرصہ تنگ کرتی رہی۔
بچپن کی شرارتیں
دس بارہ برس کی عمر میں ان سے ایک خطرناک شرارت سرزد ہوئی جسے وہ اپنے بڑھاپے میں بھی فراموش نہ کر سکے۔
ہوا یہ کہ گھر کے مہمان خانے کے دروازے کے اندرونی کواڑ پر بھڑوں کا ایک چھتہ تھا۔ اسے دیکھ کر ان کی رگِ شرارت پھڑکی۔ انھوں نے اپنے چچا سے کہا کہ آئیں ہم آپ کو ایک تماشا دکھائیں۔ وہ انھیں ساتھ لے کر دروازے کے قریب آئے۔ ان کے ہاتھ میں اک چھڑی بھی تھی۔ چچا کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر انھوں نے چھڑی بھڑوں کے چھتے پر دے ماری۔ نتیجہ صاف ظاہر تھا ۔بھڑیں دونوں پر حملہ آور ہوئیں، قریب ہونے کے باعث چچا کی نسبت امین احسن بھڑوں کا زیادہ شکار ہوئے، بھڑوں نے بہت کاٹا۔ چہرہ پھول کر کپُا ہو گیا۔ بخار بھی آ گیا اور پندرہ بیس دن تک بیمار رہے، چچا بھی متاثر ہوئے لیکن کم۔
امین احسن کی دوسری شرارت اس سے مختلف تھی۔ اور اسے وہ موقع ملنے پر دہراتے رہتے۔ یہ شرارت وہ اپنے ایک ہم جولی الیاس کے ساتھ ہی کیا کرتے تھے۔ دونوں نے منصوبہ بنایا کہ وہ کھیر پکائیں۔ چنانچہ اس مقصد کے تحت وہ گھر والوں سے آنکھ بچا کر چاول اور شکر اکٹھا کرتے اور پھر گاؤں کے کمہار کے پاس جاتے۔ کمہار سے کہتے کہ وہ انھیں ایک ہنڈیا فراہم کرے۔ کمہار ان کے چچا سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ یہ گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانے کے فرزند ہیں، انھیں خالی ہاتھ لوٹانا درست نہ ہو گا، اس لیے وہ بیوی کی مخالفت کے باوجود انھیں ہنڈیا دے دیتا۔ کمہار کی بیوی انھیں دھمکاتی کہ وہ ان کی شکایت کر دے گی، لیکن وہ اس دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہنڈیا لے کر گاؤں سے باہر ٹیلوں میں پہنچ جاتے۔ اب وہ وہاں گڈریے کے آنے کا انتظار کرتے۔ انھیں معلوم ہوتا تھا کہ گڈریا اپنے ریوڑ کے ساتھ یہاں سے گزرے گا۔ چنانچہ جب وہ آتا وہ اس سے دودھ طلب کرتے۔ کمہار کی طرح وہ اسے بھی دودھ دینے پر قائل کر لیتے۔ ویسے بھی کمہار، گڈریے، موچی وغیرہ کی حیثیت اس سماج میں ایک غلام کی سی تھی۔ وہ زمین دار ہوں یا ان کے بیٹے، ان کے حکم سے سرتابی کی مجال انھیں نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ کھیر کے تمام لوازمات مکمل ہونے پر کھیر پکاتے، پلیٹ کے بجاے پیپل کے بڑے بڑے پتے استعمال کیے جاتے اور کھیر خود بھی کھائی جاتی اور وہاں سے گزرنے والے کی بھی ضیافت کی جاتی۔ امین احسن کہتے ہیں کہ اس کھیر کا مزا وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔
اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے مولانا امین احسن اس وقت کی معاشرت پر ایک بھرپور تبصرہ بھی کرتے۔ ان کے اپنے الفاظ کے مطابق:
’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے علاقے میں خدمت گاروں کا جو طبقہ تھا یہ قدیم غلامی کی یادگار تھا۔ دھوبی، درزی، نائی، صفائی کرنے والے، ترکھان، لوہار، بڑھئی، کمہار یہ سب دراصل زمین دار کے ملازم تھے۔ یہ سب موروثی تھے۔ اس بات کا احساس مجھے شعور آنے پر ہوا کہ جس غلامی کی ہم مذمت کرتے ہیں، وہ تو ہمارے زمانے میں بھی رہی ہے۔ ان سب خدمت گزاروں کی مزدوری بہت ادنیٰ ہوتی تھی۔ دو دو، چار چار پیسے یا گھٹیا قسم کا گڑ ہوتا تھا جو لوگ انھیں معاوضے کے طور پر دیتے تھے۔ ان کی زندگیاں بالکل غلاموں کی طرح ہوتی تھیں۔ ‘‘
بچپن کی پٹائی
امین احسن فخر سے بتاتے ہیں کہ دوسرے بچوں کے برعکس والدہ کی سخت طبیعت کے باوجود ان کی کبھی پٹائی نہیں ہوئی۔ ان کے بہن بھائی برابر والدہ سے پٹتے اوراس وقت ماں کا غصہ ان پر کپکپی طاری کر دیتا، لیکن انھیں کبھی مار نہیں پڑی۔ بس ایک دفعہ انھوں نے صاف انکار کر دیا کہ آج اسکول نہیں جاؤں گا۔ ان کے انکار اور انکار میں موجود ”عزم“ نے شفیق چچا کو غصہ دلایا اور انھوں نے ”بے وقوف کہیں کا“ کہہ کر ایک تھپڑ جڑ دیا۔ تھپڑ کھانے کے بعد بھی امین احسن اسکول نہیں گئے۔ ادھر چچا کو زندگی بھر اس تھپڑ کا پچھتاوا رہا۔ انھوں نے بارہا اس کا اظہار کیا کہ کاش میں نے امین پر ہاتھ نہ اٹھایا ہوتا۔ یہ اظہار اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب وہ عالم ہو گئے۔
امین احسن نے اسکول اور اس کے بعد مدرستہ الاصلاح میں بھی کبھی کسی استاد سے مار نہیں کھائی حالانکہ ان کے فارسی کے استاد بہت سخت گیر تھے۔ ان کے ہاتھ سے اکثر طلبا پٹتے، لیکن انھوں نے امین احسن پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔
[باقی]
- ۔ حیات شبلی 127-124، از سید سلیمان ندوی۔
- ۔ مولانا امین احسن اصلاحی (ریکارڈ کی گئی گفتگو)۔
- ۔ مولانا کی آواز میں ریکارڈ الفاظ۔
- ۔ ”سنگھ“ اصل میں سنسکرت لفظ ”سمہا“ (Simha) سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے ”شیر“۔ یہ لفظ ہندو راجپوتوں میں لقب کے طور پر اختیار کیا جاتا تھا۔ بعد میں سکھ مذہب کے ماننے والوں نے بھی اسے اختیار کر لیا۔