انسان میں جبلی تقاضوں (بھوک، پیاس، خوف، محبت) کی طرح اخلاقی شعور یعنی خیر و شر بھی الہام کر دیے گئے ہیں۔
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (سورۃ الشمس: 8)
یہی وجہ ہے کہ انسانی شخصیت سے جبلی تقاضے اور اخلاقی رویے (نیکی و بدی) تاحیات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ انسان کا امتحان ہی یہی ہے کہ وہ جبلی تقاضوں کی تسکین کے لیے اپنے شعور میں الہام شدہ نیکی و بدی میں سے کس کا انتخاب کرتا ہے۔
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (الملک: 2)
جبلی تقاضے بہت زور آور ہوتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جو دین انسانوں کو دیا ہے، اس میں اس بات کا پورا اہتمام کیا ہے کہ فرد کی ذات سے لے کر انسانی معاشرے میں ہر ہر سطح پر ایک ایسی قوت ضرور موجود ہو جو برائی کے سر اٹھانے پر حرکت میں آئے اور بزور اسے روک دے۔
فرد کی سطح پر
پہلے مرحلے میں انسان کے اندر ہی اچھائی برائی کے مابین فتویٰ لگانے والی قوت ضمیر کی شکل میں الہام کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر دور میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص جھوٹ کو برا اور سچ کو اچھا قرار دیتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے امتحان کے پیش نظر انسان کو اختیار کرنے کی آزادی عطا کی ہے، لہٰذا وہ اس آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
ضمیر کے فتوے کو اَن سنا کرکے من مانی کر جاتا ہے۔ چنانچہ باطنی قوت کے آگے سرِ اطاعت نہ جھکانے والوں کے لیے دوسرے مرحلے میں خارج سے روک لگانے والی قوتوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
معاشرے کی سطح پر
اسلامی تہذیب و معاشرت کی بقا تین بنیادی عناصر پر ہے:
1. حفظِ فروج
2. حفظِ مراتب
3. امر بالمعروف و نہی عن المنکر
ان میں سے آخری دو اسی خارجی قوت کے طور پر کام کرتے ہیں جو فرد کی آوارہ منشی پر روک لگائے۔
حفظِ مراتب
انسانی معاشرت مختلف اداروں پر مشتمل ہوتی ہے، مثلاً خاندان کا ادارہ، تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز، ریاست کا ادارہ وغیرہ۔ ان اداروں کے افراد کے مابین مراتب کا جو فرق ہے، دینِ اسلام اسی کا لحاظ برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے کہ اولاد کی غلطی پر سرزنش کے لیے والدین، بیوی کی سرکشی پر تادیب کے لیے شوہر، شاگرد کی من مانی کو روکنے کے لیے استاد، اور عوام الناس کو اپنے دائرے میں رکھنے کے لیے ریاستی ادارے حرکت میں آئیں۔
سربراہانِ خاندان کا یہ حق قرآن ان آیات میں بیان کرتا ہے (سورۂ التحریم: 6)، (سورۂ النساء: 34)۔
ریاست کا یہ حق قرآن یوں واضح کرتا ہے کہ انسانی جان، مال اور عزت کو حرمت حاصل ہے، چنانچہ ان کی حدود کو لانگنے والے پر قصاص، دیت، قطعِ ید، کوڑوں یا دیگر سزاؤں کا نفاذ ریاست کی ذمہ داریوں کے دائرے میں آتا ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر
اسلامی معاشرے میں برائی کے سدِباب کے لیے ہر فرد پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش میں برائی دیکھ کر خاموش تماشائی نہ بنا رہے بلکہ برائی کے مرتکب کو تنبیہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی بات کو مزید کھولتے ہوئے تین درجات مقرر کیے:
ہاتھ سے روکنا، زبان سے روکنا، دل میں برا جاننا (صحیح مسلم: 49)
یہ تین درجات فرد کے حالات اور استطاعت کی بنا پر ہیں۔
ہاتھ سے روکنے کی صلاحیت و استعداد ظاہری بات ہے، ریاست میں امن و امان قائم رکھنے والے ادارے کو حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں پولیس کا ادارہ یہ خدمات سرانجام دیتا ہے۔
زبان سے تنبیہ کرنے یا توجہ دلانے کا کام ہر شخص روزمرہ معاملات میں چھوٹے، بڑے کی قید سے بالاتر ہو کر کر سکتا ہے۔ عین ممکن ہے دن کے شروع میں بڑا بھائی، چچا اپنے چھوٹے بھائی، بھتیجے کو تلقین کرے اور دن کے آخر میں کسی بات پر چھوٹا اپنے سے بڑے، اجنبی یا سگے کو صحیح بات کی طرف توجہ دلائے۔ انسان بیشتر برائیاں محض اس وجہ سے بھی نہیں کرتا کہ وہ معاشرے میں اپنی ساکھ کو چوٹ پڑتے نہیں دیکھ سکتا۔ فوری متنبہ کرنے والے ماحول میں بھی برائی نہیں پھیلتی۔ بنی اسرائیل پر لعنت کی وجہ یہی قرار دی گئی کہ انھوں نے ایک دوسرے کو برائی سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔ (المائدہ: 78-79)
یہ تنبیہ جن آداب میں کی جائے گی، اسے بھی قرآن نے بیان کیا:
وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ: 83)
مولانا امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ تلقین و نصیحت کی بات شریفانہ انداز میں کی جائے، ورنہ انسان گرد و پیش میں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی ٹھیک سے نہ کر پائے گا اور مخاطب کا دل بھی دکھے گا۔ یوں بات اس کے دل میں گھر کرنے کا سرے سے امکان ہی باقی نہ رہے گا۔
دل میں برا جاننے کا عمل اس کے لیے ہے جو کسی ماحول میں مجبورِ محض ہو اور اس کی بات کا دوسروں پر کوئی مثبت اثر ہونا تو دور کی بات، خود اس کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دے۔ وہاں مصلحت کے پیش نظر انسان کے لیے اتنا بھی کافی ہے کہ وہ خود اس برائی سے نفرت کرتے ہوئے دور رہے۔
ریاست کی سطح پر
انسان کو صحیح روش پر رکھنے اور اس کے شر سے خود اس کو اور گرد و پیش کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہاں ضمیر کی عدالت کی صورت میں خودکار الارم سسٹم الہام کر دیا، جہاں پیغمبروں اور آسمانی کتب کی تعلیم کی صورت میں لائف
ٹائم ریمائنڈر سیٹ کر دیا اور جہاں معاشرے میں ہر فرد کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ٹکٹ دے کر ہوشیار بیدار کر دیا تا کہ آنکھ، ناک، کان بند کر کے لاتعلق ہو کے نہ جئیں، وہاں کا احوال تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ:
“سب ٹھیک ہے”
مگر ہم بخوبی واقف ہیں کہ انسان کی آزاد منش طبیعت ان سب رکاوٹوں کو پھلانگ کر من مانی و سرکشی پھر بھی کر گزرتی ہے۔ قتل و غارت گری، ڈکیتی، کاروبار میں غبن، عورتوں کی عصمت دری، ریاست کے خلاف بغاوت جیسے رویے انسان کی اسی آزاد منش طبیعت کی بدولت ہی سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں، بھلے وہ قبائلی طرز کی سادہ ترین ریاستیں ہوں یا متمدن ملکی ریاستیں یا پھر آج کی جدید قومی ریاستیں ہوں، ہر نظام میں ایسے مجرمانہ افعال کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ لہٰذا جب فرد اپنے ضمیر، دین کی تعلیمات اور معاشرتی رکاوٹوں سے صرف نظر کر کے جرم کر گزرے تو پھر ریاست کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ تادیبی کارروائی کرے اور یہ حق ریاست کو خود ہمارے دین نے دیا ہے۔
نجی معاملات میں ریاستی مداخلت کا مقام
یہ بات تو شریعت سے واضح ہے کہ حدود کا نفاذ ریاست کے ذمے ہے، عوام الناس قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتی۔ گھر، خاندان کی سطح پر بھی بعض اوقات ایسی نوبت آ جاتی ہے جب ریاست کی مداخلت ناگزیر ہو جائے۔ وہ معاملات جو قضیے (متنازع مسئلے) کی شکل اختیار کر لیں اور خاندان کا ادارہ فرد کو تحفظ فراہم کرنے یا معاملہ سلجھانے میں ناکامی کا شکار ہو یا پھر خاموش تماشائی بن کر ظالم کو من مانی کے لیے معاون ماحول فراہم کرے، ایسے میں مظلوم کا ریاست سے مدد طلب کرنا عین شرعی حق ہے۔ انسانی جان و مال کو اس کے کنبے قبیلے سے قربت و رسائی کے باعث سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت میں نسبی و سسرالی رشتوں کے مابین ظلم و زیادتی کو روکنے کے لیے وراثتی تقسیم خود کر دی، نکاح و طلاق کے معاملات میں مفصل رہنمائی فرمائی، حیا کے تقاضوں کے تحت سورۂ النور میں ملنے جلنے کے آداب مقرر کر دیے۔ ان سب اقدامات کے باوجود فرد پر ظلم و زیادتی کی صورت میں شریعت نے خاندان کے ادارے کے سربراہان کو ہی یہ ذمہ داری دی کہ پہلے مرحلے میں وہی قضیہ سلجھائیں۔ مثلاً طلاق کے معاملے میں فیصلہ سازی کے لیے دو طرفہ تحکیم بٹھانا اسی کی ایک صورت ہے، مگر ہم روزمرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ خاندان کا ادارہ فرد کو
انصاف دلانے میں ناکام رہتا ہے، مظلوم ہی کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں مظلوم کا برتر قوت (ریاست) کی جانب انصاف کے لیے رجوع کرنا شرعی حق ہے۔
سیرتِ نبوی سے مثالیں
مدینہ میں قبائلی طرز کی ریاستی انتظامیہ کے اندر لوگ اپنے گھریلو یا کاروباری نوعیت کے قضیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حل کے لیے پیش کرتے۔
ثابت بن قیس کی اہلیہ خلع کا کیس لے کر آئیں۔
ایک لڑکی کے بچپن میں اس کے والد نے نکاح کر دیا تھا۔ وہ لڑکی رخصتی کی عمر میں پہنچی تو نکاح کی عدم پسندیدگی کا قضیہ لے کر آئی۔
عبداللہ بن عمر نے قرآن میں مقرر کردہ طریقۂ طلاق سے انحراف کرتے ہوئے بیوی کو طلاق دی، جسے ان کے والد سیدنا عمر بن خطابؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔
ایسی کئی مثالیں سیرتِ نبوی سے ملتی ہیں جن میں خاندان جب اپنے تئیں معاملہ حل نہ کر پاتا تو افرادِ خانہ ریاستی عدالت میں منصفانہ فیصلہ طلب کرتے۔
انصاف کے قیام میں معاشرتی کوتاہی کی مثالیں
نومولود لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا، ستی کی رسم میں بیوہ کو زندہ جلا دینا، کاروکاری کی رسم میں محض گمان و شک کی بنا پر لڑکا لڑکی کو قتل کرنا، بعض کیسز میں تو محض پسند کی شادی پر کاروکاری کرنا، یہ سب کون کرتے ہیں؟ گھر اور خاندان کے افراد ہی ہوتے ہیں جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں عورت کو وراثت میں حصہ دینے سے آج تک گریز کا رویہ اپنایا گیا ہے۔
ایسی تمام ظلم و بربریت پر مبنی رسمیں جو سالہا سال بطور رواج خاندانوں میں جاری رہتی ہیں، بھلا کس کے دم پر؟ انہی کے دم پر جو خاندان اور قبیلوں میں صاحبِ اختیار ہیں۔ لہٰذا ہر صاحبِ اختیار کے اوپر کوئی قوت ضرور ہونی چاہیے جو اختیارات کے ناجائز استعمال کو بزورِ بازو روک دے اور افراد کی جان، مال اور عزت کو تحفظ فراہم کرے۔
The Domestic Violence (Prevention & Protection) Act, 2026
جنوری 2026 میں پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد سے حفاظت کا بل پاس کیا جسے معاشرے میں حمایت کے ساتھ ساتھ شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بطور مسلمان ہم سب کا ایمان ہے اور مشاہدہ بھی کہ امتحان کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی ہر شے میں دو پہلو (مثبت و منفی) رکھے ہیں۔ سب سے بڑی مثال تو خود ہمارے ہاتھ کی ہے جو ایک بڑی نعمت ہے مگر یہی ہاتھ جب قتل یا چوری کرے تو زحمت بھی بن جاتا ہے۔
لہٰذا ہر نئی سامنے آنے والی چیز پر فوراً منفی پراپیگنڈا کرنے کے بجائے بغور تجزیہ کر کے جاننا چاہیے کہ اس میں وہ کون سے پہلو ہیں جو ہمارے لیے بھرپور نفع مند ہیں اور کن پہلوؤں سے اس چیز کا استعمال ضرر رساں ثابت ہوگا۔
ہمارے تبصرہ نگاروں، دانشوروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عوام الناس میں ایسی چیزوں کا مفصل تجزیہ پیش کر کے شعوری بیداری اجاگر کریں۔ سطحی نوعیت کے جذباتی تبصرے عوام الناس میں کسی چیز یا معاملے کے متعلق کبھی دور اندیشی پیدا نہیں کرتے۔
اگرچہ اس ایکٹ پر سیر حاصل گفتگو ہو سکتی ہے مگر طوالت کے خدشے سے چند غور طلب نکات دیکھتے ہیں۔
1- یہ ایکٹ جن متاثرین کے لیے بنایا گیا اس فہرست میں صرف خواتین نہ تھیں بلکہ وہ تمام افراد گنوائے گئے جن کی کمزوری کے باعث خاندان میں ان کے حقوق سلب کر لیے جانے کا امکان ہوتا ہے یعنی بچے، بوڑھے، مرد، معذور، مخنث۔ لیکن مجھے جن گنتی کے معروف تبصرہ نگاروں کو سننے کا اتفاق ہوا انہوں نے اس اقدام کو خالصتاً عورتوں کو فیمنزم کی تحریک کے زیر اثر گھر بار سے آزاد کر کے خود مختار بنانے کا ایجنڈا قرار دیا۔
یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں:
کیا ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں عورتوں پر تشدد، جلانے، ان کا مال ہڑپ جانے کے واقعات نہیں ہوتے؟
کیا ایسے کیسز سے ہم اپنے خاندانوں میں بالکل واقف نہیں ہیں جہاں لڑکیوں کو خاندان کے اندر مرد (کزن یا دیگر رشتہ دار) ہراساں کرتے ہیں مگر تحفظ کی ضمانت ملنے کی امید تو نہیں ہوتی، البتہ خاندان میں تماشا بن جانے اور زندگی بھر کی بدنامی کے خوف سے لوگ خاندان کے سربراہان سے بھی معاملے کا نوٹس لینے کی درخواست نہیں کرتے؟
کیا جدید تہذیب کے زیر اثر لڑکیاں اب بوڑھے ساس سسر سے نالاں ہو کر ناروا سلوک نہیں کرتیں جبکہ انہی کی بدولت ہی وہ شوہر جیسی نعمت سے فیض یاب ہوتی ہیں؟
کیا ہمارے ہاں شوہر کی کمائی کھانے، گھر برتنے اور اس کے نام کا تاج پہن کر خاندان بھر میں سر اٹھا کر چلنے والی عورت جائیداد کی تقسیم یا سسرال سے ناچاقی کی بنا پر اپنے ہی شوہر کے لیے ایسے حالات پیدا نہیں کر دیتی کہ وہ ڈپریشن یا کسی اور نفسیاتی مسئلے کا شکار ہو جائے؟
بڑے مرض کا شکار ہو جاتا ہے اور بعض کیسز میں تو اسی چپقلش کے ماحول میں گھٹ گھٹ کر جیتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے؟
ایسے لوگ اول تو کسی کو مدد کے لیے پکارتے نہیں لیکن اگر اتفاقاً سوال کر بیٹھیں تو لوگ یہی سوچ کر کترا جاتے:
“تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو!”
کیا ہمارے معاشرے میں بچوں سے جنسی عمل کئی کئی سال جاری رکھنے کے معاملات بالکل نہیں ہوتے؟
ڈیلی پاکستان نیوز دسمبر 2020 میں سارہ یونس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اس سال بچوں سے جنسی عمل کے رپورٹ ہونے والے 1304 کیسز میں 822 بچے وہ تھے جن سے زیادتی میں ان کے رشتہ دار ہی ملوث تھے۔ صرف 135 کیسز میں اجنبی لوگ مجرم تھے۔
کیوں؟ اس لیے کہ خاندان میں قربت کی بنا پر رسائی بہ آسانی میسر ہوتی ہے۔ سارہ یونس کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں نہ آنے والے کیسز کی تعداد تو بہت بڑی ہے جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ لوگ دبا دیتے ہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین سرے سے واقف ہی نہیں ہوتے۔ گھر خاندان بھلے ان کیسز کو دبانے میں برسوں سے کامیاب رہے مگر آخر کب تک؟ ایک وقت آتا ہے کہ جب بیماری کے وجود کا ہی منکر ہو کر علاج کی کوشش نہ کی جائے تو وہ منہ سر اٹھا کر سامنے آجاتی ہے اور تب تسلیم کیے بنا چارہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ سوشل میڈیا نے ٹرک اڈوں، مدارس، ہوٹلز، اسکولوں میں ایسے کیسز کی بھرمار کا پول کھول دیا۔
بات دباتے اور چپ سادھتے وقت لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ امتِ مسلمہ پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر بطور فریضہ عائد کیا گیا ہے۔ فرمانِ رسول ﷺ ہے:
“اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ضرور معروف کا حکم دو اور منکر سے روکو، اور نہ قریب ہے کہ تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔” (جامع ترمذی: 2169)
پھر بھی کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ لوگ قانون کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ آج تک ایسا کون سا قانون ہے جس کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا گیا ہو؟ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے بشری عجز کا حوالہ دیتے ہوئے عدالتی فیصلہ کسی چرب زبان کے حق میں کر دینے کے پورے امکان کا اعتراف کیا:
“میں تو بس ایک انسان ہوں۔ تم میرے پاس اپنے جھگڑے (قضیے) لاتے ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے مدِمقابل کی نسبت زیادہ چرب زبان (دلائل پیش کرنے میں ماہر) ہو، اور میں اس کی چکنی چپڑی باتیں سن کر فیصلہ کر دوں۔”
تو یاد رکھو! اگر میں اسے اس کے بھائی کا حق دے دوں، تو وہ اسے ہرگز نہ لے، کیونکہ (درحقیقت) میں اسے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔” (بخاری: 2680)
تو کیا قانون بنانا چھوڑ دیا جائے؟
نہیں! بلکہ عوام الناس کی تربیت کی جائے کہ کسی سہولت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
میرے نزدیک خاندان کے ادارے میں ذمہ داران کو قرآن و سنت کی روشنی میں قضیے سلجھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ان کا فریضہ ہے، لہٰذا وہ اس سے اعراض نہیں برت سکتے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری نسلوں کا ذمہ داران پر بھروسہ قائم رہے اور وہ پراعتماد ہو کر ان کی جانب رجوع کریں۔ پھر ایسی صورت حال بہت کم پیدا ہوگی جب تمام کوششیں بے سود جائیں اور ریاستی مدد کی جانب رجوع کرنا پڑے۔
جس طرح کیمرے کی آنکھ بہت حد تک لوگوں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر دیتی ہے، ویسے ہی اس ایکٹ کا صحیح استعمال اگر ہمارے معاشرے میں مروج ہوا تو افراد کے لیے بڑی لگام ثابت ہوگا، کیونکہ ہر شخص اپنے معاشرتی امیج کے بارے میں بہت محتاط ہوتا ہے۔
گویا گھوم پھر کر وہی حقیقت ہمارے سامنے آگئی:
“انسان بہت سی برائیاں محض معاشرے کا سامنا کرنے کے خدشے سے ترک کر دیتا ہے۔”
اس لیے دینِ اسلام نے ہر مسلمان پر گرد و پیش میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا بطورِ فریضہ عائد کیا ہے۔