گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاسویں ( 80) اجلاس کے موقع پر ایک اہم آفیشل سائیڈ ایونٹ منعقد ہوا جس کا موضوع تھا: ’’طالبان کی جانب سے مذہب کے سیاسی و سماجی استحصال اور اس کے اثرات‘‘۔ اس اجلاس میں غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن محمدحسن الیاس صاحب کو بھی خطاب کے لیے باضابطہ دعوت دی گئی۔ اس اہم نشست میں 200 سے زائد وزرا، سفارت کار اور عالمی ماہرین شریک تھے۔
اپنے خطاب میں حسن الیاس صاحب نے کہا کہ طالبان نے اسلام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میں بالخصوص افغان خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ حقیقی اسلام عدل، رحمت اور مشاورت پر مبنی ہے، جب کہ طالبان کا ماڈل جبر اور ظلم پر قائم ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ طالبان کا مذہب کا سیاسی و سماجی استحصال صرف افغانستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔ اس خطرے کا مقابلہ محض عسکری نہیں، بلکہ نظریاتی اور تعلیمی سطح پر متبادل بیانیہ قائم کر کے کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، انھوں نے علما، خواتین اور نوجوان قیادت کی آوازوں کی حمایت، جھوٹے فتووں کی تردید اور مظلوموں کے تحفظ کو بھی ناگزیر قرار دیا۔
’’الاسلام‘‘ کا انگریزی ترجمہ اور آڈیو بک
غامدی سینٹر کی جانب سے غامدی صاحب کی کتاب ’’الاسلام‘‘ کا انگریزی ترجمہ اور اس کی آڈیو بک کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ کتاب غامدی صاحب کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’میزان‘‘ کا مختصر اور سادہ خلاصہ ہے، جس میں اسلام کو علمی مباحث اور استدلالات کو الگ کر کے آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ’’الاسلام‘‘ کا انگریزی ترجمہ اور آڈیو بک جلد ہی ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ کے اشاعتی اور نشریاتی پلیٹ فارمز پر دستیاب ہو گی۔
’’تین طلاق کا مسئلہ ‘‘
غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ’’اجتہادی اطلاقات‘‘ کا موضوع زیر بحث ہے۔ اس موضوع کے تحت ہونے والی نشستوں میں غامدی صاحب کے آج تک کے کیے گئے اجتہادی اطلاقات اور ان پر علما کی جانب سے کی گئی تنقیدات کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ ستمبر 2025ء میں اس موضوع پر منعقد ہونے والی نشستوں میں طلاق ثلاثہ اور غصے، رد عمل اور جذبات کی حالت میں دی گئی طلاق کے بارے میں غامدی صاحب نے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دلائل پیش کیے ۔ ان نشستوں کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔
’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘
غامدی سینٹر کی جانب سے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے نام سے ایک نئی علمی سیریز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس میں حسن الیاس صاحب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی مشہور تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘کے اہم مباحث سے متعلق اپنے سوالات اور اشکالات غامدی صاحب کے سامنے رکھتے ہیں اور غامدی صاحب اس پر اپنی راے اور تبصرہ پیش کرتے ہیں۔ ستمبر 2025ء میں اس موضوع پر منعقد ہونے والی نشستوں میں علوم دینیہ کی بنیاد، قرآن و حدیث کا تعلق، علم دین کے حصول کا طریقہ اور مقاصد شریعت جیسے اہم موضوعات پر بات کی گئی۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔
’’افکارِ غامدی‘‘
”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ کے ریسرچ اسکالر اور ماہنامہ ’’اشرا ق‘‘ امریکہ کے مدیر سید منظور الحسن صاحب عرصۂ دراز سے اپنے قلم کے ذریعے سے فکر اسلامی کی ترویج و توسیع کا کام کر رہے ہیں۔ ان کی تصنیف کا دائرہ غامدی صاحب کے افکار کی شرح و وضاحت ہے۔ اب انھوں نے منتخب موضوعات پر گفتگوؤں کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ ’’افکارِ غامدی‘‘ اسی سلسلے کا ہفتہ وار پروگرام ہے، جس میں عام فہم انداز میں بات کو سمجھایا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ اس پروگرام کی نشر ہونے والی اقساط کے عنوان ہیں: ’’دین کا تنہا ماخذ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘، ’’اسلام کا منشا جمہوریت یا آمریت؟، ’’نئی نسل کو دین کی تعلیم کیسے دیں؟‘‘ اور ’’کیا عورت کی گواہی آدھی ہے؟‘‘ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
’’اسلام سے متعلق چند غلط فہمیاں ––الحاد کے پس منظر میں ‘‘
گذشتہ ماہ غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن حسن الیاس صاحب نے ’’اسلام سے متعلق چند غلط فہمیاں – الحاد کے پس منظر میں‘‘ کے موضوع پر حارث سلطان صاحب کے ساتھ ایک مکالمہ کیا، جس میں حسن الیاس صاحب نے الحاد کی جانب سے اسلام پر اٹھائے جانے والے مختلف اعتراضات کا مدلل اور علمی جواب دیا۔ اس مکالمے میں زیر بحث آنے والے چند سوالات یہ ہیں: ’’کیا خدا کو نہ ماننے پر اچھے انسان کو جہنم میں ڈالنا ظلم نہیں؟‘‘، ’’کیا قرآن کا اصل مدعا محفوظ نہیں رہا؟‘‘، فقہا کے نزدیک مرتد کی سزا موت کیوں ہے؟‘‘، ’’صوفیوں کی نظر میں مرتد کی سزا کیا ہے؟‘‘۔ مزید برآں، اسلام میں خواتین کے حقوق اور عورت سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ اس مکالمے کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
Ask Ghamidi
غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ’’Ask Ghamidi ‘‘ کے عنوان سے جاری سوال و جواب کی آن لائن نشست میں گذشتہ ماہ پوچھے جانے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: ’’ مسلمان بہ حیثیت قوم اپنی تعمیر کیسے کریں؟‘‘، ’’ مشرکین اور اہل کتاب کے شرک میں کیا فرق ہے؟ ‘‘، ’’ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے پر غامدی صاحب کی کیا راے ہے؟‘‘ اور ’’ نفس سے کیا مراد ہے؟‘‘۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث
ستمبر 2025 ء میں غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری جناب جاوید احمد غامدی کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کی نشستوں میں غامدی صاحب نے سورۂ حج کی آیات 21 تا 41 کا درس دیا، جب کہ درس حدیث کی ان نشستوں میں جن نکات پر گفتگو کی گئی، ان میں سے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’پچھلی امتوں کی پیروی اور ایک صحابی کا واقعہ‘‘، ’’میری امت بھی پچھلی امتوں کی پیروی کرے گی‘‘ ، ’’رسول اللہ کی اپنی امت کو تنبیہ‘‘ اور ’’رسول اللہ کا نظم اجتماعی کے باغیوں سے اعلان براءت‘‘۔ قرآن و حدیث کے دروس کی یہ نشستیں غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز
غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری ’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز کے زیر عنوان ستمبر 2025ء میں منعقد ہونے والی نشستوں میں ’’عمر بن عبد العزیز کا عہد خلافت ‘‘، ’’قرآن کو دنیا کمانے کا ذریعہ نہ بناؤ ‘‘، ’’قرآن سیکھو اور صرف اللہ سے مانگو ‘‘ ، ’’عہد نبوی میں سنت کی تعلیم و اشاعت‘‘ اور ’’صحابۂ کرام کے جہاد کا پس منظر‘‘ جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
’’سوال و جواب حسن الیاس کے ساتھ‘‘
معروف یوٹیوب چینل ’’مسلم ٹو ڈے‘‘ پر محمد حسن الیاس صاحب کے پروگرام ’’Ask Hassan Ilyas‘‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سوال و جواب پر مبنی پروگرام ہے، جس میں حسن الیاس صاحب حاضرین کی جانب سے پوچھے گئے علمی و فکری اور دینی سوالات کے جواب دیتے ہیں۔ ستمبر 2025ء میں اس پروگرام میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’قرآن نے یہود کو تورات کی طرف رجوع کرنے کا کیوں کہا؟‘‘، ’’ہم قرآن کو کیسے سمجھیں؟‘‘، ’’خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے بہترین دلیل کیا ہے؟‘‘ اور ’’کیا اسلام دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرنے سے روکتا ہے؟‘‘۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
غامدی سینٹر کی آن لائن خانقاہ
غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری آن لائن خانقاہ کی گذشتہ ماہ منعقد ہونے والی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’ خدا تمام معاملات خود چلا رہا ہے‘‘، ’’انعام پانے یا سزا سے بچنے میں فرق‘‘، ’’ہمارے بدلتے ہوئے محرکات‘‘ اور ’’انسانی ترقی کے چار مراحل‘‘۔ آن لائن خانقاہ کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
’’سنڈے اسکول‘‘ کا نصاب کتابی شکل میں
’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘نے اپنے سنڈے اسکول کے نصاب کی کتابی شکل میں اشاعت کا اہتمام کر دیا ہے۔ یہ نصاب نو کتب پر مشتمل ہے، جو درجۂ اول سے درجۂ نہم تک کے بچوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نصاب خاص طور پر غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلم بچوں کے لیے غامدی صاحب کی تعلیمات اور ان کی کتاب ’’میزان‘‘ کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ اسلامی سنڈے اسکولز اور والدین کے لیے بچوں کو گھر پر تعلیم دینے کے لیے یہ بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ یہ نصابی کتب غامدی سینٹر کی ویب سائٹ سے براہِ راست منگوائی جا سکتی ہیں۔
”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“
ستمبر 2025ء میں ’’دنیا نیوز‘‘ پر نشر ہونے والے غامدی صاحب کے ہفتہ وار پروگرام میں ’’امت مسلمہ کی بقا کا پانچ نکاتی لائحۂ عمل––تنقیدی نکات کا جائزہ ‘‘ کے موضوع پر تین پروگرام، جب کہ ’’شرک کیا ہے؟‘‘ کے موضوع پر ایک پروگرام نشر ہوا۔ ان پروگراموں میں زیر بحث آنے والے سوالوں میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں: ’’کیا اسلام موجودہ معاشی نظام کی تائید کرتا ہے؟‘‘، ’’کیا تعلیمی نظام کی بہتری کے بغیر ترقی ممکن ہے؟‘‘، ’’شرک اتنا بڑا گناہ کیوں ہے؟‘‘ اور ’’کیا شرک کی نفی انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے؟ ‘‘۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم کے آن لائن نجی مشاورتی سیشن
ڈاکٹر شہزاد سلیم ہر ماہ لوگوں سے آن لائن نجی مشاورتی سیشن کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان سیشنز میں لوگ اپنے مختلف ذاتی اور خاندانی نوعیت کے مسائل میں ڈاکٹر شہزاد سلیم سے مشاورت کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کے 30 سے زائد سیشنز ہوئے۔ان سیشنز میں لوگوں نے ڈاکٹر شہزاد سلیم سے والدین کو درپیش مشکلات اور نو عمری کے مسائل کے حل کے لیے مشاورت کی۔
دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا
شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ‘‘ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance) اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت متعدد فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کے فکر کی روشنی میں حسن الیاس صاحب نے جاری کیا۔
’’Challenges faced by Young Minds‘‘
گذشتہ ماہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے ’’ Challenges faced by Young Minds‘‘ کے موضوع پر ایک مفصل لیکچر دیا۔ اس لیکچر میں ڈاکٹر صاحب نے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کے ذہنی اور جذباتی مسائل، تعلیمی دباؤ، معاشرتی توقعات اور ذاتی ترقی کے راستے میں درپیش رکاوٹوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس لیکچر کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔