مواد پر جائیں

خبر نامہ ’’المورد امریکہ‘‘ ]اگست 2024ء[

شاہد محمود اردو

’’تنقیدات‘‘

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ’’تنقیدات‘‘ کے عنوان سے جاوید احمد غامدی صاحب پر مختلف حلقوں کی جانب سے ہونے والی تنقیدات کو جمع کر کے ادارے کی ویب سائٹ پر شائع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ تنقیدات متفرق تحریروں، کتب اور وڈیوزکی صورت میں جمع کی گئی ہیں۔ اب تک تقریباً 220 متفرق تحریریں، کتب اور وڈیوز کو غامدی سینٹر کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے ، جن میں تصوف ، کلام ، سیاست و اقتصادیات ، فلسفہ و سائنس ، علمیات و اصول ، فقہ و قانون، تفسیر و حدیث اور زبان و ادب کے دائروں کی تحریریں اور ویڈیوز شامل ہیں ۔

’’اجماع‘‘

23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ”حدیث کیا ہے؟“ کے تمام بنیادی مباحث اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات اور سوالات پر سیر حاصل گفتگو کے بعد ’’اجماع‘‘ کے عنوان سے ایک نئی بحث کا آغاز کیا گیا ہے۔ گذشتہ ماہ اس موضوع کی ایک نشست منعقد ہوئی، جس میں اجماع کے لغوی اور اصطلاحی معنی، اجماع کا پس منظر اور اس کی ضرورت کے حوالے سے بات کی گئی۔ یہ ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

’’ہیومن مِلک بینک اور رضاعت ـــ غامدی صاحب کا موقف‘‘

سید منظور الحسن صاحب کا یہ مضمون پاکستان میں قائم ہیومن مِلک بینک کے قیام پر جناب حسن الیاس اور غامدی صاحب کے درمیان مکالمے سے ماخوذ ہے۔ اس مضمون میں ہیومن مِلک بینک پر علما کی جانب سے کیے جانے والے اس بنیادی سوال کو زیر بحث لایا گیا ہے کہ کیا ایسے بینک کا جمع کیا ہوا دودھ پلانے پر رضاعت کے احکام کا اطلاق ہو گا اور نتیجتاً دودھ فراہم کرنے والی تمام خواتین رضاعی مائیں قرار پائیں گی؟ اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ دودھ پلانے والی کوئی خاتون تب تک رضاعی ماں کا مقام حاصل نہیں کر سکتی، جب تک یہ اقدامات نہ ہو جائیں کہ بچہ دودھ پینے کی عمر میں ہو، خاتون رضاعی ماں کے طور پر اسے دودھ پلانے کا فیصلہ کرے، اس مقصد کے لیے وہ اسے اپنی آغوش میں لے، پھر اسے اپنی چھاتیوں سے براہِ راست دودھ پلانے کا سلسلہ شروع کرے۔ قارئین اس مضمون کو گذشتہ ماہ کے شمارے میں دیکھ سکتے ہیں۔

مشہور شخصیات کے بارے میں غامدی صاحب کی آرا

غامدی صاحب نے مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک عالم اسلام کی متعدد مشہور سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات کے بارے میں اپنی آرا اور تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ غامدی سینٹر نے ناظرین کی سہولت کے لیے تمام شخصیات سے متعلق غامدی صاحب کے تاثرات اور آرا کو علیحدہ علیحدہ ترتیب دے کر اپنے یوٹیوب چینل پر نشر کر دیا ہے، تاکہ دل چسپی رکھنے والے لوگ ان میں سے کسی بھی شخصیت کے بارے میں غامدی صاحب کی راے کو بہ آسانی جان سکیں۔

’’تفہیم الآثار‘‘ پروجیکٹ

غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ ، امریکہ کے زیر اہتمام ’’تفہیم الآثار‘‘ کے عنوان سے نشر ہونے والے پروگرام میں گذشتہ ماہ معروف احادیث کی روشنی میں جن اہم نکات پر بات کی گئی، وہ یہ ہیں: ’’صحابہ کا طبقہ امت کا بہترین طبقہ ہے‘‘، ’’ میرے اصحاب میری امت کے لیے امان ہیں‘‘، ’’اصحاب بدر اور اصحاب شجرہ کی مغفرت‘‘، ’’ بدعات سے اجتناب اور خلفاے راشدین کی سنت کی پیروی کی جائے‘‘ اور ’’ افتراق کی صورت حال میں نجات کا راستہ وہ ہے جس پر صحابہ قائم ہوں‘‘۔ ان پروگراموں کو ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

’’میزان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس

شہزاد سلیم صاحب کی ’’میزان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ ہر ماہ ’’میزان‘‘ کے مختلف موضوعات پر انگریزی زبان میں لیکچر ز ریکارڈ کراتے ہیں۔ گذشتہ ماہ انھوں نے جو لیکچرز ریکارڈ کرائے، ان کے موضوعات یہ ہیں: ’’قذف کی سزا‘‘،’’چوری کی سزا‘‘، ’’فلسفۂ جہاد‘‘، ’’قتل کی سزا‘‘ اور ’’مناسکِ حج ‘‘۔ ان لیکچرز کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

غامدی صاحب کی ہفتہ وار سوال و جواب کی نشستیں

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ہر ہفتے سوال و جواب کی لائیو نشست منعقد کی جاتی ہے، جس میں حسن الیاس صاحب غامدی سینٹر کو موصول ہونے والےمختلف نوعیت کے سوال غامدی صاحب کے سامنے رکھتے ہیں اور غامدی صاحب ان کا جواب دیتے ہیں۔ گذشتہ ماہ ان نشستوں میں زیر بحث آنے والے سوالات یہ ہیں: ’’ حدیث ثقلین کی حقیقت کیا ہے؟‘‘، ’’کیا جیلیٹن کا استعمال کیا جا سکتا ہے؟‘‘، ’’خدا سے تعلق کی بنیاد کیا ہے؟‘‘ اور ’’امام شاطبی کا تعارف‘‘۔ سوال و جواب کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

غامدی سینٹر کی آن لائن خانقاہ

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام آن لائن خانقاہ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بنیادی طور پر اصلاحِ نفس سے متعلق پروگرام ہے، جس میں معز امجد صاحب لوگوں کے نفس کی اصلاح اور تربیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں اور اس سے متعلق لوگوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب بھی دیتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کی چار نشستیں منعقد ہوئیں، جن کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

”مشینی کلچر کا سیلاب“

محمد ذکوان ندوی صاحب نے اپنے اس مضمون میں موجودہ زمانے میں مشینی کلچر اور جدید ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کے نتیجے میں انسانی جذبات اور صلاحیتوں پر ہونے والے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ موجودہ زمانے کا بحران یہ ہے کہ مشینی کلچر نے انسان کو پوری طرح ایک مشینی حیوان بنا دیا ہے۔ مختلف سائنس دانوں اور مغربی مصنفین کے حوالے دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ موجودہ دور میں مصنوعی یا مشینی ذہانت کا یہ لامتناہی ارتقا اور ٹیکنالوجی پر اس قدر انحصار نئی نسل کو اچھی تحریر اور انسانی روابط جیسی صلاحیتوں سے محروم کرتا جا رہا ہے۔ اس مضمون کو ”اشراق“ امریکہ کے جولائی 2024ء کے شمارے میں پڑھا جا سکتا ہے۔

’’Lessons of Life Series‘‘

ڈاکٹر شہزاد سلیم ہر مہینے ’’ Lessons of Life Series ‘‘کے زیر عنوان معاشرتی، اخلاقی اور دینی موضوعات سے متعلق مختصر دورانیے کے متعدد لیکچرز ریکارڈ کراتے ہیں۔ جولائی 2024ء میں انھوں نے جن موضوعات پر گفتگو کی، وہ یہ ہیں: ’’بیماری میں بہتری کے پہلو‘‘، ’’ضروری مشغولیات‘‘، ’’فرد کی طاقت‘‘، ’’تاریکی میں روشنی کی کرن‘‘ اور ’’اپنی مجروح اَنا پر قابو پانا‘‘ ۔ یہ لیکچرز غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا

شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ‘‘ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance)اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت 4 فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کی رہنمائی میں حسن الیاس صاحب نے جاری کیا۔

23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز کا انگریزی زبان میں خلاصہ

23 اعتراضات کی اس ویڈیو سیریز میں غامدی صاحب کے افکار پر روایتی مذہبی فکر کی طرف سے کیے گئے اعتراضات اور تنقیدات کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شہزاد سلیم اس سیریز میں اب تک کے زیر بحث آنے والے تمام موضوعات کا انگریزی زبان میں خلاصہ بیان کر رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ شہزاد سلیم صاحب نے23 اعتراضات کی سیریز میں زیر بحث آنے والے موضوع ’’نزولِ مسیح‘‘کا خلاصہ بیان کیا۔ ان پروگرامز کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“

گذشتہ ماہ ”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“ کے پروگراموں میں ملحدین کی طرف سے خدا پر کیے جانے والے اعتراضات و سوالات کو زیر بحث لایا گیا۔ مزید برآں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی حقیقت اور تعبیر کو بھی واضح کیا گیا۔ ان پروگراموں میں زیر بحث آنے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: ” رحیم و کریم خدا اپنے بندوں کو اذیت ناک بیماریوں میں کیسے مبتلا کر سکتا ہے؟‘‘، ’’ کیا عمل کا امتحان انبیا کے لیے انسانوں کی نسبت زیادہ سخت ہوتا ہے؟‘‘ اور ’’اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خواب میں حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا مطالبہ کیوں کیا؟‘‘۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

”اسلام اسٹڈی سرکل“

جولائی 2024ء میں ”اسلام اسٹڈی سرکل“ پروگرام میں قرآن مجید، حدیث اور بائیبل کے جو موضوعات زیر بحث رہے، ان کے عنوانات بالترتیب یہ ہیں: ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘، ’’مصیبتیں گناہوں کو مٹاتی ہیں‘‘ اور ’’خوف ِخدا ‘‘۔ مزید برآں، سیشن کے آخر میں خیرات کرنے کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی اور سوالوں کے جواب دیے گئے۔ اس کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

’’مولانا اصلاحی کی جماعت اسلامی میں شمولیت کا واقعہ‘‘

’’حیاتِ امین‘‘ کی گذشتہ ماہ شائع ہونے والی قسط میں جناب نعیم احمد بلوچ نے مولانا امین احسن اصلاحی کے جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ اس واقعہ میں مولانا منظور احمد نعمانی کے کردار کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے قیام کے بعد مولانا منظور احمد نعمانی مولانا اصلاحی کے پاس آئے اور ان کو جماعت میں شمولیت کی دعوت دی۔ مولانا اصلاحی نے انکار کر دیا ۔ مولانا اصلاحی کے انکار کے باوجود مولانا منظور احمد نعمانی مصر رہے اور لاہور میں مولانا مودودی سے ان کی ملاقات بھی کرا دی۔ چند دنوں کے بعد جماعت اسلامی قائم کرنے کے لیے باقاعدہ اجتماع منعقد ہونے کا اعلان ہوا تو مولانا اصلاحی کو بھی بلایا گیا، لیکن وہ اس میں نہیں گئے اور مولانا کی مرضی کے بغیر ان کا نام جماعت اسلامی کے اراکین میں شامل کر دیا گیا۔

ہفتہ وار درِس قرآن و حدیث

جولائی 2024 ء میں غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جناب جاوید احمد غامدی کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کی نشستوں میں غامدی صاحب نے سورۂ کہف کی 27 تا 55 آیات کا درس دیا، جب کہ درس حدیث کی نشستوں میں عذاب قبر سے متعلق اللہ تعالیٰ کے قانون پر بات کرتے ہوئے ان سوالوں کے جواب دیے گئے کہ کیا سبز ٹہنیوں کو قبر پر رکھنے سے عذاب کم ہوتا ہے؟ اور کیا پیشاب کے قطروں سے قبر کا عذاب ہو گا؟ قرآن و حدیث کے دروس کی یہ نشستیں غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس

شہزاد سلیم صاحب غامدی صاحب کی تفسیرِ قرآن ’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ جولائی 2024 ء میں انھوں نے ان نشستوں میں سورۂ آل عمران کی آیات 45 تا 103 پر بات کی۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

”فکر غامدی پر تنقید کیسے کریں؟“

سید منظور الحسن کا یہ مضمون ایک تنقید کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ منظور صاحب نے بیان کیا ہے کہ فکر غامدی کے ناقدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان باتوں کا لحاظ رکھیں : ایک یہ کہ فکر غامدی کا دائرہ ’معارفِ اسلامی‘ ہے۔ اِس دائرے کا اپنا پس منظر، اپنی روایت، اپنے دلائل، اپنے حقائق، اپنے مسلمات اور اپنی اصطلاحات ہیں۔ ناقدین کے لیے لازم ہے کہ وہ اِس دائرے کے اندر کھڑے ہو کر اپنی تنقید پیش کریں۔دوسرے یہ کہ غامدی صاحب کا پورا کا پورا نظام فکر ’’البیان‘‘، ’’میزان‘‘ اور ’’مقامات‘‘ کی شکل میں صفحۂ قرطاس پر موجود ہے۔ لہٰذا ناقدین کے پاس اِس امر کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ وہ فکر کی تغلیط کے لیے متن کے علاوہ کسی اور جانب رجوع کریں۔ تیسرے یہ کہ فکرِ غامدی نے معارفِ اسلامی کی فکری روایت میں نقد و جرح، تحقیق و تنقیح اور تجدید و اصلاح کا جو کام کیا ہے، اُس کا فہم ناگزیر ہے۔

غامدی سینٹر کا آن لائن تعلیمی کورس

جولائی 2024 ء میں غامدی سینٹر نے اپنے آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز Udemy اور Teachable کے لیے انگریزی زبان میں ’’What is the Reality of Jihad in Islam? ‘‘ کے عنوان سے ایک تعلیمی کورس شائع کیا ہے۔ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے اس کورس کے استاد کے طور پر تعارف اور 11 ویڈیو لیکچرز ریکارڈ کرائے ہیں۔ واضح رہے کہ غامدی سنٹر کے آن لائن کورسز کو منفرد اور دل چسپ بنانے کیلیے ویڈیوز کو جدید انداز میں ایڈیٹ کیا جاتا ہے۔ یہ کورس غامدی سینٹر کی ویب سائٹ پر نہایت کم قیمت پر دستیاب ہے۔

Ask Dr. Shehzad Saleem

یہ سوال و جواب کی لائیو ماہانہ نشست ہے، جس میں ڈاکٹر شہزاد سلیم لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف دینی، اخلاقی اور معاشرتی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ اس نشست میں لوگ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں اپنے سوال پوچھ سکتے ہیں۔

’’ سنڈے اسکول ‘‘میں اندراج

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام چلنے والے’’سنڈے اسکول‘‘ کا مقصد طلبہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں بنیادی اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ یہ اسکول ڈاکٹرشہزاد سلیم صاحب کی نگرانی میں سرگرم عمل ہے۔اس اسکول کے فیکلٹی ممبران کالج اور یونیورسٹی کے وہ طلبہ ہیں جو غامدی سینٹر اور ’’المورد‘‘ کی دعوت سے متاثر ہیں اور اس کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالناچاہتے ہیں۔ سنڈے اسکول میں نئے طلبہ کے اندراج کا آغازجولائی 2024ء سے ہو چکا ہے۔

شہزاد سلیم صاحب کے آن لائن نجی مشاورتی سیشن

شہزاد سلیم صاحب ہر ماہ لوگوں سے آن لائن نجی مشاورتی سیشن کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان سیشنز میں لوگ اپنے مختلف ذاتی اور خاندانی نوعیت کے مسائل میں شہزاد سلیم صاحب سے مشاورت کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کے 30 سے زائد سیشنز ہوئے۔ان سیشنز میں لوگوں نے شہزاد سلیم صاحب سے والدین کو درپیش مشکلات اور نو عمری اور ازدواجی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کی۔