غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ایک خصوصی علمی گفتگو پر مبنی ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس کی میزبانی کے فرائض جناب عاصم مغل نے انجام دیے ہیں۔ اس نشست میں غامدی سینٹر کے اسکالرز ڈاکٹر عمار خان ناصر اور سید منظور الحسن نے شرکت کی۔ نشست میں ’’المورد‘‘ کی فکری روایت کا ماضی اور مستقبل کے تناظر میں احاطہ کرتے ہوئے فراہی، اصلاحی اور غامدی فکر کے علمی تسلسل اور ماضی کی تجدیدی تحریکوں سے اس کے موازنے پر بحث کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، قرآن، سنت، حدیث و فقہ کے تعلق، روایت و اجتہاد، علمی اعتراضات کے جوابات، ادارہ سازی اور ’’المورد‘‘ کے بہ طورِ تجدیدی تحریک کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ گفتگو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
’’ ڈاکٹر نجیبہ عارف کی غامدی سینٹر آمد‘‘
جولائی 2026ء میں ’’اکادمی ادبیات پاکستان‘‘ کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے غامدی سینٹر کا دورہ کیا۔ اس دوران میں انھوں نے غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن محمد حسن الیاس صاحب کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ ریکارڈ کرایا۔ اس پوڈکاسٹ میں انھوں نے اپنے تعلیمی سفر، مخطوطات کی تحقیق اور زبان و ادب پر گفتگو کی۔ انھوں نے واضح کیا کہ علاقائی زبانیں اور اردو ایک دوسرے کے حریف نہیں، بلکہ اثاثہ ہیں۔ تاہم گلوبلائزیشن کے دور میں اردو کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر انھوں نے نشان دہی کی کہ اب پاکستان اور ہندوستان میں اردو زبان و ادب کا حقیقی مستقبل اور بقا دینی مدارس کے طلبہ سے وابستہ ہے۔ اس پوڈکاسٹ کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
”وائس آف ریسرچ“
”وائس آف ریسرچ“ کے نام سے غامدی سینٹر کے شروع کیے گئے آن لائن سیمینارز کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ماہ کے سیمینار میں مولانا وارث مظہری نے ’’ فکراسلامی کی تجدید‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ اس سیمینار میں تجدید اور تجدد میں فرق، اسلامی روایت میں اجتہاد کے تصور، فقہی جمود اور فکری زوال کے اسباب پر بحث کی گئی۔ علاوہ ازیں، عصری سیاسی، سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے اجتہاد کی ضرورت اور تجدیدی اسلامی فکر کی موجودہ حالت، چیلنجز اور مستقبل کے امکانات کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔ ان سیمینارز کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث
جولائی 2026 ء میں غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری غامدی صاحب کے لائیو درسِ قرآن و حدیث کی نشستوں میں غامدی صاحب نے سورۂ نمل کی آیات 9 تا 59کا درس دیا، جب کہ درس حدیث کی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں: ’’باجماعت نماز میں امام کے لیے مختصر سورتوں کی تلقین‘‘، ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ‘‘، ’’رکوع اور سجدے کے اذکار‘‘ اور ’’امام کی پیروی کی اہمیت‘‘۔ قرآن و حدیث کے دروس کی ان نشستوں کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔
’’افکارِ غامدی‘‘
سید منظور الحسن صاحب کا ہفتہ وار یوٹیوب پروگرام ’’افکارِ غامدی‘‘غامدی صاحب کے نظریات کو عام فہم اور مختصر اسلوب میں پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جولائی 2026ء کے دوران میں نشر ہونے والی نشستوں میں متعدد علمی و فکری موضوعات پر گفتگو کی گئی، جن میں شرک اور غیرت الہٰی، حالت اضطرار کیا ہے؟ اور مجبوری میں حرام کھانے کی اجازت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
’’استفسار:ڈاکٹر عمار خان ناصر کے ساتھ‘‘
’’استفسار: ڈاکٹر عمار خان ناصر کے ساتھ‘‘غامدی سینٹر کے اسکالر ڈاکٹر عمار خان ناصر کا سوال و جواب پر مبنی پروگرام ہے، جس میں وہ لوگوں کی طرف سے موصول ہونے والے سوالات کے جواب دیتے ہیں۔ جولائی 2026ء کی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: نماز کے طریقوں میں امت میں اتنا اختلاف کیوں ہے؟ قرآن و حدیث کے تعلق میں صحابہ کا منہج کیا تھا؟ کیا اللہ کے ہاں ظاہری ایمان قبول ہے؟اور قرآن سمجھنے میں شان نزول کی کیا اہمیت ہے؟ ان نشستوں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
Ask Ghamidi
غامدی صاحب سے براہِ راست دینی و اخلاقی موضوعات پر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے غامدی سینٹر کے زیرِ اہتمام ہر ماہ ایک آن لائن نشست منعقد کی جاتی ہے۔ اس نشست کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب براہ راست غامدی صاحب سے حاصل کر سکیں۔ جولائی 2026ء کی نشست میں پوچھے جانے والے چند اہم سوالات یہ ہیں:علمی ترجیحات کیسے متعین کریں؟ اہل بیت کون ہیں؟ سجدۂ تعظیمی کی ممانعت کیوں ہے؟ اور صحیح اور غلط میں فیصلہ کیسے کریں؟ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
’’مسلمان کی تکفیر‘‘
مدیرِ ’’اشراق، امریکہ‘‘ سید منظور الحسن صاحب نے اپنے اس مضمون میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ’تکفیر‘کی حقیقت اور اس کے شرعی و اخلاقی اثرات پر بحث کی ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ کفر و ایمان کا فیصلہ کرنا صرف اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے، جس کی بنیاد اتمامِ حجت پر ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی فرد، ادارے یا ریاست کو کسی مسلمان کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ مضمون میں نبوی ارشادات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کسی مومن پر کفر کی تہمت لگانا اس کی شخصیت کے قتل کے مترادف ہے اور یہ دین میں بدترین بدعت کی ایک شکل ہے۔ یہ مضمون ماہنامہ ’’اشراق‘‘ کے گذشتہ ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
’’ اسلام: پانچ بڑے انحرافات ‘‘
محمد حسن الیاس صاحب نے اپنے اس مضمون میں ختمِ نبوت کے عملی تقاضوں کی روشنی میں امت کی علمی تاریخ کے پانچ بڑے تعبیری انحرافات پر بحث کی ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قطعی حجیت صرف قرآن و سنت کو حاصل ہے۔مضمون میں بتایا گیا ہے کہ تشیع نے امامت، تصوف نے ولایت و کشف، سیاسی تعبیر نے غلبۂ اسلام، تقلید نے مسلکی حاکمیت اور تکفیر نے ایمان و کفر کے فیصلوں کو قرآن و سنت کے مقابلے میں مستقل انسانی مرجع بنا دیا، جو کہ بنیادی لغزش ہے۔ ختمِ نبوت کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ہر تعبیر کو صرف قرآن و سنت کی میزان پر پرکھا جائے۔ یہ مضمون ماہنامہ ’’اشراق، امریکہ‘‘ کے جولائی 2026ء کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز
غامدی سینٹر کے زیرِ اہتمام صحابہ و تابعین کے آثار کی شرح و وضاحت اور منتخب آثار پر مبنی سوال و جواب کے لیے پروگرام ’’تفہیم الآثار‘‘ کی ریکارڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جولائی 2026ء کی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: کیا قرآن میں اختلاف مخاطبین سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے؟کیا قرآن میں جدال کرنا کفر ہے؟ کیا قرآن مجید کی سائنسی تفسیر کرنا ٹھیک ہے؟ کیا پہلی امتیں کتابی اختلاف سے ہلاک ہوئیں؟ دل چسپی رکھنے والے ناظرین ان پروگراموں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھ سکتے ہیں۔
’’سوال و جواب حسن الیاس کے ساتھ‘‘
معروف یوٹیوب چینل ’’مسلم ٹو ڈے‘‘ پر نشر ہونے والے پروگرام ‘‘Ask Hassan Ilyas’’ میں محمد حسن الیاس صاحب نے جولائی 2026ء کی نشستوں میں کئی اہم علمی و فکری سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔ ان نشستوں میں پوچھے جانے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: اتنی بڑی کائنات میں انسان کی کیا حیثیت ہے؟ کرپٹو کرنسی کے حلال یا حرام ہونے کا فیصلہ کون کر سکتا ہے؟ کیا جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا؟ اور اگر سنت قطعی ہے تو اس پر تحقیق کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
’’Charity in the Qur’an ‘‘
جولائی 2026ء میں غامدی سینٹر کے انگریزی یوٹیوب چینل پر شہزاد سلیم صاحب کا خصوصی انگریزی لیکچر ‘‘Charity in the Qur’an’’ شائع کیا گیا۔ اس نشست میں انھوں نے قرآن مجید کی 10 منتخب آیات کی روشنی میں انفاق کی اہمیت، آداب اور اس کے روحانی اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے واضح کیا کہ حلال ذرائع سے کمایا گیا مال خرچ کرنا، احسان نہ جتانا، پوشیدہ طریقے سے مدد کرنا اور اپنی پسندیدہ چیز کا انفاق کرنا نیکی کے اعلیٰ ترین درجے ہیں۔ مزید برآں، انھوں نے کہا کہ انفاق میں سب سے پہلا حق والدین اور رشتہ داروں کا ہے اور معاشرے کے ان خود دار سفید پوش افراد کی تلاش اور مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے، جو مانگنے سے گریز کرتے ہیں۔
غامدی سینٹر کی آن لائن خانقاہ
انسانی نفس کی اصلاح اور اخلاقی تربیت کے مقصد سے غامدی سینٹر نے ایک خصوصی تربیتی پروگرام ’’آن لائن خانقاہ‘‘ متعارف کرایا ہے۔ اس ہفتہ وار نشست میں معز امجد صاحب تزکیۂ نفس کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ شرکا کے سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دیتے ہیں۔ گذشتہ ماہ منعقد ہونے والے پروگراموں میں نماز کے اعمال و اذکار، اچھا وقت کیسے آزمایش ہے؟ اور زندگی کی آزمایش کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟ جیسے موضوعات کو زیر بحث لایا گیا۔ آن لائن خانقاہ کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
’’اسلام اسٹڈی سرکل ‘‘
شہزاد سلیم صاحب ”اسلام اسٹڈی سرکل“ کے عنوا ن سے ہر ماہ ایک سیشن کاانعقاد کرتے ہیں۔ اس میں وہ مختلف دینی، اخلاقی اور سماجی موضوعات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ سیشن تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جولائی 2026ء میں اس پروگرام میں قرآن مجید، حدیث اور بائیبل کے جن موضوعات پر بات کی گئی، ان کے عنوانات بالترتیب یہ ہیں: ’’مسلمان کے اوصاف‘‘، ’’اللہ کے نزدیک اصل معیار‘‘ اور ’’تکبر کا انجام‘‘۔ مزید برآں، نشست کے آخر میں موضوعات سے متعلق پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب دیے گئے۔ اس نشست کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
مولانا اصلاحی: عارضۂ نسیان اور دیہات منتقلی
نعیم احمد بلوچ صاحب نے جولائی 2026ء میں ’’حیات امین‘‘ کی شائع ہونے والی قسط میں صاحبِ ’’تدبر قرآن‘‘ پر 1971ء کے آخر میں شدید نسیان کی بیماری کا حملہ، کراچی میں ڈاکٹر جمعہ خان سے علاج اور بحالیِ صحت کا احوال بیان کیا ہے۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ شفا یابی کے بعد مولانا نے اپنے شاگرد خالد مسعود، غلام احمد اور محمود احمد لودھی کی معاونت سے تفسیر کا کام دوبارہ شروع کیا۔ علاوہ ازیں، بیٹے کی وفات کے بعد درپیش مالی مشکلات، علاج کے اخراجات اور شہری زندگی کے رکھ رکھاؤ سے بچنے کے لیے مولانا نے لاہور چھوڑ کر اپنے گاؤں رحمٰن آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔
23 اعتراضات سیریز کا انگریزی زبان میں خلاصہ
شہزاد سلیم صاحب 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں اب تک کے زیر بحث آنے والے تمام موضوعات کا انگریزی زبان میں خلاصہ بیان کر رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ شہزاد سلیم صاحب نے23 اعتراضات کی سیریز میں زیر بحث آنے والے موضوع ’’حدیث کیا ہے؟‘‘ کا خلاصہ بیان کیا۔ ان نشستوں کا مقصد اب تک ہونے والی طویل گفتگو کو مختصر اور جامع صورت میں انگریزی داں طبقے تک پہنچانا ہے۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“
جولائی 2026ء میں ’’دنیا نیوز‘‘ پر نشر ہونے والے غامدی صاحب کے ہفتہ وار پروگرام ”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“میں زیر بحث آنے والے چند اہم سوالات یہ ہیں: وحی اور الہام میں کیا فرق ہے؟ کیا اچھے اخلاق کے بغیر ایمان قابل قبول نہیں ہے؟ دین کی تعلیم و تربیت کا کام کون لوگ کر سکتے ہیں؟ اور کیا والدین اور بچوں میں بڑھتی دوری کی وجہ معاشی مصروفیات ہیں؟ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
شہزاد سلیم صاحب کے آن لائن نجی مشاورتی سیشن
شہزاد سلیم صاحب کے آن لائن مشاورتی سیشنز خاندانی اور سماجی الجھنوں کا شکار افراد کو ایک موثر اخلاقی و شرعی حل فراہم کر رہے ہیں۔ یہ نشستیں خاص طور پر ان لوگوں کی مدد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، جو اپنے نجی معاملات میں ایک معتبر اور مخلصانہ راے کے خواہش مند ہیں۔ جولائی 2026ء میں منعقد ہونے والے 40 سے زائد سیشنز میں بنیادی توجہ والدین کی مشکلات اور نوجوان نسل کی نفسیاتی و تربیتی الجھنوں پر دی گئی تاکہ ان کا عملی حل نکالا جا سکے۔
دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا
شرعی مسائل کے عصری اور قانونی اطلاقات کے لیے ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، المورد امریکہ‘‘ عالمی سطح پر مسلمانوں کی فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اسی تناظر میں گذشتہ ماہ نکاح، طلاق، وراثت اور روزمرہ کے معاشی و معاشرتی مسائل سے متعلق متعدد فتاویٰ جاری کیے گئے۔ یہ فتاویٰ محمد حسن الیاس صاحب نے جناب جاوید احمد غامدی کے فکر کی روشنی میں مرتب کیے۔ واضح رہے کہ فتویٰ ایک دینی راے کا نام ہے، یہ کوئی قانونی حکم نامہ یا عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا۔
’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس
شہزاد سلیم صاحب نے غامدی صاحب کی تفسیر ’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جولائی 2026ء میں سورۂ توبہ کی آیات 64 تا80کا درس دیا۔ اس تدریسی کاوش کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر انگریزی داں اہلِ علم کو قرآن مجید کے جدید اور منفرد فہم سے براہِ راست مستفید ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان تمام دروس کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
’’سفر در سفر‘‘
’’سفر در سفر‘‘ غامدی سینٹر کا ایک مستقل سلسلہ ہے۔ اس میں اہل علم و ہنر کی داستانِ حیات اور علمی سفر کو ناظرین کے سامنے لایا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کے تحت میزبان نعیم بلوچ صاحب نے دو مختلف اہل علم و دانش کے ساتھ الگ الگ نشستیں کیں۔ پہلی نشست کے مہمان ڈاکٹر صہیب خالق تھے، جن کے ساتھ ان کے پی ایچ ڈی مقالے (Institutional or Ideological Pathways to Muslim Democracy?) کے موضوع پر مکالمہ ہوا۔ اس گفتگو میں ڈاکٹر صہیب خالق نے واضح کیا کہ کیسے انڈونیشیا نے جمہوری اصولوں کو اپنے معاشرے، تعلیم اور دینی فکر کا حصہ بنایا، جب کہ اس کے برعکس پاکستان میں جمہوریت کے بنیادی خصائص، یعنی رواداری، فکری وسعت اور اخلاقی اقدار کی بے قدری کے باعث جمہوری تجربہ خاطر خواہ نتائج پیدا نہ کر سکا۔
دوسری نشست کے مہمان ڈاکٹر عدنان ذوالفقار تھے، جن سے ان کے فکری سفر کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ وہ کن فکری دھاروں سے گزرتے ہوئے جاوید احمد غامدی صاحب سے متعارف ہوئے۔ انھوں نے جہاد کے متعلق اپنی تحقیق کی وضاحت کرتے ہوئے اس اہم نکتے پر روشنی ڈالی کہ کس طرح اس کو فرضِ کفایہ سے بدل کر فرضِ عین کر دیا گیا اور اس بنیادی انحراف کے نتیجے میں یہ تصور مقامی اور عالمی امن کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔