مواد پر جائیں

خبر نامہ ’’المورد امریکہ‘‘ ]جنوری 2024ء[ المورد، امریکہ کا سالانہ اجلاس

شاہد محمود اردو

گذشتہ ماہ ڈیلس میں المورد، امریکہ کے اراکین کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا۔یہ اجلاس تین روز تک جاری رہا اور اس میں امریکہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اِس موقع پر بیرون ملک مقیم ادارے سے وابستہ اہل علم کو بھی دعوت دی گئی ۔ پاکستان سے ڈاکٹر شہزاد سلیم اور ڈاکٹر عمار خان ناصر اور ملائشیا سے سید منظور الحسن مختلف سیشنز میں شریک ہوئے اور علمی اور دعوتی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ المورد، یو ایس کے سیکرٹری علی فاروق صاحب نے چیئر مین المورد بورڈ جناب مکرم عزیز کو مرکزی اجلاس کے آغاز کے افتتاحی خطاب کی دعوت دی۔ اُنھوں نے بورڈ کی طرف سے شرکا کو خوش آمدید کہا اور اپنی اور بورڈ کی جانب سے ادارے کی تعمیر و ترقی کے لیے بھر پور کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ جناب مکرم عزیز صاحب چونکہ شہزاد مرزا صاحب کے ساتھ مل کر ادارے کے مالی معاملات کو بھی دیکھتے ہیں ، اس لیے انھوں نے سال 2023 کے مالی امور کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی۔ المورد یو ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سی ای او جناب فرحان سید نے ادارے کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ شرکا نے کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ محدود ٹیم کے ساتھ غیر معمولی کام انجام دینا لائق تحسین ہے۔اس کے بعد ایجوکیشن کمیٹی کے ممبران جناب عاطف ساجد ، جناب نائف پاشا اور جناب فراز احمد نے ’’سنڈے اسکول‘‘ اور آن لائن لرننگ پلیٹ فام کے حوالے سے تعلیمی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ جناب عمیر اجمل، جناب ارتضیٰ اجمل، جناب قرب زیدی اور اجمل تارڑ صاحب نے ڈیجیٹل کانٹینٹ ، پوسٹ پروڈکشن، ڈبنگ اور سوشل میڈیا کے حوالے گذشتہ برس سر انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔

غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے ڈائریکٹر محمد حسن الیاس صاحب نے ادارے کے مقاصد و اہداف اور لائحۂ عمل کو چار نکات کی صورت میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ محض غامدی صاحب کی فکر کا نہیں، بلکہ پورے دبستان شبلی کا نمایندہ ادارہ ہے۔ اس لیے دبستان شبلی کے تمام علما کا کام دنیا کے سامنے لانا بھی اس ادارے کے مقاصد میں شامل ہے۔ دوسرے یہ کہ ہماری فکر کے تمام اہل علم کو ادارے کے ہر کام اور منصوبے میں اصل کی حیثیت دیتے ہوئے ان کی رہنمائی میں ہر کام سرانجام دینا ہے۔تیسرے، ایسے موضوعات کو زیر بحث لانا جو غامدی صاحب کے پورے کے پورے استدلال کی تعلیم کا باعث بنیں۔ اور چوتھے، غامدی صاحب کے تیارہ کردہ علمی افراد کو اجتماعی بصیرت میں ڈھال کر اداروں میں شامل کرنا ہے تاکہ ادارے ان کو اس طرح تیار کریں کہ مستقبل میں وہ قیادت کے منصب پر فائز ہو سکیں۔

سید منظور الحسن نے ولولہ انگیز خطاب کیا۔ انھوں نے المورد یوایس کے کام کو المورد کی دعوت کی تجدید سے تعبیر کیا اور اپنے 30 سالہ تجربات کی روشنی میں بتایا کہ المورد یو ایس کے کام نے ہماری دعوتی جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

ڈاکٹرشہزاد سلیم نے موجودہ دور میں انگریزی زبان کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ ابلاغ کے جدید ذرائع کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہر سطح پر غامدی صاحب کی فکر کا ابلاغ انگریزی زبان میں بھی کیا جائے۔اس حوالے سے انھوں نے غامدی سینٹر کے زیر اہتمام انگریزی میں ہونے والے مختلف منصوبوں کا تعارف بھی کرایا۔

ڈاکٹر عمار خان ناصر نے فکر غامدی کے علمی اور دعوتی نتائج کے حوالے سے اپنے احساسات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ فکر غامدی نے دین کی اصل روح کے ساتھ جڑنے کے بہت سے اہم اور غیر معمولی اسباب پیدا کیے ہیں۔

جناب جاوید احمد غامدی نے المورد کے اہداف و مقاصد بیان کیے۔ اُنھوں نے المورد امریکہ کے تمام علمی اور انتظامی افراد کو نصیحت کی کہ وہ دعوتی کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاقی رویوں کا بھی جائزہ لیتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔

اجلاس کے بعد عشائیے کا انتظام بھی کیا گیا تھا، جس میں المورد، یو ایس کے اراکین اور باقی احباب شریک ہوئے۔ اس کے بعد ایک ورکشاپ کا انعقاد ہوا جس میں المورد یو ایس کے اراکین، خصوصی مہمانوں اور المورد، یو ایس کے ریسرچ اسکالر نے شرکت کی اور مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ہفتہ وار درس قرآن و حدیث

دسمبر 2023 میں غامدی صاحب کے لائیو درس قرآن و حدیث میں درس قرآن کی 8 نشستیں منعقد ہوئیں جن میں سورۂ نحل کو مکمل کیا گیا اور سورۂ بنی اسرائیل کی ابتدائی 3 آیات کا درس دیا گیا۔ درس حدیث کی 8 نشستوں میں ”اتمام حجت اور عذاب“ اور ”انسان کی تخلیق کا عمل اور علم الہٰی“ کے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ قرآن و حدیث کے دروس کی یہ نشستیں غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

’’راز حیات‘‘

غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے ریسرچ اسکالر منظور الحسن صاحب کا ’’راز حیات‘‘ کے عنوان سے پروگرام کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ماہ اس پروگرام میں منظور الحسن صاحب نے اپنے بچپن کے اس خواب کو تفصیل سے بیان کیا جس میں وہ ایک تقریب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے ہیں۔ اپنے اس خواب کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد اس کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ میں نے خواب میں جس شخصیت کو دیکھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں ،اس لیے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی دیکھا ہی نہیں ہے۔ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے ہی خواب میں دیکھا“ کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس حدیث کا تعلق دراصل صحابۂ کرام سے ہے۔

” غامدی صاحب سے ہمارا اختلاف “

یہ مضمون اس سوال کے جواب میں ہے جو حسن الیاس صاحب سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ آپ کو غامدی صاحب کی کسی راے سے اختلاف بھی ہوتا ہے؟ وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ وہ غامدی صاحب کی فکر کے مقلد ِ محض نہیں ہیں اور نہ ہی انھوں نے غامدی صاحب کی فکر یا راے کو بغیر سوچے سمجھے اور روایتی فکر سے تقابل کیے بغیر اپنایا ہے، بلکہ عقل و شعور کی روشنی اور تقابلی طریقے پر غامدی صاحب کے زاویۂ نظر کو سمجھنے میں برسوں کا علمی سفر طے کیا تب جا کر اس کے اصولی مقدمات واضح ہوئے اور ان سے اتفاق پیدا ہوا۔ یہ مضمون ماہ دسمبر کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔

”قرآن و سنت کا باہمی تعلق“ کی آڈیو بک

یہ ڈاکٹر عمار خان ناصر کی تصنیف ہے۔ انھوں نے گذشتہ ماہ امریکہ میں اپنے قیام کے دوران میں غامدی سینٹر کے اسٹوڈیو میں اس کتاب کی آڈیو ریکارڈنگ کرائی ہے۔ جلد ہی یہ کتاب آڈیوکی صورت میں سلسلہ وار غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر نشر کی جائے گی۔

’’حدیث کیا ہے؟‘‘ پر اشکالات و اعتراضات کا جائزہ

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں ”حدیث کیا ہے؟“ کا موضوع زیر بحث ہے۔ دسمبر 2023 میں اس سیریز میں حدیث کے حوالے سے غامدی صاحب کے موقف پر پیش کیے جانے والے اشکالات اور اعتراضات کا جائزہ لایا گیا۔ مزید برآں یہ سوال بھی زیر بحث رہا کہ کیا دین کی شرح و وضاحت نبی کریمؐ کی منصبی ذمہ داری تھی؟ اس ضمن میں سورۂ جمعہ کی آیت 2 پر گفتگو کرتے ہوئے ’الکتاب‘ اور ’الحکمۃ‘ کے معنی کو بھی کھولا گیا۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

”درس نظامی“ پر تبصرے کی وضاحت

گذشتہ ماہ غامدی سینٹر کے زیر اہتمام سوال و جواب کی ہفتہ وار نشست میں درس نظامی پر غامدی صاحب کے ایک تبصرے کے حوالے سے بحث چل رہی ہے۔ اس میں درس نظامی کے بارے میں غامدی صاحب کے اصولی نقطۂ نظر کو بیان کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں درس نظامی پر غامدی صاحب کے لکھے گئے مضمون کے اہم اقتباسات کو بھی زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ ماہ دسمبر میں اس موضوع پر 4 نشستیں ہوئی۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

’’البیان‘‘ اور ’’میزان‘‘ کے انگریزی زبان میں لیکچرز

غامدی صاحب کی تفسیرِ قرآن ’’البیان‘‘ اور اسلام پر ان کی کتاب ’’میزان‘‘کی انگریزی زبان میں تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے ماہ ’’البیان‘‘ کی 2 نشستوں کا انعقاد ہو ا، جن میں سورۂ بقرہ کی آیات 163 تا 203 زیر بحث آئیں۔ ’’میزان‘‘ سیریز کے تحت ‘‘The Social Shariah’’ کے عنوان سے ڈاکٹر شہزاد سلیم نے دو لیکچرز ریکارڈ کیے۔ یہ لیکچرز غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

’’ یہود اور خدا کا فیصلہ ‘‘

اس مضمون میں خورشید ندیم صاحب نے اسرائیل کے اس خوف کو بیان کیا ہے جس کی وجہ سے وہ فلسطین پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ اس مضمون میں مصنف نے یہود کی تاریخ، ان کے جرائم اور اسرائیل کے قیام کی تاریخ بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کی ریاست قائم ہو گئی، لیکن وہ آج بھی بقا کے خوف میں مبتلا ہیں۔ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسرائیل کی ریاست قائم کی اور اس کے وجود اور بقا کا مکمل انحصار امریکہ پر ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو یہ خوف مسلسل لاحق رہتا ہے کہ امریکہ میں کوئی ایسی حکومت قائم نہ ہو جائے جو اسرائیل کے مخالف ہو، اس لیے وہ امریکہ میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ یہ مضمون ’’اشراق، امریکہ‘‘ کے دسمبر کے شمارے میں پڑھا جا سکتا ہے۔

’’جسمانی سزا اور تشدد پسندی کی نفسیات‘‘

اس مضمون میں مصنف نے ہمارے معاشرے میں تشدد پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی مذمت کرتے ہوئے اس کے نقصانات، بچوں کی نفسیات پر اس کے منفی اثرات اور اس کی روک تھام کے لیے لائحۂ عمل بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ بچوں پر تشدد ایک بھیانک عمل ہے جس کے نتائج فرد اور خاندان سمیت پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ تشدد سے تربیت پانے والے بچوں میں ڈر، عدم تحفظ، منافقت اور بدتمیزی جیسی خصلتیں جنم لیتی ہیں۔مزید برآں انھوں نے اس مضمون میں تشدد براے تادیب کا جواز پیش کرنے والی روایت کی سند کے حوالے سے محدثین کے اعتراضات بھی نقل کیے ہیں۔ دسمبر 2023 کے شمارے میں یہ مضمون دیکھا جا سکتا ہے۔

”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“

گذشتہ ماہ دنیا نیوز پر نشر ہونے والے غامدی صاحب کے ہفتہ وار پروگرام کے موضوعات ’’فروغ تعلیم کے نئے امکانات‘‘، ’’عدت میں نکاح اور ’’سوال و جواب‘‘ تھے۔ ان پروگراموں میں لوگوں کی طرف سے پوچھے جانے والے متفرق سوالوں کے جوابات کے ساتھ ساتھ عدت کے احکام، عدت میں نکاح کرنے کا کفارہ، مخیر حضرات کا قومی تعمیر کے لیے تعلیمی ادارے قائم کرنا اور لوگوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے جیسے اہم ایشوز کو موضوع بحث بنایا گیا۔ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

”نیا لباس“

”اشراق، امریکہ“ کے دسمبر 2023 کے شمارے میں فضائل اخلاق پر مبنی ترمذی کی حدیث، رقم 305 کو نظم کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ”نیا لباس“ ہے، جس میں نیا لباس پہننے کے حوالے سے نبی کریمؐ کے اسوہ کا بیان ہے۔ اس نظم کے دو شعر ملاحظہ ہوں:

پیمبرؐ نے ہم سے یہ فرمایا اک دن

محبت سے، شفقت سے سمجھایا اک دن:

نیا کپڑا جب بھی پہننے لگو تم

تو تعریف اپنے خدا کی کرو تم

امین احسن اصلاحی کے دوران تعلیم کے واقعات

گذشتہ ماہ ”حیات امین“ کی چوتھی قسط میں نعیم بلوچ صاحب نے مولانا امین احسن اصلاحی کے دوران تعلیم کے مختلف واقعات قلم بند کیے ہیں۔ ان واقعات میں سے ایک اہم واقعہ مدرسۃ الاصلاح کے سالانہ جلسے میں مولانا کا تقریرکرنا ہے، جس کی صدارت مولانا محمد علی جوہر کر رہے تھے۔ لکھتے ہیں کہ مولانا فراہی نے اصلاحی صاحب کی تقریر کو بہت پسند کیا اور اپنے تفسیری مجموعے کے ایک سیٹ پر اپنے دستخط کر کے اصلاحی صاحب کو عنایت کیا۔ اردو پڑھنے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اساتذہ نے مولانا اصلاحی کو اردو کا پیدایشی عالم قرار دیتے ہوئے اردو سے مستثیٰ قرار دے دیا۔ یہ مضمون دسمبر 2023 کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

شہزاد سلیم صاحب کے آن لائن نجی مشاورتی سیشن

ڈاکٹر شہزاد سلیم ہر ماہ لوگوں کے ساتھ آن لائن نجی مشاورتی سیشن کا اہتمام کرتے ہیں جن میں لوگ اپنے ذاتی اور خاندانی مسائل کے حل کے لیے شہزاد سلیم صاحب سے مشاورت کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی ڈاکٹر شہزاد سلیم نے مختلف لوگوں کے ساتھ متعدد آن لائن پرائیویٹ سیشن کیے، جن میں لوگوں نے آپ سے والدین کو درپیش مشکلات اور نو عمری اور ازدواجی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کی۔

کیا مورگیج پر گھر لینا جائز ہے؟

حسن الیاس صاحب سے سوال و جواب کی ایک نشست میں پوچھا گیا کہ کیا مورگیج پر گھر لینا جائز ہے یا ناجائز؟ حسن الیاس صاحب نے کہا کہ اگر اس معاملے کو اس کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ جائز ہے اور سود کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ سود کسی شخص سے قرض پر متعین نفع لینا ہے۔ جبکہ اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے سود یا ناجائز قرار دیا جا سکے۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا

شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance)اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت 5 فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کی رہنمائی میں محمد حسن الیاس نے جاری کیا۔

ڈاکٹر شہزاد سلیم کے مختلف لیکچر زکی ریکارڈنگ

دسمبر 2023 میں شہزاد سلیم صاحب نے ’’الحاد اور اندھی تقلید کے چیلنجز‘‘ اور ’’انسانیت‘‘ کے موضوعات پر لیکچر ریکارڈ کرائے۔اور Lessons of Life Series کے زیر عنوان انگریزی زبان میں 4 لیکچرز ریکارڈ کرائے۔ ان کے موضوعات یہ ہیں: ”آئیے ہارنے سے انکار کریں“، ”اپنی پرہیزگاری کا مرض‘‘، ”ایک بڑی آلودگی‘‘اور ’’دنیا کے شہری“۔ یہ لیکچرز غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔